پابلو ایسکوبار کے پہلے بیٹے روبرٹو: ’ہمیشہ یاد رکھنا، تم ایک ایسکوبار ہو‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پابلو ایسکوبار کی اپنی بیوی کے ہمراہ تصویر

Getty Images
پابلو ایسکوبار کی اپنی بیوی کے ہمراہ تصویر

پابلو ایسکوبار کے پہلے بیٹے روبرٹو ایسکوبار کو بہت عرصے تک اپنے والد کی اصل شناخت کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔

ان کی نئی کتاب ‘فرسٹ بارن: دی سن آف ایسکوبار‘ اس برس مارچ میں شائع ہو رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی سچ کی کھوج کی داستان سنائی اور بتایا کہ وہ کیسے اس حقیقت کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔

‘1989 میں ہمارے پاس انٹرنیٹ نہیں تھا اور مجھے گود لینے والا شخص (والد) اس وقت میڈرڈ میں کام کر رہے تھے۔ انھوں نے مجھے فون کیا۔ میں اس وقت شمالی سپین کے ساحلی علاقے میں کام کر رہا تھا۔

’انھوں نے کہا کہ وہ کرسمس شاپنگ میرے پاس آکر کریں گے اور وہ مجھ سے کوئی بات بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح مجھے اپنے والد کا پتہ چلا۔

’اس وقت تک (ایسکوبار) کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے مجھے یاد کروایا کہ یہ وہی آدمی تھا جس سے ملنے ہم میڈیئن جاتے تھے، تو میرے ذہن میں ان کی ایک تصویر بننا شروع ہوئی۔‘

روبرٹو ایسکوبار کے منھ بولے والد اس وقت برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے لیے کام کر رہے تھے۔ انھوں نے روبرٹو کی جان اس وقت بچائی جب وہ اپنی ماں کے ہمراہ فائرنگ کے بیچ پھنس گئے تھے۔ ان کی ماں کا انتقال ان کی آنکھوں کے سامنے گولی لگنے سے ہوا اور وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔

‘میں نے اپنے منھ بولے والد سے کئی بار کہا کہ میرے ذہن میں بہت سے ایسے مناظر ہیں جن میں لال رنگ کے ایک لباس میں ایک عورت ہے اور بہت شور ہو رہا ہے۔‘

‘کیونکہ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا تو مجھے یہ علم نہیں تھا کہ ان مناظر کے پیچھے حقیقت کیا ہے۔ مجھے خوفناک قسم کے خواب آتے، میرے والد نے خالی جگہیں پُر کیں۔ لیکن اس سارے عمل میں تین چار سال کا عرصہ لگا۔ انھوں نے آہستہ آہستے جھجکتے ہوئے مجھے یہ معلومات دیں۔ وہ مجھے اس بارے میں اس لیے نہیں بتانا چاہتے تھے کیونکہ اسوقت بھی انھیں اس واقعے کا بہت زیادہ افسوس تھا۔‘

روبرٹو ایسکوبار بتاتے ہیں کہ ان کے منھ بولے والد انھیں اُن کے اصل والد پابلو ایسکوبار سے ملنے کے لیے لے کر جاتے تھے کیونکہ ان دونوں کے آپس میں تعلقات تھے۔ وہ ایسکوبار کو کی نقل و حرکت کا پتہ رکھنے کے لیے ایسا کر رہے تھے۔

روبرٹو سے جب یہ پوچھا گیا کہ پابلو ایسکوبار کس طرح کے انسان تھے اور ان کی ان سے وابستہ یادیں کیسی ہیں تو وہ کہتے ہیں: ‘جب آپ بچے ہوتے ہیں تو آپ بڑوں کے برعکس چیزوں کو الگ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مجھے ایک خاص خوشبو یاد ہے اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں ان سے تھوڑا ڈرا ہوا ہوتا تھا۔

’میں بہت چھوٹا تھا تو مجھے حقیقت کا علم نہیں تھا لیکن مجھے ایک خاص پرفیوم کی خوشبو یاد ہے جو کہ چرس کی بو کے ساتھ ملی ہوتی تھی۔ میری ان سے وابستہ یادوں میں ایک سب سے یادگار واقعہ یہ ہے کہ ایک دن انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ مجھے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ میں ایک ایسکوبار ہوں۔‘

روبرٹو ایسکوبار نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ انھیں جب یہ پتا چلا کہ ان کا باپ وہ شخص ہے جس نے سینکڑوں لوگوں کا قتل کیا اور مایوسی پھیلائی ہے تو انھیں ایک قسم کا بوجھ اور درد محسوس ہوا۔

ان سے بی بی سی سی نے پوچھا کہ اپنے حقیقی والد کی شناخت جاننے کے بعد انھیں کیسا لگا تو انھوں نے بتایا: ‘یہ اچھی چیز نہیں تھی۔ میں اس شخص کو کسی بھی طریقے سے عظیم ثابت نہیں کرنا چاہتا اور اگر آپ نے کتاب پڑھی ہے تو آپ کو یہ پتا ہوگا کہ میں نے اس کے ذریعے ہرگز ایسا نہیں کیا۔ یہ بس ایک ایسی چیز ہے جسے میں بدل نہیں سکتا اور مجھے اس کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔‘

’بہت عرصے تک میں اس کی وجہ سے تکلیف میں رہا اور میں نے یہ کتاب 1994 میں لکھنا شروع کی لیکن ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے میں اسے مکمل نہیں کر پایا۔ میں بہت ہفتوں تک ہسپتال میں تھا۔ آپ کی زندگی کی شروعات اگر اس طرح ہوئی ہے تو آپ کو ڈپریشن جیسے مسائل کا سامنا ہوگا۔ شکر ہے کہ میں ان ساری مشکلات سے نمٹنے میں کامیاب ہوا ہوں اور اس میں بہت سے لوگوں نے میرا ساتھ دیا ہے۔‘

روبرٹو کی زندگی پر اپنے والد کی وجہ سے بہت گہرا اثر پڑا اور انھیں اغوا کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔

‘مجھے آج تک اس بارے میں علم نہیں ہے کہ وہ مجھے اغوا کرنے کی کوشش تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔ ہمیں نہیں پتا۔ لیکن ایسے کئی واقعات ہیں جو کہ میں نے اپنی کتاب میں تفصیلاً بتائے ہیں۔”

انھوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ ایسکوبار کی موت کے بعد انھیں اس بات کا ڈر تھا کہ انھیں جو سیکیورٹی مہیا کی گئی ہے وہ واپس لے لی جائے گی۔

‘مجھے اس واقعے کے بعد میرے گود لیے ہوئے والد کا فون آیا اور انھوں نے مجھے کہا کہ جب تم گھر پہنچو گے تو وہاں ایک نجی سیکیورٹی کمپنی گروپ فور کے اہلکار موجود ہوں گے اور اس کے اخراجات میں اٹھا رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس سپین کی سپیشل فورسز کا ایک اہلکار بطور باڈی گارڈ ہر وقت ساتھ ہوگا۔ اس سے مجھے اس واقعے کی نوعیت کا اندازہ ہوا اور میں نے سوچا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ یہ بہت ہی مشکل اثر خوفناک دن تھے۔ شکر ہے کہ اب چیزیں بہتر ہوئی ہیں اور اب سب ٹھیک ہے۔‘

پیبلو ایکسوبار

Getty Images

انھوں نے اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ پابلو ایسکوبار کی لاکھوں ڈالر کی وہ رقم جو کہ غائب ہے، اس رقم کی مزید معلومات کے بارے میں انھیں گود لینے والے والد نے کچھ اشارے دیے تھے جنھیں وہ سلجھانے میں ابھی کامیاب نہیں ہوئے۔ بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ اگر پیسہ ابھی بھی کہیں پر موجود ہے تو اس کا کیا جانا چاہیے۔

‘اس میں اگر کی بات نہیں اور پیسہ ابھی بھی وہیں کہیں موجود ہے۔ لیکن یہ نقد رقم کی صورت میں نہیں ہوگا بلکہ یہ مختلف چیزوں میں ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے میں ایک اور کتاب تفصیل سے لکھ رہا ہوں۔ لیکن یہ پیسہ اگر مل جاتا ہے تو اسے ان فلاحی اداروں کو دینا چاہیے جو کہ پابلو ایکسوبار کے مظالم کے نتائج سے نمٹنے میں مدد کررہے ہیں۔‘

پابلو ایسکوبار کون تھے؟

پابلو ایسکوبار سنہ 1993 میں کولمبیا میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے گئے تھے۔ حکام کی کوشش تھی کہ انھیں بھی گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا جائے لیکن انھوں نے آخری وقت تک مزاحمت کی۔

منشیات فروشی کی دنیا کا سب سے بڑا نام سمجھے جانے والی شخصیت پابلو اسکوبار کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے شہر میدائین سے تھا۔ اسی مناسبت سے ان کے گروہ کو میدائین کارٹل کہا جاتا تھا۔

27 سال قبل امریکہ کے ٹائم میگزین نے میدائین کو دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا تھا جہاں ڈرگ لارڈ شہزادوں کی طرح رہتے تھے اور ججوں اور پولیس اہلکاروں کا قتل عام سی بات تھی۔

اس شہر میں آئے دن سیکیورٹی فورسز کے چھاپے پڑتے تھے اور اکثر عام شہری لاپتہ ہو جاتے تھے جن کا بعد میں کوئی سراغ نہیں ملتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15374 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp