عورتوں سے جنسی زیادتی کے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج سے پانچ سال پہلے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں ایک عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے جنسی زیادتی اور قتل تیزاب کے ساتھ حملے غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نابالغ لڑکیوں کے زبردستی مذہب تبدیلی اور چھوٹی عمر میں جبری شادیوں جیسے واقعات ریاستی سطح پر توجہ کے متقضاضی ہیں۔ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے جرائم میں خطرناک شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک رونما ہونے والے واقعات کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا اگر کوئی کیس سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ ہو جائے تو پولیس پر بھی پریشر بڑھ جاتا ہے۔

عوام کی طرف سے مجرموں کے لیے سخت ترین سزائیں تجویز کی جاتی ہیں انہیں درندوں سے تشبیہ دی جاتی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ایسے مجرموں کو پھانسی دینے اور درندے کہنے والا خود درندے کا روپ دھار لے۔ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کو لے کر اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگتی تاوقتیکہ کہ معاملہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہ ہو۔ ریاست کی طرف سے ان جرائم کی روک تھام اور عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی بھی اقدامات تو درکنار اس مسئلہ کو زیر بحث ہی نہیں لایا جاتا۔

ان جرائم کی روک تھام کے لیے ہر سطح پر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے حکومت کو جہاں فوری قانون سازی کرنی چاہیے وہیں ایمرجنسی نافذ کر کے لامحدود پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے اور یہ کہ معاشرے کے ہر فرد کو یہ باور کرایا جائے کہ ان جرائم کی روک تھام اس کی ذمہ داری ہے۔ ایسے جرائم کو بالکل ناقابل برادشت بنانے کے لیے نصاب میں تبدیلیاں لائی جائیں اور لوگوں کو ایجوکیٹ کیا جائے۔

عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تعصب کی بنیاد پر یا ایک مخصوص طبقہ جو اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا اگر کوئی ان کو ٹھکرائے تو وہ اس جرم کو اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے جسٹیفائی کرتے ہیں جس کے دیر پا اثرات ہوتے ہیں لہذا اتھارٹیز کو ایسے جرائم کی عذر خواہی کرنے والے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے تا کہ ایسے جرائم اور مجرموں کو یہ معاشرہ قبول نہ کرے اور انہیں کوئی پناہ نہ ملے۔

ریاست کو ان جرائم روک کی تھام کے لیے پروگرامز شروع کرنے ادارے بنانے اور سروسز شروع کرنے کے لیے بجٹ مختص کرنا چاہیے۔

پاکستان میں ایسے جرائم سے متعلق اصل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوتے صرف اس مہینے میں ہونے والے واقعات جو میرے علم میں ہیں ان کے مطابق مختلف واقعات میں تین عورتوں کو بدترین گھریلو تشدد کے نتیجے میں قتل کیا گیا اور قاتل ان کے شوہر تھے۔ اس کے علاوہ مختلف واقعات میں آٹھ سال سے کم عمر 5 بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ایک بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے اور پندرہ سال سے کم عمر دو لڑکوں اور دو لڑکیوں کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے۔

غیرت کے نام پر لڑکے اور لڑکی کا قتل ہوا، ایک لڑکی گھریلو تشدد کے نتیجے میں قتل کی گئی اور سات سال کی زہرہ نامی لڑکی جو کہ کسی کے ہاں کام کرتی تھی اس کو پالتو طوطے اڑانے پر میاں بیوی نے قتل کر دیا بلوچستان میں ایک گھر پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بھی ایک کم عمر بچی قتل ہوئی یہ وہ واقعات ہیں جو سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوئے یقیناً میں تمام ایسے واقعات سے آگاہ نہیں یہ واقعات صرف جولائی 2020 کے ہیں اس سے آپ حالات کی سنگینی کا اندزہ لگا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *