یادوں کی کہانی کے کچھ ورق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( ’جنوں میں کیا کیا کچھ‘ عنوان سے مضامین کا مجموعہ ترتیب دیا تو احباب کی فرمائش ہوئی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں گزارے طالب علمی کے شب و روز کی بھی کچھ روداد سپرد قلم ہو۔ اتنی بہت سی باتوں میں سے کیا لکھوں اور کس کو چھپا لو؟ اس سوال نے خوب ستایا۔ خیر جو کچھ لکھا اس میں سے کچھ حصے ہم سب کے قارئین کی نذر ہیں )

اجنبی کیمپس

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بطور طالب علم میں نے پانچ برس گزارے۔ پہلے ماس میڈیا میں آنرس کیا اور پھر ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز۔ نیا نیا داخل ہوا تو ایک جھجک تھی۔ قصبہ کے سینئر سیکنڈری اسکول سے نکل کر سیدھا یونیورسٹی کیمپس آیا تھا، اس لئے سب کچھ خواب سا لگتا تھا۔ یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا کیمپس اور اس میں پڑھنے والے ہزاروں نوجوانوں کی چہل پہل میرے لئے اجنبی دنیا تھی۔ شعبہ کے اساتذہ میں پروفیسر رحمان مصور صاحب بھی شامل تھے۔ جامعہ کے اجنبی ماحول میں وہ پہلی شخصیت تھی جس نے میرے اجنبیت کے احساس کو کم کیا۔ کچھ تو ان کی شفقت اور کچھ میری جسارت کہئے کہ میں لیکچر کے علاوہ بھی ان کے چیمبر میں پہنچ جاتا۔ اس طرح ان کی علمی گفتگو سے زیادہ فیض اٹھانے کی راہ نکل آئی۔

کیمپس لائف کے بالکل شروع میں جو لوگ دوست بنے ان میں محمد علم اللہ بھی تھے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ سے فضیلت کرنے کے بعد شعبۂ تاریخ میں گریجویشن میں داخل ہوئے تھے۔ میری طرح کیمپس ان کے لئے بھی اجنبی تھا، اس لئے جلد ہی میری ان سے گاڑھی چھننے لگی۔ یونیورسٹی لائف کا میرا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی طالب علم اجنبی کیمپس میں پہلی بار داخل ہوتا ہے تو وہ بلا ضرورت بھی لائبریری میں پڑا رہتا ہے۔ وہاں آنے والے اخبارات، رسالے اور کتابیں اجنبیت کا احساس کم کیے رہتے ہیں۔

اپنے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہم دونوں ہی اجنبی ماحول سے مانوس ہونے کی تگ و دو میں لائبریری میں زیادہ رہا کرتے تھے۔ وہیں پر ایک صبح میری علم اللہ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا نوجوان کسی اخبار کے لئے مراسلہ تحریر کر رہا ہے۔ عنوان تھا ’جامعہ پر الحاد کا سایہ‘ ۔ میں نے انہیں مخاطب کرنے کے لئے سلام کیا اور بات چیت شروع ہوئی۔ تعارف کے بعد کھلا کہ یہ مراسلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن کے خلاف ہے۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ اس میں کیا شکایت درج تھی لیکن وہاں سے ہماری دوستی شروع ہو گئی۔

یہ زمانہ وہ تھا جس میں جامعہ میں علمی سرگرمیاں شباب پر تھیں۔ پروفیسر مشیر الحسن کی قیادت میں یونیورسٹی جدید رنگ روپ لے رہی تھی۔ پروفیسر مشیر الحسن نے تعلیمی میلے کو بڑھاوا دیا تاکہ طلبہ کی صلاحیتوں کا زیادہ سے زیادہ اظہار ہو سکے۔ یہ تین روزہ جشن یوم تاسیس کی مناسبت سے ہوتا تھا جس میں تعلیمی تقریبات، کتابوں کی نمائش، مشاعرے، بیت بازی، مباحثے غرض ہر طرح کے پروگرام ہوا کرتے تھے۔ کئی شعبوں کے طلبہ اس مناسبت سے ایک خبر نامہ بھی ترتیب دیا کرتے تھے۔

مشیر صاحب ایک ایک اسٹال پر خود جاکر طلبہ سے ملا کرتے تھے۔ ہر ایک شعبہ میں لیکچرس، سمپوزیئم، سمینار اور کانفرنسیں تواتر سے ہوا کرتی تھیں اور بڑی بڑی شخصیات آئے دن کیمپس میں مہمان ہوا کرتیں۔ اسی زمانے میں امرتیہ سین، دلائی لاما، کلدیپ نیر، ارون دھتی رائے، سید حامد، اصغر علی انجینئر اور حامد انصاری جیسی شخصیتوں کو سننے اور دیکھنے کا موقع ملا۔

قلم کا عتاب

پڑھائی کے دوران ہی شوقیہ رپورٹنگ بھی شروع کر دی تھی۔ دراصل کیمپس میں ہونے والی تقریبات میں تو جانا ہوتا ہی تھا بس اسی کی روداد لکھ کر اخبار کو بھجوا دی جاتی، جسے وہ بائی لائن چھاپ دیتے تھے۔ اپنے شعبے میں کچھ اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی کہ ہم ایکسٹینشن لیکچر جیسے معمول کے پروگرام کو بھی بنا سنوار کر کئی اخباروں میں رپورٹ کرا دیا کرتے تھے۔ کبھی کسی پروفیسر یا ذمہ دار کی کوئی بات بھلی نہ لگی تو انھیں قلم کے عتاب کا شکار بھی ہونا پڑ جاتا۔ کیسی کیسی شرارتیں کی گئیں، اب سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے۔

یاد آتا ہے کہ ایک دفعہ شعبۂ اردو کی طرف سے انصاری آڈیٹوریم میں تقریری مقابلہ ہوا۔ پروفیسر شمس الحق عثمانی شعبہ کے صدر ہوا کرتے تھے۔ آخر میں انہوں نے صدارتی تقریر میں کہا کہ کچھ شرکا نے تقریر شروع کرنے سے پہلے سلام کیا جو کہ سیکولر ازم اور ڈبیٹ کی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ میں بھی مجمع میں تھا۔ بس پھر کیا تھا، پروگرام ختم ہوتے ہی اس بیان کو خبر بنا کر اخبار کو بھیج دیا گیا۔ اس خبر کی سرخی تھی ’سلام کرنا سیکولر اقدار کے خلاف‘ ۔

اس خبر میں بگھار لگانے کی غرض سے میں یہ وضاحت کرنا نہیں بھولا کہ پروفیسر شمس الحق عثمانی ایک دینی ادارے سے سند یافتہ ہیں۔ آج وہ بات سوچ کر ہنسی بھی آتی ہے اور حیرانی بھی ہوتی ہے کہ اس بات کو میں نے خبر کیوں بنایا تھا؟ اب احساس ہوتا ہے کہ جس بات کو ہم نے اس وقت خبر سمجھا تھا اس میں کچھ بھی بتانے والا نہیں تھا۔

ایک بزرگ دو رویے

گریجویشن کے زمانے میں ہماری فیکلٹی کے ڈین معروف مؤرخ پروفیسر عزیز الدین حسین ہمدانی ہوا کرتے تھے۔ بظاہر بڑے چھریرے بدن کے ہلکے پھلکے انسان لیکن تاریخ و ثقافت پر بڑی بھاری دسترس تھی۔ تصوف ان کا محبوب موضوع تھا۔ 2010 کے جولائی میں لاہور میں شیخ علی ہجویری کے مزار ’داتا دربار‘ پر خودکش حملہ ہوا جس میں درجنوں لوگ مارے گئے۔ عزیز الدین صاحب پر اس واقعے سے جو گھاؤ لگا اس کا انہوں نے بڑا منفرد مرہم تلاش کیا۔

انہوں نے جامعہ کی طرف سے شیخ علی ہجویری کی حیات و خدمات پر بین الاقوامی سیمینار کرایا۔ دنیا بھر سے مقالہ نگار آئے اور داتا صاحب کی زندگی اور خدمات پر بات ہوئی۔ عزیز الدین صاحب نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی سیمینار ہماری طرف سے یہ پیغام تھا کہ اگر اس عظیم بزرگ کے بارے میں سرحد کے اس طرف ایسا وحشیانہ رویہ ظاہر کیا گیا ہے تو بھارت اس بزرگ کی حیات و خدمات کے بارے میں دنیا کو بتائے گا۔

نوکر کا انتقام

ماضی کے نگار خانے کی بات چل ہی پڑی ہے تو یاد آیا کہ غالب کے مجسمہ سے ذرا آگے ایک سینٹرل کینٹین ہوا کرتی تھی جہاں دن بھر طلبہ کا جمگھٹ رہتا تھا۔ کینٹین والے نے مزید کمائی کے لئے کینٹین کے باہری حصے میں ٹین کے سائبان تلے بھٹی لگوا دی اور امرتسری نان بیچنا شروع کر دیے۔ ایک تو دہکتا ہوا تندور اس پر دوپہر کے سورج سے تپتے ٹین کے سائبان کی گرمی سے وہاں تعینات ملازم کی حالت تباہ ہو جاتی تھی۔

امرتسری نان خریدنے کے لئے اندر جاکر مالک سے کوپن لینا ہوتا تھا جسے دیکھ کر باہر تندور پر کھڑا ملازم نان تیار کر کے دیا کرتا تھا۔ وہ ملازم چند ہی دنوں میں نوکری چھوڑ گیا۔ اب کینٹین والے نے اندرونی حصے میں کام کرنے والے ایک لڑکے کو اس تندور پر لگا دیا۔ ظاہر ہے وہ بے چارہ انکار نہیں کر سکتا تھا لیکن اپنے مالک پر سخت غصہ ضرور تھا۔ اس کے دل کی آگ دوپہر کے سورج کی تپش اور بھٹی سے مزید بھڑک اٹھتی تھی۔ آخرکار اس نے اپنے مالک سے انتقام کی راہ نکال ہی لی۔ اب وہ یہ کرتا کہ ایک نان کی پرچی پر دو نان دینے لگا تاکہ مالک کا بھٹا بیٹھ جائے۔ ایک بار میں نے اسے پرچی دی تو اس نے مجھ سے پوچھا کتنے نان دے دوں؟ میں اس سوال پر حیران ہوا لیکن پھر پتہ چلا کہ اصل واقعہ کیا ہے۔

صحافتی محفلیں

طالب علم ہونے کے وجہ سے اس وقت ہمارے وسائل محدود تھے اس لئے رپورٹ بھیجنے کے لئے انٹرنیٹ کیفے جانا پڑتا تھا کبھی کبھار لائبریری کے انٹرنیٹ سیکشن سے بھی خبریں روانہ کی جاتی تھیں۔ میں ’ہندوستان ایکسپریس‘ نامی اخبار میں رپورٹنگ کرتا تھا اس کے ایڈیٹر احمد جاوید صاحب ہوا کرتے تھے جو بعد میں روزنامہ انقلاب کے مدیر بن کر پٹنہ چلے گئے۔ احمد جاوید دلی کی اردو صحافت میں باصلاحیت مدیروں میں سے تھے۔ مقامی سے لے کر عالمی معاملات تک پر ان کی غیر معمولی دسترس تھی۔ اس پر ان کا انداز تحریر غضب تھا۔ اتوار کے اتوار ’فکر فردا‘ کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ شاید ہی ان کا کوئی کالم ایسا رہا ہو جسے پڑھ کر دل خوش نہ ہوا ہو۔ اب وہ اسی نام سے انقلاب میں ہر اتوار کو کالم لکھتے ہیں۔

ہندوستان ایکسپریس سے کئی دلچسپ شخصیات وابستہ تھیں جن میں شاہد الاسلام صاحب بھی شامل ہیں۔ دیکھنے میں سیدھا سادہ سا نوجوان، بظاہر سب سے بے پرواہ سا لیکن آپریٹر کو اس روانی سے کالم املا کرا رہا ہوتا تھا کہ حیرانی ہوتی۔ ان کے کالم کا نام بجا طور پر ’برجستہ‘ ہے۔

اخبار کے معاون مدیران میں ایک صاحب سعید اختر اعظمی بھی تھے۔ بڑی باغ و بہار شخصیت، لیکن خبروں کی ایڈیٹنگ کرتے وقت ایسا معلوم ہوتا جیسے عروض کے پیمانے پر لفظوں کی کاٹ چھانٹ کر رہے ہوں۔ کبھی کبھی تو دل کرتا کہ ان کی دراز میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہیں کمال احمد صدیقی کی ’آہنگ اور عروض‘ تو نہیں دھری؟

اس وقت دلی کے اردو اخباروں میں اپنی خبر اور اپنا مواد شائع کیا جائے اس پر بڑا زور ہوتا تھا۔ آج کی طرح کاپی پیسٹ یا ہندی انگریزی کا چربہ نہیں چلتا تھا۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے دلی کی اردو صحافت کو آخری سانس لیتے ہوئے دیکھنے والی آنکھیں ہمارا ہی مقدر بنی ہیں۔

ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر

اخبار کی دنیا سے باہر پہلا قدم ریڈیو میں رکھا اور طالب علمی کے دوران ہی ریڈیو تہران کے لئے جز وقتی رپورٹنگ شروع کر دی، بعد میں ایران کے سحر ٹی وی چینل سے وابستگی ہوئی۔ گریجویشن پورا ہوا تو جامعہ کے ہی ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں اعلی تعلیم کے لئے داخل ہو گیا۔ یہ سینٹر فلم سازی اور ٹی وی پروڈکشن کی تربیت کے ممتاز ترین اداروں میں شامل ہے۔ بھارت میں پرائیویٹ ٹی وی نیوز چینل کے شعبہ میں آنے والی پہلی کھیپ ہی جامعہ کے اس مرکز کی تیار کردہ ہے۔ فلمی دنیا کے صف اول کے کئی ہدایت کار بھی یہیں سے نکلے۔ ان میں کبیر خان، کرن راؤ، حبیب فیصل اور نشٹھا جین شامل ہیں۔ میرے دور طالب علمی میں ان میں سے کچھ فارغین ایم سی آر سی آئے بھی اور ان سے تعلیم کے بعد کی منزل کو جاننے کا موقع بھی ملا۔

ایم سی آر سی میں پروفیسر جی آر سید ریڈیو کے شعبہ کے سربراہ تھے۔ چونکہ وہ خود معروف فکشن نگار ہیں جنہیں اردو دنیا غیاث الرحمان کے نام سے جانتی ہے، اس لئے انہوں نے ریڈیو اسکرپٹنگ پر خصوصی توجہ دلائی، ریڈیو جامعہ میں مستقل پروگرام کرنے کی تحریک دی اور میری تحریروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔ سید صاحب ان شفیق اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی مجھ پر وہی نظر عنایت رکھی۔

جامعہ کمیونٹی ریڈیو

ریڈیو کی بات نکلی تو یاد آیا کہ جامعہ کمیونٹی ریڈیو ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر کے احاطے سے نشر ہوتا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں اکثر اس کے غزلوں کے پروگرام کی میزبانی میں ہی کیا کرتا تھا۔ شریک میزبان کے طور پر کبھی کبھی کوئی اور ساتھی بھی موجود رہا کرتے تھے۔ ہماری نشریات کو کیسی کیسی شخصیات سنتی تھیں اس کا احساس دو مواقع پر ہوا۔ ایک بار میں نے بیکل اتساہی کے دوہوں پر گفتگو کی۔ اتساہی صاحب اس وقت بقید حیات تھے اور جامعہ کے پڑوس میں بسے اپنے بیٹے کے یہاں مقیم تھے۔ اتفاق دیکھیے کہ وہ گفتگو انہوں نے سنی۔ ان کی تحریک پر پروگرام کے دوران ہی ان کے صاحبزادے نے ہمیں فون کیا اور پسندیدگی ظاہر کی۔

ایک بار کسی پروگرام کے دوران شریک میزبان نے مجھے باتوں ہی باتوں از راہ مزاح کہا ’آپ تو اردو کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں‘ ۔ اتفاق سے وہ پروگرام پروفیسر صغریٰ مہدی مرحومہ سن رہی تھیں۔ انہیں وہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے یونیورسٹی کے ایک اعلی اہلکار کو فون کر کے شکوہ کیا کہ دیکھو یہ لوگ کیا کہ رہے ہیں؟ اگر یہ انسائیکلو پیڈیا ہیں تو ہم کیا ہیں؟ اس اہلکار نے ہنس کر بات ٹال دی اور بعد میں ہمیں خبر دی کہ بھائی ذرا سنبھل کر بولا کرو لوگ لفظ پکڑ لیتے ہیں۔

ایم سی آر سی سے مجھے حاصل ہونے والا ایک اور سرمایہ پروفیسر متین احمد صاحب ہیں۔ خالص تکنیکی مضمون ساؤنڈ کے استاد تھے لیکن صلاحیتیں ایسی ہمہ جہت کہ جس موضوع پر بولنا شروع کریں تو ایسا معلوم ہو جیسے دریا بہ رہا ہے۔ کلاس میں آ کر پوچھتے ’بتاؤ ہم کیا پڑھ رہے تھے؟‘ ۔ ہم لوگ جو ٹاپک بتا دیتے اس پر ایسا عالمانہ لیکچر دیتے جیسے پہلے سے موضوع کا پتہ ہو اور گھنٹوں تیاری کر کے آئے ہوں۔ ان کا مضمون ساؤنڈ خالص فزکس سے متعلق تھا اور بہت سے طلبہ ایسے تھے جن کا سائنس بیک گراؤنڈ نہیں تھا لیکن ایسے عام فہم انداز میں پڑھاتے کہ سب کی سمجھ میں آ جاتا۔

دھیرے دھیرے بول

جامعہ کے اساتذہ میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ بہت سی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ پروفیسر والی انانیت یا سبق سکھانے کا جذبہ میں نے کم ہی پایا۔ ایک بار میرے فون میں کچھ ایسی خرابی ہوئی کہ اس میں صرف اسپیکر موڈ پر بات ہو پاتی تھی۔ جب کوئی فون آتا تو میں پہلے فون ریسیو کرتا پھر اسپیکر آن کر کے ہی بات کر پاتا تھا۔ ایک بار میں اپنے ایک استاد کے ساتھ ہائیجنک کیفے پر کھڑا تھا کہ ایک کلاس فیلو کا فون آ گیا۔

میں نے حسب روایت اسپیکر آن کر کے بات شروع کی۔ اس نے پوچھا ’کہاں ہو؟ میں نے جواب دیا فلاں سر کے ساتھ ہوں۔ میرے ساتھی کو کیا خبر تھی کہ میرا فون مریض ہے، اس نے پلٹ کر ان استاد کو دو تین سخت القاب سے نوازتے ہوئے مجھ سے کہا کہ تم ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہو کیا؟ جب تک میں جلدی سے فون کاٹ پایا، استاد محترم اپنے لئے دی گئی صلواتیں سن چکے تھے۔ میرا شرمندگی سے برا حال تھا لیکن وہ ہنسنے لگے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس لڑکے کے خلاف انھوں نے کبھی جوابی کارروائی بھی نہیں کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیشہ وارانہ زندگی باقاعدہ شروع ہوئی۔ سحر عالمی نیٹورک تو تھا ہی ایف ایم گیان وانی میں جز وقتی خدمات بھی شروع کر دیں۔ ریڈیو تہران کے لئے رپورٹنگ کا سلسلہ پہلے سے چلا ہی آ رہا تھا۔ ماس کمیونی کیشن کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں پڑھاتا بھی رہا۔ اتنی ساری مصروفیات کے ہوتے ہوئے بھی لکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد دور درشن نیوز کے شعبۂ ادارت سے منسلک ہو گیا۔ وہاں کام کی نوعیت اور دورانیہ ایسا تھا کہ جز وقتی مشغولیات ختم ہو گئیں۔ اب حال یوں ہے کہ ٹیلی ویژن نیوز کی دنیا میں مشغول ہوں لیکن کوشش رہتی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر لکھنے کا سلسلہ جاری رہے۔ ارادہ کر کے اخبارات اور رسائل میں لکھنے کی فرصت بھی نکال لیتا ہوں۔

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

Latest posts by مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 114 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply