میر حاصل بزنجو: ایک نادر سیاستداں چلا گیا

- حاصل بزنجو نے بتایا کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ وہ دیگر بائیں بازو کی تمام جماعتوں کو اکھٹا کر لیں
ڈاکٹر عبدالمالک کے دور میں بیرونِ ملک مقیم ناراض بلوچ قیادت سے بلوچستان کے بحران کے حل کے لیے وفاقی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے صوبائی حکومت نے رابطے کیے مگر پھر وفاقی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات اور ’ڈنڈے اور گاج‘ کی ملی جلی حکمتِ عملی کے سبب یہ رابطے بار آور نہ ہو سکے۔ جبری گمشدگیوں میں کمی ضرور ہوئی مگر یہ کمی بھی وقتی تھی۔
دو ہزار چودہ میں میر حاصل بزنجو کو مخصوص مدت کے لیے نیشنل پارٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا اور انہوں نے میاں نواز شریف اور بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں بحری امور و جہاز رانی کے وزیر کے طور پر فرائض انجام دیے۔
بلوچستان میں دو ہزار سترہ کے اواخر میں صوبائی حکومت کے کچھ وزرا اور پھر صوبائی اسمبلی کے ارکان نے ثنا اللہ زہری حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔یہ دراصل مرکز میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کو چلتا کرنے کے آپریشن کا نقطہِ آغاز تھا جس میں پیپلز پارٹی نے بھی آپریشن کے معماروں اور باغی گروپ کا بھرپور ساتھ دیا۔
میر حاصل بزنجو پر بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنے کے لیے خاصا دباؤ پڑا مگر وہ ثابت قدم رہے۔ مارچ دو ہزار اٹھارہ میں ایک تہائی نئے سینیٹرز اور نیا سینیٹ چیئرمین چننے کے لیے ایوانِ بالا کے انتخابات ہوئے۔
میر حاصل بزنجو کے چھوٹے بھائی طاہر بزنجو پہلی بار سینیٹر بنے۔ میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر پیپلز پارٹی سینیٹر رضا ربانی کو دوبارہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کا امیدوار نامزد کرتی ہے تو مسلم لیگ ن بھی رضا ربانی کی حمایت کرے گی۔ مگر آصف زرداری نے یہ امکان مسترد کر دیا۔ چنانچہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اعلان کیا کہ ان کے مشترکہ امیدوار حاصل بزنجو ہوں گے۔ تاہم حاصل بزنجو نے اپنا نام واپس لے لیا۔ یوں ایک نووارد سینیٹر صادق سنجرانی پیپلز پارٹی کی حمایت سے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کے مقابلے میں سینیٹ کے چیئرمن منتخب ہو گئے۔
جولائی دو ہزار انیس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر چیئرمن صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔ میر حاصل بزنجو کو متحدہ حزبِ اختلاف نے چیئرمین شپ کے یاپنا متفقہ امیدوار بنانے کا اعلان کیا گیا۔
تحریکِ عدم اعتماد سینیٹ کے ایک سو تین میں سے سڑسٹھ ارکان کی جانب سے پیش کی گئی۔ گویا صادق سنجرانی کا جانا ٹھہر گیا۔ لیکن جب یکم اگست دو ہزار انیس کو خفیہ ووٹنگ ہوئی تو سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی مجموعی فیصلہ کن اکثریت کے باوجود قرار داد کے حق میں مطلوبہ تریپن ووٹوں سے بھی تین ووٹ کم پڑے اور یوں یہ تحریک بری طرح ناکام ہوگئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس جگ ہنسائی کی خفت مٹانے کے لیے ایک دوسرے کو اندھیرے میں رکھنے اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے الزامات لگائے۔ اس موقع پر ہارنے والے امیدوار حاصل بزنجو نے سینیٹ کے فلور پر نہایت دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے ’ارکان کی خرید و فروخت اور ضمیر فروشی‘ کے اعتبار سے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن بتایا۔ اور بعد ازاں ایوان سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ووٹوں کے تہہ و بالا ہونے کے آپریشن کا ذمہ دار آئی ایس ائی کے سربراہ فیض حمید کو قرار دیا۔
اس بیان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے مذمت کی اور گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے آئی ایس ائی کی توہین پر سینیٹر حاصل بزنجو کو نوٹس جاری کر دیا۔
حاصل بزنجو اپنے والد کی طرح سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز سے نکالنے کے اصول پر تاحیات قائم رہے۔ ان کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے سیاستدانوں میں تھا جنہوں نے زاتی مفادات کے لیے کبھی سیاسی وفاداریوں کا سودا نہیں کیا۔ وہ صوبے میں بلوچ مسئلے کے مسلح حل کے بجائے سیاسی حل کی افادیت کے قائل رہے اور مرکز میں ہمیشہ مسلم لیگ نواز کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
حاصل بزنجو نے انیس سو اسی کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کی۔ اس زمانے میں وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے متحرک تھے اور ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف تشکیل پانے والے بائیں بازو کے طلبا اتحاد یونائیٹڈ سٹوڈنٹس موومنٹ ( یو ایس ایم ) کے چیئرمین بھی رہے۔ اس دوران ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر گولی پیر میں لگی اور وہ بال بال بچ گئے۔
یونیورسٹی میں انہوں نے کبھی بھی اپنے منہ سے شیخی نہیں بگھاری کہ ان کا تعلق بلوچستان کے کتنے بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ بلکہ وہ اپنے نام کے ساتھ بزنجو کی کنیت لگانے کے بجائے یونیورسٹی میں خود کو صرف حاصل بلوچ کہلانا پسند کرتے تھے۔
طبعاً ملنگ تھے اور فائیو سٹار ہوٹل سے لے کر فٹ پاتھ تک بیٹھنے میں کبھی کوئی عار نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر صرف ایک اثاثہ بنایا یعنی ان کے دوست نظریاتی حدود سے ماورا ہر طبقے سے تھے۔
حاصل بزنجو کے جانے سے پاکستانی سیاست میں غیر متشدد آئینی سیاست پر یقین رکھنے والوں میں سے ایک مؤثر آواز اور کم ہو گئی۔


