سلطنت عثمانیہ کا توپ خانہ جس نے اسے سُپر پاور بنا دیا، ترکوں کی جنگی تاریخ کے عروج و زوال کی کہانی

اسد علی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

sultan mehmet fateh constantinople istanbul turkey
سلطان محمد دوم کی دیو ہیکل توپ کے لیے ’30 ویگنیں جوڑی گئیں جنھیں کھینچنے کے لیے 60 طاقتور بیلوں کا بندوبست کیا گیا اور ویگنوں کے اطراف 200 اہلکار تعینات کیے گئے‘

اپریل سنہ 1453: 21 سالہ عثمانی سلطان محمد دوم اپنی فوج کے ساتھ ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ کر چکے ہیں۔ وہ گولے برساتی توپوں کے پس منظر میں اپنی فوج کے ساتھ شہر کی دیوراوں کے سامنے کھڑے ہو کر 10 سال پہلے اپنے اور اپنے والد سلطان مراد دوم کے درمیان ہونے والے ایک مکالمے کو یاد کرتے ہیں۔

یہ ’نیٹ فلکس‘ پر قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں بننے والے فلم ’اوٹومن‘ کے اہم مناظر ہیں۔

سلطان محمد یاد کرتے ہیں کہ کیسے سنہ 1443 میں سلطان مراد دوم نے انھیں اس تاریخی شہر اور اس کی مضبوط دیواروں کے سامنے اسی طرح کھڑے ہو کر کہا تھا کہ قسطنطنیہ کائنات کا دل ہے، وہ سرزمین جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا ہے اور جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا دنیا اُسی کی ہو گی۔

ان کے والد نے ان سے کہا تھا کہ ان دیواروں کو دیکھو جو ہر اس فوج کے راستے کی رکاوٹ بنی ہیں جنھوں نے اس شہر کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ ’انھوں نے مجھے روکا۔‘

سلطان محمد دوم نے اپنے والد کی باتیں سُن کر ان سے اُس وقت پوچھا تھا کہ اِنھیں (قسطنطنیہ کی دیواروں کو) گِرا کیوں نہیں دیتے؟ جب اُن کے والد نے جواب دیا کہ ابھی اتنا طاقتور ہتھیار نہیں بنا جو ان کو گِرا سکے تو شہزداے محمد نے پورے اعتماد کہ ساتھ کہا تھا کہ ’والد محترم میں اِن دیواروں کو گراؤں گا۔ اور جب میں سلطان بنوں گا تو قسطنطنیہ کو میں فتح کروں گا۔‘

یہاں ایک اہم اور قابل ذکر بات فلم میں دکھائے گئے سنہ 1443 اور سنہ 1453 کے مناظر میں ایک بڑا فرق ہے۔

سنہ 1453 میں سلطان محمد دوم جب قسطنطنیہ آتے ہیں تو ایسی گھن گرج کے ساتھ آتے ہیں جو شاید دنیا میں کسی دشمن نے اس سے پہلے نھیں سنی تھی۔ نیٹ فلکس پر فلم ’اوٹومن‘ کا ایک منظر

سلطان مراد دوم جب قسطنطنیہ کے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے پیچھے اُن کی طاقت اُن کی فوج کے گھڑ سوار دکھائی دیتے ہیں لیکن سنہ 1453 میں جب سلطان محمد دوم قسطنطنیہ آتے ہیں تو ایسی گھن گرج کے ساتھ آتے ہیں جو شاید دنیا میں کسی دشمن نے اس سے پہلے نھیں سنی تھی۔

فلم میں ایک مؤرخ بتاتے ہیں کہ ’دنیا نے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں توپیں، 69 یا 70، ایک جگہ نہیں دیکھی تھیں۔‘

شہزداے محمد نے سلطان محمد دوم بننے کے بعد اپنے والد سے کیے گئے وعدے کے مطابق سنہ 1453 میں قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو بھی شکست دی اور ’کائنات کا دل‘ سمجھے جانے والے اس شہر کو عثمانی سلطنت کا نیا دارالحکومت بھی بنایا۔

مؤرخ گیبور اگوستون نے اپنی کتاب ’گنز فار دی سلطان: ملٹری پاور اینڈ دی ویپنز انڈسٹری ان دی اوٹومن ایمپائر‘ میں لکھا ہے کہ عثمانیوں کا قسطنطنیہ فتح کرنا ایک مثال ہے کہ سنہ 1450 تک توپیں محاصروں پر مبنی جنگوں کے لیے فیصلہ کُن ہتھیار بن چکی تھیں۔

اس کے ساتھ اہم بات یہ تھی کہ اس زمانے کی جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے علاوہ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس بڑے پیمانے پر ہتھیار بنانے کے لیے وسائل اور سہولیات تھیں، جن کی بنیاد پر انھیں اپنے یورپی مخالفین پر برتری حاصل ہو گئی تھی۔

فلم ’اوٹومن‘ میں اوربان نامی ایک کاریگر سلطان محمد دوم کے دربار میں پیش ہو کر ایک توپ کا ڈیزائن پیش کرتا ہے جس کے بارے میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے گولے شہر کی تاریخی دیواروں کو گرا دیں گے۔

اس نے کہا کہ یہ توپ آٹھ میٹر لمبی ہو گی جبکہ اس کی قیمت 10 ہزار دکت ہو گی۔

اس منظر میں سلطان محمد دوم نے اس کاریگر کو جواب دیا کہ اگر اس توپ نے قسطنطنیہ کی دیواریں گرا دیں تو اسے چار گنا زیادہ قیمت ملے گی، لیکن شرط یہ تھی کہ یہ توپ تین ماہ میں تیار ہونی چاہیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15412 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp