دارالامان: پناہ گاہ یا فراغت میں جائے تفریح؟
بسمہ میکے آتو گئی مگر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ پیسے کیسے مانگے وہ بھی ایک لاکھ ایک ساتھ۔ اس کی ذات پہ گھر والوں نے ایک ساتھ کبھی 5 ہزار خرچ نہیں کیے سوائے شادی کے، تو ایک لاکھ کہاں سے دیتے۔ دو تین دن تو ایسے ہی گزر گئے۔ دادی اور امی دونوں اس کے اس طرح آنے پہ مشکوک ہوگئیں کیونکہ وہ اتنے دن رکنے آئی ہی نہیں کبھی۔ دادی کئی دفعہ خیریت پوچھتیں باسط کا حال پوچھتیں۔ ان کو ابھی تک مقدمے والی بات پتا نہیں چلی تھی۔ بس یہ پتا چلا تھا کہ نازیہ لڑ کے اپنے گھر چلی گئی ہے تو اس کے لیے دادی اور امی کا خیال تھا کہ اس جیسی عورت تو اتنے عرصے بس گئی وہی حیرت ہے۔ باسط کا روز فون آتا تھا اور باتوں باتوں میں روز ہی دھمکی بھی ملتی تھی۔
ایک دن دادی نے اسے گھیر ہی لیا۔ شاید امی اور دادی کا پہلے ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہوگیا تھا۔ کیونکہ امی بھی سب کام وام چھوڑ کر پاس آکر بیٹھ گئیں۔
”باسط میاں سے بات ہوئی کب لینے آرہے ہیں تمہیں؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے“
”دادی ابھی تو میرا کچھ دن رہنے کا ارادہ ہے۔ ویسے سب ٹھیک ہے“
”دیکھو بی بی دیکھنے میں سب ٹھیک لگ رہا ہے مگر جیسے تم آکر رہ رہی ہو یہ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ہمارا بھی کچھ تجربہ ہے“
”دادی میں اگر آتی نہیں تو کیا مجھے اپنے گھر آکر رہنے کا حق بھی نہیں۔“
”آؤ ضرور آؤ جتنے دن رہنا ہے رہو مگر بیٹا بات ہی یہی ہے کہ تم رہ سکتی ہو مگر رہتی نہیں ہو تو اب یہ چپ چاپ اتنے دن کا رہنا کھٹک رہا ہے۔ کوئی جھگڑا ہوا ہے باسط سے؟“ بسمہ کا سر جھک گیا نفی میں سر ہلایا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”دادی باسط کو پیسوں کی ضرورت ہے“
”اے ہے کیوں؟“
”نازیہ بھابھی نے کیس کر دیا ہے رافع بھائی اور باسط پہ“
”ہیں نازیہ نے! کیوں؟ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا وہ ہے ہی اوچھی قسم کی عورت اس سے کوئی بعید نہیں۔“
”وہ۔ ۔ ۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ باسط نے۔ ۔ ۔“ بسمہ کہہ کر خاموش ہوگئی شاید اتنی شرمندگی باسط کو عزت لوٹ کے نہ ہوئی ہو جتنی بسمہ کو یہ بتاتے میں ہو رہی تھی کہ اس کا شوہر ایک عورت کی عزت لوٹ چکا ہے۔
”کیا باسط نے؟“ اس بار امی بولیں
”ان کا کہنا ہے کہ باسط نے ان کا ریپ کیا ہے اور اس میں رافع بھائی کی مرضی شامل تھی“ بسمہ کا دل چاہ رہا تھا یہ بتانے کی بجائے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
”ہائے میرے اللہ۔“ دادی نے ایک ہاتھ سینے پہ رکھ لیا۔
”دیکھا کیسی جھوٹی عورت ہے کیسا گھناؤنا الزام لگایا ہے اپنے دیور اور شوہر پہ بھلا شوہر بھی اپنی مرضی سے یہ کروائے گا۔ ایسے ہی پتا چل رہا ہے کہ یہ عورت کتنی جھوٹی ہے۔“
بسمہ نے دادی کی رائے پہ کچھ کہنے کی بجائے مقصد کی بات کی۔
”دادی اب مسئلہ یہ ہے کہ تھانے کچہری میں ان کا بہت خرچہ ہورہا ہے اور آپ کو اندازہ تو ہوگا کہ ان کی تنخواہ بھی زیادہ نہیں ہے۔ میں نے ہی ان سے کہا کہ میں ابو سے بات کر کے دیکھتی ہوں شاید کوئی بندوبست ہو سکے۔ وہ تو ناراض ہورہے تھے کہ کسی سے بھی کوئی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔“
”ائے ہاں اچھا کیا تم نے بتا کہ وہ بھی ہمارا بیٹا ہے جتنا ہو سکے گا ہم کریں گے۔“
دادی نے فوراً حامی بھر لی
”کتنا چاہیے تقریبا؟“ اب کی بار امی نے پوچھا
”امی تقریباً لاکھ کے قریب خرچہ ہے آپ دیکھیں ابو سے بات کر کے کتنا ارینج ہو سکے گا؟“
”یہ تو کافی بڑی رقم ہے بسمہ آسانی سے تو نہیں ہوپائے گا انتظام۔“
”امی آپ بات تو کریں دیکھیں پھر بھیا اور ابو کیا کہتے ہیں۔“
”اپنے بھیا کا تو تم چھوڑ ہی دو کہ وہ کوئی پیسہ دے گا، تمہیں پتا نہیں ہے کیا۔ دیتا ویتا کچھ نہیں بس شور زیادہ مچاتا ہے۔“ بسمہ نے سر ہلا دیا۔
شام میں ابو آئے تو امی نے فوراً یہی بات نکال لی شاید انہیں موقعے کی نزاکت کا اندازہ ہوگیا۔
ابو نے سوچتے ہوئے سر ہلایا
”یعنی مجھے جو اڑتی اڑتی افواہیں پتا چل رہی تھیں وہ ٹھیک ہی تھیں کہ باسط صاحب کیا کارنامے کر چکے ہیں“
”اب آپ یہ چھوڑیں کہ اس نے کیا کیا ہے ابھی تو بیٹی کے گھر بچانے کا مسئلہ ہے۔“
”جب ایسی حرکت کی تھی تب ہی برخوردار کو سوچنا چاہیے تھا کہ مسئلہ گلے پڑا تو کیا کریں گے۔“
” اففو مشتاق صاحب بلاوجہ بحث کر رہے ہیں ابھی تو یہ بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ اس بیچارے نے یہ کیا بھی ہے یا نہیں نازیہ کوئی سیدھی سادھی عورت نہیں کہ اسے کسی نے ایسے استعمال کر لیا ہوگا۔ مجھے تو جھوٹا ہی لگ رہا ہے الزام۔ ابھی آپ یہ بتائیں کہ بیٹی کی مدد کیسے کریں؟“
”مسئلہ تو سنجیدہ ہے مگر اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں نکالے جا سکتے۔ ایک دفعہ اسے دی دیے تو اس کا بھی منہ کھل جائے گا اور باقی دامادوں کو بھی شہ دینے والی بات ہوگی۔“
”مشتاق صاحب بیٹی کے گھر کا سوال ہے، کہنے کو اس نے کہہ دیا کہ وہ خود آئی ہے مگر میں ماں ہوں اچھی طرح جانتی ہوں اسے، وہ خود سے اتنا بڑا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ باقی دونوں کی طرح نہیں ہے یہ۔ وہ اگر ایسا کوئی تقاضا کرتیں تو میں آپ کی ہی حمایت کرتی۔“
”یار تم سمجھا کرو۔ میری ریٹائرمنٹ قریب ہے تمہارے بڑے سپوت سے تو مجھے کوئی امید نہیں کہ وہ بڑھاپے میں ہم پہ کچھ خرچ کرے گا یہ جو میں نے جمع کیا ہے یہی سہارا ہوگا بس۔ یہ بھی اولاد پہ لٹادوں تو ہم تم بھیک مانگتے نظر آئیں گے بعد میں۔“
”توبہ ہے اتنی بری بھی نہیں ہماری اولاد۔ اور لاکھ روپے نہ بھی سہی کچھ بندوبست تو کرنا پڑے گا ناں، بیٹی نے پہلی بار کچھ مانگا ہے خالی ہاتھ تو واپس نہیں بھیجیں گے اسے۔“
”اچھا میں دیکھتا ہوں شاید بیس پچیس ہزار کا بندوبست کرسکوں اس سے زیادہ کی امید نا رکھنا۔“
”مگر یہ توبہت کم ہیں“
”بس یہی ہیں جو بھی ہیں آگے تمہاری مرضی۔“ انہوں نے کہہ کر بات ختم ہی کردی۔
امی نے بسمہ کو بتایا تو اس کا دل ڈوب گیا۔
رات میں دوبارہ باسط کا فون آیا۔ باسط سن کے شدید ناراض ہوگیا اس کا کہنا تھا کوشش کرو کہ تمہارے کنجوس ابا 20 سے کم از کم پچاس ہزار پہ تو آجائیں۔
اگلے دن دوبارہ یہی بحث ہوئی ابو آخر کار تیس ہزار تک مان گئے۔ امی نے اسے دس ہزار اپنے پاس سے دے کر چالیس ہزار پورے کر دیے۔ جب وہ اسد کے ساتھ سسرال کے لیے نکلی تو شام ڈھلنے لگی تھی موسم بھی ٹھیک نہیں تھا بادل کافی گہرے تھے اور بہت گھٹن تھی جیسے بس کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی ہو۔ ابو نے نکلتے نکلتے اسے جتا دیا کہ یہ پہلی اور آخری بار ہے اس کے بعد اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ اس کی زندگی ہے اسے اپنے مسائل خود دیکھنے ہوں گے۔
ان کی ذمہ داری شادی کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ بھیا ساتھ کھڑے ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ اس کا دل کسی انجانے خدشے کی بنا پہ بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ عجیب سی متلی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ سسرال جانے ک بجائے کہیں اور بھاگ جائے اسے پتا تھا کہ باسط کا ردعمل بہت شدید ہوگا۔ وہ جب تک سسرال والے گھر پہنچی اندھیرا تقریباً ہوچکا تھا اسد اسے دروازے پہ چھوڑ کر واپس مڑ گیا۔
دروازہ بجاتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی سی بوندا باندی شروع ہوگئی بوندیں کم تھیں مگر بہت موٹی موٹی تھیں۔ ساتھ ہی بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوگئی اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا۔ دروازہ کھلا تو سنیہ سامنے تھی۔
”اف بھابھی آپ نے ڈرا دیا اتنی بری طرح دروازہ بجاتے ہیں کیا۔ جلدی اندر آ جائیں بارش تیز ہونے والی ہے۔“ وہ بھی فوراً اندر آ گئی بادلوں کی گڑگڑاہٹ نے اسے بہت ڈرا دیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی۔ وہ ہال تک پہنچی تو باسط نیچے ہی آ رہا تھا۔ باہر بارش تیز ہوگئی تھی۔ گڑگڑاہٹ کا شور اتنا تھا کہ عام بات بھی چیخ کے کرنی پڑ رہی تھی۔
”واہ بھئی میری بیگم میدان فتح کر کے آ گئیں؟“
سنیہ انہیں باتیں کرتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں گھس گئی۔ واحد بھائی کہ کمرے پہ تالا لگا ہوا تھا یعنی وہ سب ہی کہیں گئے ہوئے تھے۔
”ہاں دو بھئی کتنی دولت لٹائی سسر صاحب نے اپنی چہیتی بیٹی پہ“
بسمہ نے کانپتے ہاتھوں سے چالیس ہزار کی گڈی پرس میں سے نکال کر باسط کے ہاتھ میں دی اور اوپر جانے لگی
”محترمہ گننے تو دیں کہ کتنے پیسے ہیں تاکہ آپ کو گھر میں رہنے کی اجازت دی جائے۔“ باسط نے بازو پکڑ کے روکا۔
”کم ہوئے تو؟“
”تو آپ دوبارہ جائیں گی مہم سر کرنے“
” اتنی بارش میں؟ باسط کوئی سواری بھی نہیں ملے کی اب۔ اسد بھی چلا گیا۔“
باسط کی پیشانی پہ بل آگئے
”یعنی پیسے پورے نہیں؟“ اس نے بڑھ کے تھپڑ مارا بسمہ کے منہ پہ۔ تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ وہ لڑکھڑا گئی۔
”بھیک لینے بھیجا تھا تیرے باپ سے جو چند ٹکے لے کے واپس آ گئی؟“ اسے بازو پکڑ کے کھڑا کیا۔
” نکل ابھی گھر سے، جا واپس پورے پیسے لائے گی تو ہی گھر میں گھسنے دوں گا۔“ وہ اسے گھسیٹ کے باہر لے جانے لگا۔
” باسط پلیز ایسا مت کریں باسط مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ سنیہ۔ ۔ ۔ سنیہ۔ ۔ ۔ امی۔ ۔ ۔ انہیں روکیں۔ باسط پلیز آپ جو کہیں گے میں ویسا کروں گی مجھے گھر سے مت نکالیں، میں کہاں جاؤں گی۔“ وہ حلق کے بل چیخ رہی تھی مگر بادلوں اور بارش کے شور میں اس کی آواز دب گئی وہ رستے میں آتی ہر چیز پکڑ کر خود کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ باسط نے اسے باہر دھکیل کے دروازہ بند کر دیا۔ وہ جھٹکے سے نیچے گری پھر اٹھ کر اندر آنے کی کوشش کی مگر تب تک باسط دروازہ بند کرچکا تھا۔
وہ پاگلوں کی طرح دروازہ بجانے لگی چیخ چیخ کر کبھی باسط کو کبھی باقی گھر والوں کو آواز دے رہی تھی۔ اتنی میں لائٹ چلی گئی پوری گلی میں ایک دم گھپ اندھیرا ہوگیا۔ وہ سہم کر دروازے کے کونے میں دبک گئی۔ بہت دیر وہیں بیٹھی سسکتی رہی آہستہ آہستہ اس کے حواس ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے۔ وہ بھول گئی کہ وہ یہاں کیوں بیٹھی ہے بس ہر دفع بادلوں کی گڑگڑاہت اسے زیادہ دہشت زدہ کردیتی تھی۔ بادل ایک دم بہت زور سے گرجے اور وہ اندھیری گلی میں کچھ سوچے سمجھے بغیر بھاگنے لگی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں بھاگ رہی ہے ایک دم کسی نے پکڑ لیا۔
”اؤ لڑکی کہاں بھاگ رہی ہے پاگل ہے کیا اتنی بارش اور اندھیرے میں باہر گھوم رہی ہے۔“
بسمہ نے خالی جالی نظروں سے اس شخص کو دیکھا۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آیا کہ وہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔ پھر اسے نہیں پتا کب وہ اسے ویمین پولیس اسٹیشن لے کر گیا وہاں کیا کارروائی ہوئی وہ مستقل گم سم سی تھی
اس رات اسے وہیں رکھا گیا اگلے دن دس گیارہ بجے ہی دو لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ اسے عدالت لے جایا گیا۔ جج اور وکیل اس سے پوچھتے رہے مگر وہ خالی خالی آنکھوں سے سب کو دیکھتی رہی۔ آخر کار جج نے اپنا فیصلہ سنا کر معاملہ برخواست کر دیا۔
اسے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا گیا کچھ دیر گاڑی چلتی رہی اور ایک بڑی سے عمارت کے سامنے جاکر رکی۔ اس کا بڑا سا گیٹ تھا گیٹ کے پاس ایک پولیس والا مستعد کھڑا تھا گیٹ کے اوپر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا
”دارالامان“
گیٹ کھلا اور گاڑی سیدھی اندر چلی گئی۔ اونچی خاردار دیواروں کے اندر کی دنیا بہت الگ تھی۔ باہر سے دیکھنے میں جو قید خانہ لگ رہا تھا اندر سے ماحول کافی مختلف تھا۔ کافی بڑے حصے پہ گھاس لگی ہوئی تھی۔ کچھ بینچیں لگی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ بینچیں ٹوٹی ہوئی بھی تھیں۔ ایک طرف چھوٹی عمارت تھی جس پہ مینجمنٹ بلاک لکھا تھا۔ دوسری دو منزلہ عمارت ہوسٹل کی طرح تھی اور کافی بڑی تھی۔ وہاں گیٹ پہ ایک لیڈی کانسٹیبل بیٹھی تھی اور دو تین چھوٹے بچے کھیلتے نظر آرہے تھے۔ مینجمنٹ بلاک کے پاس ایک بندہ پودوں کو پانی دے رہا تھا۔ ساتھی پولیس والے نے اتر کے اس سے دعا سلام کی۔ لگ رہا تھا کہ ان کا آپس میں ملنا ہوتا رہتا ہے۔
”میڈم بیٹھی ہیں؟“
”ہاں ہیں تو مگر جانے والی ہیں۔ ویسے بھی مسئلہ کیا ہے انٹری تو حمید بھائی نے کرنی ہے میڈم ہوں یا نہ ہوں۔“
”نہیں یار کیس الگ ہے تھوڑا، لڑکی کچھ بتا ہی نہیں رہی۔ جج کے آرڈر ہیں کہ اس کا فوراً فزیکل اور مینٹل چیک اپ کرا کے دو دن میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ میڈم بیٹھی ہوں گی تو جلدی نمٹ جائے گا کام۔ حمید بھائی ( کلرک) ٹال دیتے ہیں پھر ہمارے گلے میں پڑتی ہے ساری فلم۔ پولیس والوں پہ ویسے ہی نظر ہوتی ہے سب کی، کب ہم کوئی غلطی کریں اور کہا جائے یہ تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔“
”ہاں تو جاؤ جلدی باتیں کرنے میں کیوں لگ گئے۔“
اتنی دیر میں دو لیڈی کانسٹیبل بسمہ کو اندر لے گئیں۔ یہ پولیس والا بھی جلدی جلدی قدم بڑھا کے ان کے پیچھے پیچھے مینجمنٹ بلاک کی طرف بڑھ گیا۔
ایک لیڈی کانسٹیبل ایک کمرے میں چلی گئی جو نسبتاً بڑا کمرا تھا اورباہر اسسٹنٹ ڈائریکٹر دارالامان کی تختی لگی تھی۔ تھوڑی دیر بعد باہر آکر وہ بسمہ کو بھی اندر لے گئی۔ سامنے ہی ایک ادھیڑ عمر خاتون بیٹھی تھیں جن کے بادامی رنگ کے باب کٹ بال دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ رنگے گئے ہیں۔ اپ ٹو ڈیٹ قسم کی ڈریسنگ میں ملبوس خاتون کی امارت پہلی ہی نظر میں مرعوب کرنے والی تھی۔
”ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ باہر بیٹھو میں اس بچی سے بات کر کے آپ لوگوں کو بلاتی ہوں“
میڈم کا لہجہ نرم ضرور تھا مگر اپنی سیٹ کی اتھارٹی سے بھرپور تھا۔ لیڈی کانسٹیبل نے بسمہ کو میڈم کے قریب والی کرسی پہ بٹھا دیا اور خود باہر چلی گئی۔
”بیٹا آپ بالکل پریشان نہ ہوں آپ محفوظ جگہ پہ ہیں۔ آپ کو اپنا نام یاد ہے؟“
بسمہ نے خالی خالی نظروں سے میڈم کو دیکھا۔
”آپ گھر سے کیوں نکلی ہو؟ اچھا ایسا کرو میں جو پوچھوں اس کا ہاں یا نہ میں جواب دیتی جاؤ اور پریشان مت ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔“
بسمہ نے کھوئے کھوئے سے انداز میں ہاں میں سر ہلا دیا
اس کے بعد وہ جو پوچھتی رہیں بسمہ اسی طرح ہاں میں سر ہلاتی رہی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا پوچھ رہی ہیں۔
”بیٹا آپ کسی سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟ اس نے دھوکا دیا آپ کو؟ گھر والے ماریں پیٹیں گے؟“
میڈم نے بیل بجا کر پولیس والی اور کلرک کو بلایا۔ بسمہ کو باہر بھیج کر کلرک سے کہا
”ہاں حمید وہی مسئلہ ہے روٹین والا، گھر سے پسند کی شادی کے لیے نکلی ہے مگر وہ بندہ چھوڑ کے چلا گیا۔ ہو سکتا ہے کچھ کیا بھی ہو اس کے ساتھ۔ بس لڑکی نے زیادہ اثر لے لیا یا ہو سکتا ہے ابھی ڈر کی وجہ سے ڈرامہ کر رہی ہو۔ آپ چھوٹی سی انیشل (ابتدائی) کیس ہسٹری بنا لو اور لیٹر بنا کے مجھ سے سائن لے لو اور ساتھ نوشین کو بھیج دو اسی گاڑی میں سول اسپتال سے اس کا ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس، پریگنینسی اور مینٹل ٹیسٹ کروا کے آ جائے ابھی۔“
”جی میڈم“
اسی وقت بسمہ کو دوبارہ اسی پولیس وین میں شہر کے سول اسپتال لے جایا گیا چند گھنٹے ٹیسٹ میں لگے کچھ باتیں لیڈی ڈاکٹر نے اسی وقت بتادیں اور لکھت میں بھی دے دیں فائنل رپورٹ ارجنٹ بھیجنے کا کہہ کر وہ لوگ واپس دارلامان آگئے۔
میڈم اس وقت تک جا چکی تھیں۔ نوشین جو بسمہ کے ساتھ گئی تھی آکر حمید کو ہی تفصیل بتانے لگی۔
”حمید بھائی لڑکی امید سے تو نہیں ہے مگر کنواری بھی نہیں ہے۔ عمر سے لگ رہا ہے شادی شدہ تو نہیں ہوگی۔ کچھ کر کے ہی آئی ہے۔ چلیں باقی رپورٹ کل آئے گی۔ سائیکاٹرسٹ نے کہا ہے کسی صدمے کہ وجہ سے یہ حال ہے سکون کی گولیاں دیں ہیں اور کہا ہے یہ کھلا کر سلا دیں اٹھے گی تو بہتر ہوگی۔ اگر بہتری نہ آئے تو دوبارہ لا کر دکھانے کے لیے کہا ہے۔“
”آج کل لڑکیوں کو اچھا طریقہ ملا ہے کچھ بھی کر کے دارالامان آکر پڑ جاتی ہیں۔ نہ ماں باپ کی عزت کی فکر نہ اپنی عزت کی۔ قانون کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ چلو خیر ہمیں کیا ہم تو اپنا کام کرتے ہیں، اسے برابر کمرے میں بٹھاؤ میں کیس بنا کر اس کا انگوٹھا لگوالوں تم اسے لے جانا اس کے کمرے میں۔ روم نمبر 14 والی ایک لڑکی گئی ہے ناں دو دن پہلے؟ اسی کا بیڈ دے دو اس کو۔“ کلرک کام بھی کرتا جا رہا تھا اور اپنے بنائے ہوئے اندازے کی بنیاد پہ بسمہ کے کردار کی دھجیاں بھی اڑا رہا تھا ان کی آپس کی گفتگو سے لگ رہا تھا کہ ان کے لیے کسی لڑکی کے کردار کے بارے میں یہ باتیں کرنا روز کا معمول ہے۔
کچھ دیر بعد اس نے انٹری وغیرہ کر کے بسمہ کا انگوٹھا لگوا لیا۔ جتنی دیر بسمہ برابر والے کمرے میں بیٹھی رہی، کوئی تین سے چار خواتین آ آ کر جھانک کر گئیں۔ شاید اسٹاف کی خواتین تھیں۔ پھر انہی جھانک جھانک کے جانے والی عورتوں میں سے ایک نوشین کے ساتھ اسے بڑی عمارت لے جانے لگی رستے میں وہ دونوں باتیں بھی کرتی جارہی تھیں۔
”دیکھو ذرا کتنی پیاری ہے۔ بس قیامت کی نشانیاں ہیں آج کل کی لڑکیاں اپنی شکل کی زعم میں اپنا آپ برباد کردیتی ہیں۔“ بسمہ کو ان کی کسی بات کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ آج پھر موسم خراب تھا گہرے بادل آگئے تھے۔ بسمہ سہمی سہمی نظروں سے سر اٹھا کر بار بار بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔
ایک دم اس نے ساتھ چلتی دونوں خواتین میں سے ایک کا بازو پکڑ لیا۔
”جلدی اندر چلیں۔ ورنہ باسط مجھے نکال دیں گے۔ بارش ہونے والی ہے مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ ہم اندر کمرے میں چل کر دروازہ بند کر لیں گے تاکہ باسط مجھے نکال نا دیں“
دونوں عورتیں ایک دوسرے کو دیکھ کے ہنس پڑیں نوشین نے دوسری عورت کو مخاطب کیا
”بس بھئی نرگس ایک پاگل کی کمی تھی وہ بھی پوری ہوگئی۔ ہمارے دارالامان میں عورت کی ہر ورائٹی آ گئی اب۔“ پھر ہنس کے بسمہ سے کہنے لگی
”ہاں ہاں چلو ہم تمہیں کمرے میں ہی لے جا رہے ہیں تم آرام سے سونا کوئی تمہیں نہیں نکالے گا۔“ انہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے اس سے مناسب حد تک ہمدردی جتا دی ہے بس اتنا کافی ہے۔
وہ تینوں بڑی عمارت میں داخل ہوئیں تو اندر بہت ساری عورتیں ادھر ادھر آتی جاتی نظر آئیں۔ کچھ کی گود میں چھوٹے بچے تھے۔ کچھ ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ ایک دو لڑکیوں نے کان سے لگا موبائل ایک دم اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔
نرگس اور نوشین سب کو نظر انداز کرتی ہوئی کمرہ نمبر 14 میں آ گئیں۔ پیچھے پیچھے ایک ایک کرکے سب عورتیں جمع ہوتی جارہی تھیں جو کمرے کے دروازے سے جھانک جھانک کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
”چلو لڑکیو رستہ چھوڑو اپنے کام میں لگو۔ کوئی تماشا نہیں ہورہا۔ روز ہی نئی لڑکی آتی ہے اور تم لوگ روز اس کے سر پہ مجمع لگا کے کھڑی ہوجاتی ہو۔ اور شنو ادھر آؤ ہم اسے دوا کھلا کے جا رہے ہیں تو یہ سو جائے گی تم اپنی بیٹی کو لے کر اسی کے ساتھ بیٹھ جاؤ کمرے کی کنڈی لگا کے، کسی اور کو اندر نا آنے دینا۔ کوئی آئے تو پھر بتانا پھر میڈم دیکھ لیں گی اسے۔“
نوشین نے پاس کھڑی ایک لڑکی سے کہا جو عمر میں تو بیس بائیس کی لگ رہی تھی۔ گود میں چند ماہ کی بیٹی بھی تھی مگر چہرے مہرے سے ذمہ دار لگ رہی تھی۔
”جی باجی آپ فکر نہیں کریں میں خیال رکھوں گی اس کا۔ نام کیا ہے اس کا ویسے؟“
”نام وام تو اس نے ابھی تک کسی کو بھی نہیں بتایا تھوڑی یوں ہی سی ہے۔“ نوشین نے سر کی طرف اشارہ کرکے شہادت کی انگلی گھمائی ”پولیس کو کل رات سڑک پہ گھومتی ملی۔ اب واللہ عالم گھر والوں نے نکال دیا یا خود بھاگی۔ دماغ کے ڈاکٹر نے کہا ہے سو کے اٹھے گی تو شاید بہتر ہو۔ بس اللہ مدد کرے اس کی۔“
انہوں نے بسمہ کو دوائیں کھلائیں اور لٹا دیا۔ بسمہ بادلوں کی آواز پہ بار بار سہم رہی تھی۔ ان دونوں کے جانے کے بعد شنو بیٹی کو لے کر بسمہ کے پاس بیٹھ گئی۔
”کیا نام ہے تمہارا؟ پریشان کیوں ہو؟“
”بارش ہو جائے گی۔ مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ تم فائزہ ہو ناں۔ فائزہ تم مجھے اکیلا چھوڑ کے چلیں گئیں دیکھو مجھے باسط نکال دیں گے ابو نے پیسے نہیں دیے ناں۔ مجھے بچا لو۔“ بسمہ نے شنو کے ہاتھ سختی سے پکڑ لیے۔ شنو نے گھبرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔ بسمہ نے شنو کے کندھے پہ سر رکھ دیا وہ کچھ دیر سسکتی رہی پھر دواؤں کے اثر سے سو گئی۔
******۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( جاری ہے ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ******


