رنجیت کی زندگی میں آنے والی اہم خواتین
سیاسی شادیوں کے بعد محبت کی شادیاں
مہتاب کور اور دتارکور سیاسی بیویاں تھیں، یعنی ان کے ساتھ تعلق سے پنجاب کے حکمراں کے طور پر ان کا تزویراتی مقام مستحکم ہوا۔ دو شادیاں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیں۔ ان دونوں بیویوں کا تعلق امرتسر سے تھا۔
امرتسر کی مسلمان رقاصہ موراں سے 1802 میں شادی کی۔ نہنگوں سمیت جن کے رہنما اکالی پھلا سنگھ اکالی تخت کے جتھے دار تھے، کٹر سکھوں کو ان کا یہ اقدام نہ بھایا۔ جب رنجیت سنگھ امرتسر گئے تو انھیں اکال تخت کے باہر بلایا گیا اور انھیں اپنی غلطیوں پر معافی طلب کرنے کے لیے کہا گیا۔ اکالی پھلا سنگھ رنجیت سنگھ کو اکال تخت کے سامنے املی کے پودے کے پاس لے گئے اور کوڑوں کی سزا کے لیے تیاری کرنے لگے۔ پھر پاس ہی سکھ یاتریوں سے پوچھا کہ آیا وہ رنجیت سنگھ کی معافی قبول کرتے ہیں۔ یاتریوں نے جواب میں ست سری اکال کے نعرے لگائے اور یوں رنجیت سنگھ کو رہا اور معاف کردیا گیا۔ بعض دیگر روایات کے مطابق رنجیت سنگھ نے کوڑوں کی سزا کے لیے اپنی پیٹھ ننگی کر دی تو صرف جرمانے پر اکتفا کیا گیا۔
موراں رنجیت سنگھ کی پسندیدہ رانی تھیں۔ ان سے رنجیت سنگھ کو 22 سال کی عمر میں پہلی ہی نظرمیں پیار ہو گیا تھا۔ فقیر وحیدالدین کے مطابق ان سے شادی کے لیے رنجیت سنگھ نے موراں کے والد کی تمام شرائط قبول کیں۔ ایک شرط موراں کے گھر میں پھونکوں سے آگ جلانا بھی تھی۔ مہاراجہ نے یہ بھی کر ڈالا۔
موراں کے نام سے باغ تعمیر کیے، مسجد بنائی جو آج بھی اندرون لاہور میں قائم ہے، 1811 میں سکہ جاری کیا جس پر مور کندہ تھا، پٹھان کوٹ میں بغیر مالیہ کے جائیداد بخشی۔ موراں کنچنی کے نام سے مدرسہ بنوایا جس میں عربی، فارسی اور حدیث کے جید استاد تعلیم دیتے تھے۔ موراں لاہور میں خوب مقبول ہوئیں۔ وہ فلاحی کام کرتیں اور لوگوں کے مسائل مہاراجہ تک پہنچاتیں تھی۔ اسی لیے لوگ رانی صاحبہ کی بجائے انھیں موراں سرکار کہتے تھے۔ رنجیت سنگھ کے بعد موراں لاہور میں پاپڑ منڈی کے علاقے میں اپنے انتقال تک رہائش پذیر رہیں۔
موراں سے بیاہ سے تین دہایوں بعد گل بہار بیگم سے شادی کی۔ امرتسر میں شادی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ سوہن لال سوری لکھتے ہیں کہ شادی کی تقریب کے لیے رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کو لاہور بھیجا تاکہ وہ وہاں سے بروکیڈ کے بغیر پول کے ٹینٹ لائیں۔ پیسہ خوب خرچ کیا گیا۔ شادی سے دو روز پہلے رنجیت سنگھ نے ہاتھوں پر مہندی لگوائی۔ سکھ مذہبی رہنماؤں کو دامے، درمے، سخنے خوش کیا اور پھر شادی میں مدعو مہمانوں کا رخ کیا۔ امرتسر اور لاہور سے رقاصاؤں کو بلوایا گیا اور انھیں سات سات ہزار روپے انعام کے طور پر دیے گئے۔
فقیر وحید الدین کے مطابق مہاراجہ گل بہار بیگم سے گنجلک مسائل پر مشورہ لیتے تھے۔ سوہن لال جو درباری روزنامچہ لکھتے تھے، کہتے ہیں کہ 14 ستمبر 1832 کو امرتسر میں دربار منعقد کرتے ہوئے رنجیت سنگھ نے گل بہار بیگم کی سفارش پر ان چند افراد کو معاف کر دیا جن کو ایک روز پہلے کسی جرم میں سزا سنا چکے تھے۔
امرتسر میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد رنجیت سنگھ بیگم کو لے کر پوٹھوار کے دورے پرنکل گئے۔ 11 دسمبر کو ڈھول کی تھاپ پر مستی دروازے کی جانب سے ہاتھی پر سوار یہ شاہی جوڑا لاہور میں داخل ہوا اور موتی بازار، ٹکسالی دروازہ، پاپڑ منڈی، حویلی نونہال سنگھ، سید مٹھا سے ہوتے ہوئے حضوری باغ پر رکا جہاں اس جوڑے کو توپوں کی سلامی دی گئی۔ تمام راستے سونے کے سکے تماشائیوں پر پھینکے گئے۔
گل بہار بیگم کی اپنی اولاد تو نہیں تھی مگر انھوں نے ایک مسلمان بچہ سردار خان گود لے لیا تھا جس کی اولاد اب بھی لاہور میں رہتی ہے۔ لاہور ہی میں ایک کوچہ، ایک رہائشی علاقہ اور ایک باغ گل بہار بیگم کے نام سے موسوم ہیں۔ پنجاب پر قبضے کے بعد برطانوی حکومت نے گل بہار بیگم کے لیے ان کی وسیع جائیداد کے بدلے 12380 روپے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔
گجرات کے صاحب سنگھ بھنگی کی وفات کے بعد ان کی بیویوں رتن کور اور دیا کور پر رنجیت سنگھ نے چادراندازی (سروں پرچادر ڈالنے کی رسم) سے 1811 میں بیاہ کر اپنی حفاظت میں لیا۔ رتن کور نے 1819 میں ملتانا سنگھ کو اور دیا کور نے 1821 میں کشمیرا سنگھ اور پشورا سنگھ کو جنم دیا۔ مگر کہا جاتا ہے کہ یہ بچے رنجیت سنگھ کی بجائے ملازمین کے تھے جنھیں رانیوں نے حاصل کیا اور اپنے بچوں کے طور پر پیش کیا۔
چاند کور سے 1815 میں، لکشمی سے 1820 میں، اور سمن کور سے 1832 میں شادی کی۔
رنجیت سنگھ نے ایک مہم کے دوران کانگڑا میں گورکھاؤں کو شکست دینے کے بعد راجہ سنسار چند سے الحاق کرتے ہوئے ان کی دو بیٹیوں مہتاب دیوی ( گڈاں) اور راج بنسو سے جن کے حسن کا چرچا تھا، بیاہ کیا۔ کرتار سنگھ دگل کے مطابق سنسار چند کانگڑا آرٹ کے سرپرست تھے۔ گڈاں میں بھی یہ صفت بدرجہ اتم موجود تھی۔ ان کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک ذخیرہ موجود تھا۔
1830 اور 1832 کے درمیانی عرصہ میں تین شادیاں کیں۔ ان تین بیویوں میں سے ایک رنجیت سنگھ کی زندگی ہی میں وفات پاگئیں۔
ڈبلیو جی او سبورن کے مطابق مہاراجہ چاہتے تھے کہ ان کے حرم میں کوئی انگریز خاتون بھی ہو۔ اسی ضمن میں وہ مہاراجہ کے ساتھ ایک مکالمہ یوں بیان کرتے ہیں:
کیا لارڈ آک لینڈ شادی شدہ ہیں؟
نہیں۔
کیا؟ ان کی ایک بھی بیوی نہیں؟
مجھے علم نہیں۔
آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟
میں خرچہ نہیں چلا سکتا۔
کیوں نہیں؟ کیا انگریز بیویوں کا اتنا خرچہ ہوتا ہے؟
جی، جناب۔
میں کچھ عرصہ پہلے اپنے لیے بھی چاہتا تھا۔ میں نے حکومت کو خط بھی لکھا لیکن انھوں نے بھجوائی ہی نہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


