لاک ڈاؤن والے بارہ ہزار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عنایا نے گھر کے دروازے سے ہوتے ہی زور سے سلام کیا ہی تھا کہ اماں نے اسے زور سے گلے لگایا۔

ارے اماں رکیں باہر سے آئی ہوں ہاتھ منہ دھو کر آتی ہوں پتہ تو ہے آپ کو وبا کا۔ ارے بیٹی بھلا ہو اس موئی بلا کا اماں بلا نہیں وبا ہاں ہاں وہی وبا کا۔

ادھر آ تجھے ایک خوشی کی بات بتاؤں، ایساکیا ہوگیا اماں جو آپ اتنی خوش ہیں؟ بیٹا آج مجھے 12 ہزار ملے ہیں دیکھ میں نے ان میں سے کچھ پیسوں کے تیرے لیے برتن خریدے ہیں۔

12 ہزار کہاں سے ملے اماں اور کیوں؟ ارے وہی 12 ہزار جو سب کو مل رہے ہیں حکومت کی طرف سے۔

پر اماں آپ کو کیسے ملے یہ پیسے؟ ان پر تو ہمارا حق نہیں ان پر تو اماں جمیلا جو محلے کے آخر میں رہتی ہیں ان کا حق ہے۔

دیکھ عنایا تو یہ اپنی ہمدردیاں نہ مجھے مت دیکھایا کر ایک منٹ اماں ٹھہریں میں چنج کرکے آتی ہوں پھر بات کرتے ہیں اس پر۔

ہاں بیٹا جا آج میں خود اپنے ہاتھوں سے تیرے لیے چائے بناؤں گی میری بیٹی اتنی محنت کرتی ہے آفس میں۔
عنایہ ہاتھ منہ دھو کر آئی تو اماں چائے لے آئیں۔

یہ لے بیٹا چائے پی تو تجھے برتن دکھاتی ہوں اماں آپ برتن چھوڑیں یہ بتائیں کہ یہ پیسے ملے کیسے آپ کو میں نے یا بھائی نے تو آپ کا شناختی کارڈ نمبر میسج کیا ہی نہیں تھا؟

ایک تو بیٹا تو سوال بہت کرتی ہے ادے وہ برابر میں ہیں نہ بھابھی ریحانہ میں ان کی طرف گئی تھی کام سے تو انھوں نے بتایا کہ ان کو ملے ہیں تو ان کی بیٹی نے کہا خالہ لائیں آپ کا شناختی کارڈ نمبر بھی میسج کر دوں میں نے کہا بھی تھا کہ بیٹا ہمارے کہاں آئیں گے رہنے دو پر بچی نے میسج بھی کر دیا تو پیسے آگئے۔

اماں آپ کو کو پتہ ہے کہ یہ پیسے کہاں سے اور کیسے مل رہے ہیں؟ نہیں بیٹا میں نے تو کچھ نہیں پوچھا بس اتنا پتہ ہے کہ حکومت نے دیے ہیں اور پھر ہمارا کتنا نقصان ہوا ہے اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے۔

عنایہ نے حیرانی سے اپنی ماں کو دیکھا اور کہا اماں ہمارا کیا نقصان ہوا ہے؟

ہمارا تو کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے ابا کی راشن کی دکان ایک دن بھی بند نہیں ہوئی میں اور بھائی بھی اپنی اپنی نوکریاں کر رہے ہیں۔ نقصان تو ان کا ہوا ہے جو روز دہاڑی لگاتے ہیں یا روزانہ کوئی مزدوری کرتے ہیں اور یہ پیسے بھی ان ہی لوگوں کے لیے ہیں نہ کہ ہمارے اور آنٹی ریحانہ جیسے لوگوں کے لیے۔

آپ کو پتہ ہے یہ پیسے وزیرآعظم کی جیب سے نہیں آرہے جو ان پر ہمارا حق ہو یہ پیسے اس ٹیکس اور اس قرض سے آرہے ہیں جو عام آدمی دیتا ہے۔

پر بیٹا یہ لوگ ٹیکس کیا دیں گے یہ تو بجلی کے بل تک ادا نہیں کرتے۔ عنایہ نے مسکرا کر اماں کو دیکھا اور پوچھا کہ اماں آنٹی ریحانہ بجلی کا بل ادا کرتی ہیں؟

اور ویسے بھی اماں ٹیکس ہر شخص ادا کرتا ہے ہمارے پاس ماچس کی ڈبیہ پر بھی ٹیکس لگتا ہے۔

اماں پریشان ہوکر پر بیٹا یہ مسئلہ تو حکومت کا ہوا نہ کہ وہ دیکھے کہ پیسے کس کو کیسے دینے ہیں اب اگر حکومت خود دے رہی ہے تو کون انکار کرے گا لینے سے؟

اماں حکومت نے آج تک کوئی بھی فیصلہ صیحح کیا ہی کب ہے؟ وہ تو چرس پی کر نشے میں دھت ہے اسے صرف وہی نظر آتا ہے جس میں اس کا مفاد ہے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے یہ برتن کتنے کے لیے ہیں؟ 5000 کے۔

عنایہ نے کچھ سوچا اور کہا کہ اماں اٹھیں ماسک پہنیں میں سینیٹائزر نکالتی ہوں تب تک آپ برتن نکال کر لائیں اور باقی پیسے بھی تو چلتے ہیں۔ کہاں بیٹا؟

اماں جمیلہ کے گھر پر۔
پر بیٹا یہ برتن میں نے تیرے جہیز کے لیے لیے ہیں اماں نے اداسی سے کہا۔

اماں آپ نے مجھے تعلیم دلوائی ہے میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوں خود کماتی ہوں میرا یہی جہیز میرے لیے کافی ہے۔

اماں نے محبت سے عنایہ کو دیکھا اور کہا چل بیٹا جیسی تیری مرضی لاتی ہوں برتن بھی اور پیسے بھی۔
اماں اور عنایہ جیسے ہی اماں جمیلہ کے گھر پہنچیں تو دیکھا اماں جمیلہ پریشان بیٹھی ہیں۔

عنایہ اور اماں نے سلام کیا تو اماں جمیلہ نے اداس مسکراہٹ سے جواب دیا اور عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور پوچھا آج کیسے میری بیٹی کو یاد آ گئی ہماری ناجانے کہاں گم رہتی ہو بیٹا؟

سب خیریت ہے؟ عنایہ نے مسکرا کر کہا اماں بس کام اتنا بڑھ گیا ہے اور وبا کی وجہ سے بھی نکلنا نہیں ہوتا آپ سنائیں کیسی ہیں؟

اور صفیہ اور حرا کہاں ہیں؟
بیٹا صفیہ کھانا بنا رہی ہے اور حرا اندر پڑھ رہی ہے۔
عنایہ نے اماں جمیلہ ڈے پوچھا اماں کیوں پریشان ہیں؟
اماں جمیلہ نے کہا بس بیٹا کیا کروں تم تو جانتی ہو حالات کیسے ہیں۔
اماں جمیلہ خود کو مزید روک نہیں پائیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔
باپ سر پر ہے نہیں اور بیٹے اپنے گھروں کی ذمہ داری میں اتنے مصروف ہیں کہ سالوں سال آتے ہی نہیں ہیں۔

پہلے میں کام کر لیا کرتی تھی پر اب ہڈیوں میں جان نہیں ہے بچیاں کڑھائی وغیرہ کر لیتی ہیں پر ان سے بھی کہاں گزارا ہو پاتا ہے مہنگائی ہی اتنی ہے اور اب تو اس وبا کی وجہ سے لوگوں نے یہ کام بھی کروانا چھوڑ دیا ہے کوئی مشکل ہی سے آتا ہے۔

عنایہ نے اپنی اماں کی طرف دیکھا انھوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

عنایہ نے اماں جمیلہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کہا آج میں اور اماں آپ کے پاس اسی سلسلے میں آئے ہیں کیسا کام بیٹا اماں جمیلہ نے پوچھا۔

پہلے آپ صفیہ اور حرا کو بلائیں تو انھیں بھی بتاتی ہوں۔

اماں نے دونوں کو آواز دے کر بلایا تو عنایہ نے کہنا شروع کیا کہ اماں آپ تو جانتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب کاروبار سوائے راشن اور ضروری اشیا کے سب ہی بند ہیں۔

پر میرے پاس آپ کے مسئلے کا حل ہے۔
اماں نے خوشی سے پوچھا وہ کیا بیٹا؟

وہ یہ کہ میں آپ کو 7000 کا لون دلوا سکتی ہوں جس سے آپ نے گھر میں ایک چھوٹی سی راشن کی دکان شروع کرنی ہے، راشن کی دکان کوئی آکر بند بھی نہیں کروائے گا اور آپ آرام سے گھر ہی سے راشن دے سکتی ہیں باقی آپ کو ہول سیل کے حساب سے راشن ابا کی دکان سے مل جائے گا۔

بس آپ نے ہر مہینے صرف 500 روپے لون کی قسط دینی ہے اور جب 7000 پورے ہو جائیں گے تو آپ کو مزید کچھ نہیں دینا کاروبار اور پیسے آپ کے ہوں گے۔ آپ بتائیں آپ کیا کہتی ہیں؟

اماں نے خوشی سے عنایہ کو دیکھا اور کہا کہ بیٹا اگر ایسا ہو جائے تو اس سے اچھا کیا ہو سکتا ہے۔
یہ کام تو میں اور بچیاں آرام سے کر سکتے ہیں۔
لون کیسے ملے گا بیٹا اور اس کے لیے کیا ضمانت دینی ہوگی؟
عنایہ نے مسکرا کر اماں جمیلہ کو دیکھا اور کہا اماں اماں جمیلہ کے لون کے پیسے دیں۔
اور رہی ضمانت تو وہ ہے ایک کپ چائے۔ اماں جمیلہ نے خوشی سے عنایہ کو گلے لگایا اور خوب دعائیں دیں۔

اور ہاں اماں صفیہ کا رشتہ طے ہوا ہے اسی خوشی میں میں اس کے لیے گفٹ لائی ہوں جب اس کی شادی ہوگی تو اسے یہ دیجے گا۔

اماں جمیلہ نے عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی ضرورت ہے اماں صفیہ میری دوست ہی نہیں بہن بھی ہے۔

عنایہ نے اپنی امی کی طرف دیکھا اور پوچھا اماں چلیں کہا نہیں تھا کہ میری دوست اتنی سمجھدار ہوگئی ہے۔
پر بیٹا پیسے واپس لینے کی بات کیوں کی؟

عنایہ نے جواب دیا اماں اماں جمیلہ کے گھر سے پانچ گھر چھوڑ کر چاچا اشرف رہتے ہیں جو گدھا گاڑھا چلاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا سندھی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *