رنجیت کی زندگی میں آنے والی اہم خواتین
چندکور کو مہارانی کا آخری خطاب ملا
آخری شادی 1835 میں جندکور سے کی۔
جندکور کے والد منا سنگھ اولکھ نے رنجیت سنگھ کے سامنے تب اپنی بیٹی کی خوبیاں بیان کیں جب وہ اپنے جانشین کھڑک سنگھ کی کمزور صحت کے بارے میں پریشان تھے۔ مہاراجہ نے 1835 میں جندکور کے گاؤں ‘اپنی کمان اور تلوار بھیج کر’ شادی کی۔1835 میں جندکور نے دلیپ سنگھ کو جنم دیا جو سکھ سلطنت کے آخری مہاراجہ بنے۔ جندکور کو مہارانی کا خطاب ملا۔ ان سے پہلے یہ خطاب صرف پہلی بیوی مہتاب کور کو ملا تھا۔
لکھاری آروی سمتھ کا کہنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ آخری برسوں میں بڑھتی عمر اور حرم میں موجود 17 بیویوں کے مابین چپقلش جیسے مسائل کا مقابلہ کرتے افیون کے عادی ہوگئے۔ 1839 میں فالج اور شراب نوشی کی کثرت جان لیوا ثابت ہوئی۔ رنجیت سنگھ کی چار ہندو بیویاں اور سات ہندو داشتائیں ان کے ساتھ ہی ستی ہو گئیں۔
مہاراجہ کے دربار میں ایک طبیب ڈاکٹر مارٹن ہونی برجر اپنی آپ بیتی ‘مشرق میں پینتیس سال’ میں ستی کا احوال بتاتے ہیں کہ ’مہاراجہ کی وفات سے اگلے روز صبح سویرے کیسے رانیاں ایک ایک کر کے پہلی اور آخری مرتبہ محل سے نکل کر لوگوں میں آتی ہیں اور موت کی راہ لیتی ہیں، سادہ لباس، ننگے پاؤں، پیدل حرم سے باہر آتی ہیں، آئینہ سامنے ہے تاکہ یقین ہو کہ وہ خوف چھپا نہیں رہیں۔ سو کے قریب افراد کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے ساتھ ہیں۔ قریب ترین ایک شخص ایک چھوٹا ڈبا اٹھائے ہوئے ہے جس میں غریبوں میں تقسیم سے بچ جانے والے زیورات ہیں۔‘
ڈاکٹر مارٹن ہونی برجر لکھتے ہیں ’ایک رانی تو سنسار چند کی بیٹی (گڈاں) ہیں جن سے اور جن کی بہن سے رنجیت سنگھ نے اکٹھے شادی کی تھی اور جس میں میں شریک بھی ہوا تھا مگر میں انھیں پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ ان کی بہن کا پہلے ہی میری عدم موجودگی میں انتقال ہو چکا ہے۔‘
ایک اور احوال کے مطابق 1835 میں موراں کے سب سے خوبصورت ہونے پر مہاراجہ کے منہ سے تعریف راج بنسو کی خودکشی کا باعث بنی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ موراں سے تقابل کو انھوں نے اپنی بے عزتی سمجھا اور زیادہ مقدار میں افیون لے کر اپنی جان لے لی۔ گڈاں کے علاوہ مہاراجہ کی تین راجپوت بیویاں، ہردیوی، راج دیوی اور رجنو کور بھی ستی ہوئیں۔
ڈاکٹر مارٹن ہونی برجر لکھتے ہیں ’اب جنازے کا جلوس چل رہا ہے۔ ہزاروں افراد پیدل ساتھ ہیں۔ جنازے کے پیچھے چار رانیوں کو اب کھلی پالکیوں میں لایا جا رہا ہے۔ ان کے پیچھے سات کنیزیں پیدل اور ننگے پاوں آرہی ہیں۔ ان کی عمر چودہ پندرہ سال سے زیادہ نہیں لگتی۔ اس غم ناک منظر پر شاید ہمارے دل ان سب سے زیادہ دھڑک رہے تھے جو اس رسم کا شکار ہونے جارہی تھیں۔ برہمن اشلوک، سکھ گرنتھ صاحب پڑھتے اور مسلمان یا اللہ، یااللہ پکارتے ساتھ تھے۔ آہستہ بجتے ڈھول اور دھیمے لہجے میں بولتے لوگوں کی آوازیں ماحول کی سوگواریت میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘
’رانیاں رنجیت سنگھ کے جسد کے سر کی جانب اور کنیزیں پاوں کی جانب درد انگیز انتظار میں لیٹ جاتی ہیں۔ کچھ ہی دیر میں اس تقریب کے بعد سب کچھ راکھ ہو جاتا ہے۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی کی تعمیر اسی وقت کھڑک سنگھ نے شروع کروائی تھی۔ اس کی تکمیل 1847 میں دلیپ سنگھ کے ہاتھوں ہوئی۔ ایک بڑے کوزے میں رنجیت سنگھ جبکہ چھوٹے برتنوں میں رانیوں اور کنیزوں کی راکھ ہے۔
کنہیا لال ہندی کتاب تاریخ پنجاب میں لکھتے ہیں کہ مردوں میں وزیراعظم راجہ دھیان سنگھ نے بھی ساتھ ہی جل مرنے کا اعلان کردیا اور انھیں بہت منع کیا گیا۔ بالآخر کھڑک سنگھ کے اس وعدے پر کہ انھیں وزارت عظمیٰ پر برقرار رہنے کے لیے نہیں کہا جائے گا انھوں نے یہ ارادہ ترک کیا۔
رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد سکھ سلطنت 10 سال تک قائم رہی۔ مہاراجہ کھڑک سنگھ (1839 سے 1841 تک) اور شیر سنگھ (1841 سے 1843 تک) کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد دلیپ سنگھ کی کم عمری کے باعث 1843 سے 1846 تک جندکور ان کی نائب رہیں اور پنجاب پر قبضہ کرتی برطانوی فوج کے سامنے سینہ سپر ہوئیں۔
رنجیت سنگھ کے دور کے شاعر شاہ محمد نے تب کی صورتحال کو شاعری کی صورت دی۔ ایک اقتباس ان عورتوں کی جدوجہد کو رنجیت سنگھ کی اہلیہ اور سکھ سلطنت کی آخری حکمران رانی جندکور کے الفاظ میں کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ
جٹی ہوواں تے کراں پنجاب رنڈی
سارے دیس وچ چاٹرن واراں
چھڈاں نہیں لاہور دے وڑن جوگے
سنیں وڈیاں افسراں جمعداراں
(اگر میں جٹی ہوں تو سارے پنجاب کو بیوہ کر کے چھوڑوں گی۔ سارے دیس میں جنگ و جدل کے سلسلے شروع ہوجائیں گے۔ میں ان بڑے بڑے افسروں اور جمعداروں کو لاہور میں داخل نہیں ہونے دوں گی۔)
انگریزوں کے خلاف لڑائی میں سکھوں کی شکست کے بعد اپنے نو سالہ بیٹے سے جدا ہوئیں، قید ہوئیں اور نیپال میں جلا وطن ہوئیں۔ 1861 میں، یعنی تیرہ سال بعد، ان کے بیٹے دلیپ سنگھ انھیں لندن لے گئے جہاں 46 سال کی عمر میں ان کا انتقال 1863 میں ہوا۔ دلیپ سنگھ کو انگریز اپنے ساتھ انگلستان لے گئے تھے اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انھوں نے ایک بار سکھ سلطنت واپس حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی۔ ان کی زندگی پر ہالی وڈ کی فلم ‘دی بلیک پرنس’ بنی۔


