آن لائن سارے مشروبات پیجیے
کرونائی لاک ڈاؤن کے دنوں میں کلاسز سے لے کر خرید و فروخت اور ڈیٹنگ کے معاملات سے لے کر ادبی سرگرمیوں تک، سب آن لائن ہوگئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی بالآخر خدا خدا کرکے انرائیڈ موبائل فون خرید لیے جو ابھی تک نوکیا 3310 قبیل کے موبائل سے آگے، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو حرام قرار دیتے تھے۔ ایک دن، ایک دوست پروفیسر سے سرراہ ملاقات ہوئی، پوچھا ”آج کل کیا ہو رہا ہے؟“ کہنے لگے ”آداب آن لائن سے آگاہی“ ۔ ”کورس کا منتظم کون ہے“ ؟ فرمانے لگے ”چھوٹا صاحب زادہ“ ۔ اس مقام فکر پر علامہ کے اس مصرع کا یاد آنا فطری تھا ”جوانوں کو پیروں کا استاد کر“ ۔ کہتے ہیں، ملت لائن پر نہیں آتی۔ آ گئی ناں۔ ”جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں“ ۔ ۔ ۔
اب ہمارا ایک گھریلو مقدمہ سنیے۔ ”بیگم بازار تو آپ گئے نہیں، یہ جوتے، کپڑے اور سامان مشاطگی؟ جواب ملا“ آن لائن شاپنگ۔ ”یعنی۔“ ہماری جیب کی بربادیوں کا سلسلۂ نو!” بہرحال عائلی معاملات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اس لیے فی الوقت آپ ڈیٹنگ ایپ کا پیش لفظ پڑھیے۔ ان دنوں اس ایپ کا استعمال اتنا زیادہ ہوا کہ یہ امید بندھنے لگی کہ سامنے والا ایک نہ ایک دن ضرور سکرین کا سینہ چاک کر کے ایک دم باہر نکل آئے گا اور کہے گا ماسک” اتارو اور فریج میں جو کچھ ہے لے آؤ، مل کر کھاتے ہیں۔“
پر“ یہ نہ تھی ہماری قسمت ”۔ بہرحال لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا مژدہ جان فزا سنتے ہی یقیناً عاشقان و معشوقان نے آن لائن بیک زبان یہ مصرع ضرور پڑھا ہوگا ”دھوم ہے پھر بہار آنے کی“ لیکن اس پرمسرت خبر کے باوجود انھیں دیکھیے جو ابھی تک اسی مخمصے میں الجھے ہوئے ہیں : ”قدم اٹھائیں کہ رک جائیں یا پلٹ آئیں۔ ۔ ۔“ بھئی! جو مرضی کیجیے لیکن ”میر“ کو تنگ مت کیجیے ”ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے“ ۔
بہرحال یہ تو چھوٹے موٹے مقدمے تھے۔ اصل مقدمہ تو ہمارے شاعر دوستوں کا ہے، جو لاک ڈاؤن کے دوران یکایک ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔ ۔ ۔“ یعنی لائن سے آن لائن ہوگئے اور ملت کے مقدر کا ستارا بننے کے لیے ”آن لائن“ مشاعروں میں بے خطر کود پڑے۔
ہمارے ایک دوست شاعر ایک دن روہانسا ہو کر کہنے لگے ”باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن آن لائن“ مشاعروں میں دو قباحتیں ہے ; اول اول سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے شاعر اپنے اشعار خود اپنے آپ کو سنا رہا ہے۔ ہم نے اول اول کی رعایت سے پوچھا ”اور دوم دوم؟“ ”بھئی! ایسا لگتا ہے جیسے کوئی آس پاس مصرع اٹھانے والا نہیں“ ۔ ہم نے کہا ”پہلے مسئلے کا حل تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔“ ”وہ کیوں“ ؟ ”کیوں کو رہنے دیجیے، اگر آپ کو پتا چل گیا تو آپ راتوں کو اٹھ اٹھ کر شاعرانہ زور آزمائی ترک کر دیں گے۔
اور سوز و گداز کے حصول کے لیے موسم گرما کی دوپہروں میں گھر کی چھت پر بیٹھنا شروع کردیں گے۔ بھئی! سورج سوا نیزے پر بھی آ جائے“ دل اگر بے کار ہے تو شاعری بے کار ہے۔ ہاں البتہ آپ کے دوسرے مسئلہ کا حل ہم کیے دیتے ہیں۔ ”“ وہ کیسے؟ ”بس آپ آن لائن مشاعرہ پڑھنے سے قبل ہمیں اپنے نزدیک بیٹھا لیا کریں اور اشعار پڑھتے پڑھتے ایک دم، مصرع چھوڑ پوری غزل نیچے پھینک دیا کریں، ہم اٹھا لیں گے“ لیکن ہم پڑھیں گے کیا ”؟ ہماری زبان سے بے اختیار نکل گیا۔“ کلمہ ”
ہماری تجاویز سننے کے بعد کہنے لگے ; ”شعر گوئی ایک نشہ ہے۔ ایک دفعہ رات کے پچھلے پہر غزل مکمل ہوئی۔ آس پاس کوئی بیدار نہیں تھا۔ انٹر نیٹ کے سگنل خراب تھے، اس لیے فیس بک پر غزل کو اپ لوڈ کرکے خاموشی سے لائک اور کمینٹ دیکھنے کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ بیگم کو جگانا مناسب نہیں سمجھا کہ غزل میں وہ سارے کنائے موجود تھے جو شک کو ہوا دے سکتے ہیں۔ خیر برخوار دار کو جھنجھوڑا۔“ کیا ہے ابا ”؟“ غزل ہے ”۔“ کدھر ہے ”؟
“ ادھر ہے ”۔“ اچھا ”۔ یہ کہہ کر دوبارہ سونے لگا تو التجا کرتے ہوئے کہا“ بیٹا سن لو کبھی کام آئے گی ”۔ نیند میں بولا“ اچھا سنائیے ”۔ سنائی تو اس مصرع پر“ تری گلی کی طرف کوئی موڑ جاتا ہے ”ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگا۔“ ابا کل اماں کہہ رہی تھیں کہ جب وہ چھت پر کپڑے ڈالنے جاتی ہیں تو کوئی چغد روزانہ انھیں گلی سے گزرتے ہوئے سلام کرتا ہے۔ صبح میں اماں کو تسلی دوں گا کہ فکر نہ کریں، وہ ابا ہیں ”۔ ہمارے حلق سے بس اتنا نکلا“ تو اور آرایش خم کاکل ”۔
”بہرحال ہم نے اندیشہ ہائے دور دراز کو لگام دینے کے لیے فیصلہ کر لیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں کی شاعری بیگم کے نام منسوب کر دی جائے“ وہ کیوں ”؟ وہ اس لیے کہ حالیہ شاعری میں ہم نے زوجہ ماجدہ کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ کرونا مغالطے میں مشرق کی پتی ورتا کو پھولن دیوی سمجھ کر، ویکسین کی آمد سے قبل ہی راہ فرار اختیار کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔ یہ چغد کیا بلا ہے“ ۔
بہر کیف حقیقت کیا ہے؟ اللہ جانے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کرونائی لاک ڈاؤن کے دوران میں، جس انہماک اور دل جمی سے ہمارے شعرا بلا ناغہ، روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی کرونائی نظم، غزل یا شعر لکھ کر فیس بک یا اپنے یو ٹیوب چینلز پر اپ لوڈ کرتے رہے ہیں۔ لگتا ہے ; شاید ان کے ذہن میں شاعری کے ذریعے ویکسین بنانے کا خیال تھا۔ ممکن ہے، وہ کئی بار یوریکا، یوریکا کا نعرہ بلند کرتے ہوئے، عالم بے خودی میں واش روم سے بھاگم بھاگ شہر کی طرف بھی آئے ہوں۔
لیکن ہر بار دروغان شہر نے انھیں گردن سے پکڑ کر یہ کہتے ہوئے گھر واپس بھیج دیا ہو۔ ”حضرت! اگر غل غپاڑا کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر کرو“ ۔ اور انھوں نے ہر بار جواب میں یہی کہا ہو۔ ”وہ تو کر لیں لیکن ہمسایہ انسان کم اور سانڈ زیادہ ہے“ ۔ ”اور ہمسائی“ ؟ ”وہ کرونا کے سبب“ملتی” نہیں / دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے“ (عمران ظفر)
ایک بات ہے، ہمارے ہاں لاک ڈاؤن کے دوران میں آن لائن ہونے کے جو طبی فوائد بعد از لاک ڈاؤن منظر عام پر آرہے ہیں۔ اگر ان کی بھنک کسی روز ٹرمپ کے کانوں میں پڑ گئی تو وائٹ ہاؤس سے، کسی بھی وقت، یہ فرمان جاری ہو سکتا ہے کہ ویکسین کو رہنے دیں، آیندہ امریکہ میں بھی کرونا کے مریضوں کا علاج آن لائن ”دستیاب وسائل“ سے کیا جائے گا اور قوت مدافعت بڑھانے کے لیے کرونا زدہ افراد کو قرنطینہ میں جنگلی جڑی بوٹیوں سے بنے کاڑھے کے ساتھ، ازدواج بھی فراہم کی جائیں گی کہ ایک سے بھلے دو اور دو سے۔ ۔ ۔ ”میاں! دلی دور ہے، قیامت نہیں۔“ قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔ ”؟
برا مت مانیے جناب! جتنے منھ اتنی باتیں۔ لیکن ساری باتوں کا ماحاصل یہ ہے کہ ”قرنطینی ایام“ میں ملت کا آن لائن ہونا ایسے ہی ہے جیسے ”صحرا میں پیاسوں کو آب مل جائے“ اس لیے، خواتین و حضرات! گھبرانا نہیں۔ ”زمانے کے انداز بدلے گئے“ ، لہذا آپ لاک ڈاؤن کے بعد بھی: ”آن لائن سارے مشروبات پیجیے / اور دست یار سے دن رات پیجیے“۔ لیکن یاد رہے سگنلز ڈراپ ہونے کی اور دوبارہ لاک ڈاؤن لگنے کی کوئی ضمانت نہیں۔


