Clercs اور ’’جمہوریت کا وقت زوال‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسے قارئین کی کافی تعداد نے جو میرے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں ہفتے کے روز پیغامات بھیجے کہ دو سال گزرجانے کے بعد 25جولائی 2018کے انتخابات کو تجزیاتی انداز میں یاد کرلیا جائے۔ان کا حکم سر آنکھوں پر ۔ اس موضوع پر لکھنے بیٹھا ہوں تو ذہن میں محض چند واقعات فلمی مناظر کی طرح گھومنا شروع ہوگئے۔انہیں ہوبہو بیان کرنے کے لئے افسانہ نگاری کا طرز اختیار کرنا پڑے گا۔’’تجزیے‘‘ کی گنجائش نہیں رہے گی۔ویسے بھی دوبرس گزرچکے ہیں۔میرا ’’تجزیہ‘‘ ایک ہوچکے واقعہ کو بدل نہیں سکتا۔

دانش وری بگھارتے ہوئے اگرچہ ہم ’’تاریخ سے سبق سیکھنے‘‘کا ڈھونگ بھی رچاتے ہیں۔ عملی زندگی کے کئی برس گزاردینے کے بعد مگر سمجھ یہ آئی ہے کہ تاریخ سے ہرگز کوئی ’’سبق‘‘ نہیں سیکھا جاتا۔ہوتا وہی ہے جو زورآوروں کی طاقتِ کرشمہ ساز نے طے کررکھا ہوتا ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ کا ایک عام طالب علم ہوتے ہوئے مذکورہ انتخاب کے نتائج مجھے 2018کے آغاز ہی میں نظرآنا شروع ہوگئے تھے۔جناب ثاقب نثار صاحب نے عمران خان صاحب کو ’’صادق وامین‘‘ کی سند دے کر جو ’’تاریخ‘‘بنائی اس کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ اب انہیں ملک سنوارنے کا ایک موقعہ ضرور عطا ہونا چاہیے۔

شادی کا فیصلہ ہوجائے تو ’’رسمِ نکاح‘‘ کا دن بھی معین ہوتا ہے۔اس تناظر میں دیکھیں تو 25 جولائی 2018 کے روز عمران خان صاحب کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھانے کے لئے ’’رسم انتخاب‘‘ ہوئی۔نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس رسم نے ان کے ساتھ پنجابی زبان والا ’’دھرو‘‘ کیا۔وقتی سینہ کوبی کے بعدمگر وہ بالآخر اس روز طے ہوئے بندوبست کے شراکت دار ہوگئے۔

اس جماعت کے 85 افراد اس دن منتخب ہوئی قومی اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔جناب شہباز شریف صاحب ایوانِ زیریں کے قائدِ حزب اختلاف ہیں۔ 25جولائی 2018کے روز ہوئی ’’رسم انتخاب‘‘ کولہٰذا ہر اعتبار سے قبول کرلیا گیا ہے۔جن کے ساتھ مبینہ طورپر ’’دھرو‘‘ ہوااگر وہ اس سے گزارہ کرنے کو تیار ہیں تو دو ٹکے کا صحافی ہوتے ہوئے مجھے ’’تو کون؟میں خواہ مخواہ‘‘ کا کردار ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ویسے بھی ’’اوقات‘‘ میں رہنا سیکھ چکا ہوں اور گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے۔

دریں اثناء ایک کتاب آئی ہے۔نام ہے اس کا “Twilight of Democracy: The Seductive Lure of Authoritarianis ‘‘ میری دانست میں اُردو میں اسے:’’جمہوریت کا وقتِ زوال:آمرانہ نظام کی دل موہ کشش‘‘ کہا جاسکتا ہے۔اس کتاب کو پولینڈ میں کئی برس مقیم رہی نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار Anne Applebaum نے لکھا ہے۔اس کتاب کو ابھی تک پڑھا نہیں۔ہفتے کے روز کئی عالمی اخبارات میں اس پر لکھے تبصرے البتہ غور سے پڑھے ہیں۔

مصنفہ بذاتِ خود ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کی حامی رہی ہے۔ خود کو Conservative یا قدامت پرست کہتی ہے۔ یہ ’’قدامت پرستی‘‘ اگرچہ جمہوری نظام کی گرویدہ بھی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کی حامی ہے۔ریگن کی رہ نمائی میں سوویت یونین کے انہدام پر بہت شاداں رہی۔اسے گماں تھا کہ کمیونسٹ نظام کی شکست کے بعد دُنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کو فروغ ملے گا۔

ذہنِ انسانی ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کی بدولت طمانیت محسوس کرتے ہوئے تخلیقی ہونا شروع ہوجائیں گے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔پولینڈ میں سوشلزم تو نہیں لوٹا مگر کمیونسٹ دور سے وابستہ ریاستی جبر کا احیاء ہوگیا ہے۔ترکی میں ’’جمہوریت‘‘ ہی نے اردوان کو ’’سلطان‘‘بنایا۔ہمارے ہمسایے میں نریندر مودی کی ہندوانتہاپسندانہ فسطائیت آئی۔ ’’دُنیا کی سب سے طاقت ورجمہوریت‘‘ یعنی امریکہ کا صدر بھی اقتدار پر کامل اختیار کے حصول کے ہوس میں اپنے میڈیا کو ’’عوام کا دشمن‘‘ پکارتے ہوئے مذکورہ افراد کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضد میں مبتلا نظر آرہا ہے۔

اس کتاب کی مصنفہ مگر حالیہ برسوںمیں نمودار ہوئے ’’آمرانہ رویوں‘‘ کا فقط ٹرمپ جیسے افراد ہی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی۔ اس کا اصرار ہے کہ لوگوں کو ہر صورت اپنا مطیع اور فرماں بردار رکھنے کو مصر ٹرمپ اور اردوان جیسے حکمران درحقیقت ایک پیچیدہ عمل کی فطری پیداوار ہیں۔بے تحاشہ ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے مصنفہ نے دریافت کیا ہے کہ جدید دور کے متوسط شہری طبقات میں سب سے بااثر جوگروہ ہے اسے “Clercs” پکارا جاسکتا ہے۔یہ نیا لفظ اس نے Clerk یعنی دفتروں میں کام کرنے والے منشیوں اور Clergy یعنی پادری کے امتزاج سے ایجاد کیا ہے۔

مصنفہ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جدید دور میں لوگوں کی ذہن سازی میں یہ گروہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انٹرنیٹ اس گروہ کا اصل ہتھیار اور میدان ہے۔ کسی بھی ملک کا روایتی میڈیا اس گروہ کا بنیادی ہدف ہوتا ہے۔فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کے ذریعے یہ لوگوں کو یہ طے کرنے پر مجبور کردیتا ہے کہ روایتی صحافی ’’حقائق‘‘ بیان نہیں کرتے بلکہ انہیں عوام سے چھپانے میں حکمران اشرافیہ کے مددگار ہوتے ہیں۔یہ اپنے ملک میں جاری “System”یعنی نظام میں موجودخامیوں کو بے نقاب نہیں کرتے۔دریں اثناء کوئی ’’دیدئہ ور‘‘ پیدا ہوجاتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں کئی دہائیوں سے جمع ہوئے غصہ اور نفرت کو گج وج کے بیان کرنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں ’’چھاچھو‘‘ جاتا ہے۔

میں نے مذکورہ کتاب کے اقتباسات اور ان پر ہوئے تبصرے پڑھے تو 2011 یاد آگیا۔لاہور میں ایک جلسہ ہوا تھا۔اس جلسے کے بعد سوچ یہ پھیلی کہ 2008سے اقتدار میں ’’باریاں‘‘ لینے والے ’’موروثی سیاستدانوں‘‘ کا توڑ عمران خان صاحب کی صورت نمودار ہوگیا ہے۔اب ’’نیا پاکستان‘‘ بنے گا جہاں ’’میرٹ‘‘ کی حکمرانی ہوگی۔ ’’قوم کی دولت لوٹنے والے‘‘ چوکوں میں اُلٹے لٹکے اپنے منہ سے ’’حرام سے کمائے ڈالر‘‘ اُگلتے نظر آئیں گے۔ حکومت انہیں جمع کرکے غیر ملکی قرضے ادا کردے گی۔

امریکہ اور IMFجیسے سامراجی ممالک اور اداروں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ’’خودمختار‘‘ پالیسیاں بنائے گی۔قدرت نے پاکستان کو ہر طرح کے موسم اور وسائل سے مالا مال کررکھا ہے۔لوگ ہمارے دیندار اور محنتی ہیں۔انہیں ایمان دار قیادت مل گئی توترقی اور خوش حالی کا ایسا دور شروع ہوجائے گا کہ دنیا حیران ہوجائے گی۔خاص طورپر مسلم اُمہ ہماری نقالی کو مجبور ہوجائے گی۔

مجھ جیسے بے وقوفوں نے جب نہایت خلوص سے یہ التجا کرنے کی کوشش کی کہ سیاسی عمل اتنا سادہ نہیں ہوتا تو ہمیں ’’لفافہ صحافی‘‘ پکارا گیا۔ وہ لوگ خاص طورپر نشانہ بنے جن کی ذاتی زندگیاں نظر بظاہر مغرب کی ’’اسلام دشمن‘‘ ٹھہرائی ’’لبرل‘‘ روایات کی نقال ہیں۔ عمران خان صاحب کے ناقدین ’’وطن دشمن‘‘ بھی ٹھہرائے گئے ۔ ایسے ماحول میں ’’پانامہ‘‘ بھی ہوگیا۔ مزید خوش نصیبی یہ ہوئی کہ ہمیں جناب ثاقب نثاراور آصف سعید کھوسہ صاحب جیسے جی دار منصف بھی میسر ہوگئے۔

’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو ’’باریاں‘‘ دینے والے ’’سسٹم‘‘ کی تمام خامیاںجب عیاں ہوگئیں تو 25جولائی 2018کے روز ہوئی’’رسم‘‘ کا وہی نتیجہ سامنے آیا جو متوقع تھا۔گزرے سانپ کی لکیر کو پیٹنے سے اب کیا حاصل؟ لوگوں کے ذہنوں میں کئی برس کی جارحانہ مستقل مزاجی سے جو بویا گیا تھا اب اسی سے فیض یاب ہورہے ہیں۔لازم تھا کہ ہم اسے دیکھتے۔جولوگ اس منظر سے خوش نہیں ان کے دل کی بھڑاس نکالنے کو سوشل میڈیا موجود ہے۔جلے بھنے ٹویٹ لکھ کر مطمئن ہوجائیں۔ اس سے تسلی نہیں ہوتی تو یوٹیوب پر اپنا چینل بنالیں۔ اپنے سیل فون میں نصب کیمرے کے روبرو بیٹھ کر مجھ جیسے جاہلوں کو اپنے گرانقدر خیالات سے نوازیں۔اس ضمن میں اگرچہ ’’ریڈلائنز‘‘ کا احترام کرنا نہ بھولئے گا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply