آیا صوفیہ کی فتح دراصل استنبول کی فتح ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آیا صوفیہ استنبول میں جامع مسجد سلطان احمد کے قریب واقع ایک شاندار تاریخی عمارت ہے، جو پہلے چرچ تھا جسے 532ء میں بازنطینی بادشاہ نے بنایا تھا اور اس کی تعمیر پر 5 سال لگے۔ 537ء میں باقاعدہ طور پر اسے عوام کے لیے کھولا گیا۔ آیا صوفیہ دنیا میں فن تعمیر کا ایک عالی شان جہاں لیے ہوئے ہے، جسے رومی اور ترک انجینئروں نے کمال مہارت سے دنیا کی شاندار عمارت بنایا۔ آج بھی دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس عالی شان تعمیر کو دیکھنے آتے ہیں اور فن تعمیر کے اس عجوبے پر داد دیے بنا نہیں رہتے۔

916 سال تک آیا صوفیہ کیتھولک چرچ رہا، پھر مسلمانوں کی فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1453 ء میں استنبول (قسطنطنیہ) کی فتح کے بعد سلطنت عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا اور پھر اس کے بعد یہ تقریباً 418 سال تک مسجد رہی تاہم 1934ء میں جدید ترکی کے بانی مصطفٰی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اس وقت یہ عمارت اقوام متحدہ کے عالمی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

صدارتی حکم کے بعد آیا صوفیہ کی میوزیم کی حیثیت ختم ہوگئی ہے اور اس کا کنٹرول محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا ہے۔ ترکی کی اعلیٰ عدلیہ کونسل آف اسٹیٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 24 نومبر 1934 ء کا حکومتی فیصلہ جس میں اس عمارت کی مسجد کی حیثیت ختم کرکے میوزیم میں تبدیل کیا گیا وہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ آتے ہی ترک صدر نے صدارتی فرمان پر دستخط کردیے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق آیا صوفیہ سلطان فاتح محمد ٹرسٹ کی ملکیت ہے، جسے مسجد کے طور پر عوام کی خدمت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور آیا صوفیہ ٹرسٹ کی دستاویز میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ آیا صوفیہ کو مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ استنبول میں قائم یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھی۔

ایک وقت تھا جب اردوان اور ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے منتیں ترلے کیا کرتے تھے۔ ۔ ۔ (ترکی نے یورپی یونین میں فل میمبرشپ حاصل کرنے کے لئے کوششوں کا آغاز 1987 ع میں کیا تھا لیکن اردگان کے پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد 2005 ع سے ان کوششوں میں تیزی آ گئی تھی اب 2016 ع میں یہ مذاکرات ناکام ہو کر رک چکے ہیں )

آج وہی اردوان اور ترکی یورپ اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ فیصلے کر رہے ہیں جو انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہے۔ اردوان کو یہاں تک پہنچتے ہوئے ایک طویل سفر کرنا پڑا، جذبات کے بجائے حالات کے مطابق فیصلے کیے۔ یہ فیصلے تو شروع میں بھی ہوسکتے تھے لیکن اس وقت نہ تو اردوان کی سیاسی پوزیشن مستحکم تھی اور نہ ہی ترکی کے معاشی اور دفاعی حالات ٹھیک تھے۔

اپنے سیاسی نظریات کو عملی طور پر جامہ پہنانے سے پہلے دنیا میں پہلے چند کام ضروری ہوتے ہیں ؛
اپنی بقا اور سالمیت کو ہر اعتبار سے محفوظ کرنا
اپنی معاشی حالت کو درست کرنا اور عوام تک اس کے ثمرات پہنچانا
باہر کی دنیا پر اپنے انحصار کو کم کرنا اور ہر فیلڈ میں اپنے آپ کو خود مختار بنانا

یہ تین بنیادی کام ہوتے ہیں جن کے بعد ریاستیں اپنے آخری ہدف کی طرف بڑھتی ہیں اور وہ ہوتا Ideological expansion یعنی نظریاتی توسیع پسندی۔

یہی راستہ اردگان نے اختیار کیا، آج مشرق وسطیٰ میں لگی ہوئی آگ سے ترکی ابھی تک محفوظ ہے۔

ترکی فوجی طاقت کے اعتبار سے 11 واں بڑا ملک ہے، ناٹو میں شامل ممالک میں امریکہ کے بعد ترکی بڑی فوجی طاقت ہے، معاشی طور پر ترکی دنیا میں 19 ویں نمبر پر ہے۔ ترکی اب ڈرون طیاروں سے لے کر بحری جہاز اور الیکٹرک ٹرینیں تک خود بنارہا ہے باہر کی دنیا پر اس کا انحصار اب کم سے کم ہوچکا ہے۔

اردوان اگر حکمت کے بجائے جذبات سے کام لیتا، اور اس طرح کے فیصلے شروع میں کرتا تو شاید اس کی حکومت ختم ہوچکی ہوتی جیسے اخوان المسلمین کی حکومت کے ساتھ مصر میں ہوا، اس کے برعکس اردوان نے ایک طویل لیکن بار آور راستہ اختیار کیا۔

آج ترکی اگر اس فیصلہ تک پہنچا ہے تو اس کے پیچھے اردوان کے پچھلے سترہ سال کی محنت اور حکمت والی پالیسی ہے۔ آج جہاں اس فیصلے پر خوشی کا مقام ہے تمام مسلمانوں کے لئے وہیں یہ باتیں سیکھنے اور سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

81 برسوں بعد آذان دلوائی‎ اور اس پر بھی یورپ کے ممالک نے کافی ہنگامہ کھڑا کیا تھا، لیکن اب وہ میوزیم مسجد میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اب یہاں پانچوں وقت کی اذان گونجے گی۔

آیا صوفیہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی حکمت خداوندی ہے۔ 1459 ع میں فتح قسطننیہ کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا، 1935 ع میں کمال اتاترک مسجد کا دوسرا بڑا مرکز بنا رہا ہے۔

جب میں ترکی آئی تو جگہ جگہ کمال اتاترک کی تصاویر اور پوسٹر دیکھ کر سوچتی تھی کہ اتاترک واقعی کمال شخص رہا ہوگا۔ لیکن کافی لوگوں سے اتاترک کی برائی بھی سنی۔ میں استنبول میں تھی اور یہاں کے اکثر لوگ کمال اتاترک کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ اتاترک وہ سیاسی کردار تھا جس نے ترکی میں سیکیولرزم کی بنیاد ڈالی۔ اور کہا جاتا ہے ان کے دؤر میں ہر شہری کو کھلی آزادی تھی۔ مصطفیٰ کمال کو اتاترک کا لقب ان شرائط کی بنیاد پر ملا تھا۔

اسلامی شعار کا خاتمہ
اسلامی قوانین کا خاتمہ
ترکی معدنی ذخائر نہ نکال سکے
اور نہ بحری ٹیکس لے سکے

اس کے علاوہ اس دؤر میں نماز پڑھنا بہت ہی مشکل تھا، اگر کوئی شہری نماز پڑھتا تو سیکولر لوگ غصہ کرتے تھے۔ خلافت عثمانیہ کے دؤر میں خطیب، واعظ، عالم، مفتی، قاضی یہ اس زمانے میں تعلیمی ڈگریاں تھیں جو کہ اتاترک نے ختم کر دی تھیں۔ اتاتر نے کی آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کیا تھا۔ اب 86 برس بعد اسے ایک بار پھر مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔

سلطان فاتح نے استنبول کی فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کرنے کا فرمان جاری کیا تھا مگر کمال اتاترک نے اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ گزشتہ جمعے کو مسجد میں نماز ادا کی گئی جس میں ترکی کے صدر اردگان میں بھی شرکت کی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں یہاں سے گزر رہی تھی تو آیا صوفیہ پر بہت رش دکھائی دیا، مغرب کی اذان کا وقت تھا، اور لوگ رو رہے تھے، اور اللہ اکبر کی صدائیں آ رہی تھیں، اردوان کا یہ فیصلہ پڑوسی ممالک کے لیے منہ توڑ جواب ہے۔

چند روز قبل ہی میرا نیلی مسجد جانا ہوا جہاں ایک شہری ترکی کا جھنڈا لہرا رہا تھا، اور اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا، اس کے جھنڈے لہرانے کا مقصد آیا صوفیہ کو فتح کرنا تھا، آیا صوفیہ کی فتح دراصل استنبول کی فتح ہے اور استنبول کی فتح ترکی کی فتح ہے۔ کیوں کہ آیا صوفیہ کے بغیر استنبول ادھورا ہے۔ پرچم لہراتے وقت دونوں مساجد سے مغرب کی اذان کی آواز گونجی اور میری آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہاں آج بھی خلافت عثمانیہ کی نشانی آیا صوفیہ زندہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدف شیخ

صدف شیخ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہیں سندھی اور اردو رسائل و اخبارات میں کالمز لکھنا پسند ہے۔

sadaf-shaikh has 8 posts and counting.See all posts by sadaf-shaikh

Leave a Reply