جب دہشت پھیلانے والا امن کا پرچارک بن جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کیا انسان بنیادی طور پر نیک ہے یا بد؟ اچھا ہے یا برا؟ خیر کا نمائندہ ہے یا شر کا استعارہ؟ تشدد پرست ہے یا امن پسند؟ وہ کیسے حالات ہیں جو ایک پارسا کو پاپی اور پاپی کو پارسا بنا دیتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں ماہرین بشریات ’نفسیات اور سماجیات برسوں‘ دہائیوں بلکہ صدیوں سے غور و خوض کر رہے ہیں۔

ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں نے نہ صرف بہت سے دانشوروں کے فلسفے پڑھے بلکہ بہت سے دہشت اور امن کے پرستاروں کی سوانح عمریاں بھی پڑھیں۔ میری نگاہ میں ہر انسان میں خیر و شر ’نیکی اور بدی‘ اچھائی و برائی دونوں طرح کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف واقعات سے دوچار ہو کر مختلف فیصلے کرتا ہے اور وہ فیصلے اس کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔

میں اپنی زندگی میں جن شخصیات کی سوانح حیات سے متاثر ہوا ان میں سے ایک Stanley Tookie Williamsسٹینلی ٹوکی ولیمز ہے۔ آ ج میں آپ کی خدمت میں اس کی زندگی کے چند نشیب و فراز پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ٹوکی ولیمز 1953 میں امریکہ کی کیلی فورنیا سٹیٹ میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی ایک سال کا ہی تھا کہ اس کا والد گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کی والدہ نے محنت مزدوری میں اتنا وقت صرف کیا کہ اپنے بیٹے کی صحیح طرح سے تربیت نہ کر سکی۔

ٹوکی بچپن سے ایسے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگا جن کا تعلق تشدد اور جارحیت کے ساتھ تھا۔ دھیرے دھیرے ٹوکی بھی ان کے ساتھ مل گیا اور لاس اینجلیز کے مختلف گینگز میں شامل ہو کر جرائم میں ملوث ہو گیا۔ جب وہ پکڑا گیا تو جیل بھیج دیا گیا جہاں اس کی ملاقاتیں مختلف پیشہ ور بدمعاشوں سے ہوئیں۔

جیل سے باہر نکلنے کے بعد جب اس سے کسی نے پوچھا کہ تمہارا مستقبل کا خواب کیا ہے تو اس نے کہا ’میں دنیا کے سب سے بڑے گینگ کا سب سے بڑا لیڈر بننا چاہتا ہوں‘ ۔ ٹوکی ولیمز نے کرپس گینگ بنایا اور اس گینگ کے ممبروں نے ٹوکی کو اپنا رہنما چنا۔

ٹوکی نے مختلف گینگز کے ممبروں کے ساتھ لڑائیاں لڑیں۔ وہ بہادر بھی تھا اور نڈر بھی۔ وہ جلد ہی مشہور بھی ہو گیا اور ہردلعزیز بھی۔ ٹوکی کی خواہش تھی کہ وہ ان کالوں کی مدد کرے جنہیں پولیس ہراساں کرتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ میں کالوں کی بلیک پاور موومنٹ اور بلیک پینتھر موومنٹ کالوں پر گوروں کے تشدد کے خلاف فعال تھی۔

1981 میں ٹوکی ولیمز پر چار لوگوں کے قتل اور ایک سٹور لوٹنے کا مقدمہ چلا۔ ٹوکی نے عدالت میں کہا کہ وہ معصوم ہے۔ اس کے لیے جو جیوری چنی گئی اس میں سے تین کالے لوگوں کو خارج کر دیا گیا۔ جیوری نے اسے مجرم ثابت کیا اور جج نے ٹوکی کو موت کی سزا دے دی۔

1980 کی دہائی میں ٹوکی نے چھ سال قید تنہائی میں کاٹے۔ اس قید تنہائی کے دوران اس نے خود اپنا محاسبہ کیا اور تشدد اور دہشت کو چھوڑ کر ایک پرامن شہری گزارنے کا فیصلہ کیا۔ جب دہشت کا پرستار امن کا پرچارک بن گیا تو اس نے جیل سے ہی امریکہ کے مختلف گینگز سے رابطہ قائم کیا اور ان کے درمیان صلح اور امن کا پرچار کرنے لگا۔

ٹوکی نے جیل میں ایسے کتابچے لکھے جن سے نوجوانوں کی اصلاح مقصود تھی اور انہیں جیل کے ناگفتہ بہ حالات سے آگاہ کرنا تھا۔ ٹوکی ولیمز جو ایک زمانے میں دہشت کا نمائندہ تھا جیل جانے کے بعد دھیرے دھیرے امن کا پرستار بن گیا۔

ٹوکی ولیمز کا امن کا پیغام آہستہ آہستہ سارے امریکہ میں پھیلنے لگا اور وہ ایک پرامن معاشرے کا خواب دیکھنے لگے۔ ٹوکی ولیمز نے اتنے نوجوانوں کو دہشت کی راہ چھوڑ کر کر امن کا راستہ اپنانے کی تحریک دی کہ اس کا نام امن کے نوبل کے انعام کے لیے پیش کیا گیا۔ ٹوکی ولیمز امن کے پرستاروں کے لیے ایک رول ماڈل بن گیا اور اس کے چاہنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔

2005 میں جب ٹوکی ولیمز کو موت کی سزا دینے کا وقت آیا تو جتنے لوگ اس کی موت کی سزا کے حق میں تھے اس سے کہیں زیادہ اس کے خلاف تھے۔ ان دنوں Arnold Schazenegger کیلی فورنیا کا گورنر تھا۔ اسے ساری دنیا سے خط آئے کہ ٹوکی کو معاف کر دیا جائے لیکن اس نے اپنا فیصلہ نہ بدلا۔

چنانچہ 13 دسمبر 2005 کو ٹوکی ولیمز کو جب سب کے سامنے زہربھرا ٹیکہ لگایا گیا تو موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ مرنے سے پہلے اس نے مسکراتے ہوئے گینگز کے لیڈروں کو پیغام بھیجا کہ وہ تشدد اور دہشت سے کنارہ کش ہو کر امن کو گلے لگائیں اور ان علاقوں کو امن کا گہوارہ بنائین جنہیں ٹوکی ولیمز اور اس کے ساتھیوں نے تباہ و برباد کیا تھا۔

ٹوکی ولیمز کی سزائے موت کے خلاف ساری دنیا میں ہنگامے ہوئے۔ ٹوکی ولیمز کی طرفداری کرنے والی عالمی شہرت یافتہ شخصیتوں میں جنوبی افریقہ کے نوبل انعام یافتہ سیاسی لیڈر نیلسن منڈیلا کی بیگم ونی منڈئیلا بھی شامل تھیں۔ ٹوکی کی وصیت تھی کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلایا جائے اور اس کی راکھ جنوبی افریقہ لے جا کر دفن کی جائے۔ ٹوکی ولیمز نے اپنی زندگی میں ثابت کر دیا کہ ایک دہشت گرد انسان نہ صرف ایک امن پسند انسان بن سکتا ہے بلکہ جیل میں رہ کر بھی انسانیت کی خدمت کر سکتاہے۔

ٹوکی ولیمز کا ضمیر صاف تھا۔ اسے زندگی کے ایک خاص موڑ پر امن سے محبت اور آشتی سے عشق ہو گیا تھا۔ اسی عشق کی وجہ سے اس نے مسکراتے ہوئے موت کو گلے لگایا تھا۔ ٹوکی ولیمز ندامت سے سر جھکانے کی بجائے فخر سے سر اٹھا کر مقتل کی طرف گیا تھا۔

ٹوکی ولیمز اپنی جان ہار کر زندگی کے امتحان میں جیت گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کو دہشت سے دور ہٹ کر امن کو گلے لگانے کا درس دیا۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد سہیل (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 363 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply