کنور اخلاق محمد خاں، شہریار: خوابوں کا سوداگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گہے خندم گہے گريم گہے افتم گہے خيزم
مسيحا در دلم پيدا و من بيمار می گردم (مولانا روم)

جب اداسی رقص کر رہی تھی، وہ جنوں کی حالت میں تھا۔ کبھی تو میں ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں۔ کبھی گرتا ہوں اور کبھی سنبھلتا ہوں۔ میں بیمارعشق ہوں مگر میرے دل میں میرا مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں اپنے مسیحا کے گرد طواف کرتا ہوں۔ یہ کسی کی زندگی میں بھی عجیب عالم ہوتا ہے، ذات اپنے انکشاف میں سات پردوں کے اندر ہوتی ہے۔ پھر اندھیرا اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ اندھیرے کا مسافر نہیں تھا۔ مگر اس کی ذات میں ایک نہ ختم ہونے والا اندھیرا اتر آیا تھا۔

وہ دوستوں کا دوست تھا، علیگڑھ اور سارے ہندوستان کا محبوب شاعر، مگر مقبولیت کے ساتھ ایک سیاہ سایہ بھی ہوتا ہے۔ جسے دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ گہے خندم، گہے گریم۔ لیکن یہ سیاہ پردہ اداس کر دیتا ہے۔ سوچتا ہوں، زندگی جن لوگوں کے ساتھ ساتھ گزری، وہ اچانک چلے گئے۔ ندا فاضلی، شہر یار، مغنی تبسم۔ اٹھتے بیٹھتے کبھی ان لوگوں کا ہی تذکرہ ہوا کرتا تھا۔ اب نیے لوگ، نیا ہجوم۔ تھوڑے عرصے میں کارواں گزر گیا۔ سیکڑوں چلے گئے۔ شہر یار بھی۔ ندا بھی اور کتنے؟ یاد نہیں۔ قافلہ گزرتا جا رہا ہے۔

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
میں اپنے سایے سے کل رات ڈر گیا یارو
وہ کون تھا، وہ کہاں کا تھا، کیا ہوا تھا اسے
سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
گردش وقت کا کتنا بڑا احساں ہے کہ آج
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں

ایسے ہزاروں اشعار آپ کو شہر یار کے یہاں مل جاہیں گے۔ لکین یہ کہنا مشکل ہے کہ انھیں زمین چاند سے بہتر نظر آتی تھی یا نہیں۔ گدش وقت نے شہر یار کو یہ دن بھی دکھایا کہ، میں اپنے سایے سے کل رات ڈر گیا یارو۔ سنا ہے، آج کوئی شخص مر گیا یارو۔ پھر شہر یار نے یہ بھی لکھا، جستجو جس کی تھی، اس کو تو نہ پایا ہم نے۔ آخر تک ایک اداسی تھی جس نے شہر یار پر سایہ کر رکھا تھا۔ ۔ ایک دفعہ علیگڑھ کافی ہاؤس میں ملاقات ضرور ہوئی مگر کوئی خاص گفتگو نہیں ہوئی۔ یہ پہلی ملاقات بھی تھی اور آخری ملاقات بھی۔

شہریار چلے گئے، اپنے پیچھے یادوں کی ایک ایسی محفل چھوڑ گئے جسے بھولنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ بے حد کم بولنے والے شہریار کو ان کی زندگی میں وہ سب کچھ ملا جس کے حقدار کو ادب کا خوش قسمت انسان کہا جاسکتا ہے۔ خدا جانے وہ حقدار تھے بھی یا نہیں۔ بہت خاموشی سے ادب میں قدم رکھنے والے شہریار کی کامیابی کے پیچھے ان کے دوستوں کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ یہ شہریار کی خوش قسمتی کہی جائے گی کہ ادب کے تمام بڑے ا عزازات سے انہیں نوازا گیا۔ ان میں ساہتیہ اکادمی سے لے کر گیان پیٹھ تک شامل ہے۔ اس طرح گیان پیٹھ پانے والے شہریار نے اپنا نام اسی صف میں درج کرا لیا جس صف میں پہلے سے ہی قرۃ العین حیدر، فراق گورکھپوری اور علی سردار جعفری شامل تھے۔ گیان پیٹھ کو لے کر تنازع کا بازار بھی گرم ہوا۔

گیان پیٹھ ملنے سے پہلے تک شہریار کے علاوہ گیان پیٹھ اردو کے دو اور ناموں پر غور کر رہا تھا۔ گیان پیٹھ سے وابستہ ایک اہم شخص نے اس وقت مجھ سے فون کرکے یہ جاننے کی خواہش ظاہر کی تھی کہ نیر مسعود (لکھنؤ) قاضی عبدالستار (علی گڑھ) اور شہریار میں کس کے نام کا وزن زیادہ ہے۔ میں نے مختصر میں اپنی بات رکھی تھی میں نے کہا تھا، اردو ادب کو فلمی نغمے قبول نہیں ہیں۔ شہریار کی شہرت کے پیچھے فلمی نغموں کا زیادہ ہاتھ ہے۔ اس لیے آج بھی اردو کے بہت سے شائقین شہریار کو ایک سنجیدہ شاعر کے طور پر قبول نہیں کر پائے۔ مگر ان کا نام شب خون، شمس الرحمن فاروقی اور مغنی تبسم جیسوں کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ شب خون، فاروقی اور مغنی تبسم شہریار کے دوستوں میں شامل ہیں۔

ایک طبقہ انہیں تسلیم بھی کرتا ہے۔ مگر اردو شاعری کا ایک بڑا حلقہ انہیں ابھی بھی اس طور پر قبول نہیں کرتا۔ رہی بات نیر مسعود اور قاضی عبدالستار، تو یہ دونوں ایسے نام ہے جنہوں نے اردو ادب میں کم وبیش وہی جگہ بنائی ہے جو مقام قرۃ العین حیدر کو حاصل ہے۔ قاضی صاحب کے بارے میں تو خود قرۃ العین حیدر کہا کرتی تھیں کہ قاضی صاحب مجھ سے بھی کہیں بڑے افسانہ نگار ہیں۔ دارا شکوہ، غالب، شب گزیدہ، خالد بن ولید ایسے ناول ہیں جنہیں آسانی سے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے قاضی عبدالستار صاحب کو اگر یہ عزت دی جاتی ہے تو یہ فخر کی بات ہوتی اور اگر نیر مسعود کو بھی دی جاتی ہے تو اردو والے گیان پیٹھ کا احترام کریں گے۔ کیونکہ ’رے خاندان کے آثار‘ اور ’سیمیا‘ جیسی کہانیوں کے خالق کو اردو میں ایک بڑا درجہ حاصل ہے۔ نیر مسعود کی اپنی ایک بڑی دنیا ہے اور ہندستان سے پاکستان تک کسی کو بھی یہ تسلیم کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ نیر مسعود نے اردو کہانی کے قد کو بڑا کیا ہے لیکن جب گیان پیٹھ انعام دیے جانے کی باری آئی تو قاضی صاحب کا نام بہت حد تک کاٹا جا چکا تھا۔

نیر مسعود اور شہریار کے ناموں پر گفتگو چل رہی تھی۔ ہندی کے مشہورشاعر کنور ناراین شہریار کے حق میں تھے۔ اس طرح شہریار کے نام کا اعلان کر دیا گیا۔ ہاں، مجھ سے یہ ضرور کہا گیا کہ گیان پیٹھ نیر مسعود کے سمگرہ ادب کے پرکاشن ( اشاعت ) پر غور کر رہا ہے۔ شہریار کو گیان پیٹھ دیے جانے پر اردو اخباروں اور رسائل میں احتجاج بھی ہوئے اور یہ لہجہ اس وقت اور بھی تیز ہو گیا جب انہیں یہ انعام امیتابھ بچن جیسے اسٹار سے دلوایا گیا۔ اردو والے اس حقیقت کو برداشت نہیں کر پائے۔

یہ تو رہی شہریار اور گیان پیٹھ تنازعات کی باتیں۔ بڑے لوگ اکثر تنازعات میں گھرے رہتے ہیں۔ شہریار کی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑی سے بڑی باتوں کو پی جاتے تھے۔ کسی بھی بات پر بحث کرنا ان کی عادت میں شمار نہیں ہوتا تھا۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ ایک اچھے شاعر کی آخری دنوں میں زندگی درد میں ڈوب گئی تھی۔ (نجمہ شہریار اور اب نجمہ محمود) ان کی زندگی میں ہی شہریار سے الگ ہو چکی تھیں۔ آخری دنوں میں شہریار تنہائی کی زندگی گزار رہے تھے وہ زندگی جس کا اشارہ انہوں نے بہت پہلے اپنی غزلوں میں دیا تھا۔

’سینے میں جلن، آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے ’

نجمہ آپا لاجواب خاتون ہیں۔ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ناول بھی۔ تنقیدی مضامین بھی۔ وہ جینیس ہیں۔ انگریزی ادب پر بھی عبور حاصل ہے۔ شخصیت میں توازن ہے۔ فاصلہ کیوں پیدا ہوا، یہ بات میں کبھی سمجھ نہیں پایا۔ لیکن اپنی پریشانیوں کی کہانیاں خود شہریار نے لکھی تھی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ شہریار زندگی کی آخری سانسوں تک ان پریشانیوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ یقین نہیں ہوتا ان پریشانیوں کے دائرے میں رہ کر شہریار جیسا کوئی شاعر محبت کو بنیاد بنا کر ایسی شاعری بھی کر سکتا ہے، جسے عوام سے خواص تک گنگنانے کے لئے مجبور ہو جاہیں

مٹھیاں ریت سے بھر لو کہ سمندر میں تمھیں
اک نہ اک روز جزیروں کی ضرورت ہوگی
وقت کی بات ہے یہ بھی کہ مکاں خوابوں کا
جس نے تعمیر کیا ہو وہی ڈھانے آئے
کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میں
آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

کنور اخلاق محمد خاں شہریار 16 جون 1936 کو اتر پردیش کے بریلی کے ایک گاؤں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولس ملازم میں تھے۔ علی گڑھ آتے ہی ان کے اندر کا تخلیق کار بھی سامنے آنے لگا۔ یہ ان کی خوش نصیبی تھی کہ انہیں پروفیسر خلیل الرحمن اعظمی جیسا استاد ملا۔ جلدی ہی شہریار انجمن ترقی اردو سے وابستہ ہوگئے۔ شہریار۔ یہ نام بھی خلیل الرحمن اعظمی کا ہی دیاہوا ہے۔ کہتے ہیں شہریار کو اپنا یہ لمبا چوڑا نام پسند نہیں تھا۔

ایک دن وہ خلیل الرحمن اعظمی کے یہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ الف لیلیٰ کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ بس کیا تھا، الف لیلیٰ کا داستانی کردار شہریار کے نام کا حصہ ہو گیا، پھر کنور محمد اخلاق خاں کہیں غائب ہوگیا، وہ آخر آخر تک شہریار کے نام سے ہی جانے گئے، شہریار نے اپنی شاعرانہ زندگی 1969 سے شروع کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’اسم اعظم‘ تھا۔ ’ساتواں در‘ ان کا دوسرا شعری مجموعہ تھا۔ اس کے بعد ’ہجرے کے موسم‘ ، ’خواب کا در بند ہے‘ ، ’نیند کی کرچیاں‘ ، ’شام ہونے والی ہے‘ منظر عام پر ہے۔ ’حاصل سیر جہاں‘ شہریار کی کلیات کا نام ہے۔ مغنی تبسم کے ساتھ مل کر شہریار نے شعری حکمت کے کئی شمارے نکالے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ شہریار کو رخصت ہوئے ابھی دو دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ مغنی تبسم کی بھی خبر آ گئی، وہ بھی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

شہریار کو خاموش محبتوں کا شاعر کہا جاتا ہے۔ دھیمے رومانی لہجے میں بات کرنا شہریار کی پہچان بن گئی تھی اور کتنی عجیب بات، محبت کے اس خاموش شاعر نے 13 فروری کی رات اس دنیا کو الوداع کہا اور ان کی تدفین ویلنٹائن ڈے یعنی 14 فروری کو ہوئی۔ سارا علی گڑھ غم زدہ تھا جنازے کو کندھا دینے کے لیے سارا شہر امڈ آیا تھا۔

شہریار چلے گئے۔ ۔ ایک خاموش شاعر۔ شہریار میں غرور ذرا بھی نہیں تھا۔ خاموشی سے کام کیے جانا ان کی عادت تھی۔ اردو والوں کو شہریار سے شکایت رہی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ شہریار ان بہت کم لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کے بین الاقوامی مارکیٹ تک اردو کے نام کا ڈنکا بجایا ہے۔ اب ایسے نام کم رہ گئے ہیں۔ فلمی شاعری میں بھی شہریار نے کبھی معیار سے سمجھوتا نہیں کیا۔ محبت کے اس خاموش عاشق کو میرا عقیدت بھرا سلام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *