پی ٹی وی کے ”100“ مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم نے پی ٹی وی جوائن کیا تو کچھ ہی عرصے کے بعد یہ ادارہ ہمارے لئے ایک رومانس بن گیا بطور پروڈیوسر جب بھی ہم کوئی پروگرام کرتے تو آئیڈیا کنسٹرکشن سے لے کر فائنل پروڈکشن تک ہمیں ہر شعبے کے تجربہ کار لوگوں سے کنسٹرکٹو ڈبیٹ کرنا پڑتی، کبھی ہم اپنی منواتے تو کبھی ہمیں ان کی ماننا پڑتی۔ کبھی کبھار یہ پروسس بڑا تکلیف دہ ہوتا لیکن اکثر اوقات ہمارے لئے لرننگ کا باعث بنتا، یہی وجہ ہے کہ اتنا عرصہ پردیس میں رہنے کے باوجود آج بھی پی ٹی وی کے ہر شعبے کے پروفیشنل سے رابطہ رہتا ہے اور پی ٹی وی کے مسائل پر بھی بات ہوتی رہتی ہے

کچھ مسائل تو ہمارے دور سے ہی شروع ہو چکے تھے لیکن تب ٹائٹینک لہروں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ پانی جہاز میں داخل نہیں ہوا تھا لیکن اب جو صورت حال ہے اسے دیکھتے ہوئے پی ٹی وی سے باہر بیٹھے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پی ٹی وی وسائل سے مالا مال ہے، اس کے پاس بہت بڑے بڑے اسٹوڈیوز اور معیاری تکنیکی سہولتیں دستیاب ہیں اس کے باوجو اس کے پروڈیوسر اور دیگر ملازمین نکمے ہیں اور کام نہیں کرتے مفت کی تنخواہیں ہڑپ کر جاتے ہیں۔

حقیقی طور پر صورتحال انتہائی مختلف ہے۔ پاکستان ٹیلی وثرن کے بنیادی طور پر دو بڑے اور فوری حل طلب مسائل ہیں۔ ایک طویل مدت سے پی ٹی وی کو تکنیکی طور پر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا گیا۔ وہ مشینری استعمال ہو رہی ہے جو تقریباً متروک ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے اسٹوڈیوز میں متروک ہوتی مشینری آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ حتی کہ موسمی درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے اکثر اے سی تک کام نہیں کرتے۔

ٹرانسپورٹ کا تو اللہ ہی حافظ ہے اول تو گاڑیاں مطلوبہ تعداد میں دستیاب ہی نہیں اور جو ہیں وہ دعاؤں کے سہارے ہی چلتی ہیں۔ بیشتر تکنیکی شعبے جن میں کیمرا، ڈیزائن ایڈیٹنگ حتی کہ ایڈمن بھی تجربہ کار اسٹاف سے محروم ہو چکے ہیں اور ان شعبوں میں ملازمین کی تعداد بھی مضحکہ خیز حد تک بہت کم ہو چکی ہے۔

پی ٹی وی بنیادی طور پر آرٹ کلچر اور قومی تشخیص کی نمائندگی کرتا ہے فنکاروں گلوکاروں سازندوں غرض کہ مذہب ادب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں کو فروغ دینا اور ان کا کچن چلانا پی ٹی وی کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

ایک وقت تک پی ٹی وی یہ ذمہ داری بہ احسن سر انجام دیتا رہا۔ صبح سے رات گئے تک ہر شعبے کے تخلیق کاروں کا پی ٹی وی میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جس سے اسکرین کا کام بھی تازہ رہتا تھا اور تخلیق کاروں کو معاشی فکر سے بھی بڑی حد تک بے فکری رہتی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی وی کی گلیاں تو سنجیاں ہو چکی ہیں اور ظلم یہ کہ مرزا یار بھی لا تعلق ہے۔ ڈراما آرٹسٹ ہو یا موسیقی کے شعبے کا کوئی ہنر مند، شاعر ہو یا ادیب کوئی ادھر کا رخ نہیں کرتا۔

بڑے بڑے نام تو پرائیویٹ شعبے سے روزی روٹی کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے کردار کرنے والا آرٹسٹ، ایکسٹرا، موسیقار، سازندہ اور شاعر ادیب قاری نعت خواں، اور قوال بے روزگاری بھوک افلاس کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔

ان تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ ٹی وی میں پروگرامنگ پھر سے شروع کی جائے اور یہ پروگرامز صرف ایک آدھ ڈرامے تک محدود نہ ہو بلکہ ماضی کی طرح موسیقی، ڈاکومنٹری بچوں کے پروگرام، ادبی و مذہبی اور علمی نوعیت کے پروگرامز کو برابر توجہ دی جائے اور اسی طرح کے پروگرامز علاقائی زبانوں میں بھی دوبارہ سے شروع کیے جائیں۔ کیوں کہ صرف اسی صورت میں ہی اسٹیٹ چینل اپنی ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply