مفاہمت کا بادشاہ آصف علی زرداری: ایک قومی سرمایہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں بہت سے سیاسی قد آور شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے سیاست کے میدان میں اپنا نام بنایا۔ ان میں سے دو اہم شخصیات شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی، اخلاقی، اصول پسندی، بہادری خواہ ہر محاذ پر فاتح رہا ہے اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ قابل محترم جناب صدر آصف علی زرداری ہیں جو کہ پیپلزپارٹی کا ہی ایک نگینہ ہے۔

صدر زرداری نے نا صرف اسیری صبر و استقامت و بردباری سے کاٹی بلکہ سیاسی مخالفین، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور عوام کو بھی اپنے فکر و فلسفے سے متاثر کیا۔ ان کی دانش مندی و دور اندیشی کا ہر شخص گرویدہ ہے اسی لیے ان کو مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ سی پیک، اٹھارہویں ترمیم، جمہوریت کا استحکام اور پہلی بار منتخب اسمبلی کے کامیاب 5 سال اور اقتدار کی منصفانہ منتقلی، این ایف سی ایوارڈ، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ، سوات آپریشن، گلگت بلتستان کو آئینی حقوق، خیبر پختون خواہ کو شناخت، عدلیہ کی بحالی، سلالا چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے ردعمل میں نیٹو سپلائی کی ترسیل کی بندش، نیٹو کو ناکوں چنے چبوانے اور امریکہ جیسے سپر پاور کی پاکستان میں اجارہ داری ختم کرنے اور پاکستانی ایئر بیسز کو امریکہ سے خالی کرانے جیسے کام صدر زرداری کے دور کی چند اہم ہائی لائٹس ہیں جو انہوں نے اپنے دور میں سیاسی بصیرت و دور اندیشی سے کامیابی سے سرانجام دیے۔

صدر زرداری کی اسیری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ تاریخ میں مرد حر ہیں، ان کی اسیری قوم کے نوجوانوں کے لئے صبر و استحکام، حق پر اٹل اور باطل کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے۔ صدر زرداری پر عرصہ دراز سے بے بنیاد الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی ان کا سلسلہ جارہی ہے لیکن آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا نا ہی کوئی کر سکا۔ انہوں نے حال ہی میں علالت میں بھی سیاسی اختلافات پر اسیری کاٹی لیکن ہمت نہیں ہاری۔

ان نے ہر چیلنج اور مخالفین کا مقابلہ مسکرا کر کیا اور مخالفین کو اپنی مسکراہٹ سے زیر کیا۔ کارکنان و عوام سے محبت میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، عوام کو روزگار فراہم کیا، مہنگائی پر کنٹرول اور غریبوں کسانوں مزدوروں کو خود کفیل و خوش حال کیا، نوجوانوں کو نوکریاں دیں، تعلیم میں اصلاحات اور تعلیم سستی اور غریب کی پہنچ تک کی جو کہ وقت اور تاریخ میں سنہری حروف میں درج ہیں۔

آصف علی زرداری کی زندگی پر مبنی کئی کتب اور آرٹیکلز کا مطالبہ کیا، جس نے مجھے شدید متاثر کیا اور میں ان کی فکر، فلسفے، دور اندیشی، اور دانش مندی کا قائل ہوا۔ آصف علی زرداری اپنے آپ میں ایک ادارہ ہیں، ایک درس گاہ ہیں، ایک مکمل کتاب حیات ہیں، ایک مکمل لائبریری ہیں جہاں زندگی کے اتار چڑھاؤ، کامیاب زندگی اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا ہر نسخہ موجود ہیں۔ آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صدر آصف علی زرداری کی زندگی کا مطالعہ کریں اور کوشش کریں کہ ان کی زندگی، اقوال، علم و فلسفے سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھیں اور کامیابی کی راہ ہموار کریں۔ آصف علی زرداری ایک رول ماڈل ہیں جن کے نقش قدم پر چل کر بہترین زندگی اور بہترین حکمت عملی کا انتخاب اور اپنی ذات میں صبر، شکر و استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ روز 26 جولائی کو جناب مرد حر صدر آصف علی زرداری کی 65 ویں سالگرہ منائی گئی، ان کی 65 ویں سالگرہ پر انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی صحت یابی و تندرستی کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام جیالوں پر، قوم پر اور وطن عزیز مملکت خداداد پاکستان پر صدر آصف علی زرداری کا سایہ برقرار رکھے اور صدر زرداری کو اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں سلامت رکھے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply