اماں کا سفر پرتاپ گڑھ اور غلاف کعبہ کا تحفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شاید سنہ نوے کی بات ہے. میرے بڑے ماموں مرحوم نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادے عدنان کے ہمراہ اپنے ابائی وطن پرتاپ گڑھ کے سفر کا ارادہ کیا اس بات کا علم جب اماں کو ہوا تو انہوں نے بھی ساتھ جانے کی خواہش کی۔ وہ ہجرت کے بعد کبھی ہندوستان نہیں گئی تھیں اور ان کی شدید خواہش تھی کہ ایک بار اپنی جنم بھومی پرتاپ گڑھ دیکھ لیں اور اب جبکہ ان کے چہیتے بھیا بھی ساتھ ہوں تو کیا کہنے۔ ان کی خواہش کے پیش نظر میں نے اماں کے ویزے کی درخواست جمع کرا دی۔ ان دنوں ویزا ملنا اتنا دشوار نہیں تھا۔ چند دنوں بعد انہیں ویزا مل گیا۔۔۔ اماں نہال ہو گئیں اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔

چند روز بعد کینٹ اسٹیشن کراچی سے بذریعہ ریل یہ قافلہ روانہ ہوا۔ دوسرے دن ان کے لکھنؤ پہنچنے کی اطلاع مجھے ملی تو اطمینان ہوا۔ لکھنؤ میں چند روز قیام کے بعد یہ سب پرتاپ گڑھ چلے گئے۔ بمشکل ایک ہفتہ ہی گزرا ہوگا کہ اماں کا پیغام ملا کہ ریل کے سفر سے انہیں بہت بے ارامی ہوئی اور اب ان کی خواہش کی کہ میں اکر انہیں کسی طرح ہوائی جہاز سے واپس لے اؤں۔

ان ہی دنوں میرے چھوٹے بیٹے کی ولادت ہوئی تھی لیکن اماں کی تکلیف کا مجھے اندازہ تھا اور میں نے ان کی روانگی سے قبل اس کا اشارہ بھی دیا تھا لیکن شاید ابائی وطن دیکھنے کی خواہش اتنی شدید تھی کہ میری ایک نہ چلی اور پھر ان کی اس بات کا تو میرے پاس کوئی جواب ہی نہ تھا ”ہم اپنے بھیا کے ساتھ جارے ہیں وہ ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے“ بہرحال اماں چلی گئیں اور اپنا ابائی وطن دیکھ لیا ان کی مدتوں پرانی خواہش پوری ہوئی یہی کیا کم تھا۔

میں ان دنوں ایک پراجیکٹ پر کافی مصروف تھا لیکن اماں کو لانا بھی ضروری تھا۔ ارجنٹ ویزا اپلائی کیا۔ ان دنوں بھارتی ہائی کمیشن کراچی میں ایک سفارتکار سے میری دوستی تھی ان کی وجہ سے اسی دن ویزا مل گیا اور دوسرے ہی دن شام لکھنؤ براستہ دلی کی فلائٹ مل گئی۔ پہلی بار ہندوستان آیا تھا۔ تجسس اور مسرت کے ملے جلے جذبات اور تھوڑا سا خوف بھی کہ یہاں ایک پاکستانی کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ کسٹم پر ایک سردار جی سے واسطہ پڑا ان سے پنجابی میں بات کی۔ اپنے ہی جیسے لگے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ باہر آیا تو ایک اور سردار جی میرے نام کی تختی لیے منتظر تھے وہ مجھے ائرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں لے گئے، رات وہیں گزاری۔

دوسری صبح لکھنؤ کی فلائٹ تھی۔ ہوٹل ہی نے ائرپورٹ پہنچا دیا۔ دلی سے لکھنؤ کی فلائٹ شاید دو گھنٹے کی تھی۔ دوران پرواز میں خیالوں میں گم تھا کہ پائلٹ نے لکھنؤ پہنچنے کا اعلان کیا اور سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت کی۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا نیچے لکھنؤ شہر تھا۔۔۔ ایک بار پھر میں سوچ میں ڈوب گیا۔ کیا واقعی میں نوابین کے لکھنؤ پہنچ رہا ہوں۔ روایتوں کا تہذیب و ثقافت کا مرکز۔ علم و ادب کا امین۔ شاہان اودھ کا لکھنؤ۔ میرے بزرگوں کا وطن جہاں وہ آسودہ خاک ہوئے۔ کچھ ہی لمحوں بعد جہاز لکھنؤ کے ائرپورٹ اموسی پر اتر گیا۔

میں نے اپنی امد سے کسی کو مطلع نہیں کیا تھا۔ ایر پورٹ سے باہر نکلا تو ایک صاحب ملے اور بڑی شستہ زبان میں کہا ”کہاں جائیے گا“ ہمارے پاس مرحوم کامل چچا کے گھر کا پتہ تھا جو میں نے ان صاحب کو پکڑا دیا انہوں نے سوٹ کیس میرے ہاتھوں سے لے لیا اور ایک بے ہنگم سی سواری جسے وہاں ٹمپو کہتے ہیں میں بٹھا دیا اور روانہ ہویے۔ راستے بھر میں ان کے لکھنوی لہجے سے محظوظ ہوتا رہا کبھی کبھی اطراف پر نظر ڈالتا تو گھبراہٹ کے ساتھ مایوسی بھی ہوتی۔

بھیڑ اور بد انتظامی دیکھ کر لکھنؤ کا جو تصور میرے ذہن میں تھا جاتا رہا۔ ہم شہر کے قدیم اور گنجان علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ ایک تنگ گلی کے اختتام پر ٹمپو رک گیا۔ ڈرائیور صاحب نے بتایا کہ ہم منزل پر پہنچ تو چکے ہیں لیکن ٹمپو مزید اگے نہیں جا سکتا اس نے ہمیں بیٹھے رہنے کا مشورہ دیا اور خود جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور کسی کو ایک بن بلائے مہمان کے آنے کی اطلاع دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک بزرگ چوڑی مہری کا پائجامہ اور شیروانی میں ملبوس سر پر دو پلی ٹوپی پہنے گھر سے باہر تشریف لائے اور میری جانب بڑھے۔

میں نے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا تو لپٹ کر رونے لگے۔ اتنی دیر میں ٹمپو ڈرائیور میرا سوٹ کیس اندر لے جا چکا تھا جو میرے لیے نئی بات تھی کہ کراچی میں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا تھا۔ چچا مرحوم کے جب انسو تھمے تو گھر کے اندر لے گئے اس دوران ڈرائیور خاموشی سے کھڑا رہا۔ میں نے کرایہ کی رقم ادا کی تو کہا بھیا ہمارے پاس چھٹہ نہیں ہے۔ میں کہا اس کی ضرورت نہیں سب رکھ لو جس پر وہ حیران ہوا اور چچا نے دبے لفظوں سرزنش کی کہ ”تم ہمیں بہت فضول خرچ دکھائی دیتے ہو“ گھر میں سب بہت محبت سے ملے اور فرداً فرداً گلے لگ کر حسب توفیق روئے بھی۔ چچا نے گھر پہنچنے بعد شیروانی اتار کر بہو کو دی جنہوں نے اسے بڑے سلیقے سے ہینگر کر دیا اور ٹوپی ایک طرف رکھی اور میں سوچنے لگا کہ کیا چچا نے شیروانی اور ٹوپی صرف باہر نکلنے کے لیے پہنی تھی۔ شاید یہی پیڑھی پرانی قدروں اور تہذیب کی امین تھی اور ان کے بعد تو یہ حال ہے۔

اب صبح ہے نہ صبح نو مجاز۔
ھم پر ہے ختم شام غریبان لکھنؤ۔۔۔

دوسرے دن صبح میں مرحوم بھائی ڈاکٹر یونس نگرامی کی قیام گاہ ڈیوڑھی اغا میر گیا۔ وہیں قریب میں نامور شاعر افتخار عارف صاحب کا ابائی گھر بھی تھا۔ یونس بھائی کا قدیم طرز کا وسیع گھر چاروں طرف محرابی برامدہ درمیان میں دالان جہاں یونس بھائی سردیوں کی کومل سی دھوپ میں کرسی ڈالے بیٹھے کسی سے فون پر بات کر رہے تھے فارغ ہوکر مجھ سے بہت تپاک سے ملے اور یوں اچانک بلا اطلاع دیے انے کی وجہ پوچھی جب میں نے بتایا اماں کو ہوائی جہاز سے واپس لے جانے کی غرض سے ایا ہوں تو بہت خوش ہوئے۔

کام کچھ دشوار تھا اماں کی بھارت میں انٹری واہگہ کے راستے ہوئی تھی اور اب واپسی جہاز سے براستہ دہلی ہونا تھی۔ یونس بھائی لکھنؤ کی ایک معزز شخصیت۔ علم و ادب کے حوالے سے ایک معتبر نام۔ لکھنؤ یونیورسٹی میں عربی ڈپارٹمنٹ کے ڈین اور یوپی اردو بورڈ کے چیئرمین تھے۔ ان کے اثر و رسوخ بہت تھے۔ انہوں نے اماں کے پاسپورٹ کی کاپی مجھ سے لی اور کہا تم بالکل فکر نہ کرو اجازت نامہ ہم ارینج کر لیں گے۔

اماں پرتاپگڑھ جا چکی تھیں۔ ایک رات میں نے یونس بھائی کے گھر گزاری۔ شام کو وہ مجھے اپنے ساتھ ایک ادبی محفل میں لے گئے اور پھر رات کھانے کے بعد دیر تلک ہم باتیں کرتے رہے اور ساتھ ہی کشمیری چائے کی چسکیاں بھی چلتی رہیں۔ میں یونس بھائی سے بالکل بے تکلف نہیں تھا لہذا حفظ مراتب کا ایک پردہ حائل رہا۔

دوسری صبح عمار میاں مجھے لکھنؤ کے چار باغ اسٹیشن لے گئے۔ اس اسٹیشن کے بارے میں بہت سنا تھا دیکھا کبھی نہیں تھا۔ واقعی فن تعمیر کا اعلی نمونہ نظر ایا بالکل کسی قلعہ کی طرح۔ پرتاپگڑھ کے لئے پہلی ٹرین کا ٹکٹ لیا۔ کچھ دیر بعد میں ایک بار پھر بغیر اطلاع دیے اپنے نئے سفر پر روانہ ہوا۔ لکھنؤ سے پرتاپگڑھ کا سفر کئی گھنٹوں کا تھا۔ میں ارام دہ کوچ میں کھڑکی سے باہر کے مناظر میں کھویا ہوا ثھا۔ ٹرین کھٹاکٹھک پٹریاں بدلتی رواں دواں تھی۔

عموماً میں دوران سفر کتب بینی میں وقت گزارتا ہوں لیکن اس سفر میں زیادہ تر وقت کھڑکی سے باہر بدلتے مناظر میں کھویا رہا اور تیزی سے گزرتے اسٹیشنوں کے نام پڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ نام ہی پڑھے جا سکے ان میں ایک رائے بریلی تھا یہ نام اپنے بزرگوں سے سنا ہوا بھی تھا۔ ایکسپریس ٹرین تھی شاید کسی ایک جگہ کچھ دیر کے لیے ٹھری۔ اگلا اسٹیشن پرتاپگڑھ تھا۔ میں نے دھڑکتے دل ٹرین سے باہر آیا اور اسٹیشن سے نکلا۔ یہ اسٹیشن کہلاتا تو پرتاپ گڑھ ہے لیکن عملی طور پر اس جگہ کا نام بیلہ ہے۔ یہیں کبھی نامور اداکارہ نرگس کی والدہ جدن بائی کا بالا خانہ تھا۔

پرتاپگڑھ یہاں سے دس بارہ کلو میٹر دور ہے۔ ایک بوڑھا تانگے والا میری طرف بڑھا اور ٹھیٹ پوربی زبان میں پوچھا بھیا کہاں چلنا ہے۔ میں نے اپنے خالہ زاد بھائی رئیس پرتاپ گڑھ جناب شوکت عمر صاحب کا نام بتایا تو وہ مزید مودب ہو گیا۔ پتہ بتانے کی کیا ضرورت، انہیں اور ہندوستان کے مشہور شاعر میرے مرحوم ماموں جناب نازش پرتاپگڑھی کو وہاں کون نہیں جانتا تھا۔ تانگہ کا سفر شروع ہوا۔ پتلی سی پختہ سڑک کے دونوں طرف لہلہاتے کھیت اور باغات کے درمیان تانگہ ہچکولے کھاتا اگے بڑھتا رہا اور میں بوڑھے تانگہ والے کی پوربی لہجے میں اپنے خاندان کے قصے اور عہد رفتہ کی داستانیں سنتا رہا۔ اس نے بتایا کہ سڑک کے دونوں طرف کی زمینیں اور کئی گاؤں حاجی صاحب (میرے نانا) اور ان کے خاندان ہی کی ملکیت تھے۔ وہ بولتا رہا اور میں ماضی میں کھویا رہا۔

کچھ دیر بعد تانگہ جناب شوکت عمر صاحب کے احاطے میں پہنچ چکا تھا۔ وہ سامنے نانا مرحوم کے قائم کردہ مدرسے میں کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ تانگے والے نے بتایا یہی شوکت بھیا ہیں۔ میں ان کی طرف بڑھا پہلے تو ایک اجنبی کو دیکھ کر وہ حیران ہوئے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو سینے سے لگا لیا اور گھر کے اندر لے گئے۔ سامنے صحن میں اماں چند خواتین کے ساتھ مصروف گفتگو تھیں وہیں ماموں اور ممانی جان بھی بیٹھے تھے۔ پہلے تو سب یوں اچانک مجھے دیکھ کر حیران ہوئے۔ پھر اماں نے سینے سے لگا کر بڑے فخر سے کہا ”ہم نہ کہتے تھے ہمرا بیٹا ہمیں لینے ضرور آئے گا“

احاطے کے باہر ہمارا ابائی قبرستان۔ نانا مرحوم کی بنائی مسجد اور مدرسہ تھا۔ اماں کے کہنے پر ان کو وہاں کی زیارت کرائی اور کچھ تصاویر بھی بنائیں۔ اماں مسجد کے در و دیوار سے لپٹ کر خوب روئیں انہوں نے بتایا کہ مسجد اور مدرسہ نانا مرحوم نے ماموں جان کی ولادت کی خوشی میں قائم کیا تھا جہاں دور دور سے طلبا ا کر دینی تعلیم حاصل کرتے۔ مدرسہ اور مسجد کی حالت کافی خستہ حال تھی میں نے مدرسے کے مہتمم کی خدمت میں کچھ رقم پیش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔

شام کو شوکت بھائی جان کے بیٹے طلعت ندی کنارے ارہر کے کھیتوں میں مور کے شکار پر لے گئے۔ ان کے پاس نانا کے زمانے کی ڈبل بیرل گن تھی۔ مور بھارت کا قومی پرندہ ہے اور شاید اس کا شکار ممنوع ہے۔ میں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا لیکن طلعت نے ہنس کر بات ٹال دی۔ شکار سے واپس ائے تو عجیب منظر دیکھا۔ ماموں جان ایک ارام کرسی پر نیم دراز بیٹھے تھے ان کے سامنے مقامی افراد فرش پر بیٹھے تھے وہ ”بھیا“ سے بھینٹ (ملاقات) کے لیے ائیے تھے۔

ماموں جان کے سامنے ایک بڑے سے بیگ میں چاکلیٹ اور کئی قسم کے بسکٹ کے پیکٹ تھے جو وہ شاید اپنے ساتھ لائے تھے۔ ماموں جان ایک ایک کو بلاتے اس کا اور اس کے والد کا نام پوچھتے اور انہیں تحفے دیتے جسے پا کر وہ دعائیں دیتے اپنی جگہ جا کر بیٹھ جاتے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ان کا یہ احترام اور دبدبہ ہے تو اس وقت کیا حال ہوگا جب یہ اپنے عروج پر ہوں گے۔ دوسرے دن پرتاپگڑھ کی سیر کی اور حد نگاہ پھیلی وہ زمنیں اور ام کے باغات دیکھے جو کبھی ہمارے بزرگوں کی ملکیت تھے۔ ۔ ۔

شام کو نازش ماموں کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی اور دوسری صبح اماں کولے کر واپس لکھنؤ اگیا۔ اس دوران یونس بھائی نے والدہ کے لیے براستہ دہلی پاکستان روانگی کا اجازت نامہ بھی حاصل کر لیا تھا۔

عجلت میں والدہ کی واپسی کی فلائٹ اپنے ساتھ بک کرائی اور ہم ماں بیٹے لکھنٔو سے دلی پہنچے۔ دہلی میں دس گھنٹوں کا اسٹاپ اوور تھا۔ یونس بھائی نے پہلے ہی ہمارے لیے اتر پردیش کے سرکاری مہمان خانے ”یوپی بھون“ میں کمرہ بک کرایا ہوا تھا۔ سرکاری مہمان۔ خانے میں خوب اؤ بھگت ہوئی اور وہیں کی گاڑی رات کو ہمیں ایر پورٹ چھوڑنے بھی ائی۔ اور میں اپنی ماں کو ارام اور سہولت سے گھر لے آیا۔۔۔

لکھنؤ سے روانگی کے وقت یونس بھائی نے مجھے ایک ایسا گراں قدر تحفہ دیا جس پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔ اس کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ غلاف کعبہ کا ایک ٹکڑا تھا جس پرسنہری زردوزی کے خوشنما کام سے ”اللہ“ لکھا تھا۔ یہ غلاف کعبہ کا وہ ٹکڑا ہے جو غسل کعبہ کے بعد پرانے غلاف کے ٹکڑے کاٹ کر دوسرے ملکوں سے ائے ہوئے وفد اور شاہی مہمانوں کو سعودی فرمانروا کی جانب سے تحفتا ”پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا سائز تقریباً دو فٹ × ڈیڑھ فٹ ہے اسے میں نے بصد احترام فریم کروا کے اپنے گھر کی زینت بنا لیا جس کے انوار و برکات سے میرا گھر جگمگاتا رہتا ہے۔ اللہ رے نصیب۔۔۔

لکھنؤ سے واپس تو ا گیا لیکن شام اودھ دیکھنے کی حسرت دل ہی میں رہی نہ شہر کو دیکھ پایا اور نہ ہی گنگا جمنی تہذیب دیکھی۔ دل وہیں کہیں رہ گیا اور دوبارہ دیکھنے کی ارزو باقی رہی۔

دو سال بعد لکھنؤ کی زیارت کا دوبارہ پروگرام بنایا اس بار بیگم اور بچے ساتھ تھے۔ ملائیشین ایر لائن سے ہم سب رات دلی پہنچے۔ رات ہوٹل میں گزاری۔ ریسیپشن سے معلوم ہوا صبح چھے بجے شتابدی ایکسپریس لکھنؤ جاتی ہے لیکن اس کا ٹکٹ ملنا محال ہے پہلے سے بکنگ ضروری ہے۔ میں نے سوچا ایک کوشش کرلی جائے اور دوسری صبح ٹرین کی روانگی سے ایک گھنٹہ قبل میں اسٹیشن پہنج گیا کاؤنٹر سے معلوم ہوا کوئی سیٹ نہیں کہ ایک صاحب قریب ائے اور سرگوشی میں کہا جناب سیٹیں مل جائیں گی بس دو سو روپے فی سیٹ اضافی دینا ہو گا (ہندوستان میں رشوت کے ریٹ کم تھے) میں کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا۔ فوراً حامی بھر لی اور مطلوبہ رقم ان کے حوالے کی اور ٹکٹ مل گئے۔

فون کرکے یونس بھائی کو اپنی امد کی اطلاع دی۔ شتابدی ایک اعلی درجے کی ٹرین تھی۔ ٹھیک چھے بجے روانہ ہوئی۔ ارام دہ سیٹ اور خوبصورت انٹیرئیر۔ کچھ دیر بعد اخبارات اور رسائل کی ٹرالی اگئی اور اس کے کچھ دیر بعد ناشتے سرو ہوا۔ یہ سب کرایہ میں شامل تھا۔ ایک بات جو بہت اچھی لگی وہ یہ کہ ٹرین جس اسٹیشن سے گزرتی اس شہر کی تاریخ اور خصوصیات پبلک ایڈریس سسٹم پر نشر کی جاتیں۔ جب ٹرین لکھنؤ کے حدود میں داخل ہوئی تو اعلان ہوا ”اب ہم لکھنؤ پہنچ گئے۔ وہی نوابین اور شاہان اودھ کا لکھنؤ۔ تہذیب و روایات کا شہر جہاں کا رکھ رکھاؤ بے مثال ہے اور اس کے بعد رفیع مرحوم کا مشہور گیت“ یہ لکھنؤ کی سر زمیں ”نشر ہوا۔ اور ٹرین چار باغ اسٹیشن پر جا رکی۔ یونس بھائی کے بیٹے ڈاکٹر عمار اور حماد ہمیں لینے ائے تھے۔

لکھنؤ میں ہمارا قیام بہت پر لطف رہا۔ یونس بھائی اور ان کے اہل خانہ نے ہماری خوب اؤ بھگت کی۔ قسم قسم کے کھانے۔ مزیدار ناشتہ جس میں روایتی روغنی ٹکیاں۔ بالائی۔ کلچے اور چھوٹی چھوٹی جلیبیاں آج تک نہیں بھولتیں۔

ہم نے جی بھر کے لکھنؤ کی تفریح کی۔ اصف الدولہ کا امام باڑہ۔ بھول بھلیاں۔ گڑ بڑ جھالہ۔ امین اباد۔ بیلی گارد اور حضرت گنج دیکھنے کی مدتوں پرانی ارزو پوری ہوئی۔ گومتی ندی کے کنارے شام اور ٹنڈے کے کباب کا ذائقہ اج بھی نہیں بھولتا۔ بیگم نے بھی دل کھول کے شاپنگ کی۔ رنگ برنگی ساڑھیاں۔ لکھنؤ کی سوغات چکن کے کرتے۔ چوڑیاں اور مختلف تحائف اور گاندھی اشرم سے را کاٹن اور سلک خریدنے کے بعد چوہدری کی چاٹ کھا کر لوٹتے تو یونس بھائی اور ناہید باجی کی ضیافت منتظر ہوتی اور پھر اس کے بعد رات گئے تک خوب باتیں کرتے۔

ایک دن لکھنؤ کے قبرستان ”عیش باغ“ جاکر وہاں اپنے مدفون بزرگوں کی گمشدہ قبروں کو ڈھونڈھتا رہا اور پھر مایوس ہوکر دعائے مغفرت ہی کر کے لوٹ ایا۔ اس قبرستان کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا تھا۔

لکھنؤ والوں کی عشرت دیکھیے
مر گئے لیکن نہ چھوٹا عیش باغ

ایک بار پھر لکھنؤ جانے کی شدید خواہش ہے۔ لیکن کب! شاید اس کا جواب دونوں طرف کے سیاست دان ہی دے سکیں۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •