طالبان بیٹے کی ماں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ میرے آفس میں کام کرنے آیا تھا۔ لانبے قد کا دبلا پتلا خوبصورت سا لڑکا تھا وہ۔ عمر بائیس تیئس سال سے زیادہ نہیں رہی ہوگی۔ آفس میں اوپر کا کام کرنے کے لیے ایک پھرتیلے بندے کی ضرورت تھی، صفائی ستھرائی، کپڑا مارنے کے لیے، چائے بنانے کے لیے، باہر سے سموسے، جلیبی اورپھل لانے کے لیے اور اسی قسم کے دوسرے روزمرہ کے کام کرنے کے لیے، وہ پھرتیلا ہی ثابت ہوا تھا اور بہت پھرتی کے ساتھ اس نے ہم سب کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنالی تھی۔

میرا چھوٹا سا آفس تھا۔ ہم لوگ اکاؤنٹنگ کا کام کرتے تھے اور دس بارہ افراد پر مشتمل چھوٹے سے آفس میں اس قسم کے پھرتیلے بندے کی سخت ضرورت تھی۔ مگر کوئی ملتا ہی نہیں تھا جو ایماندار ملتا تو اس میں پھرتی نہیں تھی، جس میں پھرتی ہوتی وہ ایماندار نہیں ہوتا تھا۔ ایک دو بندے اسے ملے بھی جو ایماندار بھی تھے اوران میں پھرتی بھی تھی مگر حاضری اور غیرحاضری کے سلسلے میں ان کا کوئی حساب نہیں تھا، جب مرضی ہوتی آ جاتے اورکبھی رکتے تو ایسا رکتے کہ رات بھی آفس میں ہی گزاردیتے تھے۔

ایسے میں وحید فرشتے کی طرح قبول کر لیا گیا۔ وہ صبح سویرے آ جاتا اور ہم لوگوں کے آنے سے قبل آفس کو چمکادیتا تھا۔ کسی کام سے انکار کرنا اس کی سرشت میں ہی نہیں تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ اس وقت تک آفس نہیں چھوڑتا تھا جب تک ہم لوگ چلے نہیں جاتے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کا کوئی بھی انتظار کرنے والا نہیں ہے، مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھی اس نے آنے میں دیرکی ہو یا جانے میں جلدی کی ہو۔

یہ بات بالکل صحیح تھی وہ اکیلا ہی رہتا تھا۔ کراچی میں صفوراً گوٹھ میں کوئی مسجد تھی جہاں ایک کمرے میں وہ کسی کے ساتھ رہتا تھا۔ رہنے کے لیے وہ کوئی کرایہ نہیں دیتا تھا، صرف فجر کی نماز کے بعد نمازیوں کے رخصت ہونے کے ساتھ اسے پوری مسجد کی صفائی کرنا ہوتی تھی۔ یہ بات ایک دن اس نے باتوں باتوں میں بتائی تھی۔

پھر یہ ہوا کہ جون کے مہینے میں کلوزنگ کے وقت ہم لوگوں کو کام کے لیے اکثر رات میں دیر تک رکنا پڑرہا تھا، تو وحید بھی ہمارے لیے چائے کافی اورکھانے کے سلسلے میں رکا رہتا تھا۔ کتنی دفعہ ایسا ہوا، رات کافی گزرگئی اور میں نے اسے کہا کہ وہ آفس میں ہی رک جائے مگر مسجد کی صفائی کے کام کو وہ نہیں چھوڑسکتا تھا۔ ہم لوگوں کا آفس طار ق روڈ کے ساتھ ہی ایک گلی میں ایک پرانے سے بنگلے میں تھا۔ بنگلے کے مالک امریکا میں رہتے تھے اورہمیں یہ جگہ کافی سستے میں ملی ہوئی تھی اس شرط کے ساتھ کہ ہم مکان کا خیال رکھیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم لوگ اس مکان کا خیال بھی بہت رکھتے تھے۔

پی سی ایچ ایس، بہادرآباد، شرفہ آباد، محمد علی سوسائٹی کے علاقوں میں ایسے بے شمار مکانات تھے جن کے مالکان کا یا تو انتقال ہوگیا تھا یا وہ خود بھی اپنے بچوں کے پاس انگلینڈ امریکا جا کر رہنے لگے تھے۔ کچھ مکانوں پر کرایہ داروں نے قبضہ کر لیا تھا۔ کچھ عمارتیں مافیا کی سرپرستی میں متعلقہ سرکاری اداروں کے گٹھ جوڑ سے مالکان کے علم کے بغیر بیچ دی گئی تھیں، جن پر بلڈرز اپارٹمنٹ بنا کر غائب ہوگئے تھے۔ اپارٹمنٹ میں رہنے والوں کے پاس یہی حق ملکیت تھا کہ وہ وہاں رہتے تھے۔ کراچی کی ان اچھی اچھی بستیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا وہ شاید جبری آبروریزی کرنے والے مغویہ کے ساتھ بھی نہیں کرتے ہیں۔ انہیں یہ تو پتا ہوتا ہے کہ ان کا بلادکار کس نے کیا ہے اوران کا مالک کون ہے اور انہیں کس نے کس کے پاس پہنچایا ہے۔ کراچی کے بلڈرز تو ان سے بھی بدتر تھے۔

ایک دن نہ جانے کیوں میرے ذہن میں آیا کہ جتنا وقت وحید آفس میں گزارتا ہے اورجتنی محنت اورایمانداری سے وہ کام کرہا ہے اس کا تقاضا تو یہی ہونا چائیے کہ اسے رہنے کی جگہ دے دی جائے تاکہ وہ روزانہ کے آنے جانے کے مسئلے سے بچ جائے اور ہماری عمارت کی چوکیداری بھی ہوتی رہے۔

میں نے جب وحید سے کہا کہ وہ اس بنگلے میں موجود سرونٹ کوارٹرز میں جو خالی پڑا ہوا تھا جہاں ہم نے ایک طرح سے آفس کا کباڑ رکھا ہوا تھا کو صاف کرکے یہاں ہی رہے تو وہ فوراً ہی راضی ہوگیا تھا۔ کوڑا کباڑ صاف کرنے میں غریب کا پورا اتوار لگ گیا مگر یہ ہوا کہ اس نے اس جگہ کو اپنے رہنے کے قابل بنالیا تھا۔

دوسرے ہی دن وہ اپنے تھوڑے سے سامان کے ساتھ ہمارے آفس والے بنگلے میں شفٹ ہوگیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ مسجد کے امام صاحب اورانتظامیہ کے دوسرے افراد نہیں چاہتے تھے کہ وہ جائے مگر اس نے آفس میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اگر آفس مسجد کے قریب ہوتا تو میں مسجد کبھی بھی نہیں چھوڑتا۔ امام صاحب نے بڑے برے وقت میں میری مدد کی تھی، جب میں پنجاب سے بے یارومددگار کراچی پہنچا تا تھا۔

میں اس وقت بہت مصروف تھا لہٰذا بے یارومددگاری کی داستان نہیں سن سکا، میں نے سوچا کبھی موقع لگا تو ضرور پوچھوں گا۔

اس کے آفس میں منتقل ہوئے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے کہ میں نے دیکھا کہ فارغ اوقات میں وہ کچھ پڑھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس فالتو وقت کم ہی ہوتا تھا۔ دفتر کی صفائی، دو تین دفعہ چائے پلانا، کھانے کے وقت پر کھانے کا اہتمام کرنا اور وقت بے وقت آنے والے مہمانداروں کی مہمانداری کرنے کے سات ساتھ اس نے دفتر کے کارکنوں کی گاڑیوں کو دھونا اور صاف کرنا بھی شروع کر دیا تھا جس کے لیے اسے الگ سے کچھ پیسے مل جاتے تھے۔ یہ تمام کام کے باوجود میں نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل کچھ کتابیں پڑھ رہا ہوتا ہے۔

ایک دن شام کے وقت جب سب جاچکے تھے اورمیں فارغ تھا تو میں نے اس سے پوچھ لیا تھا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے؟

نویں اور دسویں جماعت کا اکٹھے امتحان دے رہا ہوں جناب۔ اس نے بتایا تھا۔

یہ آسان تو نہیں ہوگا، میں نے سوچا نویں دسویں جماعت میں جو کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے اس کا امتحان دینے کے لیے کچھ بنیادی تعلیم کی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کیوں کہ میرا خیال تھا کہ اس نے واجبی سی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔

ہوا یہ تھا کہ جب وہ نوکری کی تلاش میں آیا تھا تو میں نے اس سے کچھ خاص سوال و جواب نہیں کیے تھے۔ وہ نعیم کے ڈرائیور کے ساتھ آیا تھا، نعیم ہمارے ساتھ ہی آفس میں کام کرتے تھے اوران کا ڈرائیور صفوراً گوٹھ کی اس مسجد کے قریب میں رہتا تھا۔ مسجد میں ہی اس کی ملاقات وحید سے ہوئی تھی۔ اسے پتا تھا کہ ہم لوگ اوپر کے کام کے لیے کسی کو تلاش کر رہے ہیں اور وہ اسے لے کر آ گیا تھا۔ اس کا شناختی کارڈ دیکھ کر اور اس کی ایک کاپی رکھ کر اسے ملازمت دیدی گئی تھی۔ ہمیں بندے کی اتنی شدید ضرورت تھی کہ ہم لوگوں نے بہت سارے سوال وجواب نہیں کیے تھے۔

اس کی چال ڈھال، چلنا پھرنا، ملنا جلنا اور روزمرہ کے معمولات سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ اس نے کچھ بنیادی تعلیمات ضرور حاصل کی ہوں گی۔

میں نے جب اپنے تعجب کا اظہار کیا تو اس نے بتایا کہ وہ ملتان کے نواح میں واقع ایک مدرسے کا فارغ التحصیل ہے مگر اب وہ انگریزی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میٹرک کے بعد بی اے اور ایم اے اور اس سے بھی آگے پڑھنا چاہتا ہے، اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ صاحب اگرمیں ایم اے کرلوں تو آپ مجھے امریکا بھجوادیں، میں وہاں بھی پڑھوں گا۔

مجھے ہنسی آ گئی۔ امریکا جانا اتنا آسان تو نہیں ہے مگریار تمہاری شکل مدرسوں میں پڑھنے والوں جیسی نہیں ہے۔ نہ داڑھی نہ پگڑی اورنہ ہی بحث و مباحثہ۔ میں نے ہنستے ہوئے ہی پوچھا تھا۔

اس دفعہ اس کے ہنسنے کی باری تھی۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا صاحب داڑھی پگڑی سب کچھ گھر سے بھاگتے ہوئے گھر میں ہی چھوڑدیا تھا اوراب تو یہی لگن ہے کہ دوسری طرح کی تعلیم حاصل کروں۔

مگر تمہیں بھاگنے کی کیا ضرورت پڑگئی تھی۔
لمبی کہانی ہے صاحب جی کون گھر چھوڑ کر بھاگتا ہے۔ اس نے ایک سوال کے ساتھ جواب دیا تھا۔

مجھے پتا ہے گھر چھوڑنا آسان نہیں ہوتا ہے مگر میں نے سنا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے کہ بہت سے لوگ جو گھروں کو چھوڑ کر بھاگے انہوں نے دنیا میں بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ تم محنتی آدمی ہو، تم بھی بہت کچھ کروگے اوراب خاص طور پر جب تعلیم حاصل کر رہے ہو تو یقیناً اچھا ہی ہوگا تمہارے ساتھ۔ مگر ذرا بتاؤ تو سہی کہ ہوا کیا تھا۔

جو کچھ ہوا بہت جلدی جلدی ہوگیا۔ میں نے ایسا نہیں سوچا تھا مگر جب کچھ ہونا ہوتا ہے تو ہو ہی جاتا ہے۔ اس نے میرے ہمدردانہ رویئے کو دیکھتے ہوئے اپنی کہانی سنانی شروع کردی تھی۔ شاید اندر سے وہ بھی ہلکا ہونا چاہ رہا تھا۔

میرے والد مدرسے کے مہتمم اورمسجد کے امام ہیں۔ ہم نو بھائی بہن ہیں، پانچ بھائی اور چار بہنیں۔ چاروں بہنوں کی شادی ہوچکی ہے، وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ ہم بھائیوں نے بھی اپنے والد کے کہنے پر دینی تعلیم حاصل کرنی شروع کی تھی۔ میرے سب سے بڑے بھائی میرے والد کے نائب بھی ہیں اور مدرسے میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ مدرسہ اوراسکول کے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس سے چھوٹے دونوں بھائی افغانستان میں طالبان کے ساتھ جہاد کرنے چلے گئے تھے۔

جب تک طالبان کی حکومت تھی تب تک تو ان کی خبریں آتی تھیں، کبھی کبھار مجاہدین کے ہاتھوں افغانستان سے تحفے تحائف بھی آتے مگر طالبان کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ ہمیں پتا لگا تھا کہ وہ دونوں پہاڑوں میں جنگ کر رہے ہیں۔ ایک دن خبر آئی کہ ایک بھائی ڈرون حملے میں اپنے کمانڈر کے ساتھ موت کا شکار ہوگیا جب کہ دوسرے بھائی کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکاکہ وہ کہاں ہے، کیا کر رہا ہے، کیساہے، زندہ بھی ہے کہ نہیں۔

میری ماں اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہر وقت دروازے کی سمت دیکھتی رہتی ہے۔ پہلے بھائی کی شہادت کو اس نے قبول تو کر لیا ہے۔ نہ جانے کیوں اس کے بارے میں وہ ویسے ہی بات کرتی ہے جیسے وہ ایک دن دوسرے بھائی کو لے کر آ جائے گا۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ہروقت اپنے ان دونوں بھائیوں اور مدرسے کے دوسرے طالب علموں کے بارے میں سوچتے رہتے تھے جو نہ جانے افغانستان میں امریکی یا افغانی فوجوں کے ساتھ لڑرہے ہوں گے یا پھر وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہو رہی ہوگی اور ان میں سے کچھ خودکش بمبار بن کر اپنی جان دے چکے ہوں گے۔

ہمارے مدرسے میں بہت سارے غیرملکی بھی آتے جاتے رہتے تھے، عربی، شامی، افغانی، ازبک اور چیچن ان کے لیے طلباء کے رہائشی حصے میں علیحدہ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد اکثر و بیشتر جب وہ میرے والد کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے تو مجھے بھی ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا تھا۔ امریکیوں، انگریزوں، شیعوں اور احمدیوں کے بارے میں باتیں ہوتی رہتی تھیں کہ کس طرح سے یہ لوگ امریکیوں سے مل کر عالم اسلام کوبرباد کرنا چاہتے ہیں، ساری دنیا میں مسلمانوں کے ممالک پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں کو ان لوگوں سے لڑنا پڑے گا، ان کا خیال تھا کہ یہودی اور عیسائیوں نے ساری دنیا پر قبضہ کیا ہوا ہے اوراب ان کا حملہ مسلمانوں کی جانب ہے۔ جب تک عیسائیوں کے یورپ اورامریکا کو تباہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو۔ یہ کہہ کر وہ رک گیا مگر مجھے اپنی طرف مکمل طور پر متوجہ پا کر اس نے ایک گہری سانس لی اور دوبارہ بولنا شروع کر دیا تھا۔

مجھے بھی یقین تھا کہ جو کچھ میرے والد اورآنے والے عربی اور افغانی دوست کہتے ہیں بالکل صحیح کہتے ہیں مگر مجھے اپنی ماں اوربہنوں کے آنسو بھی پریشان کرتے رہتے تھے۔ ایسی بہت سی مائیں آتی تھیں جن کے بیٹے افغانستان کے جہاد میں کام آگئے تھے۔ وہ آکر ان کے بارے میں پوچھتی تھیں انہیں پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ ان کے بیٹے افغانستان چلے گئے ہیں اور وہاں ان کی جان بھی چلی گئی ہے اور ان کی قبروں کا نہ نام ونشان ہے اور نہ کوئی پتا ہے۔ وہ ان کے سامان، پرانے کپڑے لے کے چلی جاتی تھیں، ان کی قمیضوں، تولیوں، رومالوں کو سونگھتی، چومتی اپنے آنکھوں سے لگا کر روتی رہتی تھیں۔ یہ سب کچھ میں روز دیکھتا اور روز سنتا رہتا تھا۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ میرے والد کی سرگرمیاں بھی بڑھتی چلی گئی تھیں۔ رات کی تاریکیوں میں عربی اور افغانیوں کا آنا جانا بھی بڑھ گیا تھا۔ پھر ایک دن یہ ہوا کہ ہمارے مدرسے کے کچھ طالب علموں کو خودکش حملہ کرنے کے لیے چن لیا گیا۔ وہ سارے کے سارے غائب ہوگئے تھے۔ مجھے تو اتفاق سے پتا لگا کہ وہ لوگ وزیرستان تربیت لینے چلے گئے ہیں جس کے بعد انہیں مشن پر بھیج دیا جائے گا۔ میں اس وقت ا پنے والد صاحب کے کمرے میں تھا جب انہوں نے باہر سے آنے والے مہمانوں سے بات چیت کے بعد انہیں یقین دہانی کرائی کہ اللہ کے راستے پر قربان ہونے کے لیے ان کے پاس لوگ ہیں اور بے شمار ہیں۔

پھر یہ سلسلہ چل نکلا تھا۔ ہر تھوڑے دنوں کے بعد کوئی نہ کوئی طالب علم خود ہی غائب ہوجاتا۔ ان کے والدین پوچھنے آتے تو انہیں کہا جاتا کہ وہ جہاد میں چلا گیا ہے اور پھر اس کا پتا نہیں لگتا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ ملک میں ہونے والے کسی نہ کسی خودکش حملے میں ملوث ہوگا یا افغانستان میں امریکیوں سے لڑ کر شہید ہوگیا ہوگا۔

میں نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی افسردگی سی ہے۔ میں نے کہا یار ذرا چائے بھی پلاؤ اور خود بھی پیو اور یہ قصہ بھی جاری رکھو۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ تم کسی مدرسے سے آئے ہو اورتمہیں اتنا کچھ پتا ہے جس کا اندازہ ہم شہر میں رہنے والوں کو بالکل نہیں ہے۔ اس جنگ کے پیچھے اتنا درد ہے، اتنی تباہی ہے، انسانوں کی بربادی ہے۔

چائے جلدی ہی بن گئی تھی۔

پھر جی ایک دن ایسا ہوا کہ میرے والد نے مجھے بلا کر کہا کہ تمہارا بھی شہادت کا وقت آ گیا ہے تیاری کرلو۔ مجھے خود کش حملے کے لیے چن لیا گیا تھا۔ جہاد میری سمجھ میں تو آتا تھا مگر میں نے خود کشی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اس طرح سے جان دے دوں گا، کسی مسجد یا امام بارگاہ میں کسی سرکاری عمارت یا کسی ٹرین کے ڈبے میں، صرف یہ دکھانے کے لیے کہ طالبان بہت مضبوط ہیں۔

ان کے سامنے تو میں کچھ نہیں کہہ سکا مگراس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں خواب میں اپنے جسم کے ٹکڑوں کو پھٹتا ہوا دیکھ رہا تھا، پہلی دفعہ مجھے اپنے والد کا چہرہ ایک عجیب سا چہرہ لگا۔ جذبات سے عاری ان کی چوڑی پیشانی جس کے میں نے بے شمار بوسے لیے تھے، اس پر نفرت کی لکیریں تھیں، ان کے ہونٹ جنہوں نے مجھے چوما تھا لگا جیسے خون کے پیاسے ہیں، ان کا تو سب کچھ جنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ اپنے نظریے پر صاد ق تھے۔ ان کے لیے میں یا میرے جیسے دوسرے طالب علم صرف چلتے پھرتے انسان تھے، جنہیں امریکا اور انگریز کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ نفرت سے بھرا ہوا دل ان کے ذہن و دماغ پر حاوی تھا۔ وہ محبت کرنا بھول گئے تھے، اپنے بچے اوراپنے بیٹے کی محبت سے زیادہ طاقت ان کے نفرت میں تھی۔ اس نفرت نے ان کی محبت کو اسیر کر لیا تھا۔ وہ مجھے قتل کرنے کو تیار تھے۔

اس رات میں اپنی ماں کے گلے لگ کر رویا تھا، میں نے اسے کچھ نہیں بتایا مگر وہ سمجھ گئی تھیں، رات کی تاریکی میں انہوں نے میری پیشانی کو چوما تھا، میری آنکھوں کا بوسہ لیا تھا، مجھے گلے لگا کر گھر سے بھگا دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *