می ٹو تحریک، سوشل میڈیا اور نامعلوم افراد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کو خدا نے اپنی نیت کے ذریعے شر کو خیر میں اور خیر کو شر میں بدلنے کا کچھ اختیار عطا کر رکھا ہے۔ جب سائنس نے ترقی کی اور دنیا ایٹمی یا نیوکلیئر طاقت سے آشنا ہوئی تو تب سوچ یہیں تک محدود تھی کہ یہ نئی ایجاد قدرتی وسائل کا متبادل ہوکر بنی نوع انسان کے لئے سہولت اور آسانی کا باعث بنے گی، پر جب ہیرو شیما، ناگاساکی اور چرنوبل میں ایسی ایجاد کی ناقابل تلافی تباہ کاریاں دیکھیں تو دنیا کا نظریہ اس ایجاد کے بارے میں مشکوک دکھائی دیا۔

وہ ایجاد جو آسانی کی امید لے کر آئی تھی وہی اب ہمارے سروں پر اب ایک ننگی تلوار بن کر لٹکنے لگی بالکل اسی طرح کچھ عرصہ قبل میں ٹو کی تحریک سامنے آئی جس کا اولین مقصد ان تمام متاثرہ خواتین کو انصاف دلانا تھا جو اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں کہیں نہ کہیں جنسی ہراسانی کا شکار ہوچکی تھیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر آکر ان زیادتیوں کے بارے میں آواز بلند کرنا شروع کی اور اس خاص تحریک کو بڑے پیمانے پر پذیرائی بھی ملی۔

می ٹو کی تحریک کو حقوق نسواں کی جاری تحاریک میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہوگئی اور سوشل میڈیا پر آئے دن یہ پیش ٹیگ نہ صرف نظر آنے شروع ہوئے بلکہ جنگل کی آگ کی طرح وائرل بھی ہوتے لیکن ان کا زور صرف ہائی پروفائل کیسز تک رہا جہاں مشہور شخصیات کے ایسے سکینڈل سامنے آئے اور ان کی ساکھ اور شہرت نہ صرف متاثر ہوئی بلکہ عوامی مقبولیت میں بھی بے تحاشا کمی آئی می ٹو پر ایک الزام ”کینسل کلچر“ کو فروغ دینے کا بھی لگا کہ یہاں صرف ہائی پروفائل شخصیات کی کردار کشی ہوتی ہے اور ان کا کیرئیر داؤ پر لگ جاتا ہے پر غریب طبقے کو اس تحریک سے شاید ہی کوئی فائدہ حاصل ہوا ہو، دیہات اور پسماندہ علاقوں میں ہراسانی اور زیادتی کے واقعات اسی رفتار سے ہوتے رہے پر وہاں نہ یہ پیش ٹیگ نظر آیا نہ اس تحریک کا زور۔

پہلی مرتبہ اس تاثر کی وجہ سے میں اس ہیش ٹیگ سے کچھ بددل ہوئی کہ قبروں سے میتیں نکال کر ان سے زیادتی ہوتی رہی، جانور تک انسان کے شر سے محفوظ نہ رہے گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اسی طرح جبر کا شکار ہوتی رہیں پر مجھے کہیں یہ ہیش ٹیگ ان کی داد رسی کرتا نہ دکھائی دیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس تحریک کو سپورٹ کرتی تھی کہ اچھا ہے مظلوموں کو انصاف ملے گا، پر کچھ تین سال قبل جب سوشل میڈیا پہ موجود دوست کے بارے میں ایسا ٹرینڈ چلا اور سرگوشیاں ابھرنی شروع ہوئیں تب مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا، کیونکہ الزام لگانے والی زنانہ آئی ڈی کی نہ کوئی تصویر موجود تھی نہ کوئی بائیو ڈیٹا اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت جس سے ظاہر ہو کہ اس آئی ڈی کے پیچھے کون حضرت یا خاتون یہ گل کھلا رہی ہیں، اس آئی ڈی پر فالورز کثیر تعداد میں موجود تھے اور وہ پوسٹ دوتین دن میں وائرل ہوگئی۔

اب جس دوست کے بارے میں الزام سامنے آیا اس کو ہم سب جانتے تھے اس کے چال چلن کی گواہی بھی دیتے تھے اور خاندانی ہونے میں بھی کوئی شک نہیں تھا، لوگوں نے اس کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کسی حد تک قبول کر لیا اور مجھ پر قریبی دوستوں کی طرف سے پریشر بڑھنا شروع ہوا کہ اس کو انفرینڈ یا بلاک کردو۔ میرے دل میں نہ اس انسان کے احترام میں کوئی کمی آئی نہ ہی وہ فیک آئی ڈی کوئی ایسا ثبوت دے سکی جس سے وہ الزام درست ثابت ہوتے، لیکن اس سب میں اس دوست کی نیک نامی اور ذہنی سکون کی دھجیاں اڑ گئیں اور کوئی الزام کبھی ثابت نہ ہوسکا۔

الزام لگانے والوں میں تو اتنی اخلاقی جرات بھی نہ تھی کہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنے آکر اس صورتحال کا سامنا کرتے جو انہوں نے شاید اپنے ذاتی بغض و عناد یا حسد کی بنیاد پر بنا دی تھی۔ ہمارے ایک دوست رافع کے بقول سوشل میڈیا کا حساب ایک بے ہنگم ہجوم سا ہے جہاں ہر کوئی اپنے اپنے لاؤڈ سپیکر پہ ”آزادی رائے“ کے نام پر کچھ بھی بولتا نظر آتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر آپ کے فالورز ہیں جتنی تعداد زیادہ ہوگی آواز اس قدر دور تک جائے گی چاہے اس آواز میں رتی برابر سچائی نہ ہو۔

جو تحریک دوسروں کو انصاف دلانے کے لئے بنائی گئی اس سے اپنے ارد گرد کئی ایسے لوگوں کو متاثر ہوتے دیکھا جن کو اپنی ساکھ بنانے میں دہائیاں لگی ہیں، ابھی کچھ عرصہ پہلے ایم۔ اے۔ او کالج کے پروفیسر افضل محمود نے 19 اکتوبر کو ایک طالبہ کی طرف سے ہراسانی کے الزام پر دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی، ان کے کیس کی انکوائری رپورٹ منصفین کے سامنے بند لفافے میں پڑی سڑتی رہی پر کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ جس پر الزام لگا ہے یا انکوائری ہوئی ہے اس کا نقطۂ نظر بھی سنا جائے۔

سینئر پروفیسر افشاں خالد کے لئے چھوڑے جانے والے الوداعی نوٹ میں پروفیسر محمود میں لکھا کہ ”مجھے تحریری طور پر اس الزام سے بری کیا جائے، جب تک مجھے بری نہیں کیا جاتا، مجھے بدکردار سمجھا جاتا رہے گا“ پر افسوس اس تحریری نوٹ کی شنوائی زندگی میں نہ ہوئی اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ایک انسان کو مر کر دکھانا پڑا۔ جن کیسز میں مدعی اپنی اصل شناخت کے ساتھ آئے اور ثبوتوں کے ساتھ اپنے خود کو سچا اور مجرم کے نام کو عبرت کی علامت بنائے اور دوسروں کے لئے ایک قابل اعتماد فضا کا وسیلہ بنے وہ قابل ستائش ہیں جیسا حال ہی ایل جی ایس کا واقعی سامنے آیا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے طالبات کی جرات کو ناصرف سراہا بلکہ ایجوکشن انڈسٹری کے چار بڑے ناموں کو اگلوں کے لئے عبرت کا نشان بنایا اور اس ایک واقعے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس پروٹیکشن حکمت عملی نئے سرے سے وضع کی گئی۔

اگر کسی لڑکی کا چہرہ کسی نامعلوم انسان کی وجہ سے تیزاب گردی کا شکار ہو جائے، تو کیا ہم اس لڑکی کا چہرہ سماج کو دکھا کر مطعون قرار دیں گے یا اس گمنام مجرم کو ڈھونڈ کر اس کا سبق سکھائیں گے، بس رسم کچھ ایسی ہی ہے جو لڑکی ریپ کا شکار ہوتی ہے۔ اس کے خاندان اور اس لڑکی کا چہرہ میڈیا دکھا دیتا ہے ہر مائیک اور کیمرے والا انسان لٹھ لے کر ان سے یہ سوال کرتا پایا جاتا ہے کہ ”اچھا بتائیں آپ کیا محسوس کر رہے ہیں؟

“ اس جاہلانہ اور ظالمانہ سوال کے زہر کا اندازہ آپ تب تک نہیں کر سکتے جب تک آپ کو خود کسی نامعلوم جام سے ایسا زہر قاتل پیش نہ کیا جائے۔ نامعلوم تہمت کا بوجھ اتنا شدید اور پیٹھ پیچھے وار اسی قدر کڑا ہے جیسے کسی عورت پہ بدکرداری کا الزام، کسی اداکارہ کی کوئی غیر اخلاقی ویڈیو یا تصاویر شیئر ہوجائیں تو وہ چند لمحوں میں عوامی وٹس ایپ گروپس میں اپنی موجودگی سے اس بات کی سند دے رہی ہوتی ہیں کہ ہم کس قدر دوسروں کے بارے میں اس قسم کی باتیں جاننے اور پھیلانے کے شوقین ہیں، کیا کبھی ایسی ویڈیو موصول ہونے پر آپ نے سوچا ہے میں اس کو ڈیلیٹ کرکے اس چین کا حصہ نہ بنوں؟

اب اس سارے چکر میں وہ انسان نامعلوم ہے جو ایک انسان کو پوری دنیا کے سامنے عریاں کرچکا ہے، نہ کوئی اس کا چہرہ جانتا ہے نہ نام اور نہ ہی شناخت۔ اور یہی سلسلہ می ٹو جیسی ایک مضبوط اور مثبت تحریک سے بد دل ہونے کی وجہ بن رہی ہے۔ ٹارگٹ کرکے کسی کی دہائیوں کی محنت، نام اور ساکھ کے ساتھ می ٹو لگا دینا اور خود منظر عام پر نہ آنا نہایت ہی پست کردار کی علامت ہے اور اس پہ دیدہ دلیری ایسی کہ آپ جس پر الزام لگا رہے ہیں اس کے خاندان گھر، دوستوں سب کو تو عوام کے سامنے لاکر مجرم قرار دیں پر خود اپنی شناخت پیش کرنے کے قابل نہ ہوں فیک آئی ڈی یا فیک نام کے پیچھے اپنے مکروہ کردار کو چھپائے رکھیں پھر مجھ جیسا انسان تو یہی سوچے گا نہ کہ یہ حسد، رقابت یا قبولیت نہ ملنے کا ردعمل ہے۔

میں اور مجھ جیسی دیگر خواتین کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ کچھ منفی عناصر کی وجہ سے اس تحریک کی افادیت پہ نام آئے اس لئے سوشل میڈیا کو اس تحریک کے حوالے سے اپنی پوسٹنگ کے اصولوں کی تجدید کرنی چاہیے۔ جس طرح ٹویٹر پر کوئی اکاؤنٹ رپورٹ کرنے کی صورت میں آپ کو اپنا شناختی کارڈ یا اپنے دارے کا ایمپلائے کارڈ بھیجنا پڑتا ہے، اگر کسی اور کے لئے کر رہے ہیں تو اس کی دستاویز بھی دینی پڑتی ہیں، بالکل اسی طرح کسی کے بارے میں می ٹو کا ٹارگٹڈ محاذ کھولنے سے پہلے اس پوسٹ کرنے والے کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ کم از کم وہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنے آئے اور اپنی شناخت کی دستاویز پوسٹ کے ساتھ اٹیچ کرے ورنہ ایسی پوسٹس کو سوشل پلیٹ فارم پہ پبلش ہونے کی اجازت ہی نہ ہو۔

وٹس ایپ میسجز اور ان کے سکرین شاٹس کس طرح سے ٹیمپر ہوتے ہیں اس کی زندہ مثالیں آج کل فیس بک کے ”مشہور“ گروپ ”ڈیول ان دی فارم آف ہور“ سے ملتی ہیں، کہنے کو یہ گروپ کچھ بچوں نے شرارتا اپنے ٹوٹے تعلقات کے قصے سنانے کے لئے بنایا تھا پر تعلق نہ بن سکنے کی صورت یا ریجیکشن پر انتقامی کارروائی کے طور پر وہاں پر اس قسم کی پوسٹس کثیر تعداد میں نظر آتی رہیں لاک ڈاؤن کے دوران جب اس گروپ کی چیٹس اور آڈیوز وائرل ہونا شروع ہوئیں تو لوگوں نے شغل کے طور پر وٹس ایپ پر جعلی شناخت کے ساتھ ایسی تحریریں اور ٹرینڈ گھڑنا شروع کردیے، شاید یہ شغل ہو پر اس طرح کے چلنے والے ٹرینڈ کسی مستقبل میں کسی صحت مند معاشرے کی نوید ہرگز نہیں دے رہے۔

پہلے کہیں آگ لگتی تھی تو لوگ پانی ڈھونڈ کر لاتے تھے اب کسی کے جلتے گھر کو دیکھ کر ویڈیو بناتے ہیں کہ وائرل ہو جائے اور ہمیں شہرت کے وہ پانچ منٹ نصیب ہو جائیں، تماش بینی کی لت جذبہ ہمدردی کو زندہ نگل گئی ہے اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ جو آگ آج سامنے والے گھر میں ہے وہ کل ہمارے گھروں تک نہیں آئے گی کیونکہ ”یہاں محفوظ تہمت سے نہ یوسف تھا نہ مریم ہے“

سیانے کہتے تھے کہ کتوں کے بھونکنے سے بادشاہوں کی سواریوں کو فرق نہیں پڑتا مطلب کوئی کم اصل اپنے شر سے آپ کو متاثر نہیں کر سکتا پر تب سیانوں کے پاس سوشل میڈیا نہیں تھا، وہ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ ایک کم اصل اپنی آواز سے اپنے جیسوں کا مجمع اکٹھا کر سکتا ہے اور خصوصاً وہاں جہاں تحقیق اور اخلاقی ضابطے مضبوط اصولوں پر استوار ہی نہ ہوں۔ آپ کی تصویر یا ویڈیو کو ایڈٹ یا ٹیمپر کرکے بدنام کیا جائے اور آپ کو بالکل ایک نئی شناخت اور ناقابل تصور تعارف کے ساتھ آپ کی پیٹھ پیچھے دنیا سے متعارف کروایا جا رہا ہو تو بہت سے لوگوں کے لئے تو وہی آپ کی پہچان ہے کیونکہ وہ آپ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، فرسٹ امپریشن کو آخری بناتے ہوئے وہ تو پوری زندگی آپ کو بدکردار، عیاش اور اپنے ظرف کے مطابق جانے کیا کیا سمجھ لیں گے اور المیہ یہ ہوگا کہ آپ کی پہچان اور کردار مسخ کرنے والا گمنام رہے گا۔

کسی کی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا ایسے سکینڈل چند لمحوں میں برق رفتاری سے ہماری موبائل میں اپنی نجس موجودگی کا اعلان کرکے یہ ثبوت دیتے ہم سب کہیں نہ کہیں اس کڑی کا حصہ ہیں، اس تحریک سے اختلاف نہیں پر اب جو گمنام آئی ڈیز اور ان کی الزام تراشیوں اور اندھا دھند ”کول“ لگنے کے چکر میں اس کو فالو کرنا ناقابل قبول ہے۔ کورونا نے خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کے لئے سوشل ڈسٹنسنگ سکھا دی ہے تو میرے خیال میں اپنے معاشرے کی اخلاقی بڑھوتری کے لئے ہمیں ڈیجیٹل فلٹرنگ اور ڈسٹنسنگ کی بھی ضرورت ہے، جہاں ہاتھ دھو کر وائرس سے خود کو بچا رہے ہیں وہیں اس قسم کا مصالحہ آگے شیئر یا فارورڈ کرکے بھی ہم ایسے ناسور کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔

صرف کچھ لمحوں کی شہرت کے لئے کوئی بھی ایسی پوسٹ، تصویر، ویڈیو آگے نہ پھیلائی جائے جس سے کسی کی زندگی اور ساکھ دو پل میں تباہ ہو جائیں، لیکن پوسٹ کرنے والا اپنی شناخت کے ساتھ سامنے نہ آئے اور کسی الزام کا ثبوت نہ دے سکے گواہ کا ہونا نہ ہونا تو دور کی بات ہے ایسی پوسٹس اصل شناخت کے ساتھ قابل قبول ہوں ورنہ ان کو فوراً رپورٹ اور ریجیکٹ کر دیا جائے۔ یہ نامعلوم افراد، نامعلوم آئی ڈیز اور نامعلوم ذرائع ہمارے معاشرے کا ذہنی سکون اور اخلاقی اقدار سمیت بہت کچھ تباہ کر چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *