شہباز گِل کی بلاول بھٹو کے اجرک کے کپڑے سے بنے ماسک پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں یوں تو آئے روز سیاست دانوں کی باہمی نوک جھوک جاری رہتی ہے تاہم گذشتہ روز ایک ٹاک شو پر معاملات تب بگڑے جب موضوعِ بحث صوبہ سندھ کا ثقافتی پہناوا ’اجرک‘ بنی۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے گذشتہ روز جیو ٹی وی کے ٹاک شو کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کے اجرک سے بنے ماسک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ’سنا تھا صوبائی کارڈ کھیلنے کا، یہ صوبائی ماسک کھیلنے کا طریقہ پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔‘

ان کا اشارہ بلاول بھٹو کی جانب سے اجرک کے کپڑے سے بنے ماسک کی جانب تھا جو وہ گذشتہ کئی روز سے پریس کانفرنس اور دیگر مصروفیات کے دوران پہنتے ہیں۔

اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے شہباز گِل نے کہا کہ ’گاؤں میں بھینس کے بچھڑے کو ایسا ماسک پہنایا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ دودھ نہ پی لے۔۔۔۔‘

ان الفاظ پر پروگرام کے اینکر سمیت شہباز گل کے ساتھ بیٹھے دیگر مہمانوں نے تو قہقہے لگائے تاہم سوشل میڈیا پر اس بیان پر کڑی تنقید کی گئی جس پر ٹرینڈ ’اجرک ہماری شان ہے‘ شروع ہو گیا۔

اس ٹرینڈ کے شروع ہوتے ہی ایک طرف تو شہباز گل کے اس بیان پر تنقید کی گئی تو دوسری جانب متعدد افراد نے اجرک پہنے یا اجرک سے بنی اشیا کی تصاویر لگا کر صوبہ سندھ کی اس ثقافتی علامت کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار بھی کیا۔

یہاں تک کہ شہباز گل نے بھی اجرک پہنے اپنی تصویر لگائی لیکن نہ تو اپنے بیان کی وضاحت کی نہ ہی معافی مانگی۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ‘سندھی اجرک سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کی وارث ہے۔۔۔ براہ کرم اس خوبصورت چیز کو اپنی سیاست کے لیے استعمال مت کریں۔’

شہباز گل کے اس ردِ عمل کے علاوہ پروگرام میں موجود مہمان مشرف زیدی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میرے آباؤ اجداد نے اس ملک میں اجرک کے سائے تلے ہجرت کی تھی۔ مجھے پروگرام کے دوران سخت ردِ عمل دینا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو مجھ سے بہتر رویے کا مطالبہ کرتے ہیں۔’

شہباز گل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان کی ان بن بھی کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ان کی جانب سے بلاول بھٹو اور سندھ حکومت پر کی جانے والی تنقید۔ تاہم اس موقع پر ان کی جانب سے سندھ کی ثقافتی علامت کے بارے میں استعمال کی جانے والے زبان پر صرف سندھ ہی نے پورے پاکستان سے متعد افراد نے برہمی کا اظہار کیا۔

متعدد صارفین کی جانب سے سے صرف ہیش ٹیگ ’اجرک میری شان ہے‘ اور ’اجرک پاکستان کی شان ہے‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تصاویر شیئر کیں جبکہ اکثر افراد نے اجرک پہنے اپنی تصاویر کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ ان کا تعلق سندھ یا جنوبی پنجاب سے تو نہیں لیکن انھیں بھی اجرک خاصی پسند ہے۔

اس حوالے سے ردِ عمل دیتے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ اجرک صوبے کی نہیں ایک تہذیب اور ورثے کی شان اور پہچان ہے۔ اس ٹویٹ کے ساتھ انھوں نے بلاول بھٹو، بینظیر بھٹو اور اپنی ایسی تصاویر لگائیں جن میں انھوں نے اجرک پہن رکھی تھی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہر گزرتے دن کے ساتھ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں تاہم کارکردگی کے حساب سے یہ ناکام ہو گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کو صرف اجرک کے کپڑے کا ماسک پہننے پر تنقید کا نشانہ بنانا ان کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

صحافی رضا رومی نے قدیم تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجرک کوئی عام کپڑا یا ڈیزائن نہیں ہے۔ یہ ہماری قدیم ثقافت کا عکاس ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی تضحیک کرنا یا اسے طنز کا نشانہ بنانا اپنی ہی تاریخ کو کم تر دکھانے کے مترادف ہے۔

ایک صارف نے اپنی بیرونِ ملک یونیورسٹی سے یادگار تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس بہترین کپڑے کے وقار اور رنگوں سے بہتر کچھ نہیں ہے۔

اسی طرح صحافی عباس ناصر کا کہنا تھے انھیں افسوس ہے حامد میر اور عبدالقیوم صدیقی جیسے ساتھی اس بیہودہ بات پر قہقہے لگاتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے بیانیے کو گٹر کی سطح پر لے آئی ہے۔

ایک صارف نے صوبہ سندھ اور بلوچستان کی محرومیوں کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ سندھ اور بلوچستان کی عوام کو تیسرے درجے کا شہری سمجھیں گے اور ان کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، تمدن اور ثقافت سے نفرت کا اظہار کریں گے تب تک یہ فیڈریشن کبھی مضبوط نہیں ہو گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یاد رکھی آپ نے جو نفرت کہ بیج بوئے ہیں اب وہ رفتہ رفتہ بڑے درخت بنتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14632 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp