نانی کی داستان گوئی اور کھوئی والی گل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کمیپیوٹر پر اپنے پسندیدہ پرانے گانوں کی پلے لسٹ لگا کر میں نے کرسی کا رخ کھڑکی کی طرف کر لیا۔ شام کے دھندلکے میں برف سے ڈھکی سڑک۔ سڑک کے پار تالاب۔ ارد گرد گھومتی پگڈنڈی۔ ٹنڈ منڈ پودے موٹی برف کی تہہ میں دبے ہوئے اور گرتے ہوئے برف کے گالے عجب بہار دے رہے تھے۔ برف باری بوندا باندی میں بدل گئی۔ سڑک پر لگے اونچے کھمبے پر بلب روشن ہوگیا۔ گرتے ہوئے چمکتے موتی لگنے لگے۔ اور اچانک کانوں میں سریندر کور کی آواز گونجنے لگی۔ ۔ ۔ سڑکے سڑکے جاندیئے مٹیارے نی۔ ۔ ۔ پیار کی کہانی سناتے پرانے گیت۔ گرم کمرے میں بیٹھے باہر بچھی برف کا جادو۔ ذہن کو کھنگالنے لگا۔ کھوئی والی گل سنا بانکئے نارے نی۔ ۔ ۔ کھوئی والی گل۔ کھوئی والی گل۔ ۔ ۔ کھوئی والی گل۔ میں بہت دور پہنچ گیا۔

انیس سو تریسٹھ کی سردیوں کی ایک شام بو ندا باندی بلب کی روشنی میں موتی بنتی نظر آ رہی تھی۔ پیپلز کالونی فیصل آباد گھر کے کمرے میں نیا نیا پاکستان میں متعارف شدہ ٹرانزسٹر ریڈیو سن رہا تھا۔ ریڈیو جالندھر سے سریندر کور کا گیت۔ ماواں دھیاں ملن لگیاں۔ چاروں کندھاں نے چوبارے دیاں ہلیاں۔ سر بکھیرنے لگا۔ میں ریڈیو اٹھا کے دوسرے کمرے میں لے آیا جہاں میری بڑی تین بہنیں۔ میری خالہ اور والدہ کے ساتھ میری نانی کے بستر کے گرد بیٹھی تھیں۔

میری والدہ اپنی ماں کو پنڈی بھٹیاں سے آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے لائی ہوئی تھیں۔ نانی۔ ست بھرائی۔ جسے سب بے بے کہتے تھے۔ آنکھوں سے معذور۔ چلنے سے لاچار۔ عمر اسی کی دہائی میں سوکھ کر کانٹا۔ گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھی تھیں۔ کوئلوں کی جلتی انگیٹھی اور چلتے ڈرائی فروٹ کے اس ماحول میں بیٹی کی وداعی کا گیت گونج رہا تھا۔ ”ڈوئی۔ بابل تیرے محلاں وچوں۔ تیری لاڈو پردیسن ہوئی۔“ سب رو رہی تھیں۔ ماحول افسردہ ہو گیا تھا۔

گانا بدل گیا۔ ”سڑکے سڑکے جاندیئے مٹیارے نی۔“ چہروں کی افسردگی کم ہونا شروع ہوئی۔ میری نظر بے بے پر پڑی۔ دھنسی ہوئی بے نور آنکھوں نیچے لگے آنسوؤں کے قطرے کے ساتھ ان آنکھوں کی پتلیاں ہل رہی تھیں۔ جھریوں پڑے گال چمکنا شروع ہو گئے۔ گیت آگے بڑھتا ہوا سب کے موڈ خوشگوار کر رہا تھا۔ ”کھوئی والی گل سنا بانکئے نارے نی“ کی لے کے ساتھ میں نے دیکھا بے بے کے ہونٹ مسکراہٹ سے پھیل گئے۔ آنکھوں میں چمک آ گئی۔

” پانی دا گھٹ پیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھڑا میں تیرا بھن دیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ بے بے کے ہونٹ ہنسی میں تھے۔ بے آواز ہنسی۔ بوڑھی نانی ایک عجب سر خوشی کے عالم میں تھی۔ ۔ ۔ گانا ختم ہو چکا تھا مگر بے بے کی بے نور آنکھیں اور جھریوں بھرا چہرہ کسی بہت ہی خوش کن نظارے میں مصروف چمک رہے تھے۔

” بے بے ایہہ کھوئی والی کوئی خاص گل ایتھے وی اے۔ بے بے کی قصہ اے“ بے بے ہنس رہی تھیں۔ میری بہنیں میرے ساتھ شامل ہو گئی تھیں۔ ”بے بے یہ کہانی تو ہم سنیں گے۔ کیا ہوا تھا کہاں ہوا تھا۔ کب ہوا تھا“ بے بے کی ہنسی بڑھتی گئی۔ ہمارا اصرار بڑھتا گیا۔ آخر بے بے بولیں ”۔ وے پتر تے مڑ لو سنو۔ الپھوں بے ایہہ کہ۔ ۔ ۔“ ( مختصر یہ کہ ) اور ہم ایک لمبی کہانی سننے کو تیار ہو گئے۔ کہ یہ مختصر ہمیشہ ایسی ہوتی۔ اور یہ الف و ب کچھ یوں تھی۔

سن انیس سو سے چند برس پہلے کی بات ہوگی۔ جلال پور بھٹیاں کی دبنگ مٹیار ست بھرائی کی اپنے سے ایک دو برس چھوٹے پنڈی بھٹیاں کے ( رشتہ دار خاندان ہی کے ) جوان شیخ غلام محی الدین سے بات پکی ہو چکی تھی۔ ست بھرائی نے اپنے منگیتر کو دیکھا ہوا تھا مگر منگیتر اسے دیکھنے کے لئے دیوانہ تھا۔ گھوڑوں کی زینت کا سامان چمڑے کی کاٹھیاں۔ زین۔ لگام۔ رکاب وغیرہ اپنے گھوڑے پر لاد گاؤں گاؤں گھوم پھر بیچنا اس کا پیشہ تھا۔

جلال پور بھٹیاں کے کاروباری دورے کے دوران اپنے کسی ہمدرد رازدار سے پتہ چلا لیا کہ ستاں ( عرف عام ) کنویں پر کپڑے دھونے گئی ہے اور ساتھ پہچان بھی دے دی گئی۔ جناب گھوڑے کو پانی پلانے کے بہانے کنویں پہ جا پہنچے اور گوہر مقصود کے لئے نظریں گھمانا شروع کیں۔ لڑکیوں نے اجنبی جوان کو تانک جھانک کرتے دیکھا تو ہل چل ہونے لگی۔ ستؔاں کی بھی نظر پڑی۔ فوراً پہچان بھی گئی اور مقصد بھی سمجھ آ گیا۔ کہ مجنوں لیلی کے دیدار کو آیا ہے۔ شرارت سوجھی۔ کانا پھوسی ہوئی۔ کپڑے دھونے والے ڈنڈے پکڑے آگے آگے ستؔاں اور پیچھے سکھیاں طالب دیدار کی طرف بڑھیں اور اپنے زمانے کی وہ معروف و مقبول مغلظات اور پھلجھڑیاں بکھیرنا شروع کر دیں۔ جو ایسی حالت میں ہیرو کا مقدر بنتی ہیں۔ ۔ ۔ مشتاق دیدار نے فوری گھوڑے کی باگ پکڑ راہ فرار میں عافیت جانی۔

نانی ہنستی جاتی تھیں اور پوری روانی سے وہ تمام مکالمے اسی خوشی اور جوش سے ادا کرتی جا رہی تھیں۔ نانی اس وقت کوئی ستر سال قبل والی وہی مٹیار ستؔاں تھی جو اپنے محبوب اور ہونے والے شوہر کو ستانے کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ اور وہ ( ناگفتنی ) فقرات اور محاورے وہی اور اسی جوش و لہجہ میں تھے اور شاید تصور میں وہ جلال پور بھٹیاں کے اسی کنویں پر موجود اپنی سہیلیوں کے ساتھ پیار بھرے مصنوعی غصہ کے ساتھ اپنے محبوب کو دھمکانے کا لطف لے رہی تھیں۔ ۔ ۔ آخری فقرہ تھا ”اوہ تے کن ولیٹدا پاسے ہویا“ ( وہ تو کان لپیٹتا نکل لیا )

ہمارا معمول بن گیا۔ روزانہ رات کھانے کے بعد نانی کے بستر کے گرد محفل جمتی۔ ہم خاندان کے کسی بزرگ یا کسی واقعہ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ اور نانی کی شروع کردہ الپھوں بے ( الف و ب ) سے شروع کردہ داستان وقت گزرنے کا پتہ نہ چلنے دیتی۔ ہر چند روز بعد میں کھوئی والی گل کا ذکر چھیڑتا اور نانی ستر سال پہلے کی سکھیوں سنگ کنویں پر کپڑے دھوتی مٹیار بن جاتی۔ ایسے میں ان بے نور آنکھوں کی چمک۔ جھریوں بھرے چہرے پہ خوش کن یادوں کا تاثر بغیر دانت کے ہونٹوں کی ہنسی کے ساتھ حسین یادوں می کھوئی ہوئی نانی کا چہرہ آج بھی ”اکثر شب تنہائی میں۔ گزری ہوئی دلچسپیوں۔ اور عیش میں گزرے ان دنوں“ کی یاد کو گرما دیتا ہے

تین سال بعد بہار کے موسم میں نانی پھر میرے پاس تھیں۔ ہمارا معمول لوٹ آیا تھا۔ رات کو محفل جمتی۔ نئی کہانیاں سننے کو ملتیں۔ نانا مرحوم کے سفروں کی کہانیاں۔ ان کی سندھ میں ہاتھ سے لانڈھی بنانے کے قصے۔ وار برٹن علاقے کے ان کے دوست اور سابقہ معروف ڈکیت یا رسہ گیر بابا چاکری کی داستانیں۔ مزے تھے۔ مئی چھیاسٹھ کی ایک صبح میں دکان کے لئے تیار ہوکر ناشتہ کرنے جاتے برآمدہ میں نانی کی چارپائی کے پاس سے گزرا تو تیز سانسوں کی آواز غیر معمولی لگی۔

والدہ کو پاس بلایا۔ جا فیمل ڈاکٹر کو گھر سے اٹھا لایا۔ جس نے معائنہ کے بعد خدائی تقدیر کے بلاوے کے خطرے کی نشاندہی کی۔ ڈاکٹر کو واپس پہنچانے کے بعد آکر نانی کے پاس بیٹھ گیا۔ گھر کے تمام افراد جمع تھے۔ سانسیں زیادہ تیز ہو چکی تھیں۔ اچانک نہ جانے کیوں میں نے کہہ دیا۔ ”بے بے آج کھوئی والی گل نہیں سنانی۔“ اکھڑتی ہوئی سانسوں والی بے بے کے منہ پر رونق آ گئی۔ ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور دھنسی آنکھوں میں چمک۔ مگر الفاظ نہ ادا ہو سکے۔ میں دکان کی طرف بھاگا۔ ارجنٹ کال سے پنڈی بھٹیاں حالت نازک کا پیغام دے کر فون بند ہی کیا تھا۔ کہ دوبارہ گھر کے ہمسایوں سے کے فون سے پتہ چلا کہ خدا کے پاس پہنچ چکیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعوں۔ دوبارہ کال ملائی۔ اور گھر کو بھاگا۔ تمام افراد رو رہے تھے۔

میں نے دیکھا نانی کا چہرہ بشاش اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ جیسے وہ ڈنڈا اٹھائے باوا جی کی طرف بھاگی جا رہی ہو۔ ہاں۔ یقیناً اب کے باوا جی باہیں پھیلائے ان کے منتظر تھے۔ ۔ ۔

( اس کہانی کا کوئی کردار واقعہ زمانہ یا جگہ فرضی نہیں )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *