سچا سعادت، جھوٹی طاہرہ


شادی کو تین سال ہی ہوئے تھے۔ ضرورت تو نہیں تھی لیکن ماں کے اصرار پر سعادت نے اپنا اور طاہرہ کا چیک اپ کروا لیا تھا۔

رپورٹ آنے کے بعد سعادت نے طاہرہ کو منع کر رکھا تھا، کسی کو نہ بتائے کہ بے اولادی کا سبب سعادت ہے۔ طاہرہ اس کی محبت میں ایک ہاتھ آگے بڑھ گئی۔ سعادت کی ماں نے جب رپورٹ کی بابت پوچھا تو طاہرہ نے بتایا کہ سعادت بالکل ٹھیک ہے جب کہ رپورٹ کے مطابق خود طاہرہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ یہ ہی بات طاہرہ نے اپنے گھر والوں کو بھی بتائی، لیکن سعادت کی ماں نے ہنگامہ کر دیا کہ وہ سعادت کی دوسری شادی کرائے گی۔ مگر سعادت نے کمال رحمدلی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ طاہرہ کے ساتھ بے اولاد رہنا پسند کرے گا مگر دوسری شادی نہیں کرے گا۔

ایک روز سعادت گھر پر نہیں تھا۔ طاہرہ کی ساس حسب معمول اس سے الجھ رہی تھی طاہرہ نے کہہ دیا، کہ نقص تو آپ کے بیٹے میں ہے، میں تو آپ کے بیٹے کی عزت رکھ رہی تھی۔

طاہرہ کی ماں آج بنا طلاع دیے بیٹی کے گھر آئی تھی اور جانے کب سے ان کی نوک جھونک سن رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی اور اس نے طاہرہ کو بہت برا بھلا کہا کہ ایسی بے فیض عورت کے لیے اس کے بیٹے کے نقص کو اپنے کھاتے میں ڈال رہی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی سے اس جہنم سے نکلنے کو کہا۔ اتنے میں سعادت آ گیا۔ طاہرہ کی ماں بھری بیٹھی تھی۔ اس نے سعادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

سعادت کے چہرے کارنگ اڑ گیا وہ کبھی اپنی بیوی کو شکوہ بھری نظروں سے دیکھتا کبھی ساس کو تو کبھی اپنی ماں کو، اچا نک اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے وہ طاہرہ کی طرف مڑا، اور چیخ کر بولا۔ تم مجھے ذلیل کرنا چاہتی ہو۔ مگر اللہ جسے چاہے عزت دے تمہیں میرے اوپر الزام لگاتے اور جھوٹ بولتے شرم نہیں آتی۔ نقص مجھ میں نہیں، تم میں ہے۔ میں تمہیں ایک ہفتے کے اندر شادی کر کے دکھاؤں گا اور ایک سال کے اندر باپ بن کر۔ اس نے طلاق لکھ کرطاہرہ کے ہاتھ پر رکھی۔ اور اپنے گھر کے دروازے اس پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیے۔

وہ مرد تھا، اس نے جو کہا پورا کیا۔ ایک ہفتے کے اندر اس نے رباب سے شادی کر لی۔ پہلی رات ہی اس نے رباب کو بتا دیا کہ اس نے طاہرہ کو طلاق کیوں دی۔ اللہ جسے چاہے عزت دے، رباب ایک باوفا بیوی تھی، اللہ نے سعادت کی عزت رکھی، اور اللہ کے فضل سے اگلے مہینے ہی وہ حاملہ ہو گئی۔

ماشاللہ سے اب سعادت تین بچوں کا باپ ہے۔ اور طاہرہ اب تک کنواری ہے۔

Facebook Comments HS