سونو پنجابن: دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکیٹ کی سرغنہ جس نے جسم فروشی کو ’عوامی خدمت‘ قرار دیا

چنکی سنہا - صحافی، انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامتی تصویر

Getty Images
دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکیٹ کی سرغنہ سونو پنجابن (علامتی تصویر)

یہ تقریبا چھ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ وہ سردیوں کے دن تھے۔ دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کے بہادر گڑھ میں بس سے اترتے ہی 17 سالہ لڑکی نے سب سے پہلے نظر آنے والے ایک راہ گیر سے قریبی تھانے کا پتا پوچھا۔ سامنے ہی تھانہ نجف گڑھ تھا۔

نو فروری سنہ 2014 کی صبح وہ لڑکی تھانے میں موجود تھی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ روہتک کے راجپال نامی شخص کے پاس اس کے کچھ دستاویزات ہیں، پولیس انھیں وہ دستاویزات دلوا دے۔

انھوں نے اپنے سامنے بیٹھے پولیس والوں کو اپنے اوپر گزرنے والی ظلم و ستم کی ساری کہانی سنا دی کہ کیسے انھیں قید و بند، تشدد اور استحصال کا سامنا رہا۔ پولیس اہلکار اپنی ڈائری میں سب کچھ نوٹ کرتا رہا۔

اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے اس لڑکی نے سونو پنجابن کا نام لیا اور کہا کہ وہ بھی ان سے جسم فروشی کرانے والے لوگوں میں شامل تھیں۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی۔

ہریانہ پولیس جب یہ شکایت درج کر رہی تھی اس وقت دلی کی بدنام زمانہ سیکس ریکیٹ کی سرغنہ سونو پنجابن زیر حراست تھیں۔ کچھ مہینوں بعد سونو کا شکار رہنے والی وہ لڑکی غائب ہوگئی۔ لیکن سنہ 2017 میں بہت پراسرار طور پر وہ پھر سامنے آئی اور سونو پنجابن کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔

تین سال بعد دہلی کی ایک عدالت نے انھیں دوبارہ مجرم قرار دیا اور 24 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

وہ ایک عرصے سے پولیس سے بھاگ رہی تھیں اور ‘گھناؤنے جرائم’ کرنے والی خاتون مجرم کی گرفتاری شہ سرخیوں میں شائع ہوئی۔

سونو

BBC

خود کو ستم رسیدہ لڑکیوں کا ہمدرد بتاتی

جج کے مطابق وہ مہذب سماج میں رہنے کے قابل نہیں تھیں لیکن دہلی میں لڑکیوں کا ریکٹ چلانے والی اس ‘دلال’ نے ہمیشہ یہ دلیل دی کہ وہ ’ستم رسیدہ لڑکیوں کا سہارا رہی ہے۔’

سونو کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کا اپنے جسم پر حق ہے اور انھیں اسے فروخت کرنے کا حق ہے، وہ تو صرف اس کام میں مدد کر تی ہیں۔ ’آخر کار ہم سب بھی تو کچھ نہ کچھ بیچ رہے ہیں۔ اپنا ہنر، جسم، روح، پیار اور نہ جانے کیا کیا؟‘

لیکن اس بار ان کی خرید و فروخت کا شکار ایک نابالغ لڑکی تھی۔

سونو پنجابن کو جیل بھیجنے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج پریتم سنگھ نے کہا: ‘کسی عورت کی عزت اس کی روح کی طرح قیمتی ہے۔ مجرم گیتا اروڑا عرف سونو پنجابن عورت ہونے کی تمام حدیں توڑ چکی ہیں۔ قانون کے تحت وہ سخت سے سخت سزا دی کی حقدار ہیں۔’

نابالغ لڑکی کی شکایت پر گرفتاری

سونو پنجابن کے خلاف درج ایف آئی آر سنہ 2015 میں ہی کرائم برانچ بھیج دی گئی تھی لیکن سنہ 2017 میں جب کرائم برانچ کے ڈی سی پی بھیشم سنگھ نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا تو سنہ 2014 میں گاندھی نگر سے گھر چھوڑنے والی لڑکی کو تلاش کرنے کے لیے ایک ٹیم بنائی گئی کیونکہ تھانے میں شکایت درج کرانے کے بعد ہی لڑکی غائب ہوئی تھی۔ ان کے والد نے اس وقت لڑکی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں ایک اور رپورٹ لکھائی تھی۔

نومبر میں پولیس نے اس لڑکی کو یمنا وہار سے ڈھونڈ نکالا۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہیں مقیم تھی۔ اسی دوران سونو پنجابن سنہ 2014 میں ایک کیس میں ثبوت کی کمی کی وجہ سے چھوٹ چکی تھیں لیکن لڑکی کے ملتے ہی سونو کو 25 دسمبر سنہ 2017 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

سزا سنائے جانے کے دن سونو پنجابن نے ایک ساتھ بہت سی پین کلرو کھا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ انھیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔ چند گھنٹوں کے بعد ان کی حالت مستحکم ہوئی۔

بھیشم سنگھ نے کہا: ‘انھوں نے سخت سزا سے بچنے کے لیے یہ حرکت کی ہو کہ شاید جج کو قدرے ترس آجائے لیکن جج نے کوئی رحم نہیں کیا۔’

منشیات کے انجیکشن

کیس کی سماعت کے دوران جج نے کہا کہ سونو پنجابن نے متاثرہ بچی کے سینوں پر مرچ پاؤڈر ڈالا تھا تاکہ وہ اس کے قابو میں آجائے۔ اپنی گواہی میں لڑکی نے کہا کہ انھیں منشیات کے انجیکشن دیئے گئے تھے۔

بھیشم سنگھ نے کہا: ‘وہہ گائے اور بھینس میں دودھ اتارنے کے لیے دیا جانے والا انجیکشن تھا۔ یہ جسم کو جلدی تیار کر دیتا ہے۔’

پولیس کا کہنا ہے کہ سونو کے بے حساب جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے۔ یہ ان کی بے رحمی کے صرف چند نمونے ہیں۔ وہ اس سے زیادہ بے رحم ہوسکتی ہے۔ جس کی شکایت پر سونو پنجابن کو سزا ملی تھی اس لڑکی کو اس نے خریدا تھا۔

ان کے ریکٹ میں بہت سی گھریلو خواتین اور کالج کی لڑکیاں تھیں۔ وہ ان خواتین کی جسم فروشی کے لیے سہولیات فراہم کراتی تھی اور بدلے میں کمیشن لیتی تھی۔ یہ باہمی رضامندی کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ دوسرے دلالوں سے کم سن لڑکیوں کو خرید کر اپنے گاہکوں کو فراہم کرتی تھی۔

سونو پنجابن ان لڑکیوں کو فروخت ہونے تک اپنی قید میں رکھتی تھی۔ ان لڑکیوں کو باری باری گاہکوں کے پاس بھیجا جاتا تاکہ دلالوں کو ان کے علاقوں میں سپلائی کا مسئلہ نہ ہو۔

ڈی سی پی سنگھ کے مطابق سونو پنجابن ایک شاطر عورت رہی ہے۔ اسےنہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی افسوس۔

وہ کہتے ہیں: ‘جب میں نے کہا کہ نابالغ لڑکیوں کی خرید و فروخت جرم ہے تو اس نے کہا کہ وہ نہیں جانتی۔ وہ جان بوجھ کر یہ کہہ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ جو کر رہی ہے وہ غلط ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کا خیال ہے کہ خواتین ہی خواتین کے خلاف ایسے جرائم کا ارتکاب نہیں کرسکتی ہیں۔’

 

جسم فروشی کا کاروبار

BBC

سونو پنجابن مہذب معاشرے کے قابل نہیں ہیں؟

سونو کو 24 سال با مشقت قید کی سزا سنائی گئی۔ انھیں میں آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی دفعات 328، 342، 366 اے، 372، 373 اور 120 بی کے ساتھ غیر اخلاقی تجارت کی روک تھام کے قانون کی دفعات 4 ، 5 اور 6 کے تحت سزا دی گئی

سونو کو بچوں کو جنسی جرائم سے حفاظت فراہم کرنے والے قانون پوکسو کے تحت بھی سزا سنائی گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج پریتم سنگھ نے سونو کے خلاف سزا سناتے ہوئے ان پر 64 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالت نے سونو کے شریک ملزم سندیپ بیڈوال کو بھی 20 سال قید کی سزا سنائی اور متاثرہ لڑکی کو سات لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کو کہا۔

پولیس کے مطابق سونو پنجابن کا نشانہ بننے والی لڑکی نے 2014 میں اپنی مرضی سے گھر چھوڑا تھا۔ وہ منشیات کی عادی تھی اور وہ یہ کلنک برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی بہن کی شادی ہونے ہی والی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا ماضی اس رشتے میں رکاوٹ بنے۔

سماعت کے بعد فیصلے کے دوران الپرکس نامی ایک دوا کا ذکر کیا گیا۔ متاثرہ ڈپریشن کا شکار تھی اور وہ دوا کرتی تھی۔ لڑکی نے ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا کہ کچھ لوگ اسے دھمکیاں دیتے تھے۔

ایک طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد جب وہ ملی تو ا س کی کاؤنسلنگ کرائی گئی۔ اسے نئی زندگی کی شروعات میں مدد کی گئی۔ اس کی شادی بھی ہوئی۔ اس کا ایک بچہ ہے اور اب وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہے۔

شادی کے بعد اس کے سسرال والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ لڑکے کے والدین اس کے ماضی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اب فون پر بات نہیں کرتی۔ لیکن تفتیشی افسر پنکج نیگی کے مطابق لڑکی کو لگتا ہے کہ وہ آخر کار جیت گئی ہے۔ اسے راحت محسوس ہو رہی ہے۔

میں نے سونو پنجابن کو پہلی بار سنہ 2011 میں دہلی کی ایک عدالت میں دیکھا تھا۔ وہ جج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی تھی۔ اس کے بال بکھرے تھے۔ وہ تھکی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ وہ نشہ چھوڑنے کے لیے ایک کورس کررہی ہے اور اپنا زیادہ تر وقت تہاڑ جیل میں اپنے سیل میں سوتے ہوئے گزارتی ہے۔

اس دن عدالت کی سماعت کے بعد انھین دوبارہ تہاڑ لے جایا جا رہا تھا۔ سونو پنجابن سیدھے بس میں داخل ہوئی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں پارکنگ کے قریب تھی۔

جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرا نام اپنے ملنے والوں کی فہرست میں ڈال دے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ جولائی کا ایک گرم دن تھا۔ اس نے میرا نام پوچھا۔ پھر بہت دن تک میں تہاڑ میں فون کرتی رہی کہ کیا سونو پنجابن سے ملنے والوں کی فہرست میں میرا نام ہے؟ وہاں سے وہ بتاتا کہ سونو کی فہرست میں شامل چھ ناموں میں میرا نام نہیں ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14694 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp