آئیے اور پاکستانی ڈرامے کو چار چاند لگائیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید الاضحیٰ کے ایام کے دوران پی ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل پر دو ترک اداکاروں سے انٹرویو میں یہ سوال نہایت ذوق و شوق اور عاشقانہ چاہت سے پوچھا گیا: کیا آپ پاکستانی ڈرامے اور فلموں میں کام کرنا چاہیں گے؟ کچھ ان دونوں کے بھی جذبات امڈ آئے اور وہ کہنے لگے : جی ہاں، کیوں نہیں؟ اگر ہمیں سکرپٹ پسند آیا تو ضرور پاکستانی ڈراما (یا فلم) میں کام کریں گے۔

انٹرویوز میں پوچھے گئے جذباتی اور احمقانہ سوالات سے قطع نظر زمینی حقائق پر مبنی کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جن کو کوئی پروڈکشن ہاؤس، یا پروڈیوسر ڈائریکٹر نظرانداز نہیں کر سکتا/سکتی، اگر اسے ترک اداکاروں کی ”مشہور زمانہ فنکارانہ صلاحیتوں“ سے فائدہ اٹھانا ہے تو:

٭ پاکستانی ڈراما کی زبان اردو ہے۔ کیا ترک اداکاروں کو اردو زبان آتی ہے؟

کچھ عرصہ قبل ایک انگلش کرکٹر کو ملک کی موبائل کمپنی کی انٹرنیٹ سروس کے اشتہار میں لیا گیا۔ وہ غریب صرف تین الفاظ بولتا ہے : ٹھنڈ پے گئی۔ پنجابی کے محض یہ تین الفاظ بولتے وقت موصوف کے دل پر جو قیامت گزری، وہ اس کے لہجے اور تاؑثرات سے عیاں ہو جاتی ہے۔ غالباً ترک اداکار بھی اردو بولتے وقت ایسی ہی قیامت ڈھایا کریں گے۔ اور یہ قیامت خیز اردو دانی یقیناً دو تین کروڑ مرد و خواتین کی جان لے جائے گی۔ (اچھا ہے، آبادی میں کمی کا اس سے زیادہ سادہ اور آسان نسخہ اور کیا ہوگا؟

) اردو زبان کا ایک ڈیڑھ سال کا کورس تو لازمی کرنا ہو گا۔ اور صرف سکرین پر ڈائیلاگز بولنے تک ہی بات محدود نہیں۔ پروڈیوسر، ڈائریکٹر، ڈراما نگار، ساتھی فنکار، اور پوری ٹیم سے بات چیت کرنا ہو گی۔ ان میں شامل سپاٹ بوائے یا دیگر فنکار جو انگلش سے نابلد ہیں، وہ کیسے موصوف کا مطلب سمجھیں گے؟ پھر تو پروڈکشن ہاؤسز اپنے کریو کے افراد کو ترک اداکار سے گفتگو کے لئے انگریزی کا کورس بھی کروائیں گے۔ کون سا پروڈکشن ہاؤس صرف ایک اداکار کی خاطر یہ مصیبت گوارا کرے گا؟

دوسری بات، ہر زبان کی باڈی لینگوئج اور تاؑثرات مختلف ہوتے ہیں۔ کیا ترک اداکاروں کو یہ بھی سکھانا ہوں گے؟ اچھا چلیں، اس مسئلے کا ایک حل کسی پاکستانی کی آواز میں ڈبنگ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا ترک اداکار صرف سکرین پر شکل دکھانے کے لئے کاسٹ کیے جائیں گے؟ یہ نہایت احمقانہ آئیڈیا ہے۔ پھر بھی کوئی عمل کرنا چاہے تو میدان عمل حاضر ہے۔

٭ پاکستانی ڈرامے کا موضوع ترک ڈراموں سے یکسر مختلف ہے۔ نہ پہاڑوں اور جنگلوں میں شوٹ، نہ جنگ جو قبائل کی جنگ و جدل، نہ محلاتی سازشیں، تو کیا بیچارے ترک اداکار ہمارے ڈرامے میں شکی اور سنکی شوہر، غریب عاشق، مجبور باپ، بھائی، بہنوئی، دیور/جیٹھ/سسر یا پھر عورتوں کے رسیا وغیرہ کے کردار کریں گے؟

توبہ توبہ، ایسی گھٹیا اور رشتوں کی پامالی پر مبنی کہانیاں بھلا ترک اداکاروں کے شایان شان ہیں؟ نہ بابا، سوچنا بھی مت۔ ایسے سکرپٹ کو تو ترک اداکار جوتی کی نوک پر رکھتے ہوں گے۔ مگر اس طرح تو ترک بھائیوں کو پاکستانی ڈراما کی سکرین کی زینت بنانا ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ پی ٹی وی اور اے آر وائی تو دھاڑیں مار مار کے روئیں گے۔

٭ کردار کا ایک اہم پہلو گیٹ اپ ہے۔ کیا ہمارے ڈرامے میں لمبی زلفوں اور بے ہنگم داڑھی مونچھوں کے پیچھے چھپی کرخت صورتوں کی کوئی جگہ ہے؟ یا پاکستان میں بھی ویسا ہی ڈراما بنانا ہو گا جس میں ایسی شکلوں کی گنجائش اور ضرورت ہو؟ لیکن اس کے لئے تو کئی کروڑ درکار ہوں گے۔ کون سا چینل اس سفید ہاتھی کو پالنے کی جراؑت کرے گا؟ پی ٹی وی کی تو ہرگز اتنی اوقات نہیں۔ اے آر وائی یا جیو شاید ایسا کرنے کا سوچیں۔ کام تو مشکل ہے مگر جب پاکستانی کچھ کرنے کا ارادہ کر لیں تو کون روک سکتا ہے؟

٭ اگر پاکستان میں بھی ارطغرل جیسا ڈراما تخلیق کیا جائے تو کیا وہ ادارے یا برانڈز جو ازدواجی و غیر ازدواجی تعلقات، سسرال کے مسائل، محبت کی مثلث، دیور بھابی یا سالی اور بہنوئی کے چکر، اور سب سے بڑھ کر عورت کی مظلومیت پر مبنی موضوعات کو نہایت فراخدلی سے سپانسر کرتے چلے آ رہے ہیں، کیا وہ ارطغرل سے مشابہہ ڈرامے کو بھی اتنے ہی ذوق و شوق سے سپانسر کریں گے؟ اس کا جواب کافی حد تک ہاں میں ہے جس کا ثبوت پی ٹی وی پر اردو ڈبنگ کے ساتھ پیش کردہ ارطغرل کی کامیابی ہے۔

اگر ایسا ہو گیا تو پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں تو ایک بڑا انقلاب برپا ہو جائے گا۔ پاکستانی ڈراما بھی ترکی کی ٹکر پہ آ جائے گا۔ اور جس طرح ارطغرل غازی کو ترکی کا گیم آف تھرونز قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح ہم بھی شاہکار اور گیم آف تھرونز جیسی بلائیں پروڈیوس کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور آئی ایم ڈی بی پر ہمارے ڈرامے 10 / 10 کی ریٹنگ لایا کرے گا۔ (ہائے، کب وہ دن دیکھنا نصیب ہو گا؟ ) یہ معجزہ بلاشبہ ہماری ڈراما کہانیوں کے لئے کسی نشاۃ ثانیہ سے کم نہ ہو گا۔

تو پھر آج ہی سے اس انقلاب اور معجزے کا انتظار کرتے ہیں (لیکن سنا ہے کہ انقلاب ہمیشہ خونی ہوتا ہے۔ ہائے ہائے، اللہ خیر کرے۔ میرے تو دل کو کچھ بلکہ بہت کچھ ہوا جاتا ہے ) ۔ اللہ سے خیر کی دعا کرتے ہیں اور تب تک جلن، عشقیہ، اور میرے پاس تم ہو جیسے مقامی شاہکاروں سے دل بہلائے لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply