کپتان کی اننگز، زرداری کی چالیں اور اپوزیشن

چند روز قبل ایک تحریر میں لکھا تھا جب تک سیٹی نہیں بجتی کچھ نہیں ہوگا اپوزیشن کسی ایڈونچر کا سوچے گی تو غش کہا کر گر پڑے گی اور حال صادق سنجرانی کی تحریک عدم اعتماد سے برا ہوگا تو پھر اب اپوزیشن کے اقدامات عجیب سے لگتے ہیں۔ ان چند دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ قربانی کی عید سے پہلے ملاقاتیں شروع ہوئیں اور عید کے بعد اے پی سی بلا کر موجودہ تبدیلی سرکار کی حکومت کی قربانی کی باتیں اپوزیشن کی جانب سے پھر سے شروع ہو گئی ہیں۔ کیا سیٹی بج گئی ہے؟

چلو جو بھی ہو آج خبری چرواہے سے دو کام ہیں۔ اس سے حال احوال اور خبر بھی لینی ہے۔ عید قربان کے لئے ہانی کی پسند کا سفید بکرا بھی لینا ہے اور اس دشت میں ایک مقام پر چرواہا مل ہی گیا تو میں نے اپنے شوانگ سے حال پوچھ ہی لیا کیا ہوا کیا سیٹی بج گئی ہے۔ کیا فیصلہ ہو گیا ہے۔ چرواہا اپنے ریوڑ کو ہانکتے ہوئے ارررررررررررررر کر کے بیٹھ گیا اور پھر چرواہا مسکرا دیا اور کہا تم بھی تو سادہ سے بلوچ ہو یہی تو فرق ہے۔

Read more

دہشت گردی اور اب کرونا, بلوچستان کی صحافت نرغے میں

مارچ دو ہزار بیس کا پہلا ہفتہ ہے۔ میں اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی سے کوئٹہ کی طرف بذریعہ سڑک رواں دواں ہوں۔ دوران سفر اہلیہ مسلسل سفر بخیر پورا ہونے کے لئے اللہ سے رابطہ قائم کرکے ورد میں مصروف ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ اس وقت دو پریشانیاں ان کے سامنے ہیں۔ ایک کراچی سے کوئٹہ کا پر خطر سفر اور دوسرا دنیا میں پھیلنے والی وبا کرونا کے نظر آنے والے کیسز اور ان کے اثرات۔ بلوچستان کے صحت کے نظام پر تنقیدی تجزیہ کرتے ہمارا سفر جاری ہے۔

جہاں ہم کراچی سے کوئٹہ محو سفر تھے۔ وہیں کرونا بھی تفتان سے کوئٹہ کی طرف محو سفر تھا۔ ہماری کوئٹہ آمد کے چند روز بعد ہی زائرین کی کوئٹہ منتقلی شروع ہوچکی تھی۔ اس وقت تک ہماری حکومت اور عوام کی حساسیت کی حالت یہ تھی کہ کوئی اقدام نہیں کوئی احتیاط نہیں۔ ہمارے میڈیا کے دوست تفتان سے لے کر کوئٹہ تک ایسے ہی کوریج میں مصروف تھے جیسے ماضی میں یا عام طور پر بریکنگ نیوز کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔

Read more