شاہ محمود قریشی: کیا بازی پلٹ گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملکی سیاست میں قدم رکھے چار دہائیاں ہونے کو ہیں جب کہ خارجہ امور سے بھی خاصے واقف ہیں۔

تنظیم تعاون اسلامی یا سعودی عرب کی قیادت میں قائم او آئی سی کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ سخت بیان جس کے بعد سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے بلکہ موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کی سہولت میں تجدید پر بھی تیار نہیں ہے، معیشت کی موجودہ مخدوش صورتحال میں پاکستان کے لیے یہ ایک شدید دھچکہ ہے۔

وزیرخارجہ کا او آئی سی کے بارے میں بیان اور سعودی عرب کے ردعمل پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کچھ حلقوں کے خیال میں وزیرخارجہ کا بیان ملکی خارجہ پالیسی پر مبنی نہیں ہے بلکہ شاہ محمود قریشی سے غیردانستہ طور پر غلطی سرزد ہو گئی، جبکہ کچھ حلقوں کو ڈاکٹر شیریں مزاری کے اس بیان سے تقویت ملی ہے کہ وزیر خارجہ کا بیان قصداً اور دراصل عمران حکومت کے لیے مشکل حالات پیدا کرنے کے لیے تھا، ہر جانب قوی خیال یہی ہے کہ شاہ محمود قریشی کی وزارت ختم ہونے والی ہے۔ او آئی سی کے متعلق بیان اور اس پر قیاس آرائیوں کے بارے میں کسی اظہارخیال سے پہلے شاہ محمود قریشی اور ان کے ماضی کے پس منظر پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

مدینتہ الاولیاء ملتان میں حضرت بہاؤ الدین ذکریا اور شاہ رکن عالم کی درگاہوں کی سجادہ نشینی کا سلسلہ قائم ہوئے کئی صدیاں گزر چکی ہیں۔ اتفاق کہیے کہ سنہ 1857ء میں ان درگاہوں کے سجادہ نشین بھی موجودہ وزیرخارجہ کے ہم نام شاہ محمود قریشی تھے، وجہ شہرت سنہ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزادی کا علم بلند کرنے والوں کو شکست سے دوچار کرانے میں انگریز کی ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرنا تھا جس میں لڑنے کے لیے اپنی جانب سے سپاہی، اسلحہ، خوراک، گھوڑے اور دیگر ضروری سامان مہیا کیا گیا، نتیجتاً مخدوم صاحب کی اس مدد نے انگریز فوج کو مقامی مسلمان اور ہندو کی مشترکہ جدوجہد آزادی کو شکست سے دوچار کیا۔ انگریز نے اس مدد اور وفاداری کے صلے میں شاہ محمود قریشی کو جاگیر، خلعت اور نقد انعام سے نوازا۔

چڑھتے سورج اور طاقت کے مرکز کے گرد طواف اس سجادہ نشین خانوادے کا خاصہ رہا ہے۔ موجودہ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی فرزند ارجمند ہیں مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم کے جو بیک وقت درگاہ بہاؤ الدین زکریا اور درگاہ شاہ رکن عالم کے سجادہ نشین بھی تھے اور جنرل ضیا الحق مرحوم کی مارشل لا حکومت میں ضیاالحق مرحوم کو اپنے مذہبی اثر رسوخ کی سیاسی مدد بھی فراہم کیا کرتے تھے، ان کی وفاداری اور خدمات کا صلہ مرحوم ڈکٹیٹر نے شاہ محمود قریشی کے والد کو پنجاب کا گورنر نامزد کر کے عطا کیا۔

مرحوم جنرل ضیا الحق کی ڈکٹیٹر شپ کے دوران ہی موجودہ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی 1985 میں پہلی مرتبہ پنجاب سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کے گھر میں پنجاب کی گورنرشپ سے لے کر پاکستان کی وزارت خارجہ تک عنایات کی بارش کرنے والوں سے وفاداری نبھانے میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

سیاسی جماعتیں بدلنا اور غیر جماعتی انتخابات میں پالیسی سازوں کو اپنی سیاسی مدد فراہم کرنا شاہ محمود قریشی کا معمول رہا ہے۔ 2008 میں موصوف پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی عددی اعتبار سے کمزور حکومت میں خارجہ امور کی وزارت کس اثر و رسوخ سے مخدوم شاہ محمود قریشی کی جھولی میں ڈالی گئی، اس کا اندازہ موصوف کے کیری لوگر بل پر ردعمل سے عیاں ہو گیا تھا۔ کیری لوگر بل سے پردہ چاک ہو جانے کے بعد موصوف نے بلیک واٹر ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے پر پہلے وزارت اور کچھ عرصے بعد اسمبلی کی رکنیئت سے مستعفی ہو کر پیپلز پارٹی سے جان چھڑا لی۔

پالیسی ساز ن۔ لیگ کے مقابل تحریک انصاف کو سیاسی میدان میں اتارنے کی تیاری کر چکے تھے، مخدوم شاہ محمود قریشی حسب سابق پالیسی سازوں کی حکمت عملی کے پیچھے چلتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ فیصلہ سازوں نے وفاداری کے صلے میں ایک بار پھر وزارت خارجہ کا قلمدان محترم شاہ محمود قریشی کے سپرد کر دیا۔

وفاداری کے اس طویل دور میں کبھی لغزش کا مظاہرہ نہ کرنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی سے او آئی سی کے اعلی ’ترین قومی سطح کے معاملے پر لغزش کی توقع خواہش تو ہو سکتی ہے، لیکن، مخدوم صاحب کی وزارت عظمی‘ کے لیے شدید خواہش اور مضبوط نظام العمل یا programming کے ہوتے ہوئے لغزش کے بجائے پالیسی سازوں سے ہدایات ملنے پر او آئی سی اور سعودی عرب کو ایٹمی طاقت کی جانب سے تنبیہ سمیت، چین، ایران اور عرب مخالف اشتراک کی جانب جھکاؤ کا عندیہ دے کر نتائج دیکھنے کی کوشش تھی، لیکن، ایسا لگتا ہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے، لہذا، اب اس نقصان کے ازالے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ نازک معاملات میں دہرے کھیل کی قیمت تو ادا کرنی پڑے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ساری بازی پلٹ تو نہیں گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •