کتابوں والا


مصنف: لن ڈن (ویتنام/امریکہ) / مترجم: خلیل الرحمان

یہ سچ ہے کہ ہر معاشرے میں چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، کتابیں اٹھانے والے کو اگر بھرپورعزت نہ بھی دی جائے تو کسی نہ کسی حد تک اس کا احترام ضرور کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میکان ڈیلٹا کے فیٹ ڈا قصبے کا سائیکلوں کا ایک ان پڑھ مستری پیئر بوئی جہاں بھی جاتا تو اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا تھا۔

اس بات کا فی الفور جادوئی اثر ہوا کہ فقیر اور فاحشہ عورتیں اس سے چھیر چھاڑ کرنے سے پرہیز کرنے لگے، لٹیرے اسے لوٹنے کی جرات نہیں کرتے اور بچے اس کی موجودگی میں ہمیشہ خاموش رہتے۔

پیئر بوئی پہلے پہل تو اپنے پاس ایک کتاب رکھتا تھا، لیکن پھر اسے یہ احساس ہوا کہ وہ اگر زیادہ کتابیں پاس رکھے تو اس کا زیادہ بہتر اثر پڑے گا۔ یوں وہ ایک وقت میں تین تین کتابیں ہر وقت اپنے پاس رکھنے لگا۔ تہواروں کے دنوں میں جب گلیاں پرہجوم ہوتی تھیں، پیئر بوئی اپنی درجنوں کتابوں کے ساتھ گھومتا تھا۔

اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کس نوعیت کی کتابیں ہوتیں

۔ How to Win Friends and Influence People،
Our Bodies, Ourselves,
Under The Tuscan Sun

وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ کتابیں تھیں۔ تاہم، پیئر بوئی مختصر چھپائی اور بہت ضخیم حجم والی کتابوں کا شوقین تھا۔ غالباً اس کا یہ خیال تھا کہ وہ زیادہ عالمانہ و فاضلانہ قسم کی ہوتی ہیں۔ اس کی بڑی تیزی سے بڑھتی ہوئی لائبریری میں اکاؤنٹنگ اور دنیا کے تمام بڑے شہروں کی ڈایئریکٹریوں کی بہت سی جلدیں موجود تھیں۔

ایک چھوٹے سے سائیکل ساز کی محدود آمدنی میں اتنی زیادہ کتابوں کی لاگت برداشت کرنا آسان نہ تھا۔ کھانے پینے کے علاوہ اس کو اپنے باقی تمام اخراجات بہت محدود کرنا پڑے۔ کئی کئی دن تک اس کے پاس کھانے کے لیے روٹی اور شکر کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود پیئر بوئی نے کبھی بھی اپنی بیش قیمت کتابیں نہ بیچیں۔ اردگرد کے قصبہ جات سے ملنے والی عزت اس کے چنگھاڑتے ہوئے بھوکے پیٹ سے ہمیشہ بڑھ کر ثابت ہوئی۔

کتابوں میں پیئر بوئی کے پختہ ایمان کا صلہ اسے 1972 میں ملا جب دوران جنگ ایک بھیانک جھڑپ میں اس کی گھاس پھونس سے بنی ہوئی جھونپڑی کو چھوڑ کر گاؤں کے باقی سارے مکانات جل کر راکھ ہو گئے جدھر وہ اپنی ہزاروں کتابوں میں ثابت و سالم آلتی پالتی مارے بیٹھا تھر تھر کانپ رہا تھا۔

Facebook Comments HS