خود تونے پیدا کیا، کہ میں نے کہا احسان کر


سندھ اور پنجاب کے عام لوگوں میں یہ یکسانیت اتم درجہ پائی جاتی ہے کہ دونوں نثر سے زیادہ نظم کو پسند کرتے ہیں، اور نظم بھی اس کو مانتے ہیں جس کو گایا جائے، موسیقی سے مزین کیا جائے اور ساتھ ساتھ رقص بھی شامل ہو جائے کیا بات ہے۔ رقص زندگی ہے، تمام ملامتی صوفیاء رقص کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے اور یہ شدت پسندوں کے خلاف ایک زبردست جوابی حملہ ہے، بلکہ کاری وار ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب کے تمام صوفیاء کی درباروں پر موسیقی اور رقص لازم ہوتا ہے۔ قوالی کی صورت ہو، دھمال کی صورت ہو یا راگ کی صورت مگر موسیقی ضروری ہے۔ جس طرح پنجاب میں خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور مادھو لال حسین کی درگاہیں عشاق کا مرکز ہیں ویسے ہی سندھ میں شاہ بھٹائی، سچل سرمست، شاہ عنایت شہید اور بیدل فقیر کی درگاہیں سندھ میں صدیوں سے قائم اہنسا، عشق اور رواداری والی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں اور کافی ہیں۔

سندھ کے معروف صوفی شاعر اور دانشور فقیر قادر بخش بیدل کی 152 ویں برسی گزشتہ دنوں منائی گئی، کرونا وبا کی وجہ سے درگاہ پر برسی کی تقریبات منسوخ کی گئی تو صوفی ازم کے عشاق نے آن لائیں میلہ سجا دیا۔ دو دن تک جاری آن لائیں میلہ میں پہلے دن درگاہ سے لائیو تقریب دکھائی گئی جس میں چند لوگوں نے فقیر قادر بخش بیدل کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ شام کو اکادمی ادبیات پاکستان اور بیدل فقیر اکیڈمی کی جانب سے آن لائن سیمینار منعقد کیا گیا جس میں سندھ اور پنجاب کے اہم مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ بیدل فقیر کے عشاق منظور احمد اجن اور رمیش راجا نے درگاہ سے زوم پر لائیو میلہ سجایا ہوا تھا جس میں پوری دنیا میں موجود عشاق نے شرکت کی مسلسل چار گھنٹے تک جاری اس تقریب میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے رہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر لائیو محفل موسیقی بھی جاری رہے۔

حضرت سچل سرمست کی طرح فقیر قادر بخش بیدل کو بھی ہفت زباں شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کا کلام سات زبانوں عربی، فارسی، اردو، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور ہندی میں موجود ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ان کا کلام 18 منتخب راگوں میں ہے جو براہ راست دلوں کو چھوتا ہے۔ آپ سندھ میں اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر اور غالب کے ہم عصر تھے۔

ہفت زباں شاعر فقیر قادر بخش بیدل نے سکھر کے علاقے روہڑی میں آنکھ کھولی، کہا جاتا ہے کہ اس کے اجداد ملتان سے ہجرت کر کے روہڑی شہر تشریف لائے تھے۔

یونیورسٹی میں پنجابی ادب شعبے کی چیئرپرسن ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے اپنی پی ایچ ڈی کی تھیسز کی تیاری کے وقت لاہور میں قادر بخش بیدل کی شاعری پڑھنے کو مل گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع ”پنجابی شاعری دے ارتقا وچ قادریاں دا حصہ“ تھا۔ اس تھیسز پر کام کرتے مجھے بیدل فقیر کا پنجابی کلام جو سندھی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا نیشنل سینٹر کی لائبریری میں سے (جو اب ایم اے او کالج میں ہے ) ملا۔ مجھے اس میں سے سچل کی خوشبو آئی۔ سچل اور بلھے شاہ جنہوں نے عشق کے رموزو آداب بتائے تھے۔ بیدل وہ جنہوں نے درد کے مام سمجھائے۔

بیدل سندھ اور پنجاب کی فکری میراث کا وہ پل ہیں جسے کوئی آمر نہیں توڑ سکتا۔ اب تو ہم پنجابیوں کا بھی نعرہ ہے ”حق موجود سدا موجود“ ۔

ڈاکٹر نبیلہ رحمان کا کہنا ہے کہ بیدل فقیر پنجاب کا چاند تھا جو جاکر سندھ کی دھرتی پر چمکا، اس لئے نثر بھلے عربی اور فارسی میں لکھا ہو مگر شاعری کے لئے سندھی اور پنجابی کو چنا، ساتھ میں اردو، فارسی اور ہندی میں بھی شاعری کی۔ ڈاکٹر نبیلہ رحمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”سندھ اور پنجاب کی سوچ کا خمیر ایک ہی ہے، اس وقت بھی سندھ اور پنجاب کو اگر کسی ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے تو وہ صوفی ازم ہے۔“

یاد رہے کہ بیدل فقیر کا دور 1814 عیسوی سے 1872 عیسوی پر محیط ہے۔ فقیر قادر بخش بیدل کی طبیعت میں تصوف کا گہرا اثر تھا، وہ بلند پایہ مفکر، دانشور اور قابل فخر شخصیت کے مالک تھے۔

وہ سرائیکی، سندھی، اردو، عربی، فارسی کے بھی عالم تھے اور نثر بھی بھی انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ ان کی 36 اہم کتابیں ہیں جن میں تین کے علاوہ باقی فارسی اور عربی میں ہیں۔ بیدل کے یہاں عشق کا فلسفہ صوفیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کے اکیلے بیٹے محمد حسن ’بیکس‘ بھی کمال کے شاعر تھے۔ سندھ مین بیدل فقیر کی زیادہ تر سندھی اور سرائیکی شاعری گائی جاتی ہے۔

درگاہ بیدل فقیر سے روحانی طور منسلک اور صوفی ازم پر کتابوں مصنف دانشور اختر درگاہی کا کہنا ہے کہ ”بیدل فقیر سائیں صرف صوفی شاعر نہیں، انقلابی صوفی، دانشور صوفی اور لبرل صوفی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے پیغام میں اجتماعی طور ملائیت، مسلک، جاگیرداری، سرمایہ داری اور انفرادی طور پر منافقی، جھوٹ، مکاری اور جہالت کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

حضرت بیدل فقیر کا شمار ان صوفیاء اکرام میں ہوتا ہے جن کو خانقاہی رہنے کو بجائے انقلابی رہنا پسند تھا، ان کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ بیدل سائیں بہت پڑھی لکھی شخصیت تھے، ان کو جہاں علم قرآن و حدیث، فقہ، تفسیر اور دوسرے دینی علوم پر دسترس حاصل تھی ویسے ہے تاریخ، ادب، شاعری، موسیقی پر بھی کمال مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں وہ موسیقیت ہے کہ ان کا ہر لکھا کلام گایا جاسکتا ہے اور اس پر رقص بھی کیا جاسکتا ہے۔

اختر درگاہی کا کہنا ہے کہ ”سندھ کے صوفی شعراء میں شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے بعد بیدل فقیر کا نام آتا ہے، انہوں نے ملائیت، شدت پسندی اور سخت گیری کے خلاف سب سے زیادہ اور مضبوط آواز اٹھائی۔ وہ آواز اب بھی زندہ اور باقی ہے۔“

بیدل فقیر نے اپنے دور کے بڑے علماء سے تعلیم حاصل کی اور خود شاعری، تاریخ، ادب، موسیقی، ثقافت، دینیات، فقہ اور سیرت کے موضوعات پر 36 کتابیں لکھیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کوئی آپ بیتی نہیں لکھی اس لئے یہ پتا نہیں سکا کہ ان کے اساتذہ کے نام کیا تھے اور کیا واقعی ان کے اجداد پنجاب سے ہجرت کر کے سندھ میں آئے تھے۔ نامور شاعر اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے شعبہ سندھی ادب کے سابق چیئرمین ایاز گل صاحب کا کہنا ہے کہ ”بیدل فقیر کی جس شاعری کو پنجابی شاعری کہا جاتا ہے اس کو جنوبی پنجاب والے سرائیکی شاعری کہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فقیر قادر بخش بیدل نے خود اپنی اس شاعری کو سرائیکی شاعری لکھا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں زبان اور ثقافت کے لئے کام کرنے والے ادیب، دانشور اور سیاسی کارکن سرائیکی کو علیحدہ زبان ماننے کے بجائے پنجابی زبان کا لہجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب کے لوگ یا بولنے والے لوگ اس کو پنجابی سے علیحدہ اور مکمل زبان قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ سندھ میں سندھی کے بعد سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی بولی بھی سرائیکی ہے، مگر وہاں اس کو سندھی کا لہجہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ علیحدہ سے زبان سمجھا جاتا ہے، شاید اس کی وجہ سندھی زبان سے سندھی عوام کی عشقیہ اور والہانہ وابستگی بھی ہو، وہ سرائیکی بولتے تو ہیں مگر آدمشماری میں اپنی زبان سندھی لکھواتے ہی‍ں اور ساتھ ساتھ خود کو سرائیکی کہلانے کے بجائے سندھی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

مگر اس بات پر پنجاب کے دانشور ضرور نالاں رہتے ہیں کہ سندھ کے ادیب سرائیکی کو پنجابی زبان کا لہجہ ماننے کے بجائے علیحدہ زبان کیوں سمجھتے ہیں۔ اختلاف اپنی جگھ پر مگر یہ اختلاف اور بحث پاکستان کی قومیتوں کی زبانوں کے ترقی اور ترویج کے لئے کارگر ثابت ہوگا اور عوام کی اپنی قومی زبانوں سے انسیت بھی بڑھے گی۔

سائیں بیدل فقیر کا سندھی اور سرائیکی کلام سب سے زیادہ گایا گیا ہے، خاص طور پر عابدہ پروین کا گایا ہوا کلام ”چلو ری سیاں چرچا ویکھیں آپ چمن میں آیا“ کافی مقبول رہا۔ اب کے بار برسی کے موقعہ پر پی ٹی وی کی جانب سے نشر کیے گئے پروگرام میں مشہور صوفی سنگر صنم ماروی نے بیدل فقیر کا کلام پیش کیا۔ بیدل سائیں کے اک مقبول سندھی کلام کا ترجمہ پیش ہے۔

پاڻ تو پیدا ڪیو، ڪین مان چیئی احسان ڪر،
گھرج ہئی توکی گھڻی، ڪین مان چیئی انسان ڪر،
(خود تونے پیدا کیا کہ میں نے کہا کہ احسان کر
تم کو ضرورت آن پڑی یا میں نے کہا انسان کر)

شڪم مادر ۾ رہیس، ٿی ڏھہ مھینا قید ۾،
تو اتی پالیو مون کی، ڪین مان چیئی مھمان ڪر،
(شکم مادر میں تھا، دس مہینے قید میں تھا
آپ نے پالا وہاں کہ میں نے کہا مہمان کر)

خوش خوراڪون ڏیئی مون کی، جلدی تو اچی جوان ڪیو،
موجود موجان تو ڏنیون، ڪین مان چیئی گھمسان ڪر،
خوش خوراکیں دی تم نے، جلدی آں کہ جوان کیا
موج مستی بھی تم نے دی کہ میں نے کہا مستان کر)

بیدل برہہ بی انت آء، عام ٿا ائین چون،
ھر جا رمز تنھنجی آھی، ڪین مان چیئیٔ اعلان ڪر۔
(بیدل عشق بے انت ہے، عام یہ ہی کہتے ہیں
ہر سو رمز تیری ہے کہ میں نے کہا اعلان کر)

Facebook Comments HS