عورت سے بدسلوکی پر سماج معذرت خواہ بھی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لوگ کہتے ہیں کہ ان فیمینسٹوں نے طوفان مچایا ہوا ہے، ایسا کچھ ہے نہیں جس کا بھونچال مچے۔ سب تو ٹھیک ہے، ہر شے درست سمت پر گامزن ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف جرائم کیا ہوتے ہیں؟ جرائم تو جرائم ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ورنہ تشدد تو تشدد ہوتا ہے۔ ویسے تو تشدد بھی نہیں ہوتا، سب تقدیر کا لکھا ہوتا ہے۔ بیٹے یہاں قسمت خود بناتے ہیں تو بیٹیاں قسمت کا سمجھ کر چپ کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عورتیں آفت کی پرکالا بن کر چوراہے میں لٹکی لالٹین مانند روشن اقدار پر ٹوٹ پڑی ہیں۔

میں کہتی ہوں کہ وہ اقدار کیا ہیں جو مظلوم کو چپ سادھنے ہر مجبور کیے رکھیں۔ کہتے ہیں بس ان کو پیچ و خم کھانے کے سوا آتا کیا ہے؟ تشدد، ہراسانی، دھونس، جبر یہاں تک کہ قتل ہو جانے والی عورتیں جو مزاحمت پر اترتی ہیں کو انتہا پسندوں سے مستعار لے لیا جاتا ہے اور یہ فریضہ ظلم سے معذرت خواہ مرد و زن نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مطمئن روایت پسندوں کی تمنا ہے کہ تیزاب سے بدن جلائے، لباس کے چیتھڑے سنبھالتی عورت پرسکوں ہو کر اپنے مجرم کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے۔ ریپ پر لطائف اور جواز ڈھونڈنے والوں کے ساتھ شام کی چائے میں نشست رکھ کر مفاہمت کی جائے اور سب رنجشیں بھلا دی جائیں۔ یہ شور مچا کر، چیخ کر، مقدمہ بنا کر شرمندگی کے سوا حاصل ہی کیا ہوگا؟ معاشرے کی ٹھوکریں اور بے بسی کی دھول؟ اچھا نہیں کہ یا تو قرار سے مرتی رہیں یا زانی سے نکاح کر لیں۔ بات ختم معاملہ ہضم۔

میں کہتی ہوں کہ اتنا سب ہو جانے کے بعد اگر غصہ بھی نہ آئے تو آپ کہاں کے انسان ٹھہرے مگر سوال تو اپنی جگہ ساکت ہے کہ ایسا کیا ہوا ہے جو سماج طیش کھائے؟ سب عام سی تو بات ہے، پل دو پل کی۔ عورت کے ساتھ تو یہ کھیل تب سے جاری ہے جب سے انسان پیدا ہوا یہ کون سی اچنبھے کی بات ہوئی بھلا؟ بچپن میں کسی سگے نے کمرے میں زبردستی دھکیل کر ہوس کی پیاس بجھائی ہو یا سوتیلے باپ نے کم عمری کا فائدہ اٹھایا ہو، ایسی بھی کون سی بڑی بات ہے۔ عورت کو صبر کرنا چاہیے، یہی صفات اس کو بہتر عورت بناتی ہیں۔ یہ کیا تماشا ہوا کہ گلی گلی عزت لٹ جانے کا ڈھول پیٹا جائے؟

جب بچیاں اور لڑکیاں محرموں کے ہاتھوں نیست و نابود ہونا شروع ہوں تو محرم نا محرم، چادر چار دیواری، سات پردوں کا کوئی تک باقی نہیں رہتا۔ چیدہ چیدہ، جس کا جہاں داؤ لگتا ہے وہاں وہ خوب میدان مارتا ہے۔

مجھے بڑا مان تھا ہمارے سماج پر، شاندار روایات پر، عورت کی حرمت کرنے والے انسان پر۔ ”سڑک پر لڑکی جا رہی ہو تو اس کے کئی بھائی ہوا کرتے ہیں“ ، کچھ ایسی ہی دیو مالائی باتوں کی گونج میں پرورش پائی تھی مگر جوں جوں وقت گزرا، کچھ ہوش کے ناخن لئے تو کچھ علم کی بدولت سوچ سمجھ کے پر پرزے نکالے، ایک ایک کر کے قدرت الہی نے پردہ چاک کیا۔ کچھ دوسروں کے تجربات دیکھے کچھ اپنی ذات پر گھاؤ سہے۔ ہر زخم اپنا ہو یا پرایا اسے رستا دیکھا۔

عورت ہونے کی وجہ سے ہی یہ سب حادثات سے دوچار ہوا جاتا ہے جس کی چھاپ مرتے دم تک پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے وجود اور روح پر قائم و دائم رہتی ہے۔ کل شام کھانے میں کیا کھایا تھا تو یاد نہیں رہتا مگر تین سال قبل یونیورسٹی بس سے اترتے ہوئے سیاہ رنگ کی موٹر سائیکل پر دو لڑکوں نے کون سے الفاظ سے نوازا، وہ الفاظ جسم کے کس حصے بارے تھے کبھی نہیں بھولتا۔ مجھے واقعی میں نہیں یاد کہ یونیورسٹی کے آخری سمیسٹر میں کون کون سے مضامین شامل تھے مگر نو سال کی عمر میں عید الاضحی کے روز تیس بتیس سال کے آدمی نے موٹر سائیکل پر بیٹھے کیسے آنکھ ماری تھی آج تک یاد ہے۔

ایسے تو عورتوں کی زندگیاں ایسی انگنت انمٹ یادداشتوں سے لبریز رہتی ہیں، یہ کوئی انہونی بات ہے نہ ہی کوئی عجوبہ۔ کچھ تکالیف کی روداد بتا دی جاتی ہے تو کچھ ہمارے ساتھ مرتی ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ انسان تکلیف لے کر مر جائے وہ انسان تو مر جاتا ہے مگر اس کی اذیت ایک فرد سے دوسرے فرد میں منقل ہو جاتی ہے۔ قبرستان کیوں خوف ناک ہوا کرتے ہیں؟ کیونکہ وہاں انساں نہیں ان کے خوف دفن ہوتے ہیں۔ عورتوں کی قبروں میں وہ تمام تکالیف دفن ہو جاتی ہیں جن کو اس سماج نے سننے کی زحمت کی، کبھی سننا چاہا نہ اس تکلیف کو سمجھا۔ ایک نشست اپنی والدہ کے ساتھ رکھیں اور ان سے سوال کریں کہ ابا کے ساتھ، سسرال میں اور اس سے پہلے کیسی گزری؟

ہمارے یہاں جنسی تشدد یا ہراسانی کو لے کر کیا سوچ پائی جاتی ہے وہ تو ہر دوسرے روز سماجی روابط کے مچانوں پر دیکھنے کو مل جاتی ہے بالخصوص ریپ یا اغوا کی خبروں تلے۔ عمومی طور پر آنکھ چرانے اور الزام در الزام رویوں کو دیکھنے کے لئے سماجی رابطے کے منچ ضروری نہیں، اس معاشرے میں رہنے والی عورت کو بخوبی اندازہ ہے۔ عزت غیرت روایت حرمت تقدس اور خدا خوفی کے بہانے پر عورتوں کو دبایا تو جاتا ہے مگر ایک روز اپنی آنکھوں سے اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو بھی ملا جہاں قدم قدم پر روایت اور مذہب کا راگ الاپنے والوں کی چھاپ نمایاں تھی۔

انار کلی بازار میں غیر قانونی تجاوزات پر قائم ایک جینز ٹی شرٹ کا بازار ہے۔ اس جگہ کے قرب و جوار کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ وہاں کھلے عام مال دیواروں سے لٹکا ہوا ہوتا ہے، سب کھلے عام بکتا ہے یعنی ایسا کچھ نہیں کہ کوئی سنگین حرکت ہو تو کسی کو نظر نہ آئے۔

اس بازار سے ہمارا گزر ہوا جو انار کلی بس اسٹاپ کی طرف جاتا ہے۔ گرمیوں کی دوپہر تھی تو کوشش یہی رہی کہ جلد از جلد بس پکڑی جائے۔ گزرتے گزرتے میری آنکھ ایک سٹال نما دکان پر پڑی جہاں ایک کمزور، لاغر عورت بیٹھی تھی جس کا سر منڈا ہوا تھا اور دماغی توازن بگڑا۔ اس ہوش سے بے گانہ بے خبر عورت کے پہلو میں ایک نوجوان مرد بیٹھا اس کے زانوؤں کے وسط ہاتھ رکھے مسکرا رہا تھا۔ میں نے اس سے زیادہ دیکھا تھا مگر درست الفاظ نہیں مل رہے کہ بتا سکوں کیا دیکھا تھا۔

جہاں سینکڑوں آدمی حصول رزق حلال میں مگن تھے، وہاں کچھ پنہاں نہ تھا۔ اگر گزرنے والے راہگیر باآسانی دیکھ سکتے تھے تو آس پاس موجود حاجی صاحب، ملک صاحب شاہ صاحب، غیرت کے نام لیوا، عورت مارچ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے دیندار، عزت کے بچاری بھی یہ منظر دیکھ سکتے تھے مگر کسی کو کیا لینا دینا کہ کس عورت کی عصمت کب کہاں کیسے روند دی جائے۔ مذہب، عزت، روایات، مولوی، مولانا سب ڈھونگ ہے اور مفاد نوچنے کی جنگ۔

میرے قدم چلتے چلتے رک گئے، میں اور میری دو سہیلیاں پلٹ گئیں، اس سٹال نما دکان کے سامنے کھڑے باریش صاحب سے ہم نے شکایت کر ڈالی کہ حضرت آپ کا دکاندار اس عورت کے ساتھ بدفعلی کر رہا ہے اور اس بے گانہ عورت کو اس بات کا علم نہیں جس کا ذہنی توازن تک ٹھیک نہیں۔ حضرت نے کھڑے کھڑے ہمیں چلتا کیا اور ساتھ میں فرما دیا کہ آپ کو نہیں پتا، یہ عورت اللہ لوک ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ یہ اس کی دوست ہے۔ اسی اثنا میں تیس سے چالیس لوگوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا، جیسے سب ہی اس نوجوان کی حمایت میں اتر آئے ہوں۔ مرتی کیا نہ کرتی، ہجوم دیکھ کر خوف زدہ ہو گئیں اور نکل پڑیں۔ ہمیں اچھے سے ادراک تھا کہ وہاں کیا ہوا۔ دل دہل سا گیا تھا، میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن ہر اٹھتے قدم کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

عورت تو ویسے بھی پیر کی جوتی اور سامان ہوس ہوا کرتی ہے نا۔ کم عقل، نا سمجھ اور بے وقوف عورت کی کیا آزادی کیا حقوق۔ نام نہاد عزت بھی تو اپنی عورت کی ہوتی ہے جس پر جبر بھی اپنی بساط کے مطابق کیا جائے۔

میں نے ایک ادارے میں شکایت بھی کی تھی۔ وہ عورت انار کلی بازار میں بیگانہ بھٹکتی ہے۔ وہ کسی کی رفیقہ کیا اس کو تو اپنے ہونے کا گماں تک نہ ہوگا۔ اس کو کیا معلوم کوئی کسی کو ہاتھ لگانے کا حق نہیں رکھتا۔ بھرے بازار میں جہاں لوگ عورت کو عیب سے دیکھتے ہیں وہیں وہ لوگ اس بات پر متفق تھے کہ ایک پاگل بے بس عورت کا جسم ان کی ملکیت ہے۔

پھر کہتے ہیں کہ یہ عورتیں ہمارے خلاف کیوں ہیں؟ کہتے ہیں کہ ان کو غصہ کیوں آتا ہے؟ میں کہتی ہوں کہ آپ انسان ہونے کا دم بھرتے ہیں تو آپ کو ان مظالم پر غصہ کیوں نہیں آتا؟ بے لحاظ دلائل دے کر تخصیص کا مقدمہ جیتا نہیں جیتا۔ صرف ہمیں گالی دینے سے آپ کے دلوں میں بھڑکتی امتیاز کی آگ بجھ جائے گی؟ تو بجھا دیں۔ ظلم کرنے والوں کے حق میں کھڑے ہونے سے بہت درجہ بہتر ہے کہ گالی سن لی جائے اور غلط کو غلط گردانا جائے تب تک گردانا جائے جب تک غلط اپنی موت مر نہیں جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *