سہ ماہی ”الزبیر“ بہاول پور: آسمان ادب کا مہر منور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق صدر، شعبہ تاریخ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، اردو اکادمی بہاول پور کے معتمد عمومی، ممتاز مصنف، محقق، مورخ اور مرتب پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کی طرف سے علمی، ادبی و تحقیقی جریدے سہہ ماہی ”الزبیر“ اور ادب، سیاست، مذہب کے حوالے سے خوبصورت تحاریر کے مرقع میگزین ماہنامہ ”الہام“ کے تحائف بذریعہ ڈاک ایک ساتھ موصول ہوئے اور اس زمین زاد کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گئے۔

شاید ڈاکٹر صاحب نے اس لئے اس ناچیز کو اپنی محبت میں یاد رکھا ہو کہ ”الزبیر“ کے موصول ہونے والے شمارے میں ہمدم دیرینہ، ہمارے خوبصورت دوست اور پیارے بزرگ، ممتاز افسانہ نگار جناب محمد حامد سراج کے حوالے سے خصوصی گوشہ مرتب کیا گیا ہے، یا شاید اس لئے بھی کہ اس شمارے میں ہمارے شہر اوچ شریف سے تعلق رکھنے والے خاتون نازیہ زریں صاحبہ کا ”مخدوم شمس الدین گیلانی کی اردو غزل گوئی“ کے عنوان سے ایک مقالہ شامل اشاعت ہے، جس پر مذکورہ خاتون کو ایم فل کی ڈگری عطاء کی گئی تھی۔

برصغیر کے نابغہ روزگار محقق، شاعر، صحافی، ادیب اور سیاست دان کے طور پر جناب سید مسعود حسن شہاب دہلوی مرحوم کا نام اور ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ آج سے تین دہائیاں قبل ہم پہلی بار شہاب صاحب سے ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”خطہ پاک اوچ“ کے ذریعے متعارف ہوئے جو انہوں نے ہمارے والد گرامی رسول بخش نسیم کو اپنے دستخط و نام کے ساتھ ارسال کی تھی اور ابا جی اس کتاب کو حرز جاں بنا کر میز کی دراز میں تالا لگا کر رکھتے تھے۔ بعد ازاں ان کی زبانی شہاب صاحب کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا اور ہم غائبانہ طور پر ہی شہاب صاحب کے مداح بن گئے۔

خانوادہ ء شہاب نے دبستان دہلی سے لے کر دارالسرور بہاول پور تک شعور و ادراک اور علم و آگہی کے انجم و خورشید سجا کر تخلیقی کمالات کی ایک ایسی کہکشاں ہمارے سامنے رکھی ہے جس کی جلوہ آرائی آٹھ دہائیوں سے آنکھوں کو خیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اذہان کو بھی فکری توانائی فراہم کر رہی ہے۔

سید مسعود حسن شہاب دہلوی صاحب سے لے کر پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی اور عابد حسن رضوی صاحب سے لے کر سید مشہود رضوی اور پھر سید شہیر حسن رضوی و سید منعم حسن رضوی تک۔ ۔ ۔ ایک ترتیب چراغوں کی ہے جو مسلسل اپنی لو سے اجالے کئیے جا رہی ہے۔ ”گلشن شہاب“ اپنے فکری اور علمی کردار کے حوالے سے اپنی ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتا ہے اور ایک زمانہ اس کا معترف ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کے زیر ادارت شائع ہونے والا سہہ ماہی ”الزبیر“ علم و ادب کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید کے حسین امتزاج سے مزین ہے۔ ”الزبیر“ کے مقالات اور مضامین ایسی تروتازہ شاخیں ہیں جن پر مفاہیم کے خوبصورت گلاب کھلے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ یا اگر اسے ستاروں بھرا آسمان کہا جائے تو بے جاء نہ ہو گا۔ ۔ ۔ ایک ایسا آسمان جس کے ذریعے روشنی کی ترسیل ذہن کی زمینوں تک ہوتی ہے۔

”الزبیر“ میں آپ کو کلاسیکی ادب سے معاصر ادب اور تنقید و تحقیق کے موضوعات پر نظری اور عملی دونوں اقسام کے مضامین مل جائیں گے لیکن ان میں کہیں بھی سطحی پن نہیں ملے گا، یہ اردو زبان و ادب کا نمائندہ ایک ایسا معیاری جریدہ ہے جس میں تخلیقات کی اشاعت کا ایک پیمانہ، ایک معیار مقرر ہے (اور ہماری بدقسمتی کہ ہم ابھی تک اس معیار پر نہیں پہنچ پائے )

یہ امر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کی وسعت نظری، بلند حوصلگی، علم دوستی اور ادب پروری پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس گئے گزرے دور میں بھی ”الزبیر“ کو باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے ہیں جب ہر قسم کی تخلیقی سرگرمیوں کو بے کاری و لاحاصلی کا مشغلہ قرار دیا جا رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کو ملک و قوم کی ترقی سے مشروط بنا دیا گیا ہے، حالانکہ تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ جن تہذیبوں سے ادب اور آرٹ کو منہا کر دیا گیا وہ زوال پذیر ہو کر فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔

ادب اور فنون لطیفہ قوموں کی زندگی میں جمالیاتی قدروں کے پاسبان اور سوسائٹی میں توازن پیدا کرنے کی عامل قوت ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب نامساعد حالات اور مالی مشکلات کے باوجود ”الزبیر“ کے ذریعے نہ صرف تخلیقی دور کے احیاء کی کاوشوں میں مصروف ہیں بلکہ اردو اکادمی کے پلیٹ فارم پر تحقیق، علم اور ادب کے لئے سازگار تخلیقی ماحول پیدا کرنے کے متمنی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply