دیرلیش ارطغرل، ایک عظیم الشان سلطنت کا ابتدائیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کو افسانے کی شکل میں ڈھالنے کا ایک مقصد ہوتا ہے کہ تاریخ کی اہم شخصیات کو اعلی خوبیوں کی علامت بنا دیا جائے اور کردار نگاری، ماجرہ سازی اور رومانیت کی آمیزش سے سے قارئین کے لیے ایک دلچسپ اور پر اثرداستان ترتیب دی جائے، اس سے ایک طرح کی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر قوموں کے زوال کے دور میں ان کے شاندار ماضی کو افسانوی رنگ میں رنگ کر مرقع اور دلفریب کہانیاں پیش کی جاتی ہیں تا کہ ان کے مردہ دلوں میں گرمی پیدا کی جائے اور ان کو عظمت رفتہ کی جستجو کے لیے ابھارا جائے۔

اس سلسلے میں کئی ایک نام آتے ہیں، عبدالحلیم شرر، صادق سردھنوی، والٹر اسکاٹ اور مشہور و معروف نسیم حجازی صاحب، نسیم حجازی کو اس فن میں ملکہ حاصل تھی کیوں کہ انہوں نے بلا مبالغہ ایسی حقیقت پیش کی جو رومانیت سے بھی زیادہ رومان انگیز تھی۔ اس میں ان کی فنی کمالات کے ساتھ ساتھ اسلام کے شاندار ماضی کا بھی کمال ہے جو ایسے بیشمار واقعات سے اٹا پڑا ہے جو مافوق العادت لگنے کے باوجود حقیقت ہیں۔ اب چونکہ دنیا کا رجحان کتاب سے میڈیا کی طرف چلا گیا ہے تو یہ ضروری ہو چکا ہے کہ اسلامی تاریخ کو ادبی لوازمات کے ساتھ میڈیا پر دکھایا جائے اس سے نا صرف ہم عوام کی خیال سازی کر سکتے ہیں اور مضبوط و معروف کرداروں کے ذریعے اپنی ثقافت اور روایات کو گلیمرائز کر کے لوگوں میں پاپولر کر سکتے ہیں بلکہ اپنی مشترکہ تاریخ کے تناظر میں ایک واحد امت ہونے کا احساس بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈرامہ دیرلیش ارطغرل اس سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک شاندار پروڈکشن، بہترین اداکاری، لازوال کردار اور ایک جاندار پلاٹ کے ساتھ یہ ایک شاہکار ہے، ویسے تو اس ڈرامے پر اوربذات خود ارطغرل پر بہت کچھ لکھا کہا جا چکا ہے اور ہر کسی نے اس ڈرامے کو اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق دیکھا اور سمجھا ہے، کچھ حضرات کے نزدیک یہ ڈرامہ صرف ایسکیپ ازم تھا یعنی حال کی تلخیوں سے دور شاندار ماضی میں پناہ ڈھونڈنا، تو کسی کے لیے یہ شخصیت پرستی اور انتظار خضر کی طرف مائل کرتا ہے کہ ایک ارطغرل جیسا مسیحا آئے گا جو ہم کو اس حالت سے نکالے گا اگر بعض اس میں سے ترک قومیت پرستی ڈھونڈ رہے تھے تو کئی ایک اس کو تاریخ پر ڈاکہ سمجھ رہے تھے، لیکن کوئی بھی اس کو ایک تاریخی فکشن سمجھنے کی غلطی نہیں کر رہا تھا جو کہ اس کی اصل ہے۔

لیکن میرے نزددیک دیرلیش ارطغرل کچھ اور معنی رکھتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عظیم الشان سلطنت کا ابتدائیہ ہے کیوں کہ اس کے کردار خود یا ان کی اگلی نسل آگے چل کر ایک عظیم الشان سلطنت ( سلطنت عثمانیہ ) کی بنیاد رکھتے ہیں، لہذا اس ڈرامے میں ان کی کردار سازی کے ساتھ ساتھ ہماری خیال سازی بھی کی گئی ہے کہ ایک مضبوط عالمی نظام کس طرح قائم کیا جاتا ہے اور پھر اس کو برقرار کیسے رکھنا ہے۔ یہی تو اس ڈرامے کی خوبصورتی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں تلوار کی علاوہ بھی جہاں بانی و امامت کے باقی گر بھی اس ڈرامے کے ذریعے سکھائے گئے ہیں۔

مثال کے طور جب ارطغرل کی ملاقات شیخ کرمانی سے ہوتی ہے تو وہ اس کو بتاتے ہیں کہ تم تب تک ایک مضبوط نظام حکومت قائم نہیں کر سکتے جب تک تم معاشی طور پر خود مختار نا بن جاؤ، تمہاری تجارت مضبوط ہو، تم ہر قسم کی مہارت و کاری گری میں خودکفیل ہو، اگر تم خود تجارت نہیں کروگے تو ظالم لوگ اس میں قدم جما لیں گے اور سکوں کے ذریعے تمہیں اپنے تابع کر لیں گے۔ تیسرے اور چوتھے سیزن کے پلاٹ کا مرکزی حصہ ہانلی بازار اور وہاں کے تجارتی معاملات ہیں۔

یہ میرے لیے حیران کن بات تھی کہ معدودے سپاہی ہونے کے باوجود ارطغرل آدھے سپاہی صرف تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لیے مختص کرتا ہے۔ جب پورا اناطولیہ منگولوں کا باجگزار ہوتا ہے تب بھی ارطغرل کی سرداری میں رہنے والے تاجر اور رعایا خوشحالی سے رہ رہے ہوتے ہیں، صرف اور صرف ارطغرل کے قائم کردہ نظام کی بدولت جس میں تجارت محفوظ اور سود سے پاک ہوتی ہے۔

معاشرے کی جان اس کے انٹیلیکچؤلز ہوتے ہیں جن میں عالم، فلسفی، صوفی اور ادیب شامل ہیں، یہی معاشرے کی روحانی زندگی کے ذمے دار ہوتے ہیں ان کے بنا ایک معاشرہ بے جان ہو جاتا ہے، یھی لوگ عوام کے اذہان کو آزادی، حریت، فکر و آگہی کی روشنی سے معمور کرتے ہیں اور اس چیز کو ڈرامے میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ ایک جگہ جب ارطغرل کو پتا چلتا ہے کہ منگولوں نے اناطولیہ میں جاری مزاحمت کے رہنماؤں کو انفرادی طور پر مارنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں صدرالدین قونوی، مولانا جلال الدین رومی، درویش آہی ایورن شامل ہیں تو وہ تب بخاری کی ایک حدیث روایت کرتا ہے کہ عالم اس دنیا میں روشنی کی مانند ہیں اور ہم آزادی و حریت کی روشنی کو جو ان رہنماؤں نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کی ہے بجھنے نہیں دیں گے۔

تیسری چیز جو اس ڈرامے کی مرقع نگاری کا سبب ہے وہ ہے علم حاصل کرنے پر زور، پورے ڈرامے میں جا بجا علم ( دینی و دنیاوی دونوں ) حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے حلانکہ بامسی جیسا جنگجؤ بھی علم کی افادیت پر لیکچر دیتا نظر آتا ہے۔ خاص طور پر سائنس کی تعلیم پر بہت زور دیا گیا ہے جیسا کہ ارطغرل کا منجھلہ بیٹا ساؤچی ایک سپاہی بننے کی بجائے میڈیسن کا طالب علم بنتا ہے، سوغوت کے امام مسجد بھی اپنے درس میں سائنسی تعلیم حاصل کرنے پر ابھارتے ہیں، وہ قرآن و سنت سے سائنسی و دنیاوی تعلیم کا حصول بھی ثابت کرتے ہیں۔ مثال کے طور وہ ابن سینا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اس قول پر عمل کیا کہ جو جتنا زیادہ خود پر غور کرے گا اللہ کو اتنا زیادہ جانے گا، اور میڈیسن کے بابائے اعظم بنے۔

اور سب سے اہم اور چونکا دینے والی چیز تھی جس پر پورے ڈرامے میں بار بار زور دیا گیا ہے، وہ ہے عدالت، یعنی انصاف، اس کی اتنی زیادہ اہمیت دکھائی گئی کہ اس ڈرامے کے کردار صرف انصاف کی خاطر پورے کا پورا کنبہ تک قربان کر ڈالتے ہیں، اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جب بات عدل کی ہو تو آپ چاہے کسی بھی قبیلے، کسی بھی قوم، کسی بھی ملک یہاں تک کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو انصاف کا ساتھ دینا چاہیے ک چاہے وہ انفرادی ہو یا عدل اجتماعی، سیاسی ہو یا معاشی عدل، کیوں کہ عدل کے بغیر امن نا ممکن ہے۔ اگر آپ کے معاملات میں عدل نہیں تو آپ ایک عالمی نظام حکومت تو ایک طرف، قبیلے کی سرداری تک برقرار نہیں رکھ سکتے۔

اور ڈرامے کے مطابق ایک عالمی نظام قائم کرنے کے لیے مندرجہ بالا خصوصیات ہونا لازمی ہیں، آپ کی معیشت مضبوط ہو، آپ کو علمی و فنی برتری حاصل ہو، روشن خیالی اور فکری حریت سے آپ کے معاشرے کا جزولاینفک ہو اور آپ انفرادی اور اجتماعی طور پر عادل ہوں۔ یہی آداب ہیں دنیا کی امام قوموں کے۔

یہ چند لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ دیرلیس ارطغرل ہمیں حال کی تلخیوں سے دور ماضی کی سہانی وادیوں میں لے جاتا ہے یعنی ( ایسکیپ ازم ) بلکہ یہ تو ماضی کو حال کے تناظر میں مستقبل کے لیے قطب نمائی کرتا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ یہ ایک تاریخی فکشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply