جب اوسلو میں سگے بھائی نے تین پاکستانی بہنوں کو قتل کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 اکتوبر 2006 رات ڈھائی بجے ہیومن رائٹس سرویس ناروے کو ایک ایس ایم ایس آیا ” تین بہنوں کو ان کے بھائی نے قتل کر دیا۔ لعنت ان پاکیوں پر” بھیجنے والی ایک پاکستانی خاتون تھی جو اس بہیمانہ قتل پر بپھری ہوئی تھی۔

صبح تک یہ بات پھیل گئی۔ پاکستانی نارویجین کمیونیٹی میں سب ہی اس ٹرپل مرڈر کی بات کر رہے تھے۔ میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہوا۔ اور اس سانحے کی بات ناروے کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں سنی جانے لگی۔

یہ تین لڑکیاں آپس میں بہنیں تھیں۔ ثوبیہ 27 سال کی، سعدیہ 24 سال کی اور نفیسہ صرف 13 سال کی تھی۔ ان پر گولیاں بھی چلیں اور کلہاڑے کے وار بھی ہوئے۔ قاتل ان کا 30 سالہ بھائی شہزاد خان ہے جس نے بے بس نہتی بہنوں پر پے در پے حملے کیئے اور انہیں موت کی نیند سلا کر ہی دم لیا۔ نظر یہی آتا ہے کہ یہ تہرے قتل غیرت کے نام پر ہوئے۔

بڑی بہن ثوبیہ کی 1998 میں جبری شادی اس کے کزن سے کر دی گئی۔ اس کا شوہر ناروے آ گیا اور اسی گھر میں رہنے لگا جہاں پہلے ہی پورا کنبہ رہ رہا تھا۔ لیکن دونوں میں اختلافات تھے اور وہ بڑھتے گئے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی شوہر نے ثوبیہ اور اس کی بہن سعدیہ کو کسی بات پر مشتعل ہو کر چھری سے وار کر کے زخمی کیا۔ چھوٹی نفیسہ اس واقعہ کی چشم دید گواہ تھی۔ کزن شوہر پر مقدمہ بنا، سزا سنائی گئی اور ملک بدر کر دیا گیا۔ ثوبیہ نے طلاق لے لی۔ اس کے بعد سعدیہ کو بھی مجبور کیا جانے لگا کہ وہ اپنے ایک کزن سے شادی کرے۔ وہ انکار کرتی رہی۔ گھر کے مرد کوشش کرتے رہے اور ان بہنوں پر زور ڈالتے رہےکہ وہ پاکستان چلیں لیکن لڑکیوں نے جانے سے انکار کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ وہاں ان کی زبردستی شادیاں کر دی جایں گیں۔ اس خاندان کا پاکستان میں ایک اپنا بڑا سا گھر بھی ہے۔ لڑکیوں کو خطرہ تھا کہ وہ وہاں قید کر لی جایں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود شہزاد خان بھی جبری شادی کا شکار ہوا اور کئی سال کوشش کرتا رہا کہ اس بندھن سے خود کو آزاد کرا سکے۔

شہزاد خان ٹیکسی چلاتا تھا لیکن اس وقت بیماری کی چھٹی پر تھا۔ اور یہ بڑا کنبہ ایک ہی گھر میں رہتا تھا۔ شہزاد منشیات کا بھی عادی تھا اور وقوعہ کے دن بقول خود اس کے ڈرگز کے علاوہ واڈکا کے چند گلاس بھی پی چکا تھا۔

کیس چلنے سے پہلے شہزاد کا نفسیاتی چیک اپ ہوا کہ آیا وہ اپنے عمل کا ذمہ دار ہے یا دماغی مرض میں مبتلا ہے اور اسے خود پر اختیار نہیں ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق وہ صحیح الدماغ ہے اور اپنے اعمال کا ذمہ دار بھی۔ شہزاد خان خود کو مریض ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شہزاد نفسیاتی مریض رہا ہے اور اس کا علاج بھی ہو رہا تھا۔ شہزاد نے اس تہرے قتل کا الزام اپنی ماں پر عائد کیا جو 12 سال پہلے ہی فوت ہو چکی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ماں کی آوازیں آتی تھیں کہ قتل کر دو۔ اس نے اپنی نشے کی عادت کو بھی اپنے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ شہزاد اور اس کے خاندان کی نے کوشش تھی کہ اس حادثے کو غیرت کا نہیں مالی مشکلات کی وجہ قرار دیا جائے۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسے کچھ یاد نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا کیونکہ وہ اس وقت نشے میں تھا۔

ثوبیہ کو سر پر کلہاڑی کے 19 وار کیئے گئے۔ نفیسہ پر 5 وار ہوئے۔ سعدیہ پر سر، گلے اور اوپری جسم کو چار پانچ گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعد میں کلہاڑی کے چھے وار کیئے گئے۔ ہر وار خود جان لیوا تھا۔

شہزاد کے ایک چھوٹے بھائی عمر خان نے سب سے پہلے بہنوں کی لاشیں دیکھیں۔ وہ گھر آیا تو دروازہ مقفل تھا۔ اس نے کھڑکی کے شیشے سے جھانک کر دیکھا تو اسے اپنی ایک بہن زمین پر گری نظر آئی اور زمین خون سے تر تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح گھر کے اند داخل ہو گیا۔ شہزاد اس وقت گھر کے اندر تھا۔ لیکن بھائی کو دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گیا۔ لیکن بعد میں اس نے خود گرفتاری دے دی۔

اب یہ سانحہ پاکستان میں تو ہوا نہیں جہاں گھر والے قاتل کو معاف کر دیں اور کیس ختم ہو جائے۔ یہاں ریاست خود فریق ہوتی ہے۔ کیس چلا۔ شہزاد کو 21 سال قید کی سزا ہوئی، جو سنگین ترین ہے

قاتل کا دفاع ناروے کے مشہور پاکستانی نژاد وکیل عابد راجا نے کیا۔ وہ سیاست میں بھی فعال ہیں اور ان دنوں ثقافت کے وزیر ہیں۔ عابد راجا اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ روشن خیال ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں اور پاکستانی تارکین وطن کو یہاں کے ماحول اور قوانین کے احترام کی تاکید کرتے ہیں۔ اپنے بیانات کی وجہ سے مذہبی حلقوں کی طرف سے انہیں کئی بار تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لیکن اس کیس میں ایک قاتل کا دفاع کرتے نظر آئے۔ خیر یہ وہی بات ہے۔ سیاست میرا شوق اور وکالت میرا پیشہ ہے۔

یوں تو اس واقعہ سے پہلے بھی یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ تارکین وطن اپنی خواتین کے ساتھ اتنا پرتشدد سلوک کیوں کرتے ہیں؟ اور یہاں کے ماحول میں کیوں نہیں ڈھلتے؟ لیکن اس واقعہ کے بعد تو ایک لمبی بحث شروع ہو گئی اس قسم کی ذہنیت کی وجوہات کیا ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟ یہ پہلا واقعہ ہر گز نہیں ہے۔ اس قسم کے اور واقعت ہوئے ہیں۔ بہٹیاں اور بہنیں قتل ہوری رہی ہیں، لیکن اس تہرے قتل نے سوسایئٹی پر گہرا نقش چھوڑا۔

ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ عورتوں پر ان کے اپنے ہی یہ ظلم کیوں ڈھاتے ہیں؟ اس واقعہ کو دیکھ کر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ خاندان اپنی فرسودہ روایات پر قائم تھا۔ اور ناروے کے قانون اور یہاں کی شخصی آزادی کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ جو لوگ ملک سے ہجرت کر کے مغربی ممالک میں آ بسے وہ اسی دور میں رک کر رہ گئے جس میں وہ اپنے ملک میں تھے۔ پاکستان میں تو شاید لوگ کچھ روشن دماغ ہو گئے ہوں لیکن یہ مہاجرین اسی قدامت سوچ کو لیئے ہوئے ہیں۔ جہاں مرد کی حاکمیت اور عورتوں پر برتری رہی ہے گھریلو تربیت میں بھی بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق رکھا گیا۔ یہاں بھی اپنے بیٹوں کو یہی سکھایا گیا کہ تم صرف تم نہیں ہو۔ تم پورا خاندان ہو اور اس کی عزت کے محافظ بھی تم ہو۔ بھائی اگر چھوٹا بھی ہو تو بہن کو اس کی بات ماننی ہے۔ خاندان کی غیرت کے رکھوالے بھی تم ہی ہو۔ لڑکیاں تعلیم تو حاصل کر لیتی ہیں اور جاب کی اجازت بھی مل جاتی ہے۔ لیکن مرضی سے  شادی نہیں کر سکتیں اور نہ ہی خود مختاری سے اپنے فیصلے کر سکتی ہیں۔

ایک ہی گھر میں پورا کنبہ رہ رہا ہے۔ بچے بھی ان کے عام اسٹینڈرڈ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ گھر میں رش سا لگا رہتا ہے۔ لڑکوں کی شادی کر کے بہووں کو بھی ساتھ ہی رکھا جاتا ہے۔ ان کے بھی بچے ہو رہے ہیں۔ لڑکیوں کی شادی کی داماد بھی وطن سے لایا گیا اب وہ بھی وہیں رہ رہا ہے۔ کسی کی کوئی پرایئویسی نہیں ہے۔ اور ساتھ رہنے سے گھر میں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ حکمرانی مردوں کی ہوتی ہے اور عورتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بنا چوں و چرا کیے ہر بات مانتی جائیں گیں۔

ان کا ملنا ملانا بھی اپنوں اور اپنوں جیسوں سے ہی ہے۔ وہی پرانی سوچوں، دقیانوسی خیالات، فرسودہ رسم و رواج۔ وہی برادری کا دباؤ۔ وہی لوگ کیا کہیں گے کا خوف۔ جس کی جتنی بڑی برادری ہے اس کا اتنا ہی بڑا خوف ہے۔

اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ یہ جو اتنی ڈھیر ساری ہر فرقے اور ہر مسلک کی مساجد ہیں ان کے اماموں کو ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مذہب کی صحیح اور اصلی تصویر سامنے رکھیں۔ پرانی روایات اور سوچ کو بدلیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں اس کے قوانین کا احترام کریں۔ صنفی مساوات جو ملک کا قانون ہے اسے اپنے گھر میں بھی رائج کریں۔

پاکستانی کمیونیٹی سے آوازیں آیں کہ لڑکیاں کچھ زیادہ ہی آزاد خیال ہو گئی تھیں۔ اور بھائی کے کہے میں نہیں تھیں۔ انہوں نے پاکستان جا نے سے انکار کیا۔ ثوبیہ نے طلاق لے لی اور اب اپنا اپارٹمنٹ بھی خرید لیا تھا اور دوسری دو بہنیں بھی اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔ ان کی ماں فوت ہو چکی تھی۔ باپ کا زیادہ وقت پاکستان میں گذرتا۔ دوسرا بھائی چھوٹے تھے۔ اس لیے شہزاد ہی بہنوں کا رکھوالا اور سرپرست تھا۔ اتنی آزاد خیال لڑکیوں کے ساتھ ایسا تو ہونا ہی تھا۔

خاندان کے سب افراد نے یہ بات بھی طے کی کہ اس موضوع پر کم سے کم بات کریں۔ پولیس کو بیان دیتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ جائے وقوع یعنی وہ گھر جہاں پورا خاندان رہتا تھا پولیس نے تفتیش مکمل کرنے تک بند کردیا تھا۔ چھوٹے بھائی طاہر خان نے اپنی اور اپنے باقی گھر والوں کی طرف سے کہا پہلے ہمارا گھر ہمیں واپس کرو پھر ہم بیان دیں گے۔ پولیس نے یہ مطالبہ رد کردیا۔ کیونکہ ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی۔ طاہر نے یہ بھی کہا کہ اس کی فیملی کے باقی لوگ پاکستان میں ہی رہیں گے کیونکہ اب یہاں ہمارا گھر پولیس کی تحویل میں ہے۔ اس طرح گھر کے بیشتر افراد بیان دینے سے بچ گئے۔ ان کے بیچ طے بھی یہی ہوا تھا کہ کم سے کم بات کی جائے۔ گھر والوں کی پوری کوشش تھی کہ ان بہنوں کے بہیمانہ قتل کو غیرت کے نام پر قتل نہ کہا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ذہنی مریض کا عمل ہے جو معاشی دباو کا بھی شکار تھا۔ اس کے جواب میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پھر لڑکیاں ہی قتل کیوں ہوئیں؟ کوئی بھائی نشانہ کیوں نہ بنا ؟ کیا یہ بھی ممکن تھا کہ قاتل ذہنی مرض کا شکار ہو کر اپنے بھایئوں کو مار ڈالتا؟

 یہاں وہ تین بے قصور لڑکیاں ہی مظلوم نہیں ان کا قاتل بھی کسی حد تک مظلوم ہے۔ وہ خاندنی دباؤ کا شکار تھا۔ خاندان کی ” عزت اور غیرت” کا بھاری بوجھ اس کے کاندھوں پر تھا۔ اس کی جیسی تربیت کی گئی، جو سکھایا گیا اور جو اس نے دیکھا وہ یہی تھا کہ لڑکیاں اپنی مرضی نہیں کر سکتیں۔ نفسیاتی مریض تھا اور دوائیں لے رہا تھا۔ وہ خود بھی جبری شادی کا شکار تھا۔ منشیات اور الکوحل کا استعمال کرتا تھا۔ بہنوں کی شادیاں نہ ہونے پر خاندان اور برادری کی باتیں سننی پڑتیں۔ منتشر خیالات اور منفی سوچیں اس پر حاوی رہیں۔ اور ایک دن یہ آتش فشاں پھٹ پڑا۔

کیس عدالت میں چلا تو دو گواہوں نے بیان دیا کہ ان بہنوں کو اپنی جان کا خطرہ تھا۔ بڑی بہن ثوبیہ کی ایک دوست نے کہا کہ بڑی دو بہنوں کو ڈر تھا کہ انہیں پاکستان لے جا کر زبردستی شادیاں کر دی جایں گی یا انہیں مار ڈالا جائے گا۔ اس سے عدالت کو یہ شبہ بھی ہوا کہ یہ قتل وقتی اشتعال میں نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبے کے تحت کیئے گئے۔ ایک گواہ کا یہ کہنا تھا کہ اس نے سنا تھا کہ یہ قتل اس بات پر ہوئے کہ خاندان کی عزت کو بچایا جائے کیونکہ یہ بہنیں اپنی مرضی کرنا چاہتی تھیں۔ وہ خود سر ہو رہی تھیں۔

ایسا نہیں ہے کہ یہاں مرد عورتوں کو قتل نہیں کرتے۔ ایسے واقعات یہاں بھی ہوتے ہیں۔ کوئی حاسد بوائے فرینڈ یا سابقہ شوہر ایسا تشدد کرتا ہے۔ لیکن غیرت کے نام پر اپنی بیٹیوں، بہنوں کو قربان نہیں کرتا۔ اس واقعہ کے بعد یہ مطالبہ بھی کیا جانے لگا کہ غیر ملکیوں کے متعلق قوانین سخت کیئے جایں۔ شادی کی قانونی عمر واضح کی جائے۔ جبری شادی کی روک تھام کی جائے۔ لڑکیوں کو اپنے جائز حق کے لیے کھڑے ہونے پر ان کی مدد کی جائے۔

کچھ پاکستانی حلقوں سے آوازیں اٹھیں کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے۔ ہم کب تک یہ ظلم کرے یا ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ وہ وقت کب آئے گا جب ہم اپنی بیٹوں کو ان کی مرضی کی زندگی گذارنے کا حق دیں گے، وہ حق جو ان کا اپنا ہے اور اسے غصب کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ بیٹیاں مال نہیں جنہیں آپ اپنی مرضی سے خرچ کریں، یا دبا کے رکھ دیں یا لٹا دیں یا کسی کو بخش دیں۔ لیکن یہ آوازیں سوئے ہوؤں کو جگانے کو کافی نہیں۔ اتنے بڑے المیے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا یہی خیال ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہونا ہی تھا۔ وہ اپنی مرضی جو کرنے لگیں تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply