غلام مصطفیٰ عباسی: تیرا تذکرہ برسوں رہے گا۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی خطے کی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ معاشروں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر خدمات انجام دینے والی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ ایسے ان گنت گمنام کرداروں اور کارکنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے، جو بے لوث انداز میں اپنا کام کرتے رہتے ہیں، لیکن آج ان کو انفرادی طور پر سے یاد نہیں کیا جاتا۔ وہ جس جس تحریک کا حصہ رہے، وہ وہ تحاریک تو کامیابیاں پاکر قوموں کو سنوارنے کے کام آ گئیں اور ان تحریکوں کے ارواح رواں کو یا نقیبوں کو تو یاد رکھا گیا، مگر اس راہ حق میں اپنے پاؤں چھلنی کرنے والے لاتعداد بے لوث کارکنوں کے نام کہیں بھی درج ہونے سے رہ گئے۔

جدید تاریخ نویسی کے حوالے سے میری اپنی بھی یہ کوشش رہتی ہے، اور میں دوسرے قلمکاروں کو بھی اس بات کی ترغیب دیا کرتا ہوں، کہ معاشرے کے ان بظاہر معمولی نظر آنے والے (لیکن دراصل انتہائی اہم) کرداروں کے حالات زندگی بھی ضرور قلمبند کیے جانے چاہییں، جو بلا واسطہ یا بالواسطہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں، جن میں ہم میں سے ہر کسی کو عقل و شعور کی ابتدائی منازل طئے کرانے والے بزرگوں، ہماری نانیوں، دادیوں، ناناؤں اور داداؤں سے لیکر، ہمارے گاؤں کے اساتذہ تک!

چھوٹے قصبوں کی مساجد کے اماموں سے لیکر، محلے یا گاؤں کی سطح تک چھوٹے پیمانے پر ہی سہی، خدمت خلق انجام دینے والے سماجی کارکنوں تک، رمضان المبارک میں سحری کے لیے جگانے والے کرداروں سے لیکر، گلی کوچوں میں بظاہر مست ملنگ نظر آنے والے، لیکن لوگوں کو حکمت کے نکتے بتانے والوں تک، گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے والے بزرگوں سے لیکر، کھوجیوں، مالیوں اور پہریداروں تک جیسے کرداروں کے حالات زندگی (مختصر ہی سہی) رقم کرنے سے ہی کسی معاشرے کی تاریخ کا مکمل ادراک ممکن ہو سکے گا، کیونکہ معاشرے صرف عظیم دانشوروں، سیاستدانون اور مفکروں کی فکر ہی سے نہیں بنتے، بلکہ ان کے پیچھے چلنے والے قافلے کے ایک ایک فرد کا اس ضمن میں کردار ہوا کرتا ہے۔

اس سلسلۂ نوشت کے تحت بھی میری کوشش رہتی ہے کہ آپ کی ملاقات صاحبان شہرت، معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ ایسے کرداروں سے بھی کراؤں، جن کی خدمات کے حوالے سے بیشتر لوگ لاعلم ہوتے ہیں، مگر ان شخصیات کی خدمات سے معاشرے پرمثبت اثرات مرتب ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا شمار بھی بجا طور پر ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اس معاشرے کی مثبت تشکیل میں اپنا فرض نبھایا۔ ایسی ہی ایک اہم شخصیت اور معاشرے کے ایک اہم اور ذمہ دار فرد سے آج آپ کا تعارف کرانا مقصود ہے۔

آج میں سندھ کے ذیلی حصے (لاڑ) کے ضلع ٹھٹہ کے ایک چھوٹے سے قصبے ”دڑو“ کا ذکر کرنے والا ہوں، جو زیادہ معروف نہ ہونے کے باوجود بھی ادیبوں اور دانشوروں کا شہر رہا ہے۔ یہ ذکر رہے اس شہر کے ایک نیک مرد، غلام مصطفیٰ عباسی کا، جو تقسیم ہند سے 9 برس قبل، 1938 ء میں دڑو کے ایک متوسط طبقے سے متعلق خانوادے میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل چونکہ برصغیر ہندوپاک میں بہت کم تعلیمی ادارے تھے اور تعلیم کا حصول ایک بہت مشکل امر تھا، اس لیے بیشتر والدین اپنے بچوں کو اس دور میں مروج ورنیکیولر فائنل یا پھر میٹرک کا امتحان پاس کروانے کے بعد کسی کاروبار میں لگا دیتے تھے، کیونکہ سب والدین کے لیے بچوں کو علی گڑھ یا جونا گڑھ بھجوانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔

یا پھر سندھ میں بھی سندھ مدرستہ الاسلام کراچی اور مسلم مدرسہ ڈبرو، نوشہروفیروز جیسے انتہائی چند گنے چنے تعلیمی ادارے تھے، جہاں ے دور دراز سے طالب العلم، تعلیم کے حصول کے لیے آیا کرتے تھے۔ تعلیمی حصول کے حوالے سے اس قدر مشکل دور میں عباسی صاحب کے والدین نے انہیں پڑھایا لکھایا۔ میٹرک کرنے کے بعد غلام مصطفیٰ عباسی، نور محمد ہائی اسکول حیدرآباد میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے ہائر سیکنڈری کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔

وہ لڑکپن ہی سے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں بالخصوص کھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور والی بال کے بہت اچھے کھلاڑی تھے، اسی وجہ سے وہ فرسٹ ییئر کے دوران نور محمد ہائی اسکول کی والی بال ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ گوکہ غلام مصطفیٰ عباسی انٹرمیڈیٹ کے بعد ’دڑو‘ واپس آکر ’سنار‘ (گولڈ سمتھ) کی حیثیت سے اپنے کاروبار کا آغاز کر کے محنت مزدری میں مصروف ہو گئے، جو کام انہوں نے پیشہ ورانہ طور پر حیدرآباد سے سیکھا، مگر علم و ادب سے محبت اور خدمت خلق کا جذبہ ان میں تا دم مرگ بدرجۂ اتم موجود رہا۔

اسی جذبے کے تحت آپ نے 1955 ء میں دڑو شہر میں اپنی ذاتی کوششوں سے ”عباسی لائبرری“ کے نام سے ایک کتب خانہ قائم کیا، جب ان کی اپنی عمر محض 17 برس تھی، جو آج بھی قائم ہے اور نئی نسل میں علم و ادب کا شعور بیدار کرنے کا باعث ہے، جس میں تاریخ سندھ، تاریخ اسلام، منطق، فلسفے، فقہہ، حدیث اور جغرافیے سمیت دیگر کئی موضوعات پر لاتعداد کتب موجود ہیں۔

خدمت خلق کے فطری جذبے سے سرشار غلام مصطفیٰ عباسی، ہمہ وقت ہر کسی کی مالی، اخلاقی اور ذاتی، ہر انداز میں خدمت کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ایسے لاتعداد لوگ تھے اور ہیں، جن کی رہنمائی اور مالی معاونت کے حوالے سے عباسی صاحب برسہا برس اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ انسان دوستی کے اعلیٰ اوصاف سے مالامال، یہ توکلی اور درویش صفت شخص، بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب، تمام انسانوں سے مساوی محبت کے نہ صرف حامی و قائل تھے، بلکہ اس کے عملی اظہار کی روشن مثال بھی تھے۔

ہمیشہ مسکرا کر سب کا خیر مقدم کرنے والے یہ عظیم انسان، لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کو جواں مردی سے جینے کا درس دیا کرتے تھے۔ ان کے چہرے کا اطمینان ان سے اللہ کی رضا کی واضح طور پر نشاندہی کرتا تھا۔ دوسری جانب پیشہ ورانہ حوالے سے دیکھا جائے تو وہ اپنے ہنر میں اس قدر مہارت رکھتے تھے کہ ٹھٹہ ضلع سمیت مختلف اضلاع اور شہروں سے لوگ ان سے زیورات بنوانے کے لیے آتے تھے۔ وہ اپنے کام کے یکتہ ماہر کاریگر تھے۔ انہوں نے اپنے اس شعبے میں اپنے خاندان کے افراد سمیت کئی شاگرد بھی پیدا کیے۔

غلام مصطفیٰ عباسی، تین برس قبل 5 فروری 2017 ء کو ہم سے بچھڑ کر، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ غلام مصطفیٰ عباسی کو پانچ بیٹیوں کی اولاد ہوئی، جن سے انہیں صالح نواسے نواسیوں کا خزانہ بھی عطا ہوا۔ مگر ان کے علاوہ ان کے لاتعداد شاگردوں کی صورت میں جو ان کو اولاد نصیب ہوئی، وہ ان کے کام اور کردار کی روشنی کو تادیر اور تادور پھیلاتی رہے گی۔ اللہ پاک، غلام مصطفیٰ عباسی کی روح کو مستقل طور پر جنت کا قیامی کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔ (آمین! )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply