17 اگست 1988ء: میں نے جائے حادثہ پر کیا دیکھا؟
جنرل ضیاء الحق کا طیارہ گرا تو قریب تر مقامی لوگوں کے بعد بہاول پور سے جو چند سویلین فوری جائے وقوعہ پر پہنچے، میں بھی ان میں شامل تھا۔ لہٰذا ہر سال 17 اگست کا دن نہ چاہتے ہوئے مجھ پر عجیب کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ بے چینی، تکان، خوف، وحشت۔ اس قسم کی سب کیفیات مجتمع ہو کر سارا دن مضطرب رکھتی ہیں۔۔۔ وہ تمام کیفیات، آنکھوں دیکھی چیزیں نظروں کے سامنے محسوس ہوتی ہیں، اور سنی ہوئی باتیں کانوں میں گونجنے لگتی ہیں۔
17 اگست 1988 ء کو ہم ایم اے پارٹ ون کا چوتھا پرچہ دے کر پچھلے پہر حسب معمول فرید گیٹ گئے تو ہر کام معمول کے مطابق ہوتے ہوئے بھی ماحول پر عجیب وحشت سی طاری تھی۔ محسوس ہوتا تھا ہر بندہ کسی سے ڈرتے ڈرتے کچھ پوچھ رہا ہے۔ ایک طرف سائیکل رکشوں والے جھمگٹا لگائے بحث میں مصروف تھے۔ میں ایک ٹیلیفون کرنے کے لیے اندرون فرید گیٹ، بالائی منزل پر واقع سرکاری پی سی او میں گیا۔ تووہاں موجود ایک صاحب اعلان کر رہے تھے کہ فون کا رابطہ ہر طرف سے کٹ چکاہے، سارے لوگ پی سی او سے نکل جائیں۔
پی سی او سے باہر نکل کر چائے پینے کے لیے سامنے نگار ہوٹل کا رخ کیا توہوٹل کا مالک پٹھان بابا صندوق نما ریڈیو سے کان لگائے ہوئے تھا، ہم نے بھی خبریں سننا چاہیں تو اس نے بٹن گھماتے ہوئے گالی دیتے ہوئے کہا، ”کوئی خبر نہیں دے رہے“ کیا مطلب، ہم نے پوچھا۔ ”سو فی صد پکی خبر ہے کہ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ گر گیا ہے۔“ اتنے میں فرید گیٹ کے باہر ایمبولینسز چیختی چنگھاڑتی بھاگتیں نظر آئیں۔ ہوٹل سے باہر نکلے تو ایک دو اورلوگوں نے ڈرتے ڈرتے اظہار کیا کہ دریا کے پاس کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔
ہم چار لوگ دریا پر پہنچ گئے، بلکہ اس سے بھی آگے۔ وہاں کچھ کاریں نظر آئیں۔ ہم جیسے ہی کچھ لوگ کچی پکی خبر سن کر وہاں پہنچے تھے مگر جب پتا چلا کہ حادثہ سڑک سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر دور ہوا ہے اور گاڑی کے جانے کا راستہ نہیں تو وہ واپسی کی تیاری میں تھے، البتہ چار پانچ پڑھے لکھے لوگوں نے جب ہمیں جانے کے لیے آمادہ پایا تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہو لیے۔ ہم ایک چھوٹے سے قافلے کی صورت میں فصلوں کے بیچوں بیچ جائے حادثہ کی طرف بھاگے چلے جا رہے تھے۔
کبھی دریا کا کنارا پکڑ لیتے اور کبھی جدھر سے صاف راستہ نظر آئے۔ تھکن حد سے زیادہ ہو چلی تھی مگر اب ہمیں جائے حادثہ نظر آ رہی تھی، آہستہ آہستہ قریب ہوتی ہوئی۔ تیز چلتے ہوئے قریب پہنچ رہے تھے کہ ایک فوجی جوان دوڑتاہوا ہماری طرف آیا اور رک رک کی گرج دار آواز سے ہمیں رکنے کو کہا، ہم نے قدم آہستہ کیے مگر تھوڑا تھوڑا چلتے گئے اب فوجی جوان ہمارے بالکل قریب تھا اس نے دوبارہ سختی سے جن الفاظ میں رکنے کا کہا وہ یہاں لکھے نہیں جا سکتے۔
تقریباً سو گز کے فاصلے پر ہمیں ہر چیز واضح نظر آ رہی تھی، جلے ہوئے طیارے کا ایک حصہ، چاروں طرف بکھرے ہوئے راکھ اور کوئلہ نما مٹی کے ڈھیلے ہر طرف زمین پر بکھرے ہوئے، سرخ رنگ کے کمبل، بچھی ہوئی کچھ سفید چادریں، فوجی اور دس پندرہ سویلین زمین کو کھودتے، ٹٹولتے، کچھ اٹھاتے اور سرخ کمبلوں میں رکھتے۔ فوجی جوان ہمارے پاس کھڑا دور کھڑے اپنے دوسرے فوجی دوست کو مزید آتے لوگوں کو روکنے کے لیے کہہ رہا تھا، کچھ لوگ پہلے سے وہاں کھڑے تھے ہم بھی ان کے پاس چلے گئے۔ یہ مقامی لوگ تھے، ان میں ایک نوجوان کا والد فوجیوں کی مدد کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اوراس کے کچھ دوست جلے ہوئے طیارے کے پاس ہی تھے مگر فوجیوں نے چند بندوں کو وہاں ٹھہرا کر باقیوں کو واپس بھیج دیا ہے۔
اس نوجوان نے ہمیں طیارہ گرنے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ بستی میں حاجیوں کے اعزاز میں تقریب جاری تھی کہ فضا میں ایک طیارہ دکھائی دیا جو تیزی سے اتنا نیچے آ گیا کہ یوں لگا جیسے سامنے درختوں کی چوٹیوں کو چھو لے گا، آواز انتہائی زیادہ تھی، خوف سے سب لوگ با آواز بلند کلمہ پڑھنے لگے، اچانک طیارہ بلند ہوا، مگر پھر تیزی سے نیچے آیا، ایک بار پھر ایسا ہی ہوا، سب لوگ ڈر رہے تھے کہ طیارہ پھر بہت بلندی پر چلا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گولی کی طرح زمین پر آگرا، خوف ناک دھماکے کی آواز سے بستی لرز اٹھی، آگ کا الاؤبلند ہوا اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان پر پھیلنے لگے۔
گاؤں کے لوگ کسیاں، بیلچے ہاتھ میں لیے آگ بجھانے کے لیے بھاگے، مگرآگ کی تپش اس قدر تھی کی پاس جانا ناممکن نہ تھا، کچھ نے کچی مٹی کے ڈھیلے زور زور سے آگ کی طرف اچھالے مگر آگ تیز ہوتی رہی، سب افسردہ تماشائی بنے کھڑے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک سرکاری گاڑی آئی، اس وقت آگ تقریباً بجھ چکی تھی، لوگ مٹی کی کسیاں بھر بھر کرملبے کے اوپر پھینکنے میں مصروف تھے۔ اتنے میں کچھ فوجی گاڑیاں آن پہنچیں، ساتھ ہی ایمبولینسز بھی آ گئیں۔
انھوں نے جگہ جگہ چادریں بچھا دیں، اوپر سرخ کمبل رکھ دیے، نوجوان کے مطابق سب سے کہا کہ راکھ میں جس کو جو اعضاء ملے ان کمبلوں کے نیچے رکھتے جاؤ، فوجی جوان بھی اس کام میں مشغول ہو گئے۔ مگر مصیبت یہ تھی کی ہر طر ف سیاہ دلدل سی پھیلی ہوئی تھی، کسی یا بیلچے سے ملبہ ہٹا ہٹا کر کوئی عضو ملتا تو ہمیں پکڑاتے کہ چادر پر رکھ آؤ۔ ہر چیزسیاہ لاوے میں لت پت تھی، جلی ہوئی سیاہ مٹی میں انسانی عضو کی شناخت محض یہ تھی کی وہ سخت یعنی ہڈی نماہو۔
اس معیار کے مطابق ہمیں پکڑائے جانے والے اعضاء کے بارے میں دو تین دفعہ ہم نے بتایا کہ یہ تو لوہے کا کوئی پرزہ ہے، جس پر ایک فوجی نے ہمیں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ بحث مت کرو، بس جو بھی تمھیں دیا جائے، رکھتے جاؤ۔ پھر انھوں نے ہم پانچ چھ لڑکوں کی چھٹی کروا دی مگر ہمارے کچھ لوگ ابھی اعضاء کی تلاش میں معاونت کر رہے ہیں۔
ہم اس نوجوان کے ساتھ چلتے ہوئے بستی میں آگئے، پیاس سے برا حال تھا، پانی پیا، بستی کے لوگ جگہ جگہ کھڑے استغفار کر رہے تھے۔ ہم ایک چار پائی پر بیٹھے ہی تھے کہ ایک بوڑھی خاتون نے ہمارے پاس آکر رونا شروع کر دیا وہ سرائیکی میں کہنے لگی ”سئیں، اساڈے جواناں کوں چھڑوا ڈیو، فوجی جھلی بیٹھن، انھاں دا کائی قصور کوئی نہیں“ ہم نے اماں جی کو تسلی دی۔ مشکل سے دس منٹ گزرے ہوں گے کہ تین بندے طیارے والی جگہ سے اور آ گئے، ان کے بازو اوپر تک عجیب قسم کی سیاہ راکھ نما مٹی سے لت پت تھے۔ آتے ہی مردوں عورتوں نے انھیں گھیر لیا، ان میں ایک تو مسلسل روئے جا رہا تھا، بھیانک ماحول سے خوف زدہ۔ ان تینوں حضرات نے بتایا کہ ایک بھی چیز ایسی نہیں ملی جسے ہاتھ، پاؤں، ٹانگ یا کوئی اور عضو سمجھا جا سکے۔ بس راکھ اور کوئلوں کے انبار ہیں، جن سے سخت سخت چیزیں ہڈیاں سمجھ کر تلاش کرنے کا عمل جاری ہے۔
ہم بہاول پور واپس آگئے، حادثے کی خبر ریڈیو، ٹیلی ویژن سے نشر ہو چکی تھی۔ اگلے روز بے شمار لوگ جائے حادثہ کے لیے رواں دواں تھے کہ یونیورسٹی کی بس طلبا کو جائے حادثہ پر لے جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ ہم بھی بس میں سوار ہو کرپھر ادھر پہنچ گئے، بس نے تو خیر ہمیں جی ٹی روڈ پر اتار دیا، باقی سفر تو پیدل ہی کرنا تھا، لیکن آج کل کی نسبت حالات مختلف تھے آنے جانے والوں کا رش ایسے تھا جیسے کوئی مصروف بازار۔ ہمیں گزشتہ کل کی نسبت کافی دور روک دیا گیا، اب وہاں کیا تھا؟
عارضی فوجی شیڈ کے نیچے کھڑی گاڑی، کچھ بیٹھے اور چلتے پھرتے فوجی۔ بچے کھچے اثاثوں کی تلاش کا کام بھی جاری محسوس ہوتا تھا، مگر بڑی سست روی کے ساتھ۔ راستے میں اور ادھر ادھر بھنے چنے، پھلیاں، مرونڈا بیچنے والوں کے خوانچے۔۔۔ جگہ جگہ لوگوں میں گھرے بستی لال کمال کے مرد، جو بار بار لوگوں کے ایک جیسے سوالوں کے جواب دے کر ہلکان ہو رہے تھے۔ ملکی و غیر ملکی میڈیا۔۔۔ سنہری بالوں والی غالباً بی بی سی کی نیوز رپورٹر کو لوگ مڑ مڑ کے دیکھ رہے تھے۔ چونکہ ہم ماحول اور رستوں کے کچھ شناسا تھے، لہٰذا بستی کی طرف چلے گئے، وہاں بھی عینی شاہدین کی مانگ تھی، ایک نیم خواندہ شخص منڈلی لگائے ایک واقعہ سنا کر لوگوں کے جذبہ ایمانی کو تسکین فراہم کر رہا تھا اور سند کے طور پر بار بار اقبال کا یہ مصرع دہرا رہا تھا:
”آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا“
لوگ جواباً باآواز بلند کلمہ پڑھتے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے جاتے تھے۔ واقعہ یہ بیان ہو رہا تھا کہ جہاز کے ملبے سے صرف ایک قرآن پاک درست حالت میں ملا اور اسے آگ نے چھوا تک نہیں۔ ہم حیران تھے کہ کل تو موقع سے آنے والے بتا رہے تھے کہ جلی ہوئی راکھ میں ہر چیز کوئلہ بن چکی ہے، مگر آج یہ حیران کن معجزہ، اللہ کی شان!
میرے ایک جاننے والے کپتان جنھوں نے جائے وقوعہ سے لے کر تابوت کی تیاری تک کے مختلف مراحل میں اپنے فرائض سر انجام دیے تھے، انھوں نے کچھ ماہ بعد اس واقعے کی حقیقت بتائی، کہتے ہیں کہ طیارہ گر نے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز فوری دوڑتیں وہاں پہنچیں، وہاں پہنچ کر لال رنگ کے نمدے اور چادریں اہل کار جلدی جلدی اتار رہے تھے، (جن میں ملنے والے اعضا وغیرہ رکھ کر گٹھڑیاں باندھی گئی تھیں ) کہ اچانک ایمبولینس کے ان کپڑوں سے ایک چھوٹے سائز کا قرآن پاک ایمبولینس کے پاس ہی زمین پر گرگیا، کسی نے نشان دہی کی تو فوری اٹھا کر اسے صاف کرنے لگے کہ پاس کھڑے ایک سویلین نے معاونت کرتے ہوئے قرآن پاک پکڑ لیا اور اسے کافی دیر جھاڑتا پونچھتا، چومتا اور سینے سے لگاتا رہا۔
چند دنوں میں یہ خبر پورے ملک میں عام ہو چکی تھی، کہ بہاول پور C 130 کے حادثے میں صرف قرآن پاک کا نسخہ آگ سے محفوظ رہا۔ ہم نے اس واقعے کی حقیقت سن کر کہا، کہ جناب! آپ کو اس واقعے کی اصل حقیقت بیان کرنی چاہیے۔ بولے، کہ عظمت قرآن کے پیش نظر لوگ جس طرح اس واقعے کو درست مان چکے ہیں، ہماری بات پر کون یقین کرے گا اور شاید وضاحت مناسب بھی نہیں۔۔۔!












