ڈرامہ اور تہذیبی اغوا کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈرامہ یونانی زبان کا لفظ ہے، ڈراؤ سے لیا گیا جس کا مطلب ہے ’کر کے دکھانا‘ ۔ ڈراما اصل میں ایک تحریر ہوتی ہے جسے کرداروں کی صورت میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور تحریر انسان کی ذہنیت کی عکاسی کرتی، جو انسان کے دماغ میں ہوتا ہے وہ لفظوں کی صورت میں بکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ جو انسان جس چیز میں زیادہ دلچسبی رکھتا ہے اس کا قلم وہ سب مختلف پیرائیوں میں اگلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

ہم اس بحث میں پڑے بغیر کہ کیا ڈرامہ دیکھنا چاہیے یا نہیں۔ ؟ اس طرف بڑھیں گے کہ جو لوگ دیکھ رہے ہیں، اور ان میں سے بھی اکثریت عورتوں کی ہے۔ ان پر ان ڈراموں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے چندضروری باتیں سپرد قلم کرنا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے، اس کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں جن کا ہر مسلمان کو جاننا اور بجا لانا نہایت ضروری ہے۔ کتب احادیث و فقہ میں کئی مقامات پر یہ بات درج ہے کہ ایک انسان کو اگر پیدائش کے بعد غیر جانبدار ماحول میں رکھا جائے جہاں اسے کسی دوسرے مذہب و عقیدے کی طرف متوجہ نہ کیا جائے، تو وہ فطری طور پر مسلمان ہوتا ہے، اور وہ اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پسند کرتا ہے۔ جب انسانی فطرت اسے اسلام کی طرف راغب کرتی ہے۔ تو اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ پھر ایک انسان خاص کر وہ انسان جو مسلمان بھی ہے کہاں سے بہک جاتا ہے، ایسی کیا وجوہات ہیں جو اسے اسلام کی اپنائیت سے دور کسی تہذیب کا خوگر بنا تی ہیں۔

اس سوال کے جواب میں جہاں اور بہت سے عناصر کا عمل دخل ہے وہیں بادل نخواستہ یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ٹی وی چینلز کے ڈرامہ کا بھی اس میں بڑا کردار ہے کہ وہ جسے جس طرف لے جانا چاہے لے جا سکتا ہے۔ جس پہلو کو جس انداز میں پیش کرنا چاہے الفاط اور کردار کے پردے میں وہ پیش کر سکتا ہے، مہذب طریقے سے بد تہذیبی پھیلانا ہو، یا میٹھے انداز میں کڑوے رویے اپنانے کی بات ہو۔ غرض یہ کہ برے کو بھلا، بھلے کو برا بتلانا ہو تو ٹی وی چینلز پر دڑھلے سے چلنے والوں ڈراموں کی کوئی قسط دیکھ لیں۔

پھر یہی لوگ کسی سانحہ اور واقعہ پر جب انسانی حقوق، اسلامی تہذیب اور اخلاقی اقدار کی پامالی کی بات کرتے نظر آتے ہیں، تو ا نسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ان لوگوں کو تب ہی حقوق اور تہذیب کیوں مرتی دکھائی دیتی ہے جب کسی اور کے ہاتھوں ان کا گھلا کھونٹا جا رہا ہو۔ اور صرف تب ہی اخلاقی اقدار پامال ہوتے کیوں دکھائی دیتے ہیں جب ان کے طبقے سے غیر متعلق شخص سے ہوئے ہوں۔ جبکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے جس کا بھی جتنا حصہ ہو وہ اس کا جواب دہ ضرور ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو۔

پھر یہ بھی ایک قابل توجہ بات ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ جو میڈیائی ڈراموں پر مکمل دسترس رکھتے ہیں، اور میڈیا پر غالب ہیں، وہ معاشرے میں ایسی چیزیں لائیں جو مسائل کو پیدا کرنے کے بجائے مسائل کوحل کرنے کا سبب بنیں۔ وہ ایسی تحریر کیوں نہیں لکھ پاتے جو ہمارے معاشرے میں مزید بگاڑ کے بجائے اس کی بہتری کی طرف اسے گامزن کریں۔ وہ ایسے ہی کرداروں کا انتخاب کیوں کرتے ہیں جو اسلامی تہذیب و تمدن سے کوسوں دور ہوں۔

انہیں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ ان کی من گھڑت کہانی جب ایک خاندان کے لوگ دیکھیں گے تو اس کے ان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں، خاص کر نوجوان نسل پر اس کے کتنے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہیں صرف ایسی ہی کہانیاں کیوں ملتی ہیں جس میں عشق معشوقی کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، جہاں نامناسب تعلقات کے تانے بانے بنے ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ ایسی بے شمار چیزیں ہمارے ٹی وی چینلزپر چلائی جاتی ہیں جو اسلامی معاشرے کے بالکل متضاد ہوں، جنہیں کم ازکم ایک عزت دار باضمیر انسان حقیقی طور پر کبھی بھی قبول نہیں کر سکتا، جب کہ ڈراموں میں ان سب چیزوں کا بلا روک ٹوک تماشا کیا اور کرایا جا رہا ہے۔

یہ ہی نہیں بلکہ اس طرح کی چیزوں نے ہمارے پورے معاشرے اور تہذیہب کو گمشدہ بنا دیا ہے، کسی صاحب نے دو منٹ کی ایک ویڈیو میں اس کی عکاسی اس انداز سے کی ہے گھروں میں موجود بچے بظاہر تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن درحقیقت وہ اغواء ہو چکے ہیں۔ دروازے توڑ کر، دیواریں پھلانگ کر، گھروں میں گھس کر آپ کے بچوں کو اغواء کیا جا رہا ہے۔ آپ کا ٹی وی، لیپ ٹاپ، موبائل و دیگر چھوٹی بڑی سکرینیں آپ کے بچوں کے دماغوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔

ان کے دلوں کو سیاہ اور پرا گندا کیا جا رہا ہے۔ ان کے کان اور آنکھیں حیا سے عاری اور مادر پدر آزاد بنائی جارہی ہیں۔ گویا ان کے اعضاء کاٹے جا رہے ہیں۔ اب یہ صرف مسخ شدہ نعشیں ہیں۔ بچوں کا چہرہ سامنے ہونا ہی ان کا موجود یا محفوظ ہونا نہیں کہلاتا۔ بچیوں کے سروں پر سے پردہ سرک کر بدن سے بھی جان چھڑانے کے چکروں میں ہے۔ اب یہ سر پر پردہ تک کا بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں رہیں۔ وہ گھر چلانا اور گھر بنانا چھوڑ رہی ہے۔

وہ باہر کی دنیا کی اسیر ہو چکی ہے۔ اور بچے ہونے کے باوجود مائیں بے اولاد کی جا رہی ہیں۔ آج کی بچیاں کل کی ماں بننے کے لائق نہیں چھوڑی جا رہیں۔ انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر بانجھ کیا جا رہا ہے۔ ہم بچوں کو اپنے ہاتھوں سے بھاری فیس دے دے کر اس تہذیب کے حوالے کر رہے ہیں۔ وہ تہذیب کے جس نے آپ سے آپ کا خالق چھین لیا، اورآپ کی آنے والی نسلیں بھی۔ یہ بچے نہیں، اگلی نسل کے والدین اغوا ہو رہے ہیں۔ یہ اغواء شدہ بچے کل کو کس طرح کے ماں باپ ہوں گے؟

اس کا تصور بھی بھیانک ہے۔ جب تربیت کا پہلا مدرسہ (ماں ) ہی اخلاقی طور پر تباہ کر دیا جائے۔ باپ کو بے حیا اور آزاد کر دیا جائے تو اسے کہتے ہیں کڈ نیپنگ۔ جب کردار مسخ کر دیے جائیں، جب افکار کچل دیے جائیں، جب تہذیب مار دی جائے۔ جو نظروں کے سامنے ہو کر بھی کسی اور کے پیروکار ہوں، تو فکر ہونی چاہیے، یہ فکر ابھی کیجیے۔ اور جان رکھیں کہ جو آپ کے پاس ہے وہ آپ کے ساتھ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply