یو ٹیوب بند کرنے سے کیا فائدہ ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کریں کہ وطن عزیز سے باہر دنیا کے کسی کونے میں کوئی غیر صالح شخص اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد ریموٹ کنٹرول سے ٹی وی آن کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ٹی وی آن نہیں ہوتا تو وہ کیا کرے گا؟ جی ہاں وہ بیٹری سیل چیک کرے گا لیکن ہمارے ہاں ایسی ہی صورت حال میں اکثر ہم وطنوں کا ردعمل بالکل مختلف ہو گا۔ وہ فوراً ریموٹ کنٹرول کو کان سے پکڑ کر اس پر تھپڑوں کی بارش کر دیں گے۔ بعض تو اپنی بساط کے مطابق ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کی خود ساختہ ماں بہن کو اس معاملے میں گھسیٹتے ہوئے ایسی گالیوں سے نوازیں گے کہ ریموٹ توبہ توبہ کرتے ہوئے اپنا کام شروع کر دے گا۔

ہمارے ہاں ہر مسئلے کا حل ساری دنیا سے الگ ہے۔ اگر کسی کا جوان بیٹا بگڑ گیا ہے، آوارہ ہے، ہر لڑکی کو چھیڑنا اپنا فرض سمجھتا ہے، منشیات کا عادی ہو چکا ہے، گھر سے پیسے چرانے لگا ہے تو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اسے کسی کونسلنگ کی بھی ضرورت نہیں اور کسی ماہر نفسیات کے علاج کی بھی حاجت نہیں۔ اس کا علاج تو گاماں اور ماجھا بھی بتا سکتے ہیں۔ آپ گھر سے باہر نکلیں اور جو پہلے دس آدمی آپ سے ملیں ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھیں۔ دس میں سے نو آدمی کامل ایمان کے ساتھ اس کا علاج بتائیں گے کہ لڑکے کی فوراً شادی کروا دیں، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔

اس تمہید طولانی کا سبب یہ خبر ہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان میں یو ٹیوب بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اب آپ تمہید کی روشنی میں غور و فکر کریں تو فوراً اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ آپ تو جانتے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں، یو ٹیوب پر جتنے منہ نمودار ہوتے ہیں اتنی ہی باتیں ہوتی ہیں اور باتیں بھی ایسی کہ سن کر بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کے ابا ڈاکو ہوں اور لوٹ مار کے راستے میں آنے والے ”کیڑے مکوڑوں“ کا خاتمہ کر دیتے ہوں تو بھی محلے داروں کو یہ تو ہرگز نہیں کہنا چاہیے کہ آپ کے ابا خونی ڈکیت ہیں۔ یہ نہ صرف بدتمیزی ہے بلکہ انتہا درجے کی گستاخی اور قابل تعزیر جرم ہے کیونکہ اس طرح وہ آپ کی توہین کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بات کو مثبت طور پر یوں بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے ابا حضور وہ عظیم انسان ہیں جو طبقاتی اونچ نیچ اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف بر سر پیکار ہیں چنانچہ وہ امیروں سے دولت لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کے مقدس مشن کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ پہلے مرحلے میں وہ اپنی غربت دور کریں گے تاکہ پھر اطمینان سے دیگر غریبوں کی طرف دھیان دیا جا سکے۔

چند یو ٹیوبرز اس فہم و فراست سے یکسر محروم ہیں۔ انہیں ”سقراط“ بننے کا بے حد شوق ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ اس شوق میں زہر کا پیالہ بھی پینا پڑتا ہے۔ یو ٹیوب پر صرف غیر محتاط پاکستانی ہی ویڈیوز اپلوڈ نہیں کرتے پوری دنیا سے لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد علمی، ادبی، سائنسی اور تفریحی ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔ مگر چھوڑیے ہمارا کیا لینا دینا ان خرافات سے۔ ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خلاف ویڈیوز کیوں بنائی جاتی ہیں۔ کیا کسی سازش کے تحت ہمیں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے یا محض دل کی بھڑاس نکالی جا رہی ہے۔

یقیناً یہ سازش ہی ہو گی اور اس میں عالمی استعماری قوتوں کا کلیدی کردار رہا ہو گا کیونکہ ہم اس قدر اہم ہیں کہ سب ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔

چناں چہ ان سازشوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ یو ٹیوب کو بند کر دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ یہ منہ پھٹ اور ناہنجار، فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کا رخ کر لیں گے مگر یہ نادان نہیں جانتے کہ جو یو ٹیوب بند کر سکتے ہیں وہ سوشل میڈیا تو کیا انٹر نیٹ کا بھی قلع قمع کر سکتے ہیں۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

ویسے بھی دنیا کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنا راستہ بنانا چاہیے۔ کیا ہوا اگر دنیا انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور مشینوں کے سہارے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ثابت کر دیں گے کہ ہم ان سہاروں کے محتاج نہیں ہیں۔ ہم بسوں، ٹرینوں اور جہازوں میں سفر کرنے کے بجائے گھوڑوں، گدھوں اور خچروں پر سفر کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال سکتے ہیں۔ اسی طرح کے بیسیوں کام کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ یو ٹیوب کی بندش ہے۔ جیسے ہی ہم نے یو ٹیوب کو بند کیا اہل وطن شادمانی اور کامرانی کی نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں ہو جائیں گے۔ اسی خوشی میں ایک لطیفہ سنیے۔

ایک اسی سالہ بابے پر لڑکی کو چھیڑنے کا الزام تھا اور وہ پیشی پر حاضر تھا۔ مقدمہ آخری مرحلے میں تھا جج صاحب فیصلہ لکھنے ہی والے تھے کہ بابے نے منمناتی ہوئی آواز میں کہا کہ فیصلے سے پہلے میری ایک عرض سن لیں۔ ”تمہاری درخواست کیا خاک سنیں۔ جوان لڑکی کو چھیڑتے ہوئے تمہیں شرم نہ آئی، اٹھارہ بیس سال کا کوئی لڑکا ایسی حرکت کرتا تو سوچتے۔“

بابے نے کہا، ”جناب یہ ساٹھ برس پہلے کا واقعہ ہے، جسے چھیڑا تھا وہ بھی اپنے پوتے کے ساتھ پیشی پر آئی ہوئی ہے۔“

یہ محض ایک لطیفہ ہے براہ کرم اسے عدالتوں کی کارروائی سے منسلک نہ کریں۔ بہت شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *