خوف زدہ بچے، بزدل معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس اولاد کے حصول کے لئے ہم دعاؤں، دواؤں سمیت ہر جتن کرتے ہیں، ملنے پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، بیٹا پیدا ہو جائے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی تربیت کے دوران بعض اوقات بچوں کو مختلف طریقوں سے خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ بلکہ تربیت کے لئے ڈرانے، دھمکانے کو کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! یہ ذمہ داریوں سے فرار ہے۔

بچوں کو خوفزدہ کیوں کیا جاتا ہے؟
1۔ والدین کو خود معلوم نہیں بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے؟

2۔ خوف زدہ کر دینا ایک کامیاب ترین وقتی ہتھیار ہے جو بچوں کو وقتی طور پر خاموش کر دیتا ہے، یہی والدین چاہتے ہوتے ہیں۔

3۔ ذمہ داریوں سے بھاگنے کا آسان راستہ ہے۔

4۔ بعض اوقات بچے والدین کے آرام میں خلل پیدا کرتے ہیں تو ان کو بعض چیزوں سے ڈرا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔

کن چیزوں سے خوفزدہ کیا جاتا ہے؟

1۔ جانوروں سے، بالخصوص کتے اور بلی سے۔ ڈوگی آ جائے گا، وہ دیکھو ڈوگی آیا، بلی آ گئی۔ وغیرہ۔ جلدی سوجاؤ، آنکھیں بند کرلو۔ اگرچہ آج کا بچہ اتنی جلدی ڈرتا نہیں مگر یہ ہر دور کا کامیاب ہتھیار ضرور رہا ہے۔

2۔ کیڑے مکوڑوں سے، خاص طور پر کیڑے اور چیونٹی سے۔ کیڑا کاٹ لے گا، چیونٹی کاٹ لے گی۔
3۔ بڑے بہن بھائیوں سے۔
4۔ ماں باپ سے، اکثر باپ سے۔
5۔ ٹیچر سے۔
6۔ اندھیرے سے۔
7۔ بند کمرے سے (بعض اوقات کنڈی لگا کر)
8۔ بچوں کی ناپسندیدہ چیزوں سے۔

9۔ یہاں تک کہ اللہ سے۔ اللہ کا تعارف تو رحمان اور رحیم کا ہے مگر اس کے غیض و غضب کو زیادہ اجاگر کیا جاتا ہے۔

جب بچے سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ یہ کرلو ورنہ فلاں چیز آ جائے گی۔ یہ فلاں چیز یقیناً وہ ہوگی جس سے بچہ کم از کم ایک بار خوفزدہ ہوا تو گویا والدین کے ہاتھ ایک کامیاب نسخہ آ گیا جو استعمال کیا جاتا ہے۔ جب ہم بچے کو اس کی ناپسندیدہ یا اس کو خوفزدہ کردینے والی چیز سے ڈراتے ہیں تو اس کے چہرے پر خوف کے مناظر ہوتے ہیں جو ایک مکمل اور با اعتماد بچے کی شخصیت کا حصہ ہو ہی نہیں خوفزدہ کرنے کا نقصان کیا ہوتا ہے؟

1۔ بچے بچپن میں ڈرے اور سہمے رہتے ہیں۔
2۔ جوانی میں بہتر فیصلے نہیں کر پاتے۔
3۔ عملی زندگی میں یہ خوف ساتھ ساتھ چلتا ہے۔
4۔ اعتماد کی کمی رہتی ہے۔
5۔ عملی زندگی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
6۔ شخصیت نامکمل اور بکھری رہتی ہے۔
7۔ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔
8۔ رسک نہیں لیتے۔ یعنی بزدل رہتے ہیں۔
9۔ محدود وسائل میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ جب کہ ان میں صلاحیت زیادہ وسائل حاصل کرنے کی ہوتی ہے۔
10۔ صلاحیتیں نکھر کر سامنے نہیں آتیں۔
فائدہ کیا ہوگا؟
اگر خوف نہیں ہوگا تو۔ ۔ ۔
بچے کی شخصیت متوازن رہے گی، وہ پر اعتماد اور عملی زندگی میں کامیاب انسان ثابت ہو گا، انشاءاللہ۔

خوفزدہ بچے بزدل معاشرہ بناتے ہیں جو کسی طور مناسب نہیں۔ بچوں کو خوف سے ڈیل کرنا سکھایا جائے، جو بہترین راستہ ہے، ان کا حق ہے اور والدین کی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply