اک عہد بے مثال۔ ۔ ۔ مہدی حسن خاں صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہدی حسن صاحب کی زندگی کے مختلف ادوار کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ماحول اور حالات نے ان کی شخصیت کی تشکیل پہ کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ مثلاً آٹھ برس کی عمر میں ماں کے انتقال کے بعد ان کی گود کی گرمی کی جگہ سروں کی نرمی نے لے لی جو انہیں باپ اور چچا کی سختی سے دی گئی موسیقی کی تربیت نے عطا کی مگر محض سروں کی تعلیم نہیں تھی بلکہ زندگی کی اعلی قدروں کے بیج ڈالنے اور نمو کا بھی وقت تھا اور اس وقت انہوں نے اپنے خوابوں کی آبیاری، دیانت داری، لگن اور محنت سے آگے بڑھنے کی عادت کو اپنایا۔ اس یقین کے ساتھ کہ خدا ساتھ ہے۔ انہیں نپے تلے پرانے رستوں کی بجائے اپنی راہ کی تلاش کرنے کی بصیرت بھی ملی اور ہم ان تمام پہلوؤں کو ان کی شخصیت میں نمایاں دیکھتے ہیں۔

مہدی حسن صاحب ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔ موسیقی کے شعبہ میں گلوکاری، دھن ساز اور موسیقی کے مختلف ساز بجانے کی مہارت کے ساتھ انجینئرنگ کی طرف مائل ٹیکنیکی ذہن کے بھی مالک تھے۔ ان کا موسیقار اور تیکنیکی ذہن کبھی ایک دوسرے سے صف آراء نہیں ہوئے۔ دونوں نے ساتھ ساتھ حالات سے جنگ کی، عزت کی روٹی حاصل کرنے کے لئے جب ٹریکٹر کا پنکھا چلتا تو ان کا ریاض بھی جاری رہتا۔ اس مثبت رویے نے انہیں ہمدرد، نرم خو اور سلجھی طبیعت کا بنایا۔ شاہی خاندانوں کے درمیان رہنے نے انہیں وقار، تمکنت اور بینیازی دی اور ان خاندانوں کی سرپرستی نے ان میں انکساری اور اپنی محنت سے روزی کمانے کی عادت ڈالی۔

مہدی حسن صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ”برصغیر کی تقسیم سے قبل ان کے والد استاد عظیم خان کو ریاستوں کی جلد ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ ہونے لگا تھا۔“ اس وقت مہدی حسن صاحب کی عمر دس گیارہ اور بھائی پنڈت غلام قادر کی سولہ برس تھی۔ ان کے والد نے سوچا کہ بجائے شاہی گھرانوں کی سرپرستی میں رہنے کے اپنے فن کے بل بوتے پہ کمائی کا ذریعہ ڈھونڈنا چاہیے۔ اس طرح محلوں کی تن آسانی سے علیحدہ ہونے اور شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کے اس قدم پہ شاہی خاندان کی خفگی کے جواب میں ان کا کہنا تھا۔ ”ابھی آپ کا اچھا زمانہ ہے۔“ وہ (اولادیں ) نہیں جانتے کہ سورج کب ڈوبتا ہے اور کب طلوع ہوتا ہے۔ کل جب آپ اپنی ریاست کھو دیں گے تو ان کا کیا ہو گا؟ لہذا میں ان کو یہاں سے الگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کو اصل زندگی کا پتہ چلے۔ ”والد عظیم خان کے اس دانشمندانہ فیصلہ سے انہوں نے عزت و وقار کے ساتھ روزی کی تلاش کی خو ڈالی اور برے سے برے حالات میں بھی اپنے اندر کے فنکار کی قدر و منذلت نہیں کھوئی اور ثابت قدمی سے منزل کی جانب رواں دواں رہے۔

مہدی حسن صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں علی الصبح جنگل کے مہیب اندھیرے میں ورزش اور دوڑنے کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے ان میں جراتمندی اور پر خطر حالات سے نمٹنے کی عادت پیدا ہوئی۔ اس زمانے میں تصورتھا کہ اندھیرے میں بھوت پریت ہوتے ہیں۔ مشورہ یہ دیا جاتا تھا کہ اگر ڈر لگے توسر الاپ لو تاکہ ڈر اور خوف پہ قابو پایا جا سکے۔ موسیقی کے استاد غلام حیدر خان نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔ ”وہ مضبوط، سادہ اور سچے انسان تھے اور خطرہ مول لیتے تھے۔

ایک دفعہ وہ باوجود منع کرنے کے رات گئے سندھ کے ایک پر خطر علاقے سے گزرے۔ راستہ میں ڈاکوؤں نے روک لیا مگر پھر بھی اپنے ملک کے بڑے فنکار کو پہچان کر رات کا کھانا کھلایا اور بالآخر ان کی پرانی شیورلیٹ میں جانے دیا۔ یہ واقعہ جہاں ڈاکوؤں کی فن کی وقعت کو واضح کرتا ہے وہاں پاکستانی حکومت کی فن و ثقافت کی ترویج کے سلسلے میں روا بے حسی کا ماتم بھی کرتاہے۔ کیا شرمناک بات ہے کہ ڈاکو تو فنکار کی قدر کر رہے ہیں، لیکن حکمران محض سرکاری خزانے سے ڈاکے ڈال کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ یہ تفکر کیے بغیر کہ سماجی ترقی میں فن و ثقافت کے فروغ کا کتنا اہم کردار ہوتا ہے۔ اداروں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے کلاسیکی موسیقی کا فن جاننے والے کتنے عظیم فنکار بھوک اور کسمپرسی سے مر رہے ہیں۔

مہدی حسن صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔ ایک شادی 1951 میں ارینج تھی۔ خاندانی گیارہ سالہ شکیلہ اور دوسری بیگم کا تعلق ریڈیو پاکستان سے تھا جہاں وہ سنگر تھیں، تاہم مہدی حسن صاحب سے 1960 میں شادی کے بعد گانا ترک کر دیا کہ بقول مہدی حسن صاحب ”ہمارے خاندان میں لڑکیاں گانا نہیں گاتیں۔“ (ان کی مراد گائیکی کے فن سے تھی۔ ) دوسری بیگم سے موسیقی اور نئی طرزوں کے سلسلے میں مشورہ لیتے تھے۔ شادی کے وقت پہلی بیگم اتنی کم عمر تھیں کہ بقول مہدی حسن صاحب ”بیوی کی پرورش میرے ہاتھ ہوئی ہے۔“ انہوں نے دوستانہ ماحول میں انہیں بہت کچھ سکھایا۔

1958 ء (پچیس اگست) ان کا پہلا بیٹا طارق پیدا ہوا۔ پہلی بیوی سے نو اور دوسری بیوی سے پانچ بچے ہوئے۔ ان کے بیٹے سجاد مہدی کے مطابق ”وہ شفیق آدمی تھے۔ انہوں نے“ آپ ”کے علاوہ کبھی نہیں بولا۔ (مخاطب ہوئے ) جبکہ راجھستانی مارواڑی بولتے تھیجو بہت خشک زبان ہے۔“

ان کے بیٹے آصف مہدی نے جو ایک اچھے گائیک ہیں بتایا ”بحیثیت والد وہ بہت نرم مزاج کے اور بحیثیت استاد بہت زیادہ گرم مزاج کے ثابت ہوئے۔“ انہوں نے موسیقی کی تربیت اور اس حوالے سے پٹائی کا ذکر کیا مگر بعد میں تربیت کی افادیت کا احساس ہوا۔

مہدی حسن صاحب کا فن امن اور آشتی کا سفیر تھا۔ جس نے سروں کی مالا میں انسانیت کے موتی چنے۔ ایک دن کسی نے ان سے آج کل ہونے والے بم دھماکے، بد امنی اور نفرت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا ”اصل میں سر ختم ہو گئے ہیں، لے ختم ہو گئی ہے۔“

مہدی حسن صاحب راجھستان صوبہ میں واقع ایک گاؤں ”لونا“ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا ابتدائی بچپن راجھستانی صحرا کی مٹی پر سروں کی بارش برساتے اور دوستوں احبابوں کے ساتھ گزرا۔ 1946 میں پاکستان آنے کے بعدجب مہدی حسن صاحب جب پہلی بار 1977 ء میں راجھستان (جے پور) کے سرکاری مہمان بن کر گئے تو انہوں نے لونا (گاؤں ) جا نے کی خواہش کا اظہار کیا۔

جب گاڑی گاؤں کی طرف جا رہی تھی تو اچانک انہوں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا۔ جب گاڑی رکی تو سب نے حیرت اور بے یقینی کے عالم میں دیکھا کہ مہدی حسن صاحب اترے اور کچی سڑک کے کنارے ٹیلے پہ بنے ایک مندر کی جانب چلنے لگے اور وہاں کی ریتلی زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے۔ جیسے یہ مٹی نہیں ان کی ماں کی گود ہو جس سے بچھڑنے کے کئی سال بعد وہ ملے ہوں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ اپنے بچپن میں وہ یہاں بھجن گایا کرتے تھے۔

” مہندر یو آیو ہے“ ۔ ۔ ۔ :۔ یہ ان کی آمد کی خوشی میں وہاں کے رہنے والے راجھستان میں بولنے والی پوربی زبان میں گا رہے تھے۔ مہندر یو آیو ہے ”مہندر یو آیو ہے“ (یعنی مہدی آیا ہے ) پھر ان کی راجھستان کے قاعدہ کے مطابق دودھ اور دھی یا چھاچھ ربڑی سے تواضع کی گئی۔

گو صوبہ راجھستان کے ضلع جھنجھنو کے کلکٹر نے ان کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا مگرمہدی حسن صاحب اپنے دور کے رشتہ کی بہن کے گھر مہمان بن کر چلے گئے اور وہاں راجھستان کی مشہور لہسن کی چٹنی اور باجرے کی روٹی کھائی۔

اس دورے کے موقع پر انہیں احساس ہوا کہ ان کے گاؤں لونا تک کوئی سڑک نہیں جاتی۔ یہ تمام راستہ کچا ہے اور نہ ہی گاؤں میں بجلی ہے۔ جب سرکاری افسران نے پوچھا کہ ”کیا خدمت کر سکتے ہیں تو انہوں نے پکی سڑک جو گاؤں تک جائے اور بجلی کی فراہمی کی خواہش کا اظہار کیا، سڑک تو تین دن میں بننے کا وعدہ ہو گیا مگر بجلی کا خرچہ کافی تھا۔ مہدی حسن صاحب نے پیسے کی فراہمی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ لہذا اس مقصد کے لیے موسیقی کے پروگرام کا اہتمام ہوا جس میں کثیر تعداد میں عوام و خواص نے شرکت کی اور یوں مہدی حسن صاحب کی فراخدلانہ پیشکش سے عوام کے لیے بجلی کی فراہمی کا انتظام ہوا۔ یقیناً وہ غزل کے ہی نہیں دل کے بھی شہنشاہ تھے۔

ان کی انکساری کی ایک مثال ہے کہ جب وہ کسی محفل میں گانے کے لئے پروگرام پیش کر رہے تھے تو ان کا ہارمونیم ٹوٹ گیا۔ وہ اس کو خود ٹھیک کرنے لگے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے ”میرے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔ ان انجنوں کے مقابلے میں جو میں نے ماضی میں کیے۔ ان کا اشارہ اس دور کی جانب تھا کہ جب ان کی کمائی کا ذریعہ انجن فٹ کرنا تھا۔“

مہدی حسن صاحب نے اپنی پسندیدہ عادت کے متعلق کہا ”کوشش کرتا ہوں کہ میری بات سے کسی کا دل نہ دکھے“ انہوں نے کہا۔ ”میرے بچے مجھ سے ادبا ڈرتے ہیں۔ میں ان کو جہاں جہاں وہ گھومنا چاہتے ہیں گھوماتا اور فلمیں دکھاتا ہوں۔“ اپنے شوق کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ”میرا کوئی شوق نہیں، دنیا میں کوئی چیز اچھی نہیں لگتی سوائے موسیقی کے۔ تنہا پسند ہوں اور تنہائی میں مجھے سوچنے اور موسیقی کی دھن بنانے کا وقت ملتا، ان کا پسندیدہ راگ بھیروی ہے۔

مہدی حسن صاحب کی فلمی گائیکی کا ستارہ بالخصوص 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اپنے پورے عروج پہ تھا۔ فلموں کے ہیرو ان کی گائیکی پر اپنے لب ہلانا اپنا فخر سمجھتے تھے اور بڑے موسیقار بھی اپنی دھنوں میں گائے مہدی حسن صاحب کے گیتوں اور غزلوں کو اپنی کامیابی کی ضمانت تصور کرتے تھے، تاہم 1980 ء کی دھائی میں کہ جب پاکستانی فلمی صنعت زوال پذیر تھی، مہدی حسن صاحب کی حالت خراب ہونے لگی اور دونوں کو کبھی مکمل سنبھال نہ پائے۔ فلمیں ناپید ہونے لگیں اور مہدی حسن صاحب کی آواز کا سورج بھی فلموں میں غروب ہونے لگا۔

1990 ء کی دھائی میں مہدی حسن صاحب نے گانا تقریباً ختم کر دیا۔ ان پربیماریوں کا حملہ ہوا۔ پھیپھڑوں اور گردوں کے انفیکشن کے علاوہ شوگر (ذیابیطس) اور بلڈ پریشر جیسے روگی امراض بھی جان کو لگ گئے۔ وہی دہائی تھی کہ جس میں ان کی دونوں بیویاں ایک سال کے وقفہ سے اللہ کو پیاری ہو گئیں جس نے جذباتی طور پر انہیں نڈھال کر دیا۔ اس کا انجام اسٹروک کی صورت میں تھا اور نتیجہ مفلوجی۔ یہ حملہ انہیں 2000 ء میں ہوا کہ جب وہ لاہور میں اپنے بیٹے آصف مہدی کے گھرتھے۔

وہ ملائم آواز اور سریلا گلا جو سننے والوں کے دلوں کے تار جھنجھناتا تھا، وہیل چیئر پہ تھا اور خاموش تھا، لیکن امید پہ دنیا قائم ہے۔ وہ اپنے علاج کی غرض سے 2001 میں کیرالا (انڈیا) لے جائے گئے اور وہاں کے ہسپتال میں (آیوردیدک طریقہ علاج سے ) ان کا کا علاج ہوا۔

شہنشاہ غزل کی موسیقی میں عظمت کا اندازہ تو سب کو ہے، لیکن ان کی بیماری کے سلسلے میں ہونے والے اخراجات کا اندازہ لگانا عوام تو کیا، حکومتوں کو بھی نہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگاء نے ہر ایک کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے میں فنکار بھی اپنے علاج کے خرچے سے مشکل سے ہی متحمل ہوتے ہیں۔ پھر ایک تلخ حقیقت جو عموماً مہدی حسن صاحب کے درجے کے فنکاروں پہ صادق آتی ہے، وہ ہے اپنے مستقبل کے سلسلے میں ناکامی اور غیر تسلی بخش منصوبہ بندی۔

آصف نوران جنہوں نے مہدی حسن صاحب پہ ایک کتاب (Mehdi Hasan: The Man and his Music) مہدی حسن: دی مین اینڈ ہز میوزک لکھی ہے۔ اپنے ایک مضمون (DAWN) ”مہدی حسن کو کس نے مارا“ میں کچھ تلخ عوامل کا ذکر کرتے ہوئے مثلاً مہدی حسن میں چھپا خان صاحب کاکثیرالعیال کنبہ (دو بیویاں، چودہ اولادیں ) سگریٹ نوشی، پان کا استعمال اور ساتھ ہی مالی اعتبار سے مالی منصوبہ بندی کی کمی وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک عالمی شہرت یافتہ فنکار ہوتے ہوئے وہ کئی دہائیوں سے کراچی فیڈرل ایریا کی بستی ”النور سوسائٹی“ کے انتہائی متوسط درجے کے مکان میں رہتے تھے۔

جہاں حکومت کی فن کے سلسلے میں ترویج اور سرپرستی کا تعلق ہے، وہ تو مایوس کن ہے مگر اس حوالے سے قانونی ذمہ داری اٹھانا حکومت نے قبول نہیں کیا۔ مثلاً رائیلٹی کی آمدنی اور کاپی رائٹس۔ لہذا بڑے فنکار اپنے بڑھاپے میں کسمپرسی کے عالم میں رہتے ہیں جبکہ موسیقی کے تاجران ان کے فن کی بنیاد پہ منافع کھا رہے ہوتے ہیں۔

مہدی حسن صاحب کے صاحبزادوں نے اپنے والد کی زندگی میں 2004 ء میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں شکایت کی تھی کہ ان کے والد کو 1984 ء سے کوئی رائلٹی نہیں مل رہی تھی، اس لیے کہ پاکستان میں رائلٹی کا سلسلہ ہی ختم ہو گیا ہے اور اب ریڈیو وغیرہ سے بھی ان کے گائے ہوئے گانوں کے پیسے نہیں ملتے۔ انہوں نے حکومتی وعدوں کا بھی ذکر کیا جو کبھی وفا نہیں ہوئے۔ (کم از کم اس وقت 2004 تک) ۔ ہندوستان کے فنکار اور مہدی حسن کے شاگرد اور مداح جگجیت سنگھ نے پی آئی اے کے زیر اہتمام ان کے علاج اور دوسرے فنکاروں کی مدد کے لیے ایک ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے ایک کروڑ روپے بھی اکٹھے ہوئے جس کا کوئی حساب نہیں کہ کہاں گئے۔ جب 2000 ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اور گورنر پنجاب نے ان کے علاج کے لیے مدد کا اعلان کیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوا کیونکہ شیخ زید ہسپتال والے گورنر صاحب سے رابطہ کرنے کو اور گورنر کے دفتر والے وفاقی حکومت سے بات کرنے کو کہتے رہے۔ ”

فن کی سرحدیں نہیں ہوتیں :۔ مہدی حسن صاحب کے فن کو ہندوستان میں بھی اتنا ہی سراھا گیا جتنا پاکستان میں۔ ثقافتی اعتبار سے فن کو ترویج میں پڑوسی ملک کی عوام اور حکومت بہتر کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہدی حسن صاحب 2001 ء میں کیرالہ اور 2005 ء میں دہلی آیورویدک طریقہ علاج کے لئے جاتے رہے ہیں۔ وہاں کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی روزنامہ ڈان میں چھپنے والے آصف نورانی کے مضمون میں ان کے جملے ”جو حق پاکستانیوں کا میری موسیقی پہ ہے وہی ہندوستانیوں کا بھی ہے“ سے اتنا متاثر ہوئے کہ جواباً ان کے فن کی ستائش میں خط اور مفت علاج کی فراخدلانہ پیشکش کی تھی۔

تاہم اپنے ایک مضمون میں آصف نورانی نے مہدی حسن صاحب کی زندگی کے آخری سالوں میں آغا خان ہسپتال کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سائرہ خان کا ذکر کیا جنہوں نے ایمبولینس آف دی میڈیکل اینڈ فاؤنڈیشن کا انتظام کیا جو ان کے گھر سے روزانہ آغا خان ہسپتال فزیو تھرپی سیشنز کے لئے جاتی تھی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عزیزسونا والا (نیورولوجسٹ) نے بھی شروع دن سے آخر تک کوئی فیس نہیں لی۔ ہسپتال میں ان کا بل ادا ہوئے بغیر علاج ہوتا رہا۔ ان کی وفات سے ایک ماہ قبل سندھ حکومت نے پچاس لاکھ کابل اداکیا۔

گومہدی حسن صاحب نے زندگی میں فن کے حوالے سے جس مقام کی خواہش کی، وہ انہیں ملی جس کا اظہار اور خدا کا شکر انہوں نے دوبارہ اپنے انٹرویوز میں کیا مگر آخری دنوں میں بیماری اور تنگدستی کے ہاتھوں وہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پہ انتہائی نا آسودہ تھے۔ وہیل چیئر پر بیٹھے باربار اپنی آنکھوں سے بہتے بیاختیار آنسو صاف کرتے۔ مہدی حسن نے اپنے بہت سے مداحوں کو نمناک کیا۔

شعلہ تھا جل بجھا ہوں صدائیں مجھے نہ دو:۔ 13 جون 2012 وہ دن تھا کہ جب دنیائے موسیقی کے بیتاج شہنشاہ نے آخری سانسیں لیں۔ ان کی موت کا اعلان ان کے بیٹے عارف مہدی نے آغا خان ہسپتال کے باہر بارہ بج کر 23 منٹ پہ ان کے پرستاروں کے جھرمٹ میں کیا۔ اس طرح ان کی شعلہ نوائی نے بجھ کر موسیقی کی دنیا میں تاریکی اور ایسا خلا پیدا کر دیا کہ جس کا ازالہ سر دست بالخصوص ایسے عہد میں کہ جب تربیتی ادارے ناپید اوربدنظمی و بدامنی عروج پر ہو، ممکن نہیں۔

ان کی موت نے لاکھوں سوگوار مداحوں کے علاوہ نہ صرف اپنی اولاد بلکہ شاگردوں کو بھی یتیم کر دیا کہ جو ان کو موسیقی کے فن میں اپنا روحانی باپ تصور کرتے تھے۔ مہدی حسن صاحب کے فنکار بیٹے جو فن موسیقی میں ان کے شاگرد بھی تھے، حسب ذیل ہیں۔

1۔ طارق مہدی (ورسٹائل پلیبیک سنگر)
2۔ عارف مہدی حسن۔ کلاسیکل طبلہ نواز اور پروموٹر
3۔ آصف مہدی۔ کلاسیکل پلے بیک سنگر اور غزل سنگر
4۔ عمران مہدی حسن۔ کلاسیکل طبلہ نواز اور ورسٹائل سنگر
5۔ عمران مہدی حسن۔ پلے بیک سنگر اور غزل سنگر
6۔ فیضان مہدی حسن۔ ورسٹائل اور غزل سنگر

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں :۔ ایک انٹرویو میں مہدی حسن صاحب نے اپنی غزل میں سروں کی ویرانی کا (اس غزل میں ) ذکر کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی موت کی صورت میں یہ ویرانی اب لاکھوں دلوں پہ طاری ہے۔ یہ احساس اس خلا کا ہے جو شاید کوئی پورا نہیں کر سکتا کہ مہدی حسن کی سطح کے فنکار بار بار نہیں پیدا ہوتے۔ وہ محض نام نہیں ایک صدی تھے۔

دوسرے عظیم فنکاروں نے بارہا ان کے فن کی عظمت کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً ملکہ ترنم نورجہاں کا کہنا تھا ”ان کی جیسی آوازصدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔

عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کا مشہور جملہ ہے۔ ”مہدی حسن صاحب کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔“ ان کی وفات کا سن کر انہوں نے کہا ”ایک بہت بڑے غزل گائیک ہمارے درمیان نہیں رہے۔“ انہوں نے غزل کی دنیا میں بڑا انقلاب پیدا کیا۔ ان جیسا بڑا گلوکار پیدا ہونا مشکل ہے۔ وہ عظیم کلاسیکل سنگر تھے اور ان کی موسیقی میں راجھستان کی خوشبو تھی۔ ”

استاد فتح علی خان نے ان کی گائیکی کے حوالے سے انہیں سونے سینسبت دی اور کہا ”انہوں نے پتہ پتہ بوٹا بوٹا گایا اور میری آنکھوں میں پانی آ گیا۔ میں رو دیا۔“

ماسٹر غلام حیدر کا کہنا ہے۔ ”مہدی حسن نے غزل کی پرانی گائیکی میں یوں جدت پیدا کی کہ غزل گائیکی کے ساتھ ساتھ پرانے اساتذہ کے کلام کو بھی عروج حاصل ہوا۔ مہدی حسن باقاعدہ اسکول آف تھوٹ (مکتبہ فکر) ہیں۔ ان کی گائیکی میں غزل کا صاف ستھرا پن، الفاظ کی ادائیگی، سروں کا چناؤ اور لگاؤ سب چیزوں کو اکٹھا کر کے ایک خوبصورت گلدستہ بنتا ہے۔ ان کی گائیکی کا مہدی حسن صاحب نے سروں کی ادائیگی میں شاعری اور شعراء کے مفہوم کو ملحوظ خاطر رکھا اور یہ سہرا ان کے سر جاتا ہے۔“

صوفی گلوکارہ عابدہ پروین نے کہا۔ ”مجھے ان (مہدی حسن) کاکہنا یاد ہے کہ سر دیکھ سکتا ہوں۔“ ہمیں انہیں ہندوستان اور پاکستان دونوں میں منانا چاہیے کیونکہ وہ دونوں ممالک کا اثاثہ تھے۔ وہ عظیم تھے۔ ایسے لوگ کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ”

ان کے شاگرد اور غزل گائیک طلعت عزیز نے ان کی موت کو ایک ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا۔ ”وہ میرے لئے ایک ستارہ تھے اور اس نقصان کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ وہ دنیائے غزل کا عظیم سرمایہ تھے۔ کوئی دوسرا مہدی حسن نہیں پیدا ہو گا۔“

ہری ہری ان کے شاگرد تھے جو 1977 ء میں پہلی بار مہدی حسن سے ملے اور گہرے روحانی تعلقات قائم کیے۔ ان کے مطابق ”ان کی موت نے میری زندگی میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے اور مجھے اس نقصان کا شدید احساس ہے۔“

نوے سالہ دلیپ کمار نے مہدی حسن صاحب کی رحلت کی خبر سن کر اپنی ویب سائیٹ پہ اپنے مضمون میں ماضی کی خوبصورت یادوں کا ذکر چھیڑا کہ جب مہدی حسن صاحب نے اپنے انڈیا کے دورہ میں ان کے گھر تیز بخار کے عالم میں بھی گانے سنائے، ان کے فن کے مطابق ”ان کی آواز کا جادو الفاظ میں نہیں بیان کیا جا سکتا۔ ۔ ۔ وہ اپنے خالق کے لئے بہت“ خاص ”تھے۔ جبھی اس نے انہیں ایسے انداز میں گانے کی صلاحیت سے نوازا کہ وہ ان دلوں میں بھی بس جاتے کہ جو خالص غزل گو کو کم بھی سمجھتے ہوں۔ انہوں نے ہر (ایک سطح) کو متوجہ کیا۔ عام آدمی، پڑھا لکھا، امیر۔“

آصف مہدی (ان کے بیٹے ) نے اپنے والد کی گائیکی کے متعلق ایک دفعہ کہا تھا۔ ”اگر تان سین ہوتیتو مہدی حسن صاحب کی طرح ہوتے۔ میاں کی ملہار سنا ہے تان سین گاتے تو بارش شروع ہو جاتی تھی۔ ۔ ۔ یہی ہماری خوش نصیبی ہے کہ ان کا نام ہمارینامسیجڑ گیا ہے اور ہمارے گھروں کی روٹی ان کے نام سے چل رہی ہے۔“

یقیناً ہمارے عہد کا تان سین اٹھ گیا، لیکن مہدی حسن کی آواز رہتی دنیا تک سروں کی بارش سے عالم کو مہکاتی رہے گی۔ ان کی موسیقی کا شعلہ جلتا رہے گا اور ہم انہیں بار بار صدائیں بھی دیتے رہیں گے۔

مہدی حسن کے لیے نظم
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاعر : گلزار
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں
بند آنکھوں سے روز میں
سرحد پار چلا جاتا ہوں
ملنے مہدی حسن سے
سنتا ہوں ان کی آواز کو چوٹ لگی ہے
اور غزل خاموش ہے سامنے بیٹھی ہوئی
کانپ رہے ہیں ہونٹ غزل کے
پھر بھی ان آنکھوں کا لہجہ بدلا نہیں
جب کہتے ہیں
سوکھ گئے ہیں پھول کتابوں میں
یار فراز بھی بچھڑگئے ہیں
شاید ملیں وہ خوابوں میں
بند آنکھوں سے اکثر سرحد پار
چلا جاتا ہوں میں
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد کوئی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *