اکسٹھ سال لمبی رات: اجمل اجملی کی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر بستی، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی ایک الگ پہچان، الگ مہک، بلکہ الگ موسم ہوتا ہے۔ الٰہ آباد میں زندگی کے دس برس گزارے۔ اب خواہ مخواہ وہاں کی ہر بات یاد آتی ہے اور بہت سے لوگ، ایسے لوگ جن سے بے تحاشا محبت کی اور ایسے بھی جن سے روز کا ملنا جلنا رہا، مگر وہ ہماری زندگی اور ہمارے زمانے کا حصہ نہ بن سکے۔ اجمل اجملی، ہماری یادوں میں ایک مستقل جگہ رکھتے ہیں مگر ان کے بارے میں سوچنے، کچھ لکھنے اور باتیں کرنے کی نوبت شاید آج بھی نہ آتی اگر محمود الحسن (لاہور) نے یاد نہ دلاتا ہوتا۔ ان عزیز کا بھی کچھ عجب حال ہے ۔ جو کتاب پڑھی اس کا نام یاد۔ یہ بھی یاد کہ کس نے لکھی تھی۔ یہاں تک یاد ہے کہ کیا لکھا تھا۔ ایک روزانہیں اچانک اجملی صاحب یاد آگئے۔ اسی کے ساتھ ان کا کیا ہوا ایک ترجمہ … میرا داغستان !

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، بس تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ آصف (فرخی) نے مجھے اپنے چچا انور احسن صدیقی (مرحوم) کی خودنوشت آپ بیتی کا ایک نسخہ بھیجا۔ دو مہینے پہلے، آصف کے انتقال (پہلی جون 2020ء) کے بعد محمود الحسن سے کئی بار آصف کی باتیں ہوئیں، انور احسن صدیقی کی کتاب کا ذکر بھی آیا۔ اس دلچسپ کتاب میں شہر الٰہ آباد، نکہت کلب اور کچھ نوجوان ترقی پسندوں کے ساتھ ساتھ اجمل اجملی کا تذکرہ بھی ہے۔ افراد اور خیالوں کے سلسلے اس طرح بھی بنتے ہیں۔

اجملی صاحب الٰہ آباد کے رہنے والے تھے۔ نکہت کلب جس کی یادوں میں اردو کی ادبی روایت اور ادبی صحافت کے ایک پورے دور کی تاریخ چھپی ہوئی ہے، اس کے قیام اور سرگرمیوں کا کوئی تذکرہ اجمل اجملی کا نام لیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ وہ اس شہر کے ایک نامور صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے … دائرہ شاہ اجمل۔ صوفیا کے کئی سلسلوں میں سے ایک سلسلہ ۔ الٰہ آباد میں ایسے کئی بزرگوں کی یادگاریں ہیں جہاں سالانہ عرس اور اس نوع کی چھوٹی بڑی تقریبات کے دم سے ہمیشہ چہل پہل رہتی ہے۔ بہت پہلے، شیخ امام بخش ناسخ نے کہا تھا ۔

ہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا ہوں اب قدم

آئی کہاں سے گردش پرکار پائوں میں

اس شعر میں جس دائرے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہی دائرہ شاہ اجمل ہے۔ پرانے الٰہ آباد میں واقع۔ پرانا الٰہ آباد اور نیا الٰہ آباد دو الگ دنیائیں ہیں۔ شاید یہ دوئی (duality )اور ایک ہی شہر یا بستی میں دو مختلف دنیائوں کا فرق دکھائی دینا عام بات ہے۔ الٰہ آباد ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلنے کے دو راستے ہیں۔ ایک پرانے شہر کی طرف لے جاتا ہے، دوسرا سول لائنز کی طرف کھتا ہے۔ ایک طرف گنجان محلے ہیں، بھرے پرے بارونق بازار، گلیاں اور پرانے پن کی مہک، دوسری طرف قطار اندر قطار بنگلوں کے سلسلے، سبزہ زار اور فراغت کی فضا۔ دائرہ شاہ اجمل ہر طرف پھیلی گھنی آبادیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس دائرے میں زائرین کی وہ کثرت یا نذر نیاز کا ماحول اور وہ سارا کاروبار تقریباً معدوم ہو چکا ہے جس کے سلسلے زیادہ تر درگاہوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اجمل اجملی کا مکان دائرے کے ایک کونے میں اپنی سادگی اور بوسیدگی کے واسطے سے اپنے مکینوں کی نیکی اور اس دنیا کے عام تماشے سے الگائو اور دوری کا قصہ دہراتا رہتا ہے۔ اجملی صاحب کے والد میں، جنہیں اجملی صاحب کے پاس آنے جانے والے تمام دوست احباب ’’میاں‘‘ کہتے تھے، ایک انوکھی شان بے نیازی تھی۔ چہرے پر باطن کا سارا نور سمٹ آیا تھا۔ دھیرے دھیرے باتیں کرتے تھے۔ چال ڈھال میں بھی ایک رچا ہوا دھیما پن۔ پورے وجود پر نیکی برستی تھی۔

سچ تو یہ ہے کہ اجملی صاحب نے بھی، یونیورسٹی کی تعلیم سے فیض یاب ہونے کے باوجود، اپنے گھرانے کی اسی روایت کو بچائے رکھا۔ اپنی تمام ترقی پسندی اور اشتراکیت میں یقین کے باوجود انہوں نے اس درویشانہ مزاج میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جو ان کے گھر کی روایت تھی۔ اس روایت میں نرمی، انسان دوستی اور دھیما پن بہت تھا۔ میں نے وہاں کبھی کسی کو بحث کرتے ہوئے، زور زور سے بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اجملی صاحب کے گھر کی بیٹھک یا بیرونی کمرے میں ایک وسیع و عریض تخت بچھا ہوا تھا جس پر ایک ساتھ کم سے کم دس افراد آرام کر سکتے تھے۔ اجملی صاحب کے کچھ دوستوں نے، ان میں ہندو مسلمان دونوں شامل تھے وہیں رہنا شروع کر دیا تھا۔ دونوں وقت کا کھانا اندر سے آجاتا تھا، ایک بڑی سی سینی میں ڈال کا ڈونگا، ایک پلیٹ اچاروں سے بھری ہوئی اور مونجھ کی بنی ہوئی چنگیر میں بہت سی چپاتیاں۔ دن اور رات، دونوں وقت کا کھانا یہی ہوتا تھا۔ کبھی بھی چار پانچ سے کم کھانے والے نہیں دیکھے۔ ان میں اجملی صاحب کے غیر مسلم دوستوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور ہوتا تھا ۔ایک بنگالی کامریڈ، جنہیں سب کے سب دادا کہتے تھے، ان کا تو مستقل پیام بھی اسی کمرے میں تھا۔ اس تخت درویشانہ سے کبھی الگ نہ ہوئے۔

اجملی صاحب کے مالی حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ لیکن اس گھر کے کسی فرد کی زبان پر اپنی خستہ حالی کا ذکر نہ آیا۔ ایسی قناعت پسندی، عزت نفس کا ایسا احساس، دنیا طلبی سے ایسی دوری میرے لیے ایک انوکھا تجربہ تھی۔ دائرہ شاہ اجمل سے بمشکل سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر رانی منڈی کا محلہ تھا۔ اسی محلے میں رسالہ نکہت اور پربھات پبلی کیشنز کے دفاتر تھے۔ رسالہ ’شب خون‘ کا دفتر بھی تقریباً ملا ہوا تھا اور نکہت پبلی کیشنز والی گلی کے ایک کنارے پر یادگار حسینی کالج جس کے احاطے میں اکبر الٰہ آبادی کا مشہور زمانہ مکان ’’عشرت منزل‘‘۔ ایک عام روایت کے مطابق، پنڈت موتی لال نہرو نے اپنی نئی کھوٹھی بنوائی تو اس کا نام اپنے دوست اکبر الٰہ آبادی سے مشورہ کرکے ’’آنند بھون‘‘ رکھ دیا۔ (جو ’عشرت منزل‘ کا ترجمہ ہے)۔

رسالہ نکہت کے مالک اور مدیر عباس حسینی صاحب تھے۔ اس مختصر سے ادبی پرچے کو بہت کم وقت میں غیر معمولی کامیابی ملی، اپنی محنت، منصوبہ بندی اور اپنی چھوٹی سی ٹیم کی لگن اور صلاحیت کے باعث۔ ابن صفی (اسرار ناروی) ابن سعید، شکیل جمالی، راہی معصوم رضا، اسی ٹیم میں شامل تھے۔ حسینی صاحب نے نکہت کلب بھی قائم کیا جس نے ہندوستان گیر شہرت پائی۔

اجملی صاحب اور الٰہ آباد کئی نوجوان لکھنے والے جن میں بیشتر اجملی صاحب کے دوست اور ساتھی تھے، اس کلب کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ ان میں اکثریت ترقی پسندوں اور زندگی کی طرف رواداری کا رویہ اپنانے والوں کی تھی۔

عباس حسینی صاحب نے نکہت کے ادارے سے جاسوسی دنیا، طلسمی داستان، رومانی دنیا جیسے ماہانہ ناولوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا تو رسالہ نکہت اور نکہت کلب دونوں کی سرگرمی رفتہ رفتہ دھندلی ہوتی گئی۔ ماہانہ ناولوں کے سلسلے نے مقبولیت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اجملی صاحب کی مصروفیتوں نے بھی اب ایک نیا رخ اختیار کر لیا تھا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے ساتھ ہی دوستوں کا ایک نیا حلقہ بن گیا تھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسین صدر شعبہ تھے۔ ان دنوں شعبے کی ادبی سرگرمیوں کا معیار بہت بلند تھا۔ یونیورسٹی میں نہ صرف یہ کہ شعبہ اردو نے اپنی ایک ساکھ قائم کر لی تھی۔ اس کی تقریبات کا ذکر دور دور بھی ہوتا تھا۔ تھرسڈے کلب کی ہفتہ وار نشستیں جو بالعموم شعبے کے اندر اور کبھی کبھار کسی بیرونی مہمان کی آمد پر اعجاز صاحب کی کوٹھی نشیمن کے سبزہ زار میں ہوتی تھیں، بہت مقبول تھیں اس کلب کے اولین اراکین میں پروفیسر نور الحسن (سابق وزیر تعلیم)، ممتاز حسین، رضیہ سجاد ظہیر، بلونت سنگھ وغیرہ شامل تھے اور اس کی ہفتہ وار بھی نشستوں میں فراق صاحب، ڈاکٹر سرسوتی پرشاد اور دوسرے شعبوں کے اساتذہ بھی شریک ہوتے تھے۔ میں نے ملک راج آنند کو بھی پہلی بار یہیں دیکھا ۔ اجملی صاحب شعبے کے سب سے زیادہ فعال طلبا میں سے تھے۔ اعجاز صاحب بھی انہیں پسند کرتے تھے اور شعبے کی ادبی تقریبات کے سلسلے کی ذمے داریاں اکثر ان کے سپرد کر دیتے تھے۔

اجملی صاحب کے مزاج میں نرمی، دوست نوازی اور اپنے سے چھوٹی عمر رکھنے والے احباب کے لیے شفقت کا جذبہ بہت نمایاں تھا۔ ’عوامی دور ‘ کے مالی حالات درست کرنے کی غرض سے مشاعرہ ہوا تو اس جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ سجاد ظہیر صاحب (بنے بھائی) کے ساتھ فیض صاحب بھی الٰہ آباد آئے تھے۔ میں نے بنے بھائی سے زیادہ محبوب اور مقبول انسان، ادیبوں شاعروں میں ایک فیض صاحب کو چھوڑ کر کوئی اور نہیں دیکھا۔ لوگ ان پر جان چھڑکتے تھے۔ الٰہ آباد کے چند روزہ قیام کے دوران اجملی صاحب نے بھی ان کی بڑی خدمت کی۔ مشاعرے اور جلسے کے اہتمام میں دن رات لگے رہے۔ اس طرح تمام ترقی پسند حلقوں میں، چاہے ادیب اور شاعر رہے ہوں یا نوجوان طلبا اور طالبات، اجملی صاحب کو سب جانتے تھے اور ان کو پسند کرتے تھے۔

اجملی صاحب کے اندر بھری جوانی میں ایک بزرگانہ شان پیدا ہو گئی تھی۔ اکثر لوگ انہیں اجمل بھائی کہتے تھے۔ ان کے یونیورسٹی کے ساتھیوں میں غلام علی انصاری جو سوویت انفرمیشن سنٹر (دلی) میں ان کے مہم کار بھی رہے، فضیل جعفری، محبوب اللہ مجیب (جنہوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں اپنی دو کتابیں ’مغل تہذیب اور اینا کرنینا‘ کا اردو ترجمہ) شائع کر دیا تھا، یونس پرویز (جو بمبئی فلم انڈسٹری میں بطور کیریکٹر ایکٹر مشہور ہوئے)، خاص لوگ کہے جا سکتے ہیں۔ بیدی صاحب کی فلم دستک کی ہیروئن ریحانہ سلطان بھی بی۔ اے کی طالبہ تھیں۔ اعجاز صاحب کے ڈرامے مجاز میں غلام علی نے مجاز کا اور ریحانہ سلطان نے نورا کا رول ادا کیا تھا۔ اسلام بیگ چنگیزی، اجملی صاحب کے دوست اور ہم عصر طالب علم، جوش بنے تھے۔ یونس پرویز کا رول یاد نہیں مگر اس ڈرامے میں شامل وہ بھی تھے، بطور اداکار۔

شعبہ اردو کی تقریبات اور ڈراموں میں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ حصہ لینے والے کچھ طالب علم، جن میں طالبات بھی شامل تھیں، اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ کھوکھراپار کے راستے ہجرت کر گئے۔ یہ اشارہ یہاں اس لیے ضروری تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں دس بارہ برس تک اردو ثقافت اور معاشرے اور کالجوں یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے بتدریج جو بے رونق ہوئے، اس کا ایک اہم سبب یہ صورت حال بھی تھیں۔ کئی زندگیاں بھی تقسیم ہوئیں۔ ایک مستقل درد کی سوغات اپنے سینے میں چھپائے ہوئے۔ ایسی کہانیوں کا بہ قدر حوصلہ بیان پھر کبھی۔ یہاں بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ 1947 ء نے جو ستم ڈھائے اور جو نیا ماحول پیدا کیا اس کی تشکیل کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ ابھی تو ملک کے بٹوارے اور برصغیر کی اردو دنیا کے بنائو اور بگاڑ میں ایک دہائی کی دوری بھی رونما نہیں ہوئی تھی۔

اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو

کرتے ہو کوئی بات وہاں جا کے یہاں کی (ابن انشا)

خیر، ضروری نہیں کہ دنیا بدلے تو سب بدل جائیں۔ اجملی صاحب نے کچھ وقت کشمیر میں گزارا، ہماری یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے نکلنے کے بعد ایک کالج میں بطور لیکچرر، پھر دلی آگئے اور سوویت انفرمیشن سنٹر میں رسالہ ’سوویت دیس ‘ کے ادارتی عملے میں شامل ہو گئے۔

شہر دلی میں اجملی صاحب کی جیسی نظریاتی وابستگی رکھنے والے ادیب اور شاعر تعداد میں زیادہ نہیں تھے لیکن وہ سب کے دوست تھے، ترقی پسندی اور جدیدیت کی بحث و تکرار سے بے نیاز۔ ان کی ادبی سرگرمیوں پر اب شام ڈھلنے لگی تھی۔ الٰہ آباد کے دوران قیام میں ان کی دو کتابیں چھپ گئی تھیں، ایک ’’اردو کا تعلق ہندوئوں سے ‘‘ دوسری ’’شاعر آتش نوا‘‘ جس کے وہ شریک مرتب تھے غالباً یونس احمر کے ساتھ۔ پہلی کتاب متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، دوسری نذر الاسلام کے سوانح اور شعری تراجم پر مشتمل۔ دلی میں ان کی شاعری کا ایک انتخاب ’’سفر زاد‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ باقی اپنا سارا وقت وہ ترجمے کرنے میں گزارتے تھے، بالعموم سوویت یونین سے شائع ہونے والی کتابوں اور مضامین کے۔

ان کی زندگی اب بیوی بچوں میں سکون سے گزر رہی تھی۔ کبھی کبھار کوئی دوست آجاتا تھا یا اکا دکا بزرگ جس کی نظریاتی وفاداری اور ترجیحات سے اجملی صاحب کی وابستگی بھی مسلم تھی۔ مہدی صاحب، تاباں صاحب، بیگم رضیہ سجاد ظہیر اور سید سبط حسن سے میری کئی ملاقاتیں اجملی صاحب کے گھر پر ہوئیں۔ وہ ایک پرسکون گھرانا تھا، ہموار اور کسی قدر خاموش زندگی گزارنے والا۔ اجملی صاحب کی بیگم صوفیہ گورکھپور کی رہنے والی تھیں، بہت خوش مزاج اور محبت کرنے والی۔ دونوں میں باہمی ہم آہنگی اور چاہت بہت تھی۔ اچانک ایک روز ان کی طبیعت بگڑی، یرقان کے مرض نے آ لیا تھا۔ چند دنوں کی علالت کے بعد وہ رخصت ہو گئیں۔ اجملی صاحب اور ان کی چاروں بیٹیوں کے لیے یہ سانحہ بہت بڑا اور سخت تھا۔ یوں بھی اجملی صاحب کی صحت اکثر خراب رہنے لگی تھی۔ گھر سے ہسپتال آنا جانا معمول بن گیا تھا۔ بیماری، تنہائی اور ایک طرح کی بے بسی کے عالم میں انہوں نے ایک غزل کہی۔

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں

بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں

پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک ذرا رکو

میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں

یاروں نے جو سکوں کیا اس کا کیا گلہ

پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لوں

کل جانے کیسے ہوں گے، کہاں ہوں گے گھر کے لوگ

 آنکھوں میں ایک بار بھرا گھر سمیٹ لوں

تار نظر بھی غم کی تمازت سے خشک ہے

وہ پیاس ہے ملے تو سمندر سمیٹ لوں

اجمل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ

جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لوں

6  اگست 1993 ء کو تقریباً اکسٹھ برس کی عمر میں اپنا بکھرا ہوا سارا دفتر اور سینے میں زمانے بھر کی آگ سمیٹ کر اجملی صاحب نے عدم کی راہ اختیار کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •