ٹورانٹو کے دانشور دوست ضمیر احمد کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ فیض احمد فیض لندن کے اردو مرکز میں اپنے دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ ایک اجنبی تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کی چند نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ فیض صاحب نے کہا ’سنائیں‘ ۔ جب فیض صاحب نے ان کے ترجمے سنے تو پہلے تو وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے پھر فرمانے لگے ’ترجمہ کرنے والے کو کم از کم ایک زبان پر تو عبور حاصل ہونا چاہیے‘ ۔

ان صاحب کو کسی ایک زبان پر بھی نہیں لیکن ضمیر احمد کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

ضمیر احمد بڑی محنت ’ریاضت‘ خلوص اور جانفشانی سے ترجمہ کرتے تھے اور اتنے ذوق و شوق سے سناتے تھے کہ محفل میں سماں باندھ دیتے تھے۔ میں جب ان کا مزاحیہ انداز سے تعارف کرواتا تھا

Zamir Sahib makes love to the poem and then gives birth to the translation.

تو مسکرا کر اپنے مخصوص انداز سے کہتے تھے ’خالد تم بہت شریر ہو‘۔

ضمیر احمد ایک یادگار انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں وقار تھا ’تمکنت تھی‘ بردباری تھی۔ ان کے مزاح میں شائستگی اور مزاج میں وارفتگی تھی۔ وہ مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتے اور ہم گھنٹوں بے تکلفی سے تبادلہ خیال کرتے رہتے۔

ایک دفعہ میں نے ضمیر احمد سے کہا آپ بہت سی اصناف سخن سے واقف ہیں۔ آپ کا ترجمے کی صنف کے بارے میں کیا خیال ہے۔ پہلے تو وہ مسکرائے پھر کہنے لگے۔ یہ ایک ایسی قاتل صنف ہے کہ خوبصورت ہو تو وفادار نہیں ہوتی اور وفادار ہو تو خوبصورت نہیں ہوتی۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میرا ترجمہ خوبصورت بھی ہو اور اصل متن سے وفادار بھی ہو۔

ضمیر احمد ایک دانشور تھے۔ وہ زندگی کے بہت سے رازوں سے واقف تھے۔ آج میں آپ کو ان کے دو جملے سناتا ہوں جو ان کی علمیت ’قابلیت اور دانائی کے آئینہ دار ہیں۔ پہلا جملہ ہے

Human beings are more rationalizing than rational beings

ایک انسان دوست ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں جانتا ہوں کہ اس جملے میں انہوں نے بڑے راز کی بات کی ہے۔ سقراط نے ہمیں بتایا تھا کہ انسان ایک Rational Being ہے۔ سقراط ’افلاطون‘ ارسطو اور دیگر یونانی فلسفیوں نے جس منطق اور فلسفے کی بنیاد رکھی اس کی کوکھ سے جدید سائنس نے جنم لیا اورانسان نے قوانین فطرت کو جانا۔ انسان کی منطق ’سائنس اور ٹکنالوجی نے اس کی زندگی کے لیے سہولتیں پیدا کیں لیکن بیسویں صدی میں سگمنڈ فرائڈ نے ہمیں احساس دلایا کہ انسان Rational Being سے زیادہ Rationalizing Being ہے۔ وہ زندگی کے بہت سے فیصلے جذبات اور خواہشات کی بنیاد پر کرتا ہے لیکن پھر ان کا منطقی جواز پیش کرتا ہے۔ وہ اپنے جذباتی فیصلوں کی منطقی توجیہہ پیش کرتا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں کو بھی دھوکہ دیتا ہے اور خودفریبی کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔

فرائڈ نے ہمیں بتایا کہ ذہنی طور پر بالغ انسان RATIONAL اور نابالغ انسان RATIONALIZING ہوتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی کہ بہت سے خاندانوں اور معاشروں میں آج بھی ذہنی نابالغوں کی تعداد ذہنی بالغوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ضمیر احمد کو سقراط کے Rational Being اور فرائڈ کے Rationalizing Being سے پوری طرح آگاہی حاصل تھی جو ایک دانشور کا خاصہ ہے۔

ضمیر احمد زندگی ’ادب اور انسانی نفسیات کے گہرے رشتے سے واقف تھے۔ وہ کہا کرتے تھے
All their lives human beings create and then edit their memories

اس جملے میں انسانی نفسیات کے کئی راز مضمر ہیں۔ ہر انسان کے لیے اس کی یادیں اتنی اہمیت رکھتی ہیں کہ وہ انہیں زندگی کے مختلف ادوار میں بدلتا رہتا ہے۔ یادوں کو بدلنے میں شعوری اور لاشعوری دونوں محرکات کارفرما ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔

ضمیر احمد کو ادب سے عمومی اور شاعری سے خصوصی لگاؤ تھا۔ میں ان سے جب بھی ملتا وہ میرا کسی عالمی شہرت یافتہ اور کسی نوبل انعام یافتہ شاعر سے تعارف کرواتے ’اس کی نظمیں اور اپنا ترجمہ پڑھ کر سناتے۔

اردو شاعروں میں انہیں محبوب خزاں بہت عزیز تھے۔ اسی لیے محبوب خزاں کے شعر
زندگی بھر ہم کتابوں میں رہے
دوسروں کی زندگی اچھی لگی

میں پہلے انہوں نے تھوڑی سی تبدیلی کی

زندگی بھر ہم کتابوں میں رہے
دوسروں کی ’شاعری‘ اچھی لگی

اور پھر اپنی کتاب کا نام ’دوسروں کی شاعری۔ ۔ ۔ عالمی شاعری سے نظموں کے ترجمے‘ رکھا۔

اس کتاب میں تیرہ ملکوں اور بیس شاعروں کی بتیس نظموں کے ترجمے شامل ہیں جن میں سے بارہ نوبل انعام یافتہ ہیں۔ ان نابغہ روزگار شاعروں میں جوزف براڈسکی ’اوکتاویو پاز‘ محمود درویش ’رابندرا ناتھ ٹیگور‘ گبرائیلا مسترال ’وولے شوئنکا اور پابلو نرودا جسے شاعر شامل ہیں۔

ضمیر احمد نے جن نظموں کا ترجمہ کیا ہے ان میں کئی نظموں کا موضوع محبت اور پھر محبوب سے جدائی ہے۔

میں آپ کو صرف دو نظموں کے تراجم سناتا ہوں تا کہ آپ کو ان کی پسند کا بھی اندازہ ہو ’آپ ان کے ترجمہ کرنے کے فن کو بھی داد دے سکیں اور آپ کے دل میں ان کی کتاب پڑھنے کا شوق بھی پیدا ہو۔ ایک نظم گبرائیلا مسترال کی ہے اور دوسری پابلو نرودا کی۔

گبرائیلا مسترال کی نظم کا نام ہے

غیر کے ساتھ

وہ ابھی گزرا کسی اور کے ساتھ
میں نے خود اس کو گزرتے دیکھا
یوں ہی مسرور رہی باد صبا
راہ میں ایک سکوں تھا سو رہا
اور کمبخت انہیں آنکھوں نے
اس طرح اس کو گزرتے دیکھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پیار ہے اس کو کسی اور کے ساتھ
اور دنیا میں بہار آئی ہے
ہر طرف پھول کھلے سرخ و سفید
اک ترنم سا لیے موج ہوا آئی ہے
پیار ہے اس کو کسی اور کے ساتھ
اور دنیا میں بہار آئی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب سمندر کے کنارے اس نے
غیر کو پیار کیا
گل نارنج سا چاند
ڈگمگاتا تھا ادھر لہروں میں
وسعتیں بحر کی میرے دل کو
کیا سکوں دیتیں ’مرے درد کا درماں کرتیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
غیر کے ساتھ رہے گا وہ ابد تک یونہی
آسمانوں میں وہی مہر و سکوں
اور خدا یوں ہی رہے گا خاموش
غیر کے ساتھ رہے گا وہ ابد تک یونہی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ نے پابند نظموں کے نثری ترجمے تو سنے ہوں گے لیکن ضمیر احمد وہ واحد مترجم ہیں جنہوں نے نثری نظموں کے منظوم ترجمے کیے ہیں۔ پابلو نرودا کا مصرعہ ہے

Loving is short, forgetting is long
ضمیر احمد اس کا منظوم ترجمہ کرتے ہیں
عشق ہوتا ہے مختصر لیکن
دیر لگتی ہے بھول جانے میں

پابلو نرودا کی وہ نظم ہے تو طویل لیکن ضمیر احمد کے اعلیٰ ترجمے کی آئینہ دار ہے۔ اس لیے اس کے چند بند ملاحظہ ہوں۔

آج کی شب اداس شعر لکھوں
آج وہ شب ہے آج ممکن ہے
انتہائی اداس شعر لکھوں
مجھ کو اس سے بہت محبت تھی
گاہے اس نے بھی مجھ سے پیار کیا
ایسی راتوں میں بارہا میں نے
پیار سے اس کو ہم کنار کیا
اور ان بیکراں فضاؤں میں
باربار اس کو میں نے پیار کیا
اس کو مجھ سے بہت محبت تھی
گاہے میں نے بھی اس سے پیار کیا
اس کی چپ چاپ بڑی بڑی آنکھیں
کیسے ممکن تھا ان سے پیار نہ ہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آج وہ شب ہے آج ممکن ہے
انتہائی اداس شعر لکھوں
کیسے سوچوں وہ میرے پاس نہیں
کیسے مانوں میں کھو چکا ہوں اسے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ تو کہتی ہے شب کی پہنائی
وہ نہیں ہے تو اور بھاری ہے
بیکراں رات اس کی تنہائی
روح میں شعر یوں اترتے ہیں
گھاس پر جیسے اوس پڑتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہوا گر وہ ہو گئی ہے جدا
عشق میرا اسے نہ روک سکا
رات برباد ہو گئی ساری
وہ مرے ساتھ میرے پاس نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
غیر کی ہاں وہ غیر کی ہے اب
میرے محروم پیار کی مانند
اس کا نکھرا ہوا گداز بدن
اس کی آواز بیکراں آنکھیں
اب کسی اور کے نصیب میں ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں یہ سچ ہے کہ اب مجھے اس سے
کچھ تعلق نہیں ہے پھر بھی کبھی
ایسا لگتا ہے پیار اب بھی ہے
عشق ہوتا ہے مختصر لیکن
دیر لگتی ہے بھول جانے میں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے ایسی شبوں میں کتنی بار
اپنی آغوش میں لیا ہے اسے
روح کو پھر یقین کیسے ہو
واقعی میں نے کھو دیا ہے اسے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آج چاہے تمام ہو جائیں
تو نے جو درد مجھ کو بخشے ہیں
آخری شعر ہوں یہ تیرے نام
آج جو شعر میں نے لکھے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آخر میں میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ میری خوش بختی ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی چند شامیں ضمیر احمد کے ہمراہ گزاریں اور ان سے زندگی کے کچھ راز جاننے کا موقع ملا۔ وہ اس دار فانی سے گزر جانے کے باوجود بہت سے پیاروں اور مجھ جیسے پرستاروں کے دلوں میں بستے ہیں۔ ان کے عالمی ادب کے تراجم اردو ادب کے لیے قیمتی تحفے ہیں۔ ضمیر احمد ایک باذوق اور باضمیر انسان اور ایک مخلص دوست تھے اور ایسے انسان اب دنیا میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 351 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *