بے حسی شرط ہے جینے کے لئے!


سوشل میڈیا سے خبر ملی کہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں ایک جواں سال خاتون نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ویسے تو خودکشی کی خبر ہی دل دہلانے کے لئے کافی ہوتی مگر سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس نازک اندام لڑکی ڈاکٹر ماہا شاہ کی زندگی سے بھرپور تصاویر دیکھ کر تو کلیجا حلق کو آن پہنچا کہ اتنی حسین زندگی کا انجا م بھی خودکشی ہو سکتا ہے؟ حالیہ دنوں میں خودکشی کے واقعات میں اچانک سے بہت تیزی آ گئی ہے۔

تھر کے صحرا سے کراچی کے کنکریٹ جنگلوں تک خودکشیوں کی سلگتی ہوئی آگ میں اس اچانک شدت پر ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ آخر ایسے کیا عوامل ہیں جو لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر دیں! خودکشی کے بڑھتے ہوئے ان واقعات کے پیچھے ضرور کچھ اسباب ہوں گے ، کچھ محرکات ہوں گے جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ دنیا کتنی حسین ہے۔ یہ زندگی تو محبت کرنے کے لائق ہے۔ پھر کیوں یہ لوگ اس دلکش و دلنشین دنیا کی رنگینیوں کو بے رنگ سمجھ کر زندگی کی رومانیت سے بدظن ہو رہے ہیں؟

میں نے گوگل بابا سے رجوع کیا تو گوگل نے کیے اسباب لا کر سامنے رکھ دیے۔ یہ وہ نتائج تھے جو ماہرین کی جانب سے خودکشیاں کرنے والے افرادکے چھوڑے گئے خطوط یعنی ”Suicide Notes“ اور ان کے حالات پر جامع تحقیق کے بعد اخذ کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق خود کو بوجھ سمجھنے جیسے خیالات سے لے کر جذباتی زخم، منفی احساسات اور سماج سے فراریت اور نا امیدی جیسے احساس کسی عام انسان کو خودکشی جیسے سخت ترین اقدام اٹھانے پر تیار کرتے ہیں۔ ماہرین صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے ان کے خیال میں دیگر بھی کئی محرکات ہو سکتے ہیں جو عام آدمی کو خودکشی پر آمادہ کر سکتے ہوں۔

لیکن یہ تو رہی بات ان معاشروں کی جہاں کے لوگ اپنے احساسات کو لفظوں کا روپ دینے اور پھر ان کے ماہرین اس کی اہمیت کو سمجھنے اور درست اندازے قائم کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کتنے ہوں گے جو اپنے احساسات کو کاغذ پر اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہوں؟ ایسے میں خودکشیاں کرنے والوں کے خطوط، جن سے ان کے اندر بپا ہیجان کا اندازہ کیا جا سکے، کا خیال ہی عبث محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں روز مرہ معلومات کا اہم ذریعہ میڈیا ہے۔

اخبارات بھی ایسے معاملات کو ”گھریلو تنازعہ/تکرار“ قرار دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر لیتے ہیں۔ اگر معلومات حاصل کرنے کے لئے لوگوں سے پوچھا جائے تب بھی سماجی اقدار کی دیوار درمیان میں حائل ہو جاتی ہے۔ ایسے واقعات کے حقائق بتانا تو دورکوئی اس پر بات کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں ہوتا۔ بنیادی طور پر ایک بات تو واضح ہے کہ زندگی ہر ایک کے لئے دلکش و دلفریب جبکہ موت ڈراؤنا خواب ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو خودکشی کوئی آسان کام نہیں ہے! شاید انسان جب بے انتہابے بس اور لاچار بن جاتا ہو تب ہی وہ اتنا مشکل قدم اٹھانے کا سوچتا ہو یا جب کہیں سے بھی کوئی امید باقی نہ رہے تب شاید اس کے لئے کے جینے کا کوئی جواز نہ بچتا ہو۔

مین نے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ خودکشی کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ جواب ملا: ہمارا سماج بیمار ہو گیا ہے۔ واقعی ہمارا سماج بیمار ہو گیا ہے۔ ہم نفسیاتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہماری قوت برداشت جواب دے چکی ہے۔ بھوک، غربت، سماجی و معاشی عدم توازن اور احساس محرومی نے ہمارے اندر برداشت کا مادہ ختم کر دیا ہے۔ میرے خیال میں میڈیا نے بھی اس احساس محرومی اور سماجی و معاشی تفریق کو اور ہوا دی ہے۔ میڈیا پر جس طرح کے ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات چلتے ہیں ان کا ہمارے سماجی و معاشی ڈھانچے سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں۔

جس ملک کے 65 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں رہتی ہے۔ جن میں سے بھی نصف سے زیادہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔ وہاں طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کردار ہمیں میڈیا پردیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں لوگ ایک وقت کے روٹی کو پریشان ہوں وہاں پیزا، برگر، سافٹ ڈرنکس اور ڈزائنر ملبوسات کے اشتہارات دکھائے جائیں تو وہاں خدا کی دوستی، قناعت، صبر اور شکر والے سارے نظریات دقیانوسی اور فضول محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اورپھر لوگوں کی خواہشات و توقعات اپنی انتہاؤں کو پہنچ جاتی ہیں۔ جب یہ ساری خواہشات ادھوری رہ جائیں، سارے خواب تشنہ تعبیر رہ جائیں تب ان کے اندر ہی کہیں کچھ مر جاتا ہے۔ یہاں سے جنم ہوتا ہے احساس محرومی کا۔ ناکامی کے احساسات ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں۔

بات یہیں پہ نہیں رکتی بلکہ اس کے پیچھے کئی اور عوامل بھی تو ہو سکتے ہیں۔ یہ اس گلوبل ولیج کے بھی اثرات ہیں جو ہماری نوجوان نسل بڑی تیزی سے قبول کرتی جا رہی ہے۔ لیکن اس قبولیت کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر ہم اپنا معاشرتی ڈھانچا تبدیل کرنے پر بالکل تیار نہیں ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ تو آج آکسیجن کی طرح ضروری ہو چکی ہے لیکن بحیثیت سماج ہم ٹیکنالاجی کو تو قبول کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ آنے والی تبدیلی کو کسی صورت قبول کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں۔

چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی آج ناقابل معافی جرم بن جاتی ہے۔ جب بات بات پر جرم گمان گزرنے لگے تو احساس جرم پیدا ہونا کیسے ٹل سکتا ہے۔ ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ ہم جہاں اپنی نوجوان نسل کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انہیں تمام سہولیات میسر کر رہے ہیں وہیں ان سے ایسے کردار کی بھی توقع رکھتے ہیں جس کی ہم نے انہیں کبھی تربیت ہی نہیں دی ہے۔ جیسا کہ شاید ڈاکٹر ماہا کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ ڈاکٹر ماہا ایک روایتی سجادہ نشین سید گھرانے کے لڑکی تھی جسے غیرروایتی طور پر اعلیٰ تعلیم کی سہولت ملی، جسے زندگی جینے کی مکمل آزادی حاصل تھی لیکن کہیں کسی موڑ پر اس تمام جدت اور روشن خیالی کے ساتھ جو تبدیلی درکار تھی وہ آڑے آ گئی اور آزادی قید میں تبدیل ہو گئی۔ پرتعیش گھر کی چار دیواری میں بھی اس کا دم گھٹنے لگا۔

دیکھا جائے تو جدت کی اس طاقتور طوفان میں ہمارہ معاشرتی نظام ڈھے رہا ہے۔ ہماری سماجی قدریں دم توڑ رہی ہیں اور ہم اسے تبدیل کرکے نئے سرے سے تعمیر کرنے کے خیال ہی سے سہم جاتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق یہاں ہر چار میں سے ایک شخص نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اور بڑی ہی تیزی سے ہم ان نفسیاتی بیماریوں کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں مگر اس معاملے پر نہ تو حکومت نظر جاتی ہے اور نہ ہی اہل دانش ہی اس معاملے پر لب کشائی کرنے کو تیار ہیں۔

اگر واقعی چار میں سے ایک شخص کسی طرح کے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے تو ذرا دیکھیں تو سہی ہمارے یہاں ماہرین نفسیات کی تعداد کتنی ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کم از کم تعلقہ سطح پر سرکاری ہسپتالوں میں ہی نفسیاتی مسائل سے متعلق ایک سینٹر قائم ہوتا جو ڈپریشن، انزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کے حوالے سے نوجوانوں کو آگاہی دیتا۔ مگر افسوس ذہنی صحت کے مسائل کو ہم ابھی تک صحت کا مسئلہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS