ارطغرل غازی شوق سے دیکھیں: نام نہاد فتوؤں کی کوئی دینی وقعت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی روایتی فلموں میں میرے لیے دلچسپی اور کشش کا کوئی سامان کبھی نہیں رہا۔ زمانہ طالب علمی میں بھی نہیں۔ ہاں البتہ تاریخی اور سماجی موضوعات پر ہندی اور انگریزی کی بعض فلمیں میری آل ٹائم فیورٹ بھی رہی ہیں۔ اور لندن میں دور ان طالب علمی اوپر ا ہاؤس کے تھیٹر شوز، شیکسپیئر کے ڈراموں اور عظیم رومن ایمپائر کی تاریخ اور یونان کی اساطیری کہانیوں اور فلسفوں پر مبنی دستاویزی فلموں نے ایک عرصے تک مجھے مہمیز کیے رکھا ہے۔

لیکن ترکی کا معروف زمانہ ٹی وی شو ڈرلس ارطغرل کا تجربہ ان سب سے مختلف تھا۔ اس کی چند قسطیں دیکھنے سے پہلے مجھے اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ جسے میں نے محض ایک ٹی وی شو اور تفریح کا سامان سمجھا تھا دراصل وہ ایک سحر تھا جس نے میرے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں کر لیا تھا۔ اتنی طویل سیریز میں اتنا بہترین مواد، غیر معمولی اداکاری، کہانی کا تسلسل اور فلم سازی کا اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

چونکہ عثمانی سلطنت کی تاریخ سے میری کسی حد تک واقفیت تھی اس لیے میں اس بات پر حیران تھا کہ کیا افسانے اور حقیقت کے امتزا ج کی ایسی دل آویز تخلیق بھی پردے پر اس طرح پیش کی جاسکتی ہے جس میں نہ رقص و جام اور نہ مئے کی رنگ فشانیا ں ہیں اور نہ ہی عاشق و معشوق کی ہوشربا داستانیں ہیں پھر بھی شائق کی نظر ایک لمحے کے لیے اسکرین سے نہیں ہٹتی۔

اپنے تاریخی حوالوں اور عظمت رفتہ کے فقید المثال کارناموں سے آراستہ اس کے اسکرپٹ کی بنا پر یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ مغرب میں اسے قبول کرنے کے لیے کوئی خوشگوار وجہ نہیں تھی لیکن مشرق وسطیٰ کے مقتدرحلقوں میں اسے مسترد کرنے کا بھی کوئی مناسب جواز دکھائی نہیں دیتا، ما سوا اس کے کہ عرب قومیت اب بھی ترکوں کے بارے میں ماضی کی تلخیوں اور سیاسی مخاصمت کا شکا ر ہے۔ لیکن جب سخت گیراور روایتی مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات آنے شروع ہوئے اور بات فتوؤں تک جا پہنچی جس کی وجہ سے مسلم ذہنوں میں ایک ابہام کی صورت پیدا ہوئی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس پر کلام کیا جائے اور ان وسوسوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے جو ان نام نہاد فتوؤں کے نتیجے مییں پیدا ہوئے ہیں تاکہ مسلم دنیا کا گیم آف تھرونز کہا جانے والا یہ شاہکارہماری تنگ نظری اورقدامت پسندی کا شکارنہ ہونے پائے۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ اس ٹی وی شو کے خلاف جتنے بھی فتوے دیے گئے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے ان فتوؤں کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی بنیاد قرآن وسنت نہیں ہے بلکہ یہ فتوے خالص سیاسی اورمادی نوعیت کے اور بعض تو انتہائی مضحکہ خیزبھی ہیں۔ مثال کے طور پر دنیائے فتاوت کی معراج پر فائض مصر کے دارالافتاء نے اس سیریل کو اس لیے حرام اور ناجائز قرار دیا ہے کہ اس کے مطابق یہ ڈرامہ ترک ثقافت کوعربوں پرمسلط کرانھیں مرعوب کرنے اور ذہنی غلام بنانے کی کوشش ہے۔

اب ان بے چارے سرکاری مفتیان کرام سے یہ کون پوچھے کہ کسی ملک کی تہذیب اور ثقافت کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری آپ کے ناتواں مذہبی کاندھوں پر کس شریعت نے عائد کردی اورقرآن کی کس آیت سے استدلال کرتے ہوئے آپ نے یہ طئے کر لیا کہ عرب ثقافت کو ترک ثقافت پر فضیلت حاصل ہے۔ جذبات اور عقیدت سے مغلوب ساد ہ لوح مسلمانوں کوبھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ عرب ممالک سے آنے والی ہرشے مقدس نہیں ہوتی۔ مشرق وسطی کے ممالک میں فتوے کا محکمہ خود مختار ادارہ نہیں بلکہ حکومت کا ذیلی ادارہ ہوتا ہے اور اس کے مفتیان حکومت کے تنخوہ دار ملازم ہوتے ہوں تو ان سے بھلا یہ امید کیونکر کی جا سکتی ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی کے خلاف خالص قرآن وسنت کی روشنی میں کسی معاملے میں رائے زنی کی جسارت بھی کریں۔

دوسری جانب برصغیر ہندو پاک میں فتوؤں کا نظام اس سے بھی ناقص اور ریکارڈ انتہائی خراب ہے۔ یہاں تو فتویٰ سازی ایک صنعت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہاں ہر فرقے کا اپنا فتویٰ ٰسازی کا ادارہ ہے جس کا بے دریغ استعمال مخالف فرقے کے عقیدے اور اس کے فہم دین کو نشانہ بنانے کے لیے کیاجاتا رہا ہے۔ نہ جانے کتنی ہی نابغۂ روزگار ہستیاں ان فتوؤں کی زد میں آچکی ہیں اور اپنے سینوں پر کفرو الحاد کا تمغہ سجائے اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔

برصغیر میں فتویٰ سازی کے سرخیل دارالعلوم دیوبند اور پاکستان میں اس مکتبہ فکر کے پیر وکار جامعہ بنوریہ اور جامعہ اشرفیہ کا اس سلسلے میں جو موقف ہے وہ تو صریح منافقت پر مبنی اور عقلیت پسندی سے خالی ہے۔ ان کے فہم دین کے مطابق اسلام میں موسیقی، فلم سازی اور مرد و خواتین کا اختلاط ہی جائز نہیں ہے لہٰذا ارتغر ل غازی کا دیکھنا حرام اور ناجائز کے زمرے میں آتا ہے اور مسلمانوں کو اسے دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہییے۔

ماضی میں فوٹوگرافی، گراموفون اور مائیکروفون کے استعمال پرمتنازعہ فتویٰ دے کر پوری قوم کو شرمسار کرنے والے یہ مفتیان کرام آج خود کی مارکیٹنگ اور برانڈنگ کرنے کے لیے ان ’آلات خبیسہ‘ کا بڑی بے باکی سے استعمال کرتے ہیں اور جب ان سے حرم شریف سے تروایح اور مناسک حج کی ٹی وی پر براہ راست نشریات کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو ان سے کوئی معقول جواب نہیں بن پڑتا۔ چند فری لانس قسم کے مفکرین اسلام کا مو قف بھی اس سلسلے میں فہم و فراست سے خالی ہے۔

سلفی فکر کے معروف داعی ڈاکٹر ذاکر نائک کی عجیب و غریب دلیل دیکھیے۔ چونکہ موصوف خود مائکروفون، وڈیوگرافی اور ٹیلی ویژن کے استعمال کے ذریعہ دعوت دین کا فریضہ انجام دینے کا دعوی کرتے ہیں اور پوری دنیامیں لاکھوں لوگ ان کے ٹی وی شوز سے ’استفادہ‘ کرتے ہیں اس لیے ان کا اعتراض نہ ڈیجیٹل تصاویر پر ہے اور نہ ہی تکنالوجی کے استعمال پر۔ ان کی پریشانی کا سبب اس سیریل میں موسیقی کا استعمال اور مردوخواتین کا اختلاط ہے اور اس بنیاد پر وہ اس شو کے دیکھنے کو ’کم درجے کا حرام‘ کام قرار دیتے ہیں۔

موصوف کا موقف ہے کہ اولاً تو ایسے مسلمان جو کسی قسم کی فلم یا ٹی وی شوز میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں وہ اس شو سے بھی پرہیز کر یں کہ تقویٰ کا اعلی معیار ان کے نزدیک یہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو فلموں اور ٹی وی شوز کے دلدادہ اور فلمیں جن کی تفریح کے ذرائع میں سے ایک ہے وہ کراہت کے ساتھ اس ’گناہ‘ سے لذت حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ قرآن کے بیانیے کے مطابق جو چیزیں یا اعمال حرام ہیں ان کی قرآن میں صراحت کے ساتھ نشاندہی کردی گئی ہے اوراس میں حرام چیزوں کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی ہے تو کسی انسان کو یہ حق کہاں سے حاصل ہوگیا کہ وہ ماورائے قرآن اپنی عقل سے کوئی پیمانہ طئے کردے کے فلاں چیزحرمت کے کون سے زمرے میں آتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ جو لوگ جو غیر فطری طریقے سے مسلم خواتین کو معاشرے کے معاملات سے بے دخل کر دینا چاہتے ہیں اور جنھوں نے مرد و خواتیں کے اختلاط کا مفہوم ہی غلط سمجھا ہے انھیں دور رسالت میں یا دور خلافت مسلم خواتین کے رول سے بھی اپنی براءت کا اظہار کرنا ہوگا جہاں مسلم خواتین معاشرے کا اہم جز قرار پاتی ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور یہاں تک کہ ریاست کی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ انھیں مسلمانوں کے عہد زریں میں مسلم خواتین کے تاریخی کردار سے بھی اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنی ہوگی جہاں مسلم خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ ریاست اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں خود انھیں علماء کے موقف میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہوتی دکھائی دی ہے۔ قدما ء کے شدت پسند موقف سے انحراف کرتے ہوئے آج علماء کی ایک بڑی اکثریت موسیقی کو آداب و حدود میں رہتے ہوئے جائز قرار دیتی ہے اور ان کے مطابق ایسی موسیقی جو ’جذبات میں شہوانی ہیجان اور خیالات میں وسوسہ شیطانی کی یلغار کا ذریعہ نہ بنے اور بندے کو خدا کی یاد سے غافل کر کے لہو ولعب کو زندگی کا شعار نہ بنا دے‘ اس کی اجازت ہے۔

فقہاءکی آراء سے قطع نظر آئیے کہ اب یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن اس سلسلے میں ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے کہ ہمارے لیے ہدایت کا اصل سر چشمہ تو قرآن ہی ہے۔ کیا واقعی اسلام اتنے دقیانوس اور فرسودہ معاشرے کی تشکیل کرنا چاہتا ہے جہاں انسان کی تمام نفسانی اور فطری خواہشات کو حرام قرار دے کربھکشوؤں اور راہبوں والی خشک اور بے لذت زندگی گزرنے پر مجبور کر دیا جائے؟ تو پھر دنیا کی یہ تمام رعنائیاں، یہ لذتیں یہ رونقیں کیا محض اغیار کے لیے ہیں اور ان پر مسلمانوں کا کا کوئی حق نہیں؟

کیا دنیا کی یہ زندگی اتنی عارضی ہے کہ مسلمان محض ’وعدہ حور‘ پر اپنی زندگی کی سات آٹھ دہائیاں گزار دیں؟ شب و روز نئے نئے انکشافات اور کائنات کے اسرارورموز سے پردہ اٹھاتی حقیقتیں جسے دنیا سائنسی ایجادات سے تعبیر کرتی ہے اورجو اللہ کے ’کن فیکون‘ ہونے کا پتہ دیتی ہیں، وہ مومنین کے لیے صرف آزمائش کا سامان ہیں؟

اے محمدﷺ، آپ فرمائیے کہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شر یک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کوکہ تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔ ( سورہ اعراف 33)

مندرجہ بالا آیت سے جن اعمال کی حرمت ثابت ہوتی ہے وہ بنیادی طور پر چار ہیں۔ پہلی بدکرداری اور فحاشی کے کام، دوسری کسی کی جان و مال اور عزت آبرو یعنی حقوق انسانی کی پامالی، تیسری چیزاللہ تعالی کی ذات میں کسی کو شریک کرنے یعنی شرک کواورچوتھی ایسی کسی چیزکو حرام قرار دینے کو جس کو اللہ نے حرام نہیں ٹھہرا یا ہے۔ قرآن کے اس واضح حکم کے بعد اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ ایسی تمام فلمیں اور ایسے تمام لٹریچر جو معاشرے میں فحاشی اور بدکرداری کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں اور ایسی تمام محفلیں اور مجلسیں خواہ وہ کسی بھی مقدس نام سے آراستہ کی جارہی ہوں اگر اس میں اللہ تعالی کی وحدانیت چیلیج ہو رہی ہو توبلاشبہ وہ ناجایز اور حرام ہیں لیکن وہیں دوسری جانب کوئی فلم یا ٹی وی شو، موسیقی یا نغمہ سرائی کی ایسی محفلیں، مشاعرے یا سیر و تفریح یا کھیل کود کے دیگر زرایع جن سے قرآن کے مذکورہ حکم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے وہ نہ صرف جائز ہیں بلکہ یہ اللہ تعلی کی نعمتیں ہیں جن سے استفادہ کیے جانے میں کوئی دینی قباحت نہیں ہے بلکہ ان کا مثبت استعمال معاشرے کی اصلاح اور تربیت میں کیا جانا چاہیے اور جس کا ذکر خود اللہ تعالی نے ایک دوسری آیت میں یوں فرمایا ہے۔

اے محمدﷺ، ان سے کہوکہ کس نے اللہ کی اس زینت کوحرام کر دیاجسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالاتھا اورکس نے خداکی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں؟ کہویہ ساری چیزیں دنیاکی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اورقیامت کے روزتوخالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔ ( سورہ اعراف32 )

اس لیے بات بات پر اللہ تعالی کی جائز نعمتوں کو حرام قرار دینے والے اور جہنم کا خوف دلانے والے مولوی صاحبان کے لیے قرآن کی ان آیات میں خود تنبیہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی پاک نعمتوں کو جن کے بارے میں اللہ تعالی کا اصرار ہے کہ وہ مومنین کے لیے ہی ہیں اسے اس کے مومن بندوں پرحرام قرار دے کراپنے حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور اسی گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں جس سے قرآن نے مذکورہ آیت میں منع فرمایا ہے، نیز اللہ تعالی کی ذات سے ایسی باتیں منسوب کرنے کاعظیم گناہ بھی کر رہے ہیں جس کے بارے میں قرآن میں سخت وعید موجود ہے۔

ارطغرل غازی میں تو جا بجا قرآنی تعلیمات کا حوالہ ہے۔ اللہ کی کبریائی اور وحدانیت کا اعلان ہے۔ سبق آموز حکایتیں ہیں۔ نصیحت آموز فرمودات ہیں۔ مسلم جانبازوں کے جذبہ ایمانی کی حیرت انگیز داستانیں ہیں۔ اس کی کہانی میں عدل انصاف پر مبنی ایک ریاست کے قیام کی جدوجہد ہے۔ اس کی تصاویرآپ کے جذبات کو برانگیختہ بھی نہیں کرتیں اور نہ اس کی موسیقی آپ کے ذہنوں میں کوئی ہیجان پیدا کرتی ہے تو اس کا دیکھنا بھلا کس طرح حرام ہو سکتا ہے۔

قرآن کی نظر میں موسیقی، فلمیں یا سوشل میڈیا کی دیگر ایجادات بذات خود کوئی حرام چیزیں نہیں ہیں بلکہ اپنے مواد کی وجہ سے یہ جایز بھی ہو سکتی ہیں اور ناجایز بھی۔ چنانچہ اللہ تعالی کا شکربجا لائیں کہ اس نے ہمیں ایسے دور میں پیدا کیا جس میں ہمارے پاس زندگی کی یہ آسائشیں اور تن آسانیا ں موجود ہیں جس کا ہمارے اسلاف نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply