اکمل لیونے کی ایک بیس سالہ پرانی نظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکمل لیونے (اکمل دیوانہ) پشتو کے معروف اور ہر دلعزیز شاعر ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں کمال کرتے ہیں۔ ان کا مزاح صرف تفنن طبع کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس کی گہرائی میں ایک سنجیدہ پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔ ان کے اشعار اگر آپ کو ہنسنے پر مجبور کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے آپ کے احساس پر چابک بھی برساتے ہیں۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ مزاح ایک حد درجہ سنجیدہ کام ہے۔ زیر نظر نظم اس بات کا ثبوت ہے۔ نظم بیس سال پہلے لکھی گئی ہے۔ عنوان ہے وزیراعظم۔ آپ لطف اندوز ہوں گے اگر آپ آخر تک پڑھ پائے۔ ویسے تو اس نظم کا ہر شعر تازہ تر ہے لیکن آخری شعر تو کمال کا ہے۔ آخری شعر پڑھنے کے بعد آپ اکمل لیونی کے تخیل اور مستقبل بینی کے قائل ہو جائیں گے۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

نن یو وزیراعظم وی سبا بل وزیراعظم
سو میاشتی چی تیریگی وی بدل وزیراعظم
آج ایک وزیراعظم ہوتا ہے، کل دوسرا وزیراعظم
چند مہینے گزرتے ہیں تو کوئی اور وزیراعظم آ جاتا ہے۔
یو ہغہ وی چے قوم ئی پہ ووٹونو منتخب کڑی
دا بعضے پہ کښے راشی پہ توکل وزیراعظم
ایک وہ وزیراعظم ہوتا ہے جو کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔
بعض بس تکے سے وزیراعظم بن جاتے ہیں۔

نۀ نور سۀ بندوبست شتہ نۀ روٹئی کپڑا مکان شتھ
پخوا بہ مونگ لہ ہرڅۀ راکول وزیراعظم
نہ کوئی اور سہولت میسر ہے اور نہ ہی روٹی کپڑا مکان
پرانے وقتوں میں ہمیں ساری چیزیں وزیراعظم ہی دیتے تھے۔
ھر نوے قوم تہ وائی خزانہ کښی سۀ شے نشتھ
لوٹلی دی ہرڅۀ ستاسو اول وزیراعظم
جو بھی نیا آتا ہے، قوم کو یہی بتاتا ہے کہ خزانے میں کچھ بھی باقی نہیں
آپ کا پہلے وزیراعظم سب کچھ لوٹ چکا ہے
نن ڈیر لوے معزز وی محترم وی د قام خوښ وی
سبا پری اواز وشی غل دے غل وزیراعظم
آج بہت معزز، محترم اور عوام کا محبوب ہوتا ہے
کل لوگ آوازیں کستے ہیں کہ وزیراعظم چور ہے چور ہے

ھغہ وزیر اعظم وی څوک چے خوخ د امریکے وی
زمونگ پہ پاکستان کښی نشتہ خپل وزیراعظم
وہ وزیراعظم بنتا ہے، جس کو امریکہ چاہے
ہمارے پاکستان میں اپنا وزیراعظم نہیں ہے۔
ما ووے یو وزیر تہ ستا خو یار محکمہ نشتھ
وے پہ ما بہ ریبی میخو لہ شوتل وزیراعظم
ایک وزیر سے میں نے کہا یار تیرا تو محکمہ ہی نہیں ہے
وہ بولا مجھ سے وزیراعظم بھینسوں کے لئے گھاس کاٹتا ہے

مونگ څۀ کوی خو صرف د خپل ځان پہ غم کښے گرزی
لوٹا وزیراعظم وی کۀ بوتل وزیراعظم
ہماری کیا پروا ہے اسے، بس اپنی فکر میں پھرتا ہے
چاہے کوئی لوٹا وزیراعظم بنے یا بوتل وزیراعظم بنے
خرۀ ٹول ہغہ زاڑۀ دی صرف کتے دی پرے نورے
دا بیا چی کابینہ کښی واخستل وزیراعظم
سارے وہی پرانے گدھے ہیں بس پالان تبدیل ہوئے ہیں
وزیراعظم نے پھر سے جو کابینہ میں شامل کیے ہیں

یو غٹ دلہ راجہ د خندا شین وۀ ما وی ولے
وے خان صیب ماتہ کڑے دی کنزل وزیراعظم
ایک بڑا بے غیرت راجہ زور زور سے ہنسنے لگا؛ میں نے سبب پوچھا
بولا خان صاحب آج وزیراعظم نے مجھے گالی دی ہے
ملگرو کۀ ہیس نۀ وو بیا ہم دومرہ څۀ خو وشو
دا خلق خو پہ یو بل وخوڑل وزیراعظم
ساتھیوں گر کچھ نہیں ہوا، یہ تو ہو گیا نا
کہ وزیراعظم نے لوگوں کوایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔

پہ یو وزیر اعظم کی کۀ سۀ فرق زمونگ راشی
بل وی د امریکے سرہ سپیشل وزیراعظم
اگر ہمارے ایک وزیراعظم میں کوئی نقص آ جائے
تو امریکہ کے ساتھ ایک سپیشل وزیر اعظم تیار پڑا ہوتا ہے۔
اکملہ لیونیہ مونږ کۀ دغسی اودۀ یو
اخر بہ چرتہ واوڑو پہ پاگل وزیر اعظم
اے اکمل دیوانے، اگر ہم اسی طرح سوتے رہے
تو آخر میں کسی پاگل وزیراعظم سے پالا پڑ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *