جنت میں ناسٹیلجیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمر آج معمول سے زیادہ اداس تھا ایک مستقل متذبذب کیفیت اسے بے چین کیے رکھتی۔ کل شام چائے کی میز پر جب وہ ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا تو اس کی بیوی کی چہکتی آواز نے اسے چونکا دیا۔ بھئی اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ صرف امریکہ ہے، مریم کی آنکھوں کی چمک اور پر سکون چہرہ دیکھ کر اسے لمحہ بھر کو طمانیت کا احساس ہوا اور اس نے اپنے رجائیانہ خیالات کو کوسا۔ بھئی یہاں کے لوگوں کا اخلاق اور بے فکری کی زندگی کی کیا بات ہے، جنت کی سب سے بڑی خاصیت ہی کسی خواہش کا باقی نہ رہنا ہے اور میں تو جب سے یہاں آ بسی ہوں کسی اور چیز کی تمنا نہیں، یوں لگتا ہے دنیامیں ہی جنت مل گئی ہے۔

وہ اکثر کہا کرتی کہ کاش وہ کئی سال پہلے امریکہ آ بسی ہوتی اور یہ کہ اب وہ مرتے دم تک یہاں سے نہیں جائے گی۔ احمر نے ایک پھیکی مسکراہٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا جیسے ایک بوڑھا کسی بچے کی معصوم نادانی پر ہنس دے۔ اس نے اپنا ریکٹ اٹھایا اور اپنے تیرہ سالہ بیٹے علی کے ساتھ ٹینس کھیلنے کے لئے نکل پڑا۔ ٹینس میں اس کی مہارت اتنی ہی تھی جتنی گاؤں کی ایک گنوار عورت کی گاڑی چلانے کے بارے میں، لیکن پھر بھی وہ یہ وقت اپنے بیٹے کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا کیونکہ اسے پتا تھا کہ چند سالوں میں اس کا بیٹا اپنی جوانی میں اتنا گم ہو جائے گا کہ اس کے پاس ماں باپ کے ساتھ بیٹھنے کا وقت شاید ہی ہو اور ذہنی طور پہ ان میں کوئی مطابقت ہی نا رہے۔

اسے امریکہ شفٹ ہوئے پانچ سال سے اوپر کا عرصہ ہو چکا تھا، اس دوران اس نے اس اجنبی دیس میں چڑیا گھر میں آئے نئے جانور سے لے کر ایک پرتکلف مہمان تک کا سفر طے کیا تھا۔

وہ ایک معزز پیشے سے منسلک وجیہ شخصیت کا مالک شخص تھا۔ بظاہر اس کو حاصل نعمتوں بھری زندگی اس جیسے پس منظر کے حامل لاکھوں نوجوانوں کا خواب ہوا کرتی ہے۔ مگر اس کا ذہنی الجھاؤ بے وجہ نہیں تھا۔ اس کا المیہ وہی تھا جو ہر غریب الوطن شخص کا ہوتا ہے، ناسٹیلجیا، اپنوں سے دوری کا غم، اپنی مٹی سے بے وفائی کا احساس زیاں اور اپنے گم گشتہ ماضی کی یاد۔ اگرچہ ہجرت انسانی تاریخ کی اولین سنت ہے، آدم اور حوا کو اپنے پیدائشی وطن اپنی جنت سے دیس نکالا ملا اور تب سے انسان کا یہ سفر جاری و ساری ہے۔ خوب سے خوب تر اور نت نئے آفاق کی کی تلاش اسے بے چین کیے رکھتی ہے اور وہ اپنے مرکز کو چھوڑکے نئے مدار میں داخل ہو جاتا ہے، اور نئی خوشیوں کی تلاش میں نئے غم بھی چنتا جاتا ہے۔

احمر کی والدہ کے انتقال کر جانے کے بعد اس کی دلچسپی اپنے شہر اور اپنی دنیا سے اٹھ گئی تھی، اس کی ماں جب اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے بال سہلاتی تھی تو وہ خود کو جنت کی وادیوں میں اڑتا ہوا محسوس کرتا تھا۔ ان کے سایہٴ عاطفت کے اٹھ جانے سے وہ اپنوں ہی کے رویوں سے تکلیف دہ تمازت محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کا باپ، جس سے اسے ایسی جذباتی وابستگی نہیں تھی، اس سے بہت پیار کرتا تھا مگر ایک متوسط طبقے کے عمومی انسان کی طرح اولاد سے مادی فوائد کا خواہش مند تھا اور اس کے ملک چھوڑ کے جانے کے فیصلے سے ناخوش تھا۔

احمر یہ دیکھ کر حیران ہوتا کہ اس کی بیوی جو پاکستان میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ورکنگ وومن تھی، اچھی تنخواہ اور پر آسائش زندگی کی عادی تھی، کس طرح سارا سارا دن گھر کے کام کر کے خوش رہتی ہے۔ وہاں آفس میں باس کی سی زندگی چھوڑ کے کچن کی قیدی بن جانا اسے راحت دینے لگا تھا۔ وہ شوہر اور بچوں کی خدمت میں سکون پاتی، رات کو تھکن سے چور جب بستر پے لیٹتی تو خدا کا شکر بجا لاتے اس کی زبان نہ تھکتی۔ اسے اپنا یہ نیا ملک جنت لگتا تھا چہ جائے کہ وہ ملک جہاں خادمائیں اس کی خوشنودی بجا لاتی تھیں اور اس نے اپنا بچپن گزارا۔

اگرچہ اس کا ماضی بھی رنگ و بو کا ملاپ تھا، مگر اس کی زندگی کا فلسفہ آگے ہی دیکھنے کا تھا نہ کہ ماضی میں جینے کا، وہ منفی ناسٹلجیا کی شکار نہ تھی۔ کیا وہ مادروطن کی ہرجائی تھی یا حقیقت پسند شاکر عورت، احمر فیصلہ نہ کر پاتا تھا۔ مریم کے احباب اور والدین نے اسے ہمیشہ یہ احساس دلایا کہ وہ ایک خوش نصیب عورت ہے جسے ایک حسین زندگی ملی اور اسے اس کا پورا پورا احساس بھی تھا۔

احمر اور مریم میں یہ فرق اس ملامت کا تھا جس کا احمر اندرونی اور بیرونی طور پہ شکار تھا۔

احمر نے بچپن سے جو چند دعائیں تواتر سے مانگی تھیں ان میں انسانیت کے لئے کچھ بڑا کردکھانے کا جذبہ تھا، لیکن اب جب کہ وہ چالیس برس کا ہوچلا تھا اور ابھی تلک نیلسن منڈیلا، محمد علی جناح یا عبدالستار ایدیھی کی طرح کوئی کارنامہ اس نے سرانجام دیا تھا اور نہ ہی نسل انسانی کی کوئی قابل ذکر خدمت ہی کی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے والد کی نظروں میں ایک ناکارہ اولاد تھی جو ان کی امیدوں پہ پورا نہ اترا تھا اور یوں اس نے اپنی پیدائش کا مقصد کھو دیا تھا، یہی اس کا دکھ تھا جس نے نہ اسے پاکستان میں چین سے رہنے دیا اور نہ ہی اس دیارغیر میں، نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

احمر کے معاملے میں ناسٹلجیا ایک خوبصورت گزرے ہوئے کل کی یاد نہیں بلکہ ادھوری خواہشات، ملامت اور احساس زیاں کا مجموعہ تھا۔ اس کی عمر کے اکثر افراد اس کشمکش کا شکار ہوتے ہیں جنہیں ریت کی طرح مٹھی سے تیزی سے نکلتی ہوئی زندگی، نا مکمل خواب اور رشتوں کے بوجھ کبڑا کیے دیتے ہیں، اور وہ اس بھدے پن کو لئے چلتے رہتے ہیں۔

لیکن سب کچھ اتنا تاریک بھی نہ تھا اس کے ماضی میں خوبصورتیوں کے البم بھی تھے جہاں مخلص دوستوں کی محفل تھی، نوجوانی کی محبتوں کی دھنک تھی، مرحوم ماں کی گود تھی اور وقت کی فراوانی تھی۔ لیکن شاید وہ سب ملامت کے احساس تلے ماند پڑ جاتا تھا۔

ناسٹلجیا میں اگر مردہ امیدوں کی لاش کی سڑانڈ ہے تو مٹی کے در و دیوار کی مہک اور ان پھولوں کی خوشبو بھی ہے جنہیں عشروں بعد ہزاروں میل دور آنکھیں بند کیے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایک ناسٹلجیا مریم کاہے اور ایک احمر کا، اس سے کسی کومفر نہیں۔ شاید جنت میں جا کر بھی انسان کو دنیا کی تکلیفوں بھری زندگی کی یاد ستائے۔ یہی سوچ کر احمر نے ٹینس بال ریکٹ کی مدد سے زور سے علی کی طرف اچھالا جیسے کہ وہ اپنی یاسیت کو جھٹک کر نئی امید کا کھیل رچانا چاہتا ہو اور ضمیر کے بوجھ سے آزادی چاہتا ہو، مگر کیا وہ ایسا کر پائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply