طاہر ایوب: معذورافراد کے حقوق کے علم بردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہری پور کے سماجی کارکن طاہر ایوب خود معذور ہیں لیکن معذور افراد کی خدمت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ طاہر ایوب کوٹ نجیب اللہ ہری پور کے رہائشی ہیں۔ دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں، ہمت نہیں ہاری، زندگی جہد مسلسل کی طرع کاٹ رہے ہیں۔ معاشرہ پر بوجھ بننے کی بجائے محنت مزدوری اور اب سرکاری نوکری کرکے باعزت روزی کمارہے ہیں۔ سماجی کارکن کی حیثیت سے معذور افراد کاسہارا بنے ہوئے ہیں۔ ابھی تک سینکڑوں معذور افراد میں وہیل چیئرجبکہ موجودہ کورونا وبا میں راشن بھی تقسیم کرچکے ہیں۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ حطار کے رہائشی معذور میاں بیوی نے اپنی ملکیتی زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے، تو ملنے کا اشتیاق ہوا۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، دوسرے ہی دن پاکستان بیت المال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیئر عباس جعفری صاحب کا فون آیاکہ کل دو بجے حطار میں طاہر ایوب سے ملاقات کا وقت طے ہے، ساتھ جائیں گے۔

دوسرے دن حطار لیبر کالونی چار سو کوارٹر اور پھر چھ سو کوارٹر میں تلاش کرتے کرتے گیٹ کیپر کی نشاندہی کے مطابق ایک گلی میں رکے، طاہر ایوب صاحب سے فون پر رابطہ کیا، اتفاق سے وہی ان کا گھر تھا۔ تھوڑی دیر انتظارکے بعد دروازہ کھلا اور وہیل چئیر پر سوچ کے بالکل برعکس ایک باریش پررونق سحر انگیز اور طلسماتی شخصیت سامنے موجود تھی

دعا سلام کے بعد طاہرایوب صاحب سے ان کی گزری زندگی اور تجربات ومشاہدات کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی۔ طاہر ایوب 1980 کو ہری پور کی قدیمی بستی کوٹ نجیب اللہ میں محمد اسحاق صاحب کے گھر تندرست و توانا پیدا ہوئے۔ دوران میٹرک تعلیم 1996 میں سولہ سال کی عمر میں سپائنل کارڈ انجری کا آپریشن ہوا، جو کامیاب نہ ہو سکا، اور جسم کا نچلا دھڑ ناکارہ ہو گیا، جس کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور گھر میں ہی معذوری کی زندگی گزارنے لگے۔

خواہش کے باوجود بوجوہ تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ مالی مشکلات کے پیش نظر 2000 تا 2007 ٹرائی سائیکل پر گلی گلی پھر کر چائے کی پتی اور کپڑا فروخت کرتے رہے۔ اس دوران 2003 میں والدصاحب کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ 2007 میں جاوید قریشی ایڈوکیٹ اور بعض دیگر دوستوں کے تعاون سے سپیشل بائیک خرید کر کپڑا فروخت کرنے کا کام ہی جاری رکھا۔ طاہر ایوب کا کہنا تھا کہ گلی گلی پھرنے کے باوجود جب ایک جوڑا بھی فروخت نہ ہوتا تو اس وقت بھی انھیں کبھی مایوسی نہ ہوئی۔

2009 میں ایک کورئیر کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ 2012 تک سپیشل موٹر بائیک پر روزانہ ڈیڑھ سو کلو میٹر سفر طے کر کے ڈاک ترسیل کرتے رہے۔ یہ کام بھی سخت مشکل کٹھن اور تکلیف دہ تھا، ساتھ ساتھ دوسری نوکری کی تلاش بھی جاری رکھی۔ اسی دوران علاقہ کے ایک بزرگ معذور شخص نے وہیل چئیر کا سوال کیا جو پورا نہ کر سکے۔ وہ بزرگ تو جلد ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، مدد نہ کر سکنے پر دل بہت افسردہ ہوا، اور یہی افسردگی اور ملال انھیں معذور افراد کا دست وبازو بننے کے جذبہ تک لے آیا۔

2010 سے معذوروں کی فلاح و بہبود اور ان کو ہر ممکن سہولیات فراہمی کے مشن پر گامزن ہیں۔ ابتداء میں راول پنڈی کے تبلیغی دوستوں کے تعاون سے مزید حوصلہ ملا۔ طاہر ایوب کا آج تک کسی ایم این اے، ایم پی اے، سیاسی شخصیت یا کسی فلاحی ادارے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی گزشتہ دس برسوں کے دوران پورے ملک میں بالعموم اور صوبہ خیبر پختون خواہ میں بالخصوص سینکڑوں معذور افراد میں وہیل چئیر گرم ملبوسات اور مالی امداد تقسیم کر چکے ہیں۔ حالیہ کورونا وبا میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور کئی معذور و مستحق خاندانوں تک راشن پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے بالمشافہ یا ٹیلی فونک رابطوں اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے وہ اپنی آواز لوگوں تک پہنچاتے ہیں، اور اندرون و بیرون ملک سے اللہ کی رضا کی خاطر لوگ ان کی مدد کر رہے ہیں۔

2013 میں انھیں ورکر ویلفیئر بورڈ کے سکول میں سرکاری ملازمت مل گئی۔ 2015 میں والدہ بھی وفات پا گئیں۔ سرکاری نوکری ملنے پر وہ لیبر کالونی حطار کے کوارٹر میں منتقل ہو گئے۔ کوٹ نجیب اللہ کے چار مرلہ ذاتی مکان میں ان کے بہن بھائی رہائش پذیر ہیں۔ طاہر ایوب کی گزری زندگی معذور افراد کے حوالے سے معاشرہ کے لیے کسی ”تحریک“ سے کم نہیں۔ رفیقہ حیات بنایا تو وہ بھی ایک معذور لڑکی کو، کہتے ہیں جوڑے آسمان پہ بنتے ہیں یہ مثالی جوڑا اس قول کی عملی تفسیر ہے۔

طاہر ایوب کے مطابق میاں بیوی دونوں میں مماثلت یہ کہ دونوں حادثاتی طور پر معذور ہوئے ہیں۔ وہ خود سولہ سال کی عمر میں آپریش جبکہ بیوی چودہ سال کی عمر میں گرنے کے باعث معذوری کا شکار ہوئیں اور دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی۔ خاوند کا تعلق ہری پور سے اور بیوی پنجاب کے ضلع اٹک سے، سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ زندگی کے بندھن کا ذریعہ بن گئی۔ دونوں خوشگوار زندگی گزاررہے ہیں۔ وہیل چیئر پر نہ صرف گھر کے کام کاج کرتے ذاتی زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں بلکہ اپنی ”کمیونٹی“ کی موثر آواز بھی بنے ہوئے ہیں۔

طاہر ایوب خود چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہائش پذیر ہیں۔ ان اور ان کی اہلیہ نے موہڑی میرا میں اپنی ملکیتی چودہ مرلہ زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے، جس پر عوام کے تعاون سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ طاہر ایوب اللہ کی رضا پر راضی، خوش گوار اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ تصنع اور ریا کاری سے کوسوں دور، گفت گو میں بھی حد درجے کی احتیاط برتتے ہیں۔

طاہر ایوب کا کہنا ہے کہ ان کا مشن ہے، معذور افراد کوان کا حق ملے۔ سرکاری نوکریوں میں ان کے کوٹہ پر حقیقی معنوں میں عمل ہو۔ ان کے لیے ٹریننگ سنٹر ہوں جہاں وہ تعلیم و ہنر حاصل کر سکیں۔ ہر سطح پر ان کی زندگی کو آسان بنایا جائے۔ گھروں میں ان کے لیے مددگار واش روم اور کموڈ سسٹم ہوں۔ بازاروں پلازوں بینکوں اور دفاتر میں آمدورفت قابل رسائی ہو۔

قارئین۔ طاہر ایوب جو کچھ معذوری کے باوجود کر رہے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ معذور وہ نہیں، معذور ہم ہیں معذور یہ معاشرہ ہے، طاہر ایوب توایک تحریک کا نام ہے اوراس تحریک میں سماج کے لیے پیغام ہے تو آئیے ہم سب اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اورطاہر ایوب جیسے لوگوں کے دست و بازو بن جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *