آٹزم میں مبتلا بچے کی والدہ سے گفتگو
ہم نے مسز شازیہ سلام سے ان کے بیٹے کے متعلق طویل گفتگو کی جو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا ہے۔ مسز شازیہ سلام کی عمر 45 سال ہے اور ان کی تین اولادیں ہیں۔ طارق ان کی دوسرے نمبر کی اولاد ہے کہ جن کی تشخیص تین برس کی عمر میں ہوئی۔ شازیہ سلام کے دوسرے دو بچے نارمل ذہنی استعداد کے حامل ہیں۔
شازیہ سلام اور ان کے میاں عامر سلام کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دونوں نے ملک کے ایک مشہور میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹری کا شعبہ اپنایا۔ بہتر تلاش معاش اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ کا رخ کیا۔ عامر صاحب نے طب میں جانے کے لیے ضروری امتحانات لینے کے بعد ریذیڈینسی مکمل کر کے طب کو بطور پیشہ اپنایا۔ جبکہ شازیہ سلام نے حاملہ ہو جانے کے سبب پروفیشن کی قربانی دیتے ہوئے تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو موخر کرنا مناسب سمجھا (ان کی پہلی بچی کی عمر سترہ سال ہے جبکہ طارق پندرہ سال کے ہیں۔ سب سے چھوٹا بچہ دس سال کا ہے۔ طارق میں آٹزم کی حتمی علامات کی تشخیص کے بعد شازیہ سلام نے بحیثیت ماں اپنے بچے کی دیکھ بھال کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ باوجود اس کے کہ ان کا دل آج بھی طب کے شعبہ سے وابستگی کو بے قرار ہے۔ مسز سلام کی گفتگو مہاجرین آبادیوں کے لیے خاص کر بہت اہم ہے۔
سوال 1 : آپ کو اپنے بیٹے طارق کے آٹزم کے متعلق کب اندازہ ہوا؟
ج : آپ کو حیرت ہو گی کہ میرے میاں نے اس کی مخصوص علامات کی سب سے پہلے نشاندہی کی۔ اس وقت طارق بارہ ماہ کے بھی نہیں تھے۔ میرے میاں جو اس وقت اپنی ریذیڈنسی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بچہ آنکھ ملا کر متوجہ نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی دوسرے بچوں کی طرح آوازوں پر توجہ دیتا ہے۔ گو یہ ساری باتیں میں بھی محسوس کر رہی تھی لیکن میرے لیے یہ سوچنا بھی محال تھا کہ ہمارے بچے کو آٹزم ہے۔ میں اپنے دھیان کو ہر بار جھٹک دیتی۔ عامر کے اظہار سے مجھے غصہ آ گیا، میں نے کہا۔ ”کیا ہو گیا ہے جو آپ اپنے ہی بچے کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا ”میں کیا کروں مجھے تو یہی لگتا ہے۔“ تاہم میں نے دل ہی دل میں اپنے کو تسلی دی کہ یہ غلط ہے۔
سوال 2 : آٹزم کی حتمی نشاندہی کب ہوئی؟
ج : جب طارق کی عمر تین سال کی تھی۔ میاں کی تشخیص کو تو میں جھٹلاتی رہی۔ تاہم پھر دو تین واقعات ایسے ہوئے کہ مجھے بے یقینی سے نکل کر اس تلخ حقیقت کو قبول کرنا پڑا۔
سوال 3 : وہ کیا واقعات تھے؟
ج : ایسا ہوا کہ میں پہلی بار اپنی بہن کے گھر چھٹیاں منانے گئی۔ اس کا گھر طارق کے لیے بالکل نیا تھا۔ آپ کو تو پتہ ہی ہو گا کہ آٹسٹک بچوں کو تبدیلی کتنی شاق گزرتی ہے۔ طارق کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ مجھے اس کی بے چینی اور تکلیف آج بھی یاد ہے۔ میرا بیٹا پورے دن اپنی خالی آنکھوں سے گھر کے باہر دیکھتا رہتا۔ اس وقت اس کی عمر ڈیڑھ برس کی رہی ہو گی۔ مجھے اس کی بے چینی اور آنکھوں کے خالی پن سے خوف آنے لگا۔
پھر دوسری علامت اس کا تکرار رویہ تھا یعنی (repetitive behavior) جو وہاں جا کر کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔ وہ مسلسل گھر کے کوڑے دان کے گول ڈھکنے سے کھیلنا چاہتا تھا۔ اور اس کے لیے اتنا روتا اور پریشان کرتا کہ بالآخر ہمیں اس ڈھکنے کو نکال کر اسے دینا پڑا۔ میں نے جیسے تیسے بہن کے گھر وقت کاٹا اور دونوں بچوں کو لے کر گھر واپس لوٹی۔ تو یہاں ایک اور تبدیلی ہماری منتظر تھی۔ میاں کی ایک ہفتہ کے اندر ہی دوسرے شہر میں نئی نوکری شروع ہونی تھی ہمیں اسی ہفتہ نئے شہر اور نئی فضا میں منتقل ہونا پڑا۔ وہ نیم مردنی کے عالم میں اپنے جھولے پہ گھنٹوں بیٹھا ایک جانب تکتا رہتا۔ اس نے سب کچھ کرنا چھوڑ دیا۔ حتی کہ بھوک کے وقت دودھ کے لیے رونا بھی۔ اف خدا میرا دل آج بھی وہ وقت یاد کر کے روتا ہے۔ (روتے ہوئے) اس کی صحت خطرناک حد تک گرنے لگی۔ اس وقت میرا جی چاہتا تھا کہ کاش میرے بیٹے کے سر میں ایک کھڑکی ہوتی تو میں جھانک کر دیکھ سکتی کہ آخر اندر کیا ہو رہا ہے؟ کون سی ایسی خرابی ہے؟ بس مجھے اس کی وہ کیفیت اوراپنی بے بسی آج بھی نہیں بھولتی۔ نئے شہر میں ایک ڈاکٹر ڈھونڈا۔ ڈاکٹر تو پچھلے شہر میں بھی دیکھ رہا تھا لیکن اس نے ہمیشہ ہی مجھے ”ضرورت سے زیادہ متفکر ماں“ قرار دیتے ہوئے طارق کی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاہم نئے شہر کے ڈاکٹر نے طارق کے تمام ٹیسٹ کروائے اور اس طرح خدشہ ظاہر کیا کہ ان کو آٹزم ہے۔
سوال 5 : اس ممکنہ تشخیص کے بعد آپ کا جذباتی رد عمل کیا تھا؟ اور آپ نے کیا اقدامات کیے؟
ج : جب ڈاکٹر اس کی سماعت کی جانچ کر رہے تھے تو میں مستقل دعائیں مانگ رہی تھی کہ کاش سماعت خراب ہو کہ اس کا علاج تو ہے۔ مگر آٹزم کا نہیں۔ گو اندر سے مجھے اندازہ تھا کہ میں غلط ہوں مگر میں حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آخر وہ دن آ ہی گیا کہ ہمیں مکمل نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ میں شدید ڈیپریشن سے گزری، بہت روئی۔ مگر دل کی عجیب اور اداس کیفیت کے باوجود میں نے اپنے بیٹے کے لیے کام جاری رکھا۔ چونکہ طارق بولتے نہیں تھے لہذا ان سے رابطہ کے لیے میں نے تصاویر کی مدد لینا شروع کی۔
میرا ہدف (goal) یہ تھا کہ انہیں سادہ اسم (Noun) یا فعل (Verbs) والے الفاظ سکھا دوں۔ تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کا اظہار کر سکیں مثلاً پانی یا دودھ کے لیے سپی کپ کی تصویر، مختلف قسم کے کھانوں کی تصویر، رفع حاجت کے لیے Potty کی تصویر تاکہ طارق اپنے مختلف کاموں کو تصاویر سے ریلیٹ (ہم رشتگی) کر سکیں۔ ساتھ ہی میں نے ان کی سنسری اینٹی گریشن تھریپی بھی شروع کر دی۔
سوال 6 : وہ کیا ہے؟
ج : یہ دراصل مخفف ہے (Individualized Education Program) کا یعنی بچے کا انفرادی تعلیمی لائحہ عمل۔ جو ہر اسپیشل بچے کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ اس کا تعین کرنے کے لیے مختلف افراد پہ مشتمل کمیٹی بیٹھتی ہے۔ جس میں والدین، ماہر نفسیات، اسپیچ پیتھولوجسٹ، اسپیشل ایجوکیشن استاد، نارمل کلاس روم استاد، سوشل ورکر وغیرہ ہوتے ہیں۔
سوال 13 : بحیثیت امیگرنٹ (تارکین وطن) کیا آپ ان تعلیمی منصوبوں سے مطمئن ہیں؟
ج : جب طارق کی تشخیص ہوئی اس زمانے میں ہمارے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔ ساتھ ہی ہمیں ملک میں مہیا سہولیات کابھی علم نہ تھا۔ ہم کاؤنٹی کے دفتر میں گئے۔ جہاں انہوں نے ہمیں مختلف امراض سے متعلق کتابچہ مہیا کیے۔ سوشل ورکر نے کوئی خاص معلومات بہم نہیں پہنچائی۔ ہمیں اتنا زیادہ پتہ نہیں چلا کہ ہم کیا حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
سوال 14 : کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بحیثیت مہاجرین رویہ کچھ زیادہ دوستانہ نہ تھا؟
ج :ہمیشہ تو نہیں البتہ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم سفید فام ہوتے تو ان کا رویہ بہتر ہوتا۔
سوال 15 :مثلاً کب؟
ج :پچھلے سال میں نوکری پر تھی تو فون آیا بچے کو گھرلے جائیں۔ وجہ یہ تھی کہ جب ٹیچر (نارمل کلاس روم ٹیچر) کہانی سنا رہی تھی تو طارق کمرے میں ٹہل رہے تھے جو کہ بدتمیزی سمجھی گئی۔ کیونکہ وہ ٹیچر کی ہدایت پہ عمل کرنے سے قاصر تھا۔ میرا بچہ جو محض پندرہ سے بیس الفاظ بول سکتا ہے اگر کہانی کے بیچ میں سر ہلانے یا چلنے لگے تو ٹیچر کو سمجھنا چاہیے اس کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا دماغ اطراف کی آوازوں کو پروسیس کرنا چاہتا ہے۔ جسمانی حرکات چلنا، ہاتھ ہلانا وغیرہ اس ذہنی صورتحال سے نپٹنے کا عمل ہے۔ جو اس کے دماغی خلیوں کو سکون دیتا ہے۔ میں نے اس صورتحال کے نتیجہ میں ایک ہلنے والی (rocking) کرسی کا مطالبہ کیا۔ جو فنڈز کی کمی کی وجہ سے مہیا نہیں کی گئی۔ تو خود میں نے خرید کر کلاس کو عطیہ کر دی۔ تاکہ اس پر بیٹھ کر حرکت سے سکون ملے۔ بعد میں ٹیچر نے قبول کیا کہ اس بچے کی حسایاتی ضروریات یا (sensory needs) کا پتہ نہ تھا۔
سوال 16 : بحیثیت ڈاکٹر آپ کا دل چاہتا ہے کہ طب کو دوبارہ اپنایا جائے؟
ج : میرے خیال میں کوئی دن ایسا نہ جاتا ہو گا کہ میں نہ چاہوں کہ وہ کروں جو میں اپنے ملک میں کرتی تھی۔ تاہم اب امید اور طاقت دونوں کھو رہی ہوں۔ اس کی وجہ بڑھتی عمر ہے۔ اگر میں وقت نکال بھی لوں تو نوجوان اور چاق و چوبند ڈاکٹروں کے مقابلے میں مجھے نوکری ملنے کا کتنا امکان ہے؟
سوال 17 : اپنی تھکن اتارنے کے لیے آرام کب کرتی ہیں؟
ج : سچ پوچھیں تو اپنی ذات کے لیے کوئی وقت ہی نہیں ملتا تاہم اگر تھوڑا سا بھی ملے تو میں اچھی کتابیں پڑھنا پسند کرتی ہوں۔
گوہر : آپ کی گفتگو کا از حد شکریہ
شازیہ : میری لمبی داستان سننے کا شکریہ۔ مجھے آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو دوسروں کی تکلیف کو سمجھتے ہوں اور محبت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ حقیقتاً یہ سب کچھ کہنے کے بعد مجھے بہت اچھا اور ہلکا پن محسوس ہو رہا ہے کہ کسی نے میری بات اتنی توجہ سے سنی۔




