ازدواجی زندگی کی غلام گردشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی

“ ڈاکٹر ! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں “

“کیوں بھئی، کیا ہوا “

“ شادی کے بعد میری ساس نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جاتی ہیں “

اور میں کچھ اور سوچ رہی تھی !

دنیا کے وجود میں آنے کے بعد گھر بنا بنیادی اکائی اور کردار تھے مرد و عورت، دو ساتھی۔

اور مجھے اماں حوا پہ خوب رشک آتا ہے، کیا مزے کیے ہوں گے نہ ساس کے لتے، نہ نندوں کی منافقت بھری سیاست اور بھائی کو قابو کرنے کے نسخے، نہ دیوروں کی فرمائشیں اور نہ خاوند کے ساتھ اکیلے وقت گزارنے کی حسرت۔

پہلے جنت کی دلفریب فضائیں اور دل کے میت کی ہمراہی، فرشتوں اور حوروں کی مکمل سپورٹ، پھر دنیا کا پورا میدان اپنا، تخلیہ ہی تخلیہ، جب مرضی اٹھتی ہوں گی، جب مرضی سوتی ہوں گی، پکانے کا دل نہیں کیا تو بابا سے فرمائش کرتی ہوں گی، دل ایک پنچھی کی طرح ہمکتا ہو گا، روح سرشار رہتی ہو گی، اور جب میاں بیوی راضی تو لڑائی کس بات کی۔

اماں میں آپ سے بہت جیلس ہوں

ایشیائی معاشرے میں بچوں کی شادی ماں باپ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی۔ مائیں لڑکی کے پیدا ہوتے ساتھ ہی جہیز جمع کرنا شروع کر دیتیں ہیں۔ لڑکیوں کو لڑکپن سے ہی تنبیہ ہونا شروع ہو جاتی ہے، ہر کام یہ کہہ کہ سکھایا جاتا ہے کہ نہ کرنےکی صورت میں ساس کے جوتے پڑیں گے۔ بہت سے معصوم خواب یہ کہہ کے رد کر دیے جاتے ہیں کہ اپنے گھر جاؤ گی تو کرنا۔ اور یہ تو بہت بعد میں پتہ چلتا ہے کہ گھر نام کی شے عورت کے نصیب میں نہیں لکھی ہوتی وہ ساری عمر باپ کے گھر، سسر کے گھر، شوہر کا گھر اور بیٹے کے گھر کے درمیان چکراتی رہتی ہے اور نکالے جانے کی تلوار ساری عمر اس کے سر پہ لٹکی رہتی ہے۔

لڑکوں کی مائیں بھی پیچھے نہیں رہتیں، بڑھتی عمر، گھٹنوں کا درد اور کام نہ کر سکنے کی شکایت، بہو کی آمد کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے۔ گویا بہو نہ ہوئی، ایک امرت دھارا جو دن میں ساس، نند، دیور اور سسر کا بوجھ سر پہ اٹھائے گا اور رات میں میاں کی دلداریوں اور ساری عمر کی دبی ہوئی فرسٹریشنز کا سہارا بنے گا۔

کوئی بھی لڑکی شادی کا جوا تو رخصتی سے پہلے ہی ہار دیتی ہے جب باپ کے اونچے شملے کا بوجھ اس کے سر پہ رکھ کے رخصت کیا جاتا ہے۔ معاشرے کا نام نہاد خوف اور اپنا مالی بوجھ جھٹکنے کے شوق میں بیٹی کو بتا دیا جاتا ہے کہ اب ہم تمہیں سپورٹ نہیں کریں گے، چاہے تم پہ فقروں کی سنگ باری ہو یا تمہیں کولہو کا بیل بننا پڑے، تھپڑ، گھونسے اور گالی گلوچ تو معمولی بات، چولہا پھٹ کے بھسم بھی ہو جاؤ تو اف مت کرنا اور پیچھے مڑ کے مت دیکھنا، آخر ہم نے ابھی تین اور بیاہنی ہیں

یہ ہے حوا کی بیٹی کی رخصتی اپنے پیارے ماں باپ کے گھر سے، جن ماں باپ کے گھر وہ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اپنے ماں باپ کی جسمانی آسودگی کا نتیجہ ہے۔ اب اس لڑکی نا چیز پہ خوب محنت اور پیسہ استعمال کر کے اسے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی اجازت اور کوشش کرنا تو معاشرے کے مروجہ اصولوں کے خلاف ہے، جہاں لڑکی کو تیار کیا جاتا ہے شادی کی سولی پہ چڑھنے کو۔ جو صدیوں کا چلن ہے۔ وہی ہو گا۔ اگر لڑکی کے منہ میں زبان اور ہاتھ میں پیسہ آ گیا تو وہ اس غلامی کا شکار کیوں ہو گی؟

چلیے رخصتی ہو گئی۔ لڑکے کے وہ ماں باپ جو اس کے سہرے کے پھول دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں، بہنیں جو ڈھولک بجا بجا کے بے حال ہو رہی ہیں، اب نئی فکروں کا شکار ہیں۔

بیٹے کے وقت، پیسے اور جذبات میں شراکت تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے، تو کچھ ایسا ہو کہ دن میں ہمارا بیٹا آنکھ اٹھا کے اپنی بیوی نہ دیکھے، ہاں رات میں کچھ پہر اس کی جسمانی آسودگی ہو جائے تو اگلے دن کے لئے تازہ دم ہو گا اور ماں باپ کی حد سے بڑھی ہوئی جذباتی وابستگی کو اپنی اگلی شام کے وقت سے ٹھنڈا کرنے کے لئے تیار۔

نئی آنے والی کو اگر گھر میں جگہ بنانی ہے تو نہ منہ میں زبان ہونی چاہیے اور نہ دماغ میں کوئی سوچ، ایک خود کار گڑیا ہو جو سارا دن گھر والوں کی ہر بات پہ آمنا وصدقنا کہے اور رات کو بستر میں بیٹے کی آغوش گرمائے۔نہ کوئی سوال، نہ کوئی جواب، نہ کوئی سوچ، نہ کوئی خواہش، نہ کوئی ارمان۔

اور ایسے میں شروع ہوتی ہے وہ سیاست جو بادشاہوں کے محلوں سے لے کے فقیر کی جھونپڑی تک نظر آتی ہے، بیٹے کے دفتر سے گھر آنے پہ اسے ماں کے ساتھ وقت بسر کرنے کی پابندی، آخر دن بھر کی جھوٹی سچی شکایتیں بیٹے کے کان میں انڈیلنے کا وقت وہی تو ہے۔

اسلام میں ماں باپ کےحقوق کی بار بار یاد دہانی، پرورش کے دوران پیش آنے والی مشکلات، جنت ماں کے پاؤں تلے کا تذکرہ، جوان بہنوں کی گھر میں موجودگی، ریٹائرڈ باپ کی ذمہ داریاں، اپنی خود ساختہ بیماریاں، بیٹےاور ماں کے اٹوٹ بندھن کی جذباتی کہانیاں، بیویاں تو پھر مل جاتی ہیں مگر ماں پھر کہاں جیسے ڈائیلاگ، بے چارے دولہا میاں کو کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتے، شادی اور بیوی کی موجودگی ایک ناکردہ گناہ بن جاتی ہے جس کا خراج روز دینا پڑتا ہے۔

وہ مرد اور عورت جن کے ملاپ کا مقصد باہمی ہم آہنگی، محبت، عزت اور وقار کے ساتھ ایک چھت کے نیچے دکھ سکھ کے ساتھی بننا، نسل انسانی کو بڑھانا، بچوں کو معاشرے کے فعال ارکان بننے کی تربیت دینا، کی بجائے ایک ایسی ترتیب کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں بے حساب استحصال، محبت حقوق اور فرائض کے نام پہ کیا جاتا ہے۔

وقت کا پہیہ گھومتا ہے، بڑے اگلے جہاں کو سدھارتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں ایک چھت کے نیچے انتہائی ناخوش اور بیزار دو ساتھیوں کو، جو ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جو کمزور بنیادوں کی وجہ سے گھر نہیں بن سکا، جن کے پاس ماضی کی سب تلخیوں کا پنڈورا باکس ہے جو کھلا ہی رہتا ہے۔ بیگانگی، بےزاری اور جذباتی سرد مہری کا جو بیج برسوں پہلے بویا گیا تھا ماں باپ کے تحفظات کی بنا پہ، اب ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کے سائے تلے اپنے باپ کی ریت پر عمل کرنے والا بھی ہے اور زمانے کی غلامی کی اسیر بھی، جو وہی درس اپنی بیٹی کو دے رہی ہے جو اسے ملا تھا۔ پیچھے مڑ کے نہ دیکھنے والی نصیحت کے ساتھ۔

فصل جو بوئی تو رشتوں کی ضروریات کے نام پہ گئی تھی مگر پھل انتہائی کڑوا نکلنا ہی مقدر ٹہرا کہ بنیادوں میں لہجے الفاظ اور روایات کا زہر انڈیلا گیا تھا

اور اب یہ زہر نئے آنے والوں کی رگوں میں اترنا ہے کہ یہی صدیوں سے ریت اور چلن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •