مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران کی کیفیت کو پیدا کرنا یا اسے برقرار رکھنا ہمارے سیاسی فریقین کی سیاست کا اہم جز ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی یا سیاسی شگوفے چھوڑنا بھی ہمیں سیاسی منظر نامہ میں غالب نظر آتے ہیں۔ اس وقت بظاہر حکومت کو کوئی بڑا خطرہ نہیں مگر اسلام آباد کا سیاسی ماحول اور اس سے جڑے سیاسی یا میڈیا کے محاذ پر موجود سیاسی پنڈتوں کے بقول سیاست میں سب کچھ اچھا نہیں اور ان کے بقول اسلام آباد کا سیاسی ماحول ایک بڑی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بڑی تبدیلی سے مراد حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی فریقین میں اس کھیل میں اپنا اپنا سیاسی رنگ بھرنے کی کوشش کر کے اپنی مرضی کے سیاسی نتائج بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس وقت سیاسی ماحول میں حزب اختلاف کی سیاست چار بنیادی نکات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اول حکومت مکمل طو رپر ناکام ہو چکی ہے اور اس کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ دوئم ملک کے بحران کا واحد حل نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہیں کیونکہ سلیکٹیڈ حکومتی طبقہ عوام کا نہ تو مینڈیٹ رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سیاسی، قانونی و اخلاقی ساکھ ہے۔ سوئم جمہوری عمل چلنا چاہیے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر مستعفی ہوں اور اپنی جگہ نئے قائد ایوان کا انتخاب کریں تاکہ ملک جمہوریت کی سیاسی پٹری سے نہ اترسکے۔ چہارم جو لوگ سلیکٹیڈ وزیر اعظم اور حکومت کو لانے کے ذمہ دار ہیں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور اس حکومت کی حمایت سے دست برادر ہو کر نئی حکومت کے لیے سیاسی راستہ ہموار کریں۔

اگرچہ حزب اختلاف کی اپنی جماعتوں میں کسی ایک نکتہ پر اتفاق رائے کا فقدان نظر آتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں خود داخلی تضادات میں گھری نظر آتی ہیں۔ لیکن اس وقت ایک بڑا سیاسی نکتہ ”مائنس ون“ کے فارمولے کے گرد گھوم رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وزیر اعظم اپنی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم نامزد کردیں تو سیاسی بحران ٹالا جاسکتا ہے۔ جو لوگ مائنس ون فارمولے کی بات کر رہے ہیں ان کا بڑا منطق اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات میں خرابی کی بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طبقہ کے بقول مائنس ون کا فارمولہ بھی اسی اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست سے جڑا ہوا ہے جو نئے سیاسی متبادل کی تلاش میں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں کچھ دنوں سے حزب اختلاف کی سیاست اور تقریروں میں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شدت سے دیکھنے کو مل رہا ہے اور ان کے بقول عمران خان کی تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔

ماضی میں بھی ہم نے جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے دور میں مائنس ون کے فارمولے دیکھ چکے ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے پوری کوشش کی کہ کسی طریقے سے پاکستان کی سیاست سے پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر مائنس کر دیا جائے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی طرح جنرل مشرف نے اپنے دور میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مقابلے میں مخدو م امین فہیم اور شہباز شریف کو سامنے لانے کی کوشش کی مگر وہ بھی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہماری سیاسی قیادتوں کا اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں موجود ایک مضبوط سیاسی کنٹرول یا اجارہ داری کا موجود ہونا ہے۔ دوسری یہاں سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک افراد یا فرد کے گرد گھومتا ہے، آج بھی یہاں ووٹ نواز شریف، بھٹو خاندان، فضل الرحمن اور عمران خان کا ہے۔ آپ ان افراد کو ان کی جماعتوں سے الگ ہو کر دیکھیں گے تو ان کی جماعتوں کی حیثیت بہت کمزور نظر آئے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فوجی حکمران طبقہ بھی بزور طاقت کسی کو بھی سیاست سے مائنس نہیں کر سکا۔ خود نواز شریف اگرچہ اس وقت عملی سیاست سے باہر ہیں مگر ن لیگ کا ووٹ بینک ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔

اسی طرح تحریک انصاف کی اصل شناخت عمرا ن خان ہیں اور عمران خان کے بعد کوئی ایسا فرد نہیں جسے عمران خان کے حامیوں کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو نکال کر کسی اور کو وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے وہ حقیقت پر مبنی تجزیہ نہیں۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ 2018 کے انتخابات سے قبل بھی یہ سیاسی شوشہ چھوڑا گیا تھا کہ عمران خان کی جماعت کی مرکز میں حکومت تو بن سکتی ہے مگر وزیر اعظم عمران خان کے مقابلے میں کوئی اور ہوگا۔ یعنی عمران خان کو سونیا گاندھی بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس وقت بھی یہ ہی لکھا تھا کہ یا تو عمران خان کی سربراہی میں ان کی حکومت بنے گی یا ان کی حکومت نہیں بنے گی۔ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کی حکومت کا بننا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر عمران خان کو یہ اندازہ ہو گیا کہ بحران بہت بڑھ گیا ہے تو وہ کسی اور کی نامزدگی کی بجائے خود اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کریں گے۔

حزب اختلاف اگر سمجھتی ہے کہ عمران خان کی تبدیلی ناگزیر ہے اور ملکی مفاد میں ہے تو یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ عمران خان کی تبدیلی کے عملی طور پر چار راستے ہیں۔ اول حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مل کر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے ان کو گھر بھیج سکتی ہے اور عمران خان کا جانا ٹھر جائے گا۔ دوئم عمران خان خود محسوس کریں کہ وہ عملی طو رپر ناکام ہو گئے ہیں یا ان کو حکومت چلانے میں دشواری پیش آ رہی ہے توو ہ خود قبل ازوقت اسمبلیوں کو توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ سوئم حزب اختلاف ایک بڑی عوامی سیاسی تحریک کی مدد سے حکومت یا وزیر اعظم کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ گھر جائیں اور ملک میں نئے انتخابات کا راستہ ہموار کریں۔ چہارم حزب اختلاف اگر اجتماعی طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے تو اتنی بڑی تعداد میں ضمنی انتخاب ممکن نہیں ہوگا اور نئے انتخابات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ چاروں راستے حزب اختلاف کے لیے بہت مشکل ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت ابھی تک حزب اختلاف کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب اختلاف بھی اچھی طرح سمجھتی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو اگر گھر بھیجنا ہے تو اس کا راستہ کسی بڑی جدوجہد کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ کے گھر کو ہی جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف عوام میں جانے کی بجائے سلیکٹڈسے ہی مطالبہ کررہی ہے کہ وہ عمران خان کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں۔ یعنی بنیادی نکتہ یہ ہی ہے کہ عمران خان کی حمایت سے دست بردار ہو کر ہماری حمایت کی جائے اور ہم اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسی صورت حال میں کہاں گئی جمہوری جدوجہد، ووٹ کو عزت دو، پارلیمنٹ کی بالادستی یا قانون کی حکمرانی سمیت اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف نعرے۔ جو الزام عمرا ن خان پر لگایا جا رہا ہے اگر یہ ہی کام پھر حزب اختلاف نے مل کر اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے کھیلنا ہے تو پھر کیا تبدیل ہوا۔

بنیادی طور پر مائنس ون کے فارمولے وہاں چلتے ہیں جہاں سیاسی قیادت کے مقابلے میں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں اور سیاسی قیادت ان جماعتوں کے سامنے جوابدہ ہوتے ہوں۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں عملی طور پر افراد کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور ایسے میں پارلیمنٹ سے مائنس ون کے فارمولے کی باتیں اپنے اندر وزن نہیں رکھتیں۔ جو لوگ یہ تانے بانے بنانے کی باتیں کر رہے ہیں کہ مائنس ون کے فارمولے کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل ہے تو فوری طو رپر اس کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ شاہ محمود قریشی، فخر امام یا سومرو صاحب کے متبادل نام کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر سیاسی حقیقت نہیں کیونکہ عمرا ن خان کے بغیر کسی کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں اور نہ ہی عمران خان کے ووٹر کسی اور کی قیادت کو قبول کریں گے۔

عمران خان کی حکومت ناکام ہے تو یہ بات تو حزب اختلاف کے حق میں جاتی ہے کیونکہ عمران خان کی ناکامی ان کے لیے سیاسی راستہ ہموار کرے گی۔ لیکن اگر عمران خان کو مصنوعی یا سازش کے تحت باہر نکالنے کی کوشش کی تو اس سے خود اس جمہوری نظام پر بھی سوالات اٹھیں گے اور یہ کمزور سا جمہوری نظام بھی پس پشت جاسکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ اس نظام کو چلنے دیا جائے اور جب بھی انتخابات ہوں تو ا س کی مدد سے نئی حکومت اور نئی قیادت کا انتخاب ہی جمہوری عمل کو آگے بڑھاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply