“پہل اس نے کی تھی” کیوں لکھا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی کی نثری و شعری تخلیق کو علمی ادبی تناظر سے دیکھنا پڑھنا اور اس کی نئی جہتیں جو پڑھتے محسوس ہوں اسے دیگر قارئین کے سامنے لانا گویا کتاب لکھنے سے زیادہ کٹھن کام ہے اور ایسے امور کو ماہر نقاد اور سینئر اہل قلم ہی سر انجام دیتے ہیں۔

لیکن میں آج آپ کی بصارتوں کی نظر ایک منفرد اور عام اسلوب و موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پر اپنا نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں کہ اس ناول کو پڑھتے ہوئے جو خوشگوار اور حیران کن انکشافات میں نے محسوس کیے اسے من و عن لکھ دیا ہے۔ ”جے یار فرید قبول کرے۔“ اسے آپ ایک ادب کے طالب علم کی ذاتی ڈائری میں لکھے محسوسات بھی کہہ سکتے ہیں۔

نامور شاعر مصنف صحافی اور شہر علم و عرفان جبار مرزا کی لکھی اس کتاب کو آپ آب بیتی اور سوانحی ناول بھی کہہ سکتے ہیں۔

سراپا محبت، بلند حوصلہ، سماج کی بے اثباتی اور وقت کی بے رحم اور سفاک لمحات نے دو پاکیزہ روحوں کو جب ایک دوراہا پر لا کھڑا کیا، پھر زمیں و فلک محو حیرت ہوئے۔

جب باہمی افہام و تفہیم سے انہوں نے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے کا احسن مگر کڑا فیصلہ دنیا کے منصفوں کو از خود سنایا اور پھر اپنے اپنے نصیب کے صحرا کی طرف چل نکلے۔

ناول کی چند لائنیں اور جبار مرزا کی خود کلامی کا تھوڑا تعارف کچھ یوں ہے۔

یہ کہانی شروع ہوتی ہے پاکستان کے خوبصورت شہر جمال راولپنڈی سے اور اختتام بھی اسی شہر میں ہوتا ہے۔ راولپنڈی کے ایک نیم قدیمی محلے جہاں میری جوانی کے چودہ برس گزرے، پڑوس میں ایک چوہدری صاحب کی حویلی تھی، جو ٹرانسپورٹر تھے۔ دس پندرہ ڈرائیور اور بیس پچیس کلینرز ہر وقت چوہدری صاحب کے ساتھ ساتھ رہتے، ٹرک بھی آتے جاتے رہتے۔

ان کی حویلی کے باہر میلے کا سا سماں رہتا، شاید علاقے کا تھانیدار بھی گاہے گاہے حاضری لگانے آتا رہتا تھا۔ چوہدری صاحب کا علاقے میں بڑا دبدبہ تھا، بہت کم کسی سے بات کیا کرتے۔ بعض لوگ ان کی خاموشی سے ہی تذبذب میں ڈوبے رہتے۔

انکی حویلی دو گزر گاہوں کے درمیان واقع تھی۔ ہم دونوں گھروں کے درمیان فصیل سانجھی تھی، وہی فصیل اگے چل کے ہمارے لئے دیوار بن گئی، جو کسی نہ کسی طور آج بھی موجود ہے، گارے چونے کا وجو د رکھنے والی وہ دیوار بعد میں سماج کی دیوار بنی اور پھر اخلاقی دیوار بنی۔

مہذب قومیں جانتی ہیں کہ اخلاقیات کی دیواریں، دیوار چین سے زیادہ بلند، یروشلم کی دیوار گریہ سے زیادہ اندوہناک اور جرمنی کی دیوار برلن سے کہیں زیادہ حساس ہوا کرتی ہیں۔

بہر طور بات ہمارے دونوں گھروں کے درمیان سانجھی فصیل کی ہو رہی تھی جہاں دونوں طرف کی خواتین اور لڑکیاں اپنی اپنی طرف کی چارپائیوں پر کھڑی ہو کر فصیل پر سے ہی باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو فرما لیا کرتی تھیں۔ کپڑوں کے ڈیزائن اور اچھے برے درزی پر بھی وہیں کھڑے کھڑے گپ شپ ہو جایا کرتی، دونوں گھروں میں آنے والے مہمانوں کے چھوٹے بچوں کا تبادلہ بھی وہیں فصیل پر سے ہو جایا کرتا اور پھر فصیل سے ہی بچے واپس کر دیا کرتے۔

بظاہر چوہدری صاحب کا علاقے میں دبدبہ تھا لیکن ہم دونوں گھرانوں کا آپس میں نہایت مشفقانہ اور ہمدردانہ تعلق روز اول سے ہی قائم ہو چکا تھا۔

پہلی آواز اور وائٹ پیپر :

2 اگست 1978 ء بدھ کو ساڑھے 9 بجے میری زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نسوانی آواز نے اپنائیت اور بے تکلفی سے قدرے بلند لہجے میں کہا ”جبار صاحب“

میں شاید ویسپا سکوٹر پر تھا گھر کا قریبی موڑ مڑنے کی وجہ سے رفتار بھی بہت کم تھی، فوراً بریک لگائی ادھر ادھر دیکھا دور دور تک نہ بندہ نہ بندے دی ذات، چند سانیے کھڑا رہنے کے بعد جب چلنے لگا تو قریبی کھڑکی جس پر لوہے کی باریک جالی لگی ہوئی تھی سے آواز آئی کہ ”میں آپ کی غزلیں پڑھتی رہتی ہوں، ریڈیو ڈرامے بھی سنتی ہوں، آپ بہت اچھا لکھتے ہیں مجھے بہت اچھے لگتے ہیں“

میں نے شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ آپ ہیں کون؟ تو ان صاحبہ نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا کہ ”وہ چوہدری صاحب کی بڑی بیٹی ہیں“ پھر کہنے لگیں ”گھر کے سارے افرا د دستاویزی پروگرام وائٹ پیپر دیکھ رہے تھے میں آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی، آپ جلدی آیا کریں نا، میں روزانہ آپ کا انتظار کرتی ہوں“ ۔

میں ان دنوں راولپنڈی بوہڑ بازار میں درآمد کردہ انگریزی دواؤں کا تھوک کاروبار کیا کرتا تھا اور سینئر اہل قلم میری دکان ”ابن مریم میڈیسن“ کا تواتر سے اپنے کالموں اور تحریروں میں ذکر کیا کرتے تھے۔ وہ میڈیسن کی دکان کم اور ادیبانہ بیٹھک زیادہ تھی۔

3 اگست 1978 بروز جمعرات صبح غیر متوقع طور سورج نکلتے ہی چھت پر گیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بڑی بڑی حویلیوں کی اوٹ میں چھپ جانے والا چاند ہماری فصیل پر اترا پڑا تھا، چوہدری صاھب کی بڑی بیٹی بہت دیر سے چادر لپیٹے میرے انتظار میں فصیل کے ساتھ چارپائی پر کھڑی تھیں، نیلگوں آسمان بھی سوا نیزہ نیچے آ کر بڑی حسرت بھری نگاہوں سے ہمیں دیکھ رہا تھا، تاریخ بڑی تیزی سے وہ لمحات محفوظ کرتی جا رہی تھی، علیک سلیک کے بعد میں نے چوہدری صاحب کی بیٹی کو خط دیا، جس میں دیو مالائی افسانوی باتیں اور نہ سمجھ آنے والا غیر منطقی قسم کا فلسفہ تھا، رات والی غیر مرئی آواز کے خمار میں لکھی جانے والی غزل بھی دی اور ساتھ کہا کہ اس میں تازہ غزل ہے۔

خط لیتے ہوئے چوہدری صاحب کی بیٹی نے کہا ”مجھے اندازہ تھا آپ ضرور اوپر آئیں گے“ میں نے کہا اگر نہ آتا تو! وہ بولی کہ ”پھر بھی کھڑی رہتی جیسے روزانہ آپ کے لیے کھڑکی میں کھڑی رہتی تھی“ وہ مسلسل مجھے اپنی آنکھوں میں محفوظ کیے جا رہی تھی، اس کی جھیل جیسی گہری غزالی آنکھوں سے محبت آمیز نیلی نیلی باریک لہریں نکل کر میر ی آنکھوں کو سہلا رہی تھیں۔ ۔ ۔ (اقتباس)

” یہ اشرف المخلوق کی دو نازک صنفوں کی کہانی ہے۔ ایک چوہدرانی اور دوسری کا نام ہے رانی۔

چوہدرانی نے مجھے اپنانے کی سر توڑ کوششیں کیں، تڑپی، چلائی فریادیں کیں، بالاخر چار سال دو ماہ اور تیرہ دن تک شریک سفر بننے کی تگ و دو میں گزار کر بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں اپنی محبت کو صلیب دے کر پلٹ گئی، جبکہ رانی گزشتہ اکتیس برس سے میری زندگی کی ساتھی ہے۔

چوہدرانی نے مجھے مہذب کیا، میری شاعری کو نکھارا، اور رانی نے مجھے گھر دار بنایا چوہدرانی مجھے کرچی کرچی کر گئی تھی اور رانی نے میرا تنکا تنکا سمیٹ لیا ہے۔ چوہدرانی کی کاوشیں لائق تحسین تھیں اور رانی کا ساتھ قابل رشک ہے۔

چوہدرانی کی کہانی مختصر ترین مگر کبھی نہ بھولنے والی ہے، اور رانی کا سفر طویل تر اور پرسکون ہے۔ چوہدرانی ایک جھیل تھی جس میں ہوا سے بننے والے دائرے ناپتے میں نے عمر گزار دی اور رانی ہنگامہ پرور آبشار ہے جو زندگی کے صحرا کے سامنے جھرنے کا روپ لیے ہوئے ہے۔

چوہدرانی والدین کی ناموس اور اپنے خاندانی جلال پر محبت قربان کر گئی تھی جبکہ رانی تمام تر حالات کے باوجود میرے وقار میں اضافہ کیے ہوئے ہے۔ میرے لیے دونوں محترم ہیں دونوں صاحب عزت ہیں، د ونوں ہی قابل قدر ہیں۔ چوہدرانی محبوبہ کے منصب پر فائز رہی اور رانی کو زوجیت کا شرف حاصل ہے۔ ”

کتاب میں ایک نئی اختراع کہانی کو مربوط کرنے میں جو خطوط شامل کیے گئے ہیں ان کا جو الگ سے تجزیہ مصنف نے کیا وہ کمال اور نہایت دلچسپ ہے۔ ان خطوط کو جو ظاہر ہے چوہدرانی اور مصنف کے مابین لکھے گئے ہیں، اب چونکہ خود مصنف تو ادبی نثر پارے اور ڈرامے کے ڈائیلاگ لکھنے میں ملکہ رکھتے تھے، لیکن وہ غریب چوہدرانی کا شعر و ادب سے بظاہر کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا، لیکن اس کا وسیع مطالعہ اور ادب سے لگاؤ نے اسے اس خطوط کی چاند ماری جیسے محاذ پر سر خرو کیا۔

یوں ان کے خطوط میں اعلیٰ پایہ کی نثر اور ادبی چاشنی عروج پر نظر آتی ہے، اور انہی خطوط سے ان دونوں کی فکر فردا کا ادراک رکھنے والی ان کی فہم و دانش اور فکری لیکن با وقا ر سوچ اور حسن فیصلہ سامنے آتا ہے۔

” پہل اس نے کی تھی“ مکمل طور پر ایک معاشرتی کہانی ہے جس میں پڑھنے پر ایک کسک، زندگی کی چبھن، سسکتی ہوئی یادیں، دم توڑتی التجائیں تمنائیں اور بے سرو سامانی کے عالم میں افتاں خیزاں دکھائی دیتی ہے۔

ہماری تہذیبی روایت، سماج اور اردو کہانیوں میں پھر فلموں میں اور اس جیتی جاگتی دنیا میں عموماً دو پیار بھر پنچھیوں کے ملنے جلنے اور میل ملاقات کے لیے کاتب تقدیر اکثر جھرنوں آبشاروں اور پھولوں سے مہکتا کوئی نہ کوئی باغ پارک اور سیر گاہیں لکھ دیتا ہے۔ لیکن یہاں دو پیار کرنے والوں کے لیے باغ جھیل اور سیر گاہ کی بجائے وقت کا کربلا نصیب میں لکھا ملتا ہے، جہاں دونوں بھوکے پیاسے عہد و پیمان کرتے اور بر سر پیکار نظر آتے ہیں۔ اور یہاں حقیقتاً انہوں نے ثابت کیا کہ ”محبت زندہ ہوتی ہے ہر کربلا کے بعد۔“

اس ناول کی اثر پذیری اور مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ پانچ سال بعد اس کے دوسرے ایڈیشن نے مقبولیت میں پہلے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ناول پر چھوٹے بڑے تبصروں نے بھی مصنف کا حوصلہ بڑھایا۔

کہانی چونکہ حقیقت پر مبنی ہے اور اس کے ہیرو اور ہیروئن اور چند دیگر کردار حیات ہیں لہذا اس کی سچائی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

مصنف جبا ر مرزا نے اس کی بنت کاری میں مروجہ اسلوب انداز اور پیٹرن سے مکمل بغاوت کرتے ہوتے ایک نیا اسلوب تحریر متعارف کرایا ہے۔ یوں نثری ادب میں ہم اسے جباری اسلوب کا نام بھی دیے سکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ خوش آئند بات کہ اب ہر ناول نگار ناول کے لگے بندھے اصولوں کو بہت کم خاطر میں لاتے ہیں اور اس کے مخصوص سٹیریو اور فارمیٹ میں دانستہ یا نا دانستہ اپنا راستہ اور پہچان خود بنا رہے ہیں۔

خواتین ناول نگاروں نے اپنے ناولوں میں اتنے زیادہ تجربات کیے ہیں کہ مثال نہیں ملتی۔ لیکن بات وہی کہ میدان وہ مارتا ہے جس کے دامن میں وسیع مطالعہ اور وسیع قلبی و فکری دانش موجود ہو۔

انتساب دنیا بھر کی باہمت پاکیزہ اور اعلیٰ سوچ کی حامل خواتین کے نام کر کے دنیا میں خواتین کا احترام اور توقیر میں اضافہ کیا ہے۔ جو کہ ایک احسن قدم ہے۔ اور عین حقوق العباد ہے۔

کتاب کا فلیپ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا ہے اور مضمون نگاروں میں گروپ ریٹائرڈ کیپٹن مظہر حسین، عطاء الحق قاسمی، ابو العمار بلال مہدی، ڈاکٹر انور نسیم، جاوید راہی اور دوسرے مشاہیر شامل ہیں۔ اور مزے کی بات

یہ کہ ا س کہانی کے دو مرکزی کردار چوہدرانی اور رانی نے بھی اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن میں یہاں بطور خاص ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا ذکر کروں گا جنہوں نے کیا خوب کہا کہ

” جبار مرزا ایک جانے پہچانے اور مانے ہوئے قلمکار، محقق، کالم نگار، شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں مگر ان کی یہ کتاب ان کی پہلی کسی کتاب سے لگا نہیں کھاتی بلکہ یہ کہنا مزید مبنی بر حقیقت ہوگا کہ ان کی یہ کتاب اردو کے خزانے میں موجود ہزاروں لاکھوں کتابوں میں سے کسی کتاب سے بھی لگا نہیں کھاتی، کیونکہ یہ ایک مکسچر ہے کئی اصناف کا، کئی اسالیب کا اور کئی ادبی تکنیکوں کا۔ یہ ایک ایسی خود نوشت ہے جس میں افسانہ ناول شاعری اور خطوط کو کھرل کر کے اسلوب کی بھٹی میں یوں دم پخت کیا گیا ہے کہ اس کشتۂ محبت کو کوئی ایک نام دیا ہی نہیں جا سکتا۔“

بہر طور میں اپنی تمام تر ذمہ داری سے اس ناول کی کہانی اس کا اسلوب، تیز ٹیمپو اور خوبصورت حقیقی مکالمے کی بنا پر اردو ادب میں نہ صرف ایک مستند ناول تسلیم کرتا ہوں۔ بلکہ اسے کسی بھی طور عالمی ادب میں شامل کیے جانے والا ناول بھی قرار دیتا ہوں۔

اور میری دوسری رائے یہ ہوگی کہ محبت کرنے والے اگر ایک بار اسے پڑھ لیں تو زندگی میں مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔ مزید براں اس کہانی پر بہترین اور یادگار ڈرامہ سیریل بھی لکھی جا سکتی ہے۔

ناول ”جنت کی تلاش“ لکھنے میں رحیم گل نے 14 سال لگائے، جبکہ پہل اس نے کی تھی کو مکمل ہونے میں 30 سال لگے۔ وہ من گھڑت تھی یہ سچی کہانی ہے۔

اب بات کرتے ہیں کہ اس ناول کو کیوں لکھا گیا؟

بقول صاحب مصنف جبار مرزا کہ یہ کہانی اپنی تیس سال کی صیغہ ء راز کی مدت پوری کر چکی ہے۔ دوسری وجہ اس کتاب میں ایک وصیت شامل ہے جو اس کہانی کے مرکزی کردار چودھرانی صاحبہ نے لکھی تھی تاکہ اس کتاب کے توسط سے چودھرانی صاحبہ کے ورثا ء اس وصیت پر ضرورت کے وقت عمل کر سکیں۔ سب سے بڑی وجہ جو سامنے آئی ہے کہ عورت کی بے توقیری یا جذبوں کی پامالی صرف چوہدریوں اور عر ب کے بدوؤں کا ہی المیہ نہیں تھا بلکہ عورت آج بھی ونی، کاروکاری اور ستی جیسی رسموں اور ریتوں کی نذر ہو رہی ہے۔

سسی اپنے لٹتے ہوئے شہر بھنبھور کا مرثیہ کہہ رہی ہے، سوہنیاں غرقاب ہو رہی ہیں، ہیر کھیڑے کی باندی سمجھی جا رہی ہے عورت کی بیچارگی کی یہ کہانی یہیں تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کی شاعرہ زغونہ وزیری اپنی نظم میں لکھتی ہیں کہ ”سانس لینے کے لیے جب اپنے بھاری بھر کم برقعے کا کونہ اٹھاتی ہوں تاکہ ہوا منہ اور ناک میں جائے تو وہ مجھے مارتے ہیں۔“

پہل اس نے کی تھی یہ ایک سانحہ ہے انا کی بھینٹ پر لٹکی ہوئی یاد ہے، ہمارا وقت تو گزر گیا لیکن پلٹ کے دیکھیں تو آہ و بکا اور چیخ پکار ہے کہ مسلسل سنائی دے رہی ہے کہ ”ماں میں نے تمھاری بات مان لی شادی کر رہی ہوں مگر مجھے میری پسند تو دو نا میرے نصیب میں قلمکار کیوں نہیں؟ تم ہر چیز کو دولت کے ترازو میں کیوں تولتی ہو، پیسہ بہت کچھ ہے مگر سب کچھ تو نہیں ہے نا ماں!“

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
روٹین سے ہٹ کے ایک دلچسپ تبصرہ:

واقفان حال میں سے ایک نے بتایا کہ کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر محمد حامد خان جو کہ جبار مرزا کے پرانے دوستوں میں سے ہیں، بلند پایہ ادبی ذوق رکھتے ہیں اور ادب نوا ز شخصیت ہیں۔ ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پڑھتے پڑھتے ایک رات اچانک سو گئے، خواب میں دیکھا کہ میدان حشر برپا ہے۔ سخت گرمی دھوپ اور پیاس محسوس ہوتی ہے لیکن وہاں اک افرتفری کا سماں ہے۔ ساری مخلوق پریشان حال ہے۔

کہ اچانک کرنل صاحب کے پاس ایک نورانی صورت نما ایک شخص قریب آتا ہے اور ان کا ہاتھ پکڑ کے اس ہجوم پریشاں سے الگ کرتا ہے اور مسکراتے ہوئے ایک کاغذ کا ٹکڑا ان کے داہیں ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ وہ سامنے دروازہ پر موجود دربان کے پاس یہ کاغذ دکھاؤ اور موج مارو۔

کرنل صاحب دل ہی دل میں اپنی گزشتہ نیکیاں یاد کرتے ہیں لیکن سر دست کوئی نیکی یاد نہیں آتی وہ دل میں یہ گمان کرتے ہیں کہ شاید انہیں کرنل محمد خان کے دھوکہ میں جان خلاصی ہو ئی ہے۔

وہ تجس سے مجبور ہو کہ کاغذ کھولتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے کہ

” جبار مرزا کی کتاب پہل اس نے کی تھی کو مکمل پڑھنے پر انہیں جنت میں داخلہ کا پروانہ دیا جاتا ہے، انہیں اندر جانے دیں۔“

دربان کمپیوٹر پر اندراج کرتا ہے اس دوران کرنل صاحب جو اب خاصے خوشگوار موڈ میں آ چکے ہیں۔
دربان سے قدرے فری ہوتے پوچھتے ہیں کہ چوہدرانی اور رانی کا ٹھکانہ کہاں پر ہے؟
دربان جنت میں اونچے اونچے درجوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہاں پر ہیں۔
اور چوہدری صاحب؟
چوہدری صاحب کا ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
ان کا ریکارڈ تو جبار مرزا نے کتاب میں نہیں لکھا۔ ہم کیا لکھتے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •