مولوی حاجی احمد ملاح: قرآن مجید کے منظوم سندھی مترجم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھی ادب کا ”سنہرا دور“ تو کلہوڑا دور حکومت ( 1719 ء تا 1788 ء) کو کہا جاتا ہے، لیکن ”سومرا دور حکومت“ ( 1050 ء تا 1351 ء) وہ اہم ترین دور ہے، جو سندھی زبان کے تحریری ادب کا نقطۂ آغاز ہے، جہاں سے ہمیں سندھی زبان میں تحریری ادب کی اولین نشانیاں ملتی ہیں۔ البتہ صدری ذرائع سے سندھی ادب، نثر خواہ نظم میں اس سے بھی قدیم ہے۔ سومرا دور حکومت اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس دور میں قرآن پاک کا مکمل سندھی ترجمہ ہوا تھا اور دستیاب تواریخ کے مطابق، قرآن پاک کا دنیا کی کسی بھی زبان میں یہ پہلا ترجمہ تھا۔

بزرگ بن شہریار الرامہرمزی نے اپنی تصنیف ”عجائب الہند“ میں تحریر کیا ہے :

”دنیا کی دیگر تمام زبانوں سے پہلے، قرآن مجید کا ترجمہ سندھی زبان میں ہوا، جو مہروک بن رائق راجا کی درخواست پر، منصورہ (سندھ) کے عرب حکمران، عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر ایک عراقی عالم نے کیا، وہ عراقی عالم سندھ میں رہ کر، سندھی زبان کو بہت اچھی طرح سیکھ چکا تھا۔ اس ترجمے کا راجا مہروک پر اس قدر گہرا اثر ہوا، کہ وہ سورة یٰسین کی ایک آیت“ وضرب لنا مثلاً ونسی خلقہ ۖ قال من یحیی العظام وھی رمیمٌ ”کا سندھی میں ترجمہ اور تفسیر سن کر، تخت سے اتر کر زمین پر آ کر بیٹھ گیا اور خدا کے عشق اور خوف میں اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے لگا۔“

یہی بات سندھ کے معروف اور منجھے ہوئے محقق، عالم و تاریخ نویس، ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی نے، اپنے تحقیقی مقالے بعنوان: ”سندھ۔ سیاحوں کی نظر میں“ میں کم و بیش انہی الفاظ میں تحریر کی ہے۔ وہ رقم طراز ہیں : (ترجمہ)

” 280 ہجری میں سندھ کے مہروک نامی ایک راجا نے، عبداللہ بن عمر ہباری، والیٔ منصورہ کو لکھ بھیجا کہ مذہب اسلام کے عقائد اور تعلیم پر سندھی زبان میں ایک کتاب تصنیف کروائے۔ عبداللہ ہباری نے، ہندو راجا کے لیے اسلامی عقائد پر ایک عراقی عالم سے (جو بے حد ذہین اور داناء تھا۔ جو اصل میں تو عراق کا باشندہ تھا، لیکن اسے سندھ میں رہتے ایک مدت گزر چکی تھی، جس وجہ سے سندھی زبان خواہ دیگر مقامی زبانوں میں اسے کمال حاصل ہو چکا تھا۔

) سندھی نظم میں ایک کتاب تصنیف کروائی اور راجا مہروک بھیجی۔ راجا، وہ کتاب پڑھ کر نہ صرف اسلام سے متاثر ہوا، بلکہ اس کے مصنف کے علمی مرتبے کا بھی اس پر اس قدر اثر ہوا کہ راجا نے عبداللہ کو لکھ بھیجا کہ وہ اس مصنف کو اس کے دربار میں بھیجے۔ وہ شاعر اس کے پاس تین برس رہا۔ 273 ہجری میں جب وہ شاعر دوباہ عبداللہ بن عمر ہباری سے ملا، تو اس نے اسے بتایا کہ“ راجا دل میں مسلمان ہو چکا ہے، مگر مخالفت کے خوف سے ظاہر نہیں کر کے دے رہا۔

”اسی شاعر نے راجا کی فرمائش پر کلام مجید کا بھی سندھی میں ترجمہ کیا، جس کو راجا روزانہ بلا ناغہ سنا کرتا تھا۔ ایک دفعہ سورة الیٰسین کی ایک آیت کا جب اسے سندھی ترجمہ سنایا گیا، تب راجا فوراً تخت سے اتر آیا اور دوبارہ ترجمہ سن کر دو تین قدم آگے بڑھ کر، زمین پر سجدے میں گر گیا، اور سجدے کے دوران اتنا رویا کہ اس کے گال تک گیلی مٹی میں بھر گئے۔ کافی دیر بعد جب وہ سجدے سے اٹھا، تب بہ آواز بلند بے اختیار اس کی زبان سے نکلا:“ بیشک وہی رب، معبود ہے، جو ازلی و ابدی ہے۔

”اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں کے دور میں سندھ کے ہندوؤں کی زبان سندھی تھی۔ انہیں سندھی زبان لکھنا پڑھنا بھی آتی تھی۔ کلام پاک کے ترجمے پر یہ پہلی کتاب سندھی میں تصنیف ہوئی۔ نظم کی بھی یہی سندھی میں پہلی کتاب ہے۔ سندھی زبان آج سے 11 سو برس پہلے بھی اتنی ہی آسان اور علمی تھی، کہ بیرونی نسل کے لوگ بھی اس کو پسند کر کے اس میں اتنا کمال حاصل کر لیتے تھے کہ بلا جھجک اس میں نظم اور نثر لکھ لیتے تھے۔“

یہ بھی روایت ہے کہ قرآن پاک کے دیگر زبانوں کے ترجمے کی ”جائزیت“ کا فتویٰ، حضرت امام ابو حنیفہ نے دیا تھا، جن کے اجداد سندھی یا قدیم سندھ کے خطے سے متعلق تھے۔

کلام مجید کے تراجم کے حوالے سے سندھی زبان کو نہ صرف یہ عظیم اعزاز حاصل ہے، کہ اس میں قرآن پاک کا پہلا منثور ترجمہ ہوا، بلکہ بیسویں صدی میں یہ پھر وہی سندھی زبان تھی، جس میں اس کا مکمل (الحمد تا والناس) منظوم ترجمہ ہوا، یعنی شاعری کی زبان میں اگر فرقان حمید کا مکمل ترجمہ اب تک کسی زبان میں ہوا ہے، تو وہ واحد زبان سندھی ہی ہے۔ جو اس زبان کا ایک عظیم المرتبت اعزاز و افتخار و طرۂ امتیاز ہے۔ اور یہ اعزاز سندھی کے جس عظیم شاعر و عالم کے حصے میں آیا، وہ خوشقسمت، ذیلی سندھ کے علاقے (جسے یہاں کے مقامی باشندے ”لاڑ“ کا علاقہ کہتے ہیں ) کے جائے، مولوی حاجی احمد ملاح ( 1877 ء۔ 1969 ء) تھے۔

سندھ کے اس معروف و قادرالکلام صاحب دیوان شاعر، ادیب، عالم دین، انقلابی اور کلام پاک کے منظوم سندھی مترجم، مولوی حاجی احمد ملاح کا پیدائشی نام ”احمد“ تھا، جبکہ ان کے والد صاحب کا نام ”نانگو ملاح“ تھا۔ وہ یکم فروری 1877 ء کو سندھ کے ضلع بدین کی دیہہ ”لونہنڑ“ کے ”کنڈی“ نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔

مولوی حاجی احمد ملاح نے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل، بدین کے مختلف علاقوں، بشمول، بھگڑا میمڻ، بہڈمی، نانگو شاہ اور سجاول کے مکاتب اور مدارس میں مکمل کیے۔ بعد ازاں ”رپ“ سے اپنی تعلیم مکمل کر کے دستاربندی کروائی۔ تکمیل تعلیم کے بعد مولوی صاحب نے مختلف مکاتب اور مدارس میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ نورمحمد میندھرو، لاکھو پیر، بہڈمی اور کنڈی کے مدارس میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد بدین کے ”مدرسۂ مظہرالعلوم“ میں معلم کی حیثیت سے پڑھاتے رہے۔

1932 ء کے قریب، بوجہ مذہبی فرقہ واریت اور فسادات، انہوں نے اس مدرسے کو خیرباد کہا اور بدین کے ایک علاقے میں اپنا اکیلا گھر تعمیر کر کے، ”غریب آباد“ محلے کی بنیاد رکھی، اور وہیں ”انوارالعلوم“ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا، جہاں سندھ کے نامور علماء کو معلم (استاد) مقرر کیا، جن میں مولانا عبدالوہاب، مولانا عبدالغفور سیتائی، مولوی محمود، مولوی گل محمد وغیرہ شامل ہیں۔

مولوی ملاح صاحب ایک سچے انقلابی تھے، جنہوں نے ”خلافت تحریک“ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کی پاداش میں انہیں 1922 ء میں 4 ماہ کے لیے پابند سلاسل بھی رہنا پڑا۔ وہ ”جمیعت علمائے سندھ“ کے بھی سرگرم کارکن رہے۔ مولوی حاجی احمد ملاح کا شمار سندھ کے بلند پایہ شعراء میں کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری سلاست سے بھرپور اور عوامی ہے، جس کو سندھ کے طول و عرض میں گایا بھی جاتا ہے۔ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ، مذہبی شاعری پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ ان کی شاعری میں مزاح، جمالیات اور انقلاب کا پہلو بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

”تجنیس حرفی“ کی صنعت کا استعمال جس کمال کے ساتھ مولوی صاحب کرتے ہیں، اس کی مثال کم شعراء کے وہاں نظر آتی ہے۔ اظہار کے لحاظ سے غزل ایسی صنف ہے، جس پر ملاح صاحب کو مکمل عبور حاصل تھا۔ مولوی صاحب کئی کتب کے مصنف ہیں۔ ان کی شاعری کے مجموعہ جات میں ”دیوان احمد“ ، ”گلشن احمد“ ، ”گلزار احمد“ ، ”بیاض احمد“ ، ”ہیکڑائیٔ حق“ ، ”پیغام احمد“ اور ”غزلیات احمد“ شامل ہیں۔ انہوں نے نثر میں بھی ایک کتاب، بعنوان ”معرفة الا الہ“ تحریر کی ہے۔

مگر ان کی زندگی کا سب سے بڑا کار ہائے نمایاں، مکمل قرآن پاک کا سندھی ابیات کی صنف میں ترجمہ ہے، جو ”نورالقرآن“ کے نام سے بیشمار مرتبہ شائع ہو چکا ہے اور ہوتا رہتا ہے۔ ان کے اس کارنامے سے سندھی زبان و ادب کو پوری دنیا میں ممتاز مقام حاصل ہوا۔ ان کا کیا ہوا یہ منظوم ترجمہ، تمام دنیا میں کلام اللہ کا پہلا اور واحد منظوم ترجمہ ہے۔ ”نورالقرآن“ کا پہلا ایڈیشن، ارباب اللہ جڑیو نے مولانا صاحب کی زندگی ہی میں ( 1969 ء میں ) شایع کروایا۔

اس ترجمے کی دوسری اشاعت، ان کی وفات کے 9 برس بعد، 1978 ء میں، مہران آرٹس کونسل حیدرآباد کی جانب سے طبع ہوئی، جس میں سندھ کے جید عالم، علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی کا مقدمہ، اعلیٰ معیار کا شاہکار ہے۔ قرآن پاک کے اس ترجمے کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے، کچھ برس قبل اسے حکومت سعودی عرب کی جانب سے شائع کروا کے دنیا بھر کے سندھی پڑھنے والوں میں مفت تقسیم کیا گیا۔

سندھ کے اس بے نظیر و ممتاز شاعر، مولوی حاجی احمد ملاح نے، کم و بیش نصف صدی قبل، 19 جولائی 1969 ء کو سول ہسپتال بدین میں اپنی آخری سانسیں لیں اور اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں بدین میں ”معصوموں کے قبرستان“ نامی، اپنے آبائی شہر خموشاں میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی شخصیت، حیات و علمی خدمات پر تاج جویو نے ”موحد شاعر۔ مولانا حاجی احمد ملاح“ کے عنوان سے ایک کتاب 2003 ء میں ترتیب دی اور شائع کروائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *